আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২০৯৬ টি
হাদীস নং: ১২৮৪৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام (رض) نے نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں، ہم انہیں کیا جواب دیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَالَ قُولُوا وَعَلَيْكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৪৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
شعبہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن قرہ (رح) سے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت انس (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت نعمان بن مقرن (رض) سے فرمایا تھا کہ قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں !
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ قُلْتُ لَهُ سَمِعْتَ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৪৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے انصار سے فرمایا کیا تم میں تمہارے علاوہ بھی کوئی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ قَالُوا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا قَالَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৪৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ أَنْبَأَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৪৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ہم بنو نجار میں سے ایک آدمی نبی ﷺ کا کاتب تھا، اس نے سورت بقرہ اور آل عمران بھی پڑھ رکھی تھی، کچھ عرصے کے بعد وہ آدمی مرتد ہو کر مشرکین سے جا کر مل گیا، مشرکین نے اسے بڑا اچھالا اور کہنے لگے کہ محمد ﷺ کو یہی لکھ لکھ کردیا کرتا تھا، کچھ ہی عرصے بعد اللہ نے اس کی گردن توڑ دی اور وہ مرگیا، لوگوں نے اس کے لئے قبر کھودی اور اسے قبر میں اتار دیا لیکن اگلا دن ہوا تو دیکھا کہ زمین نے اسے باہر نکال پھینکا ہے، انہوں نے کئی مرتبہ اسے دفن کیا، ہر مرتبہ زمین نے اسے نکال باہر پھینکا حتیٰ کہ لوگوں نے اسے یہیں پڑا چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَكَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّى لَحِقَ بِأَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ فَرَفَعُوهُ وَقَالُوا هَذَا كَانَ يَكْتُبُ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُعْجِبُوا بِهِ فَمَا لَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللَّهُ عُنُقَهُ فِيهِمْ فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا فَتَرَكُوهُ مَنْبُوذًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৪৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ (رض) کا ایک بیٹا جس کا نام ابوعمیر تھا اس کے پاس ایک چڑیا تھی جس سے وہ کھیلتا تھا، ایک دن نبی ﷺ نے فرمایا اے ابوعمیر ! کیا کیا نغیر ؟ (چڑیا، جو مرگئی تھی)
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ لَهُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৪৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ فرماتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی ﷺ بھول تو نہیں گئے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ وَصَفَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي بِنَا فَرَكَعَ فَاسْتَوَى قَائِمًا حَتَّى رَأَى بَعْضُنَا أَنَّهُ قَدْ نَسِيَ ثُمَّ سَجَدَ فَاسْتَوَى قَاعِدًا حَتَّى رَأَى بَعْضُنَا أَنَّهُ قَدْ نَسِيَ ثُمَّ اسْتَوَى قَاعِدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৫০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ نے رومیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں، چناچہ نبی ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ ﷺ "۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ قِيلَ لَهُ إِنَّ كِتَابَكَ لَا يُقْرَأُ حَتَّى يَكُونَ مَخْتُومًا فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ فَنَقَشَهُ أَوْ نَقَشَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৫১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی مبارک ڈاڑھی میں اتنے بال سفید نہ تھے جنہیں خضاب لگانے کی ضرورت پڑتی، البتہ حضرت صدیق اکبر (رض) اپنے سر اور ڈاڑھی پر مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَحُسَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمْ يَبْلُغْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الشَّيْبِ مَا يَخْضِبُهُ وَلَكِنْ أَبُو بَكْرٍ كَانَ يَخْضِبُ رَأْسَهُ وَلِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ قَالَ هَاشِمٌ حَتَّى يَقْنَئُوا شَعْرَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৫২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن انہوں نے نبی ﷺ کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی، نبی ﷺ کو دیکھ کر لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوالیں، اس پر نبی ﷺ نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی اور لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا فَصَنَعَ النَّاسُ الْخَوَاتِيمَ مِنْ وَرِقٍ فَلَبِسُوهَا فَطَرَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৫৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ نماز کے بعد کوئی جانے والا عوالی جانا چاہتا تو وہ جا کر واپس آجاتا پھر بھی سورج بلند ہوتا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى وَهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৫৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنِي لَيْثٌ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ قَالَ حَسِبْتُهُ أَنَّهُ قَالَ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৫৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک آدمی ایک طویل عرصے تک ایسے گناہوں میں مبتلا رہتا ہے کہ اگر اسی حال میں مرجائے تو جہنم میں داخل ہو، لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ نیک اعمال میں مصروف ہوجاتا ہے، اسی طرح کسی شخص پر اس وقت تک تعجب نہ کیا کرو جب تک یہ نہ دیکھ لو کہ اس کا خاتمہ کس عمل پر ہو رہا ہے ؟ کیونکہ بعض اوقات ایک شخص ساری زندگی یا ایک طویل عرصہ اپنے نیک اعمال پر گذار دیتا ہے کہ اگر اسی حال میں فوت ہوجائے تو جنت میں داخل ہوجائے لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْجَبُوا لِعَمَلِ رَجُلٍ حَتَّى تَعْلَمُوا مَا يُخْتَمُ لَهُ بِهِ فَقَدْ يَعْمَلُ الرَّجُلُ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ أَوْ زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ عَمَلًا سَيِّئًا لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ مَاتَ عَلَى شَرٍّ فَيَتَحَوَّلُ إِلَى عَمَلٍ صَالِحٍ فَيُخْتَمُ لَهُ بِهِ وَقَدْ يَعْمَلُ الْعَبْدُ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ أَوْ زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ عَمَلًا صَالِحًا لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ مَاتَ عَلَى خَيْرٍ فَيَتَحَوَّلُ إِلَى عَمَلٍ سَيِّئٍ فَيُخْتَمُ لَهُ بِهِ قَالَ وَقَدْ رَفَعَهُ حُمَيْدٌ مَرَّةً ثُمَّ كَفَّ عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৫৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے زیادہ نرم ہوں گے، چناچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے اور یہی وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے مصافحہ کا رواج ڈالا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا لِلْإِسْلَامِ مِنْكُمْ قَالَ فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ مِنْهُمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ فَلَمَّا قَرُبُوا مِنْ الْمَدِينَةِ جَعَلُوا يَرْتَجِزُونَ وَجَعَلُوا يَقُولُونَ غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ قَالَ وَكَانَ هُمْ أَوَّلَ مَنْ أَحْدَثَ الْمُصَافَحَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৫৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت حفصہ (رض) کہتی ہیں کہ حضرت انس (رض) نے مجھ سے پوچھا کہ ابن ابی عمرہ کیسے فوت ہوئے ؟ میں نے بتایا کہ طاعون کی بیماری سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ قَالَتْ قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ بِمَ مَاتَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرَةَ فَقُلْتُ بِالطَّاعُونِ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৫৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت انس (رض) ولید بن عبدالملک کے پاس تشریف لے گئے، اس نے ان سے پوچھا کہ آپ نے قیامت کے متعلق نبی ﷺ کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ قَدِمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَلَى الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَسَأَلَهُ مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ بِهِ السَّاعَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ أَنْتُمْ وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৫৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور خلفاء ثلاثہ (رض) نماز میں قرأت کا آغاز " الحمد للہ رب العلمین " سے کرتے تھے اور وہ قرأت کے آغاز یا اختتام پر بسم اللہ کا ذکر نہیں کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ قَتَادَةُ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا يَذْكُرُونَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي أَوَّلِ الْقِرَاءَةِ وَلَا فِي آخِرِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৬০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا عنقریب میری امت میں اختلاف اور تفرقہ بازی ہوگی اور ان میں سے ایک قوم ایسی نکلے گی جو قرآن پڑھتی ہوگی لیکن وہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، تم ان کی نمازوں کے آگے اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے آگے اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، وہ لوگ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، جس طرح تیر اپنی کمان میں کبھی واپس نہیں آسکتا یہ لوگ بھی دین میں کبھی واپس نہ آئیں گے، یہ لوگ بدترین مخلوق ہوں گے، اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو انہیں قتل کرے اور وہ اسے قتل کریں، وہ کتاب اللہ کی دعوت دیتے ہوں گے لیکن ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا، جو ان سے قتال کرے گا وہ اللہ کے اتنا قریب ہوجائے گا، صحابہ (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! ان کی علامت کیا ہوگی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ان کی علامت سر منڈوانا ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْمُغِيرَةِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي خِلَافٌ وَفُرْقَةٌ قَوْمٌ يُحْسِنُونَ الْقِيلَ وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنْ الرَّمِيَّةِ لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى يَرْتَدُّوا عَلَى فُوقِهِ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْءٍ مَنْ قَاتَلَهُمْ كَانَ أَوْلَى بِاللَّهِ مِنْهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا سِيمَاهُمْ قَالَ التَّحْلِيقُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৬১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ چلا جارہا تھا، آپ ﷺ نے موٹے کنارے والی ایک نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی، راستے میں ایک دیہاتی مل گیا اور اس نے نبی ﷺ کی چادر کو ایسے گھسیٹا کہ اس کے نشانات نبی ﷺ کی گردن مبارک پر پڑگئے اور کہنے لگا کہ اے محمد ﷺ ! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دیجئے، نبی ﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور صرف مسکرا دیئے، پھر اسے کچھ دینے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الصَّنْعَةِ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ فَجَذَبَ بِطَرَفِ رِدَائِهِ جَذْبَةً شَدِيدَةً حَتَّى أَثَّرَتْ الصَّنْعَةُ فِي صَفْحِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَعْطِنَا مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ قَالَ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ مُرُوا لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৬২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب مجھے پروردگار عالم نے معراج پر بلایا تو میرا گذر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہرے اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا جبریل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں کا گوشت کھانے والے (غیبت کرنے والے اور لوگوں کی طرف انگلیاں اٹھانے والے لوگ ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا عَرَجَ بِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمُشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُمْ فَقُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ
তাহকীক: