আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১৩০২৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، یہ حضرت ام سلیم (رض) کے گھر کا واقعہ ہے اور ام سلیم اور ام حرام ہمارے پیچھے کھڑی تھیں اور غالباً ٰیہ بھی فرمایا کہ مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کرلیا، بہرحال ! نبی ﷺ نے ہمارے اہل خانہ کے لئے دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں مانگیں، پھر میری والدہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اپنے خادم انس کے لئے دعاء کر دیجئے، اس پر نبی ﷺ نے دنیا و آخرت کی ہر خیر میرے لئے مانگی اور فرمایا اے اللہ ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০২৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حضرت اسامہ بن زید (رض) کا سہارا لئے باہر تشریف لائے، اس وقت آپ ﷺ کے جسم اطہر پر روئی کا کپڑا تھا، جس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کندھے پر ڈال رکھے تھے اور پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ وَالْحَسَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُتَوَكِّئًا عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَعَلَيْهِ ثَوْبُ قُطْنٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَصَلَّى بِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০২৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا اے ابن آدم ! تو نے اپنا ٹھکانہ کیا پایا ؟ وہ جواب دے گا پروردگار ! بہترین ٹھکانہ پایا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ مانگ اور تمنا ظاہر کر، وہ عرض کرے گا کہ میری درخواست اور تمنا تو صرف اتنی ہی ہے کہ آپ مجھے دنیا میں واپس بھیج دیں اور میں دسویں مرتبہ آپ کی راہ میں شہید ہوجاؤں، کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہوگا۔ ایک جہنمی کو لایا جائے گا اور اللہ اس سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم ! تو نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا ؟ وہ کہے گا پروردگار ! بدترین ٹھکانہ، اللہ فرمائے گا اگر تیرے پاس روئے زمین کی ہر چیز موجود ہو تو کیا وہ سب کچھ اپنے فدیئے میں دے دے گا ؟ وہ کہے گا ہاں ! اللہ فرمائے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے، میں نے تو تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا، لیکن تو نے اسے پورا نہ کیا چناچہ اسے جہنم میں لوٹا دیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُؤْتَى بِرَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ خَيْرَ مَنْزِلٍ فَيَقُولُ لَهُ سَلْ وَتَمَنَّهْ فَيَقُولُ مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنَّى إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ لِمَا رَأَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ قَالَ ثُمَّ يُؤْتَى بِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ شَرَّ مَنْزِلٍ فَيَقُولُ أَتَفْتَدِي مِنْهُ بِطِلَاعِ الْأَرْضِ ذَهَبًا فَيَقُولُ نَعَمْ أَيْ رَبِّ فَيَقُولُ كَذَبْتَ قَدْ سَأَلْتُكَ مَا هُوَ أَقُلُّ مِنْ ذَلِكَ فَلَمْ تَفْعَلْ فَيُرَدُّ إِلَى النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০২৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا، جب دنیا سے رخصت ہوئے تو بیس سال کا تھا، میری والدہ مجھے نبی ﷺ کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں، ایک مرتبہ نبی ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنویں میں سے پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا، نبی ﷺ کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر (رض) تھے، نبی ﷺ جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے، لیکن نبی ﷺ نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ یہی سنت ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَعُمَرُ وَنَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ حَتَّى دَخَلَ دَارَنَا فَحُلِبَتْ لَهُ شَاةٌ وَشُنَّ عَلَيْهِ مِنْ مَاءِ بِئْرِنَا حَسِبْتُهُ قَالَ فَشَرِبَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَعُمَرُ مُسْتَقْبِلُهُ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيَّ فَقَالَ الْأَيْمَنُونَ قَالَ فَقَالَ لَنَا أَنَسٌ فَهِيَ سُنَّةٌ فَهِيَ سُنَّةٌ حَدَّثَنَا الْهَاشِمِيُّ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০২৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی، دیکھا تو وہ غمیصاء بنت ملحان تھیں (جو کہ حضرت انس (رض) کی والدہ تھیں )
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشَفَةً فَقُلْتُ مَا هَذِهِ الْخَشَفَةَ فَقِيلَ هَذِهِ الرُّمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০২৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا شبِ معراج میں ایسے لوگوں کے پاس سے گذرا جن کے منہ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ دنیا کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے، کیا یہ سمجھتے نہ تھے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رِجَالًا تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالَ هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০২৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا پتلا تیار کیا تو کچھ عرصے تک اسے یونہی رہنے دیا، شیطان اس پتلے کے ارد گرد چکر لگاتا تھا اور اس پر غور کرتا تھا، جب اس نے دیکھا کہ اس مخلوق کے جسم کے درمیان پیٹ ہے تو وہ سمجھ گیا کہ یہ مخلوق اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے گی۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا صَوَّرَ آدَمَ تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُكَهُ فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يَطِيفُ بِهِ فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৩০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی کہ نبی ﷺ نے فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي الْمَخْزُومِيَّ وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْقَاعِدِ نِصْفُ صَلَاةِ الْقَائِمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৩১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی ﷺ جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے خود پہن رکھا تھا، جب نبی ﷺ نے اسے اتارا تو کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کردو۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ قَالَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৩২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے حلیہ مبارک کے متعلق مروی ہے کہ نبی ﷺ درمیانے قد کے تھے، آپ ﷺ کا قد نہ بہت زیادہ چھوٹا تھا اور نہ بہت زیادہ لمبا، آپ ﷺ کی پیشانی روشن تھی، رنگ گندمی تھا اور نہ ہی بالکل سفید، بال ہلکے گھنگھریالے تھے، مکمل سیدھے تھے اور نہ بہت زیادہ گھنگھریالے، چالیس برس کی عمر میں مبعوث ہوئے، دس سال مکہ مکرمہ میں قیام فرمایا : دس سال مدینہ منورہ میں رہائش پذیر رہے اور ساٹھ سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے، آپ ﷺ کے سر اور ڈاڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَنْعَتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْعَتَهُ قَالَ ثُمَّ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبْعَةً مِنْ الْقَوْمِ لَيْسَ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ أَزْهَرَ لَيْسَ بِالْآدَمِ وَلَا بِالْأَبْيَضِ وَلَا الْأَمْهَقِ رَجِلَ الشَّعْرِ لَيْسَ بِالسَّبْطِ وَلَا الْجَعْدِ الْقَطَطِ بُعِثَ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ أَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرًا وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَتُوُفِّيَ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً لَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৩৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت کی ایک جماعت اس سطح سمندر پر سوار ہو کر (جہاد کے لئے جائے گی، وہ لوگ ایسے محسوس ہوں گے جیسے تختوں پر بادشاہ بیٹھے ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي ثَبَجَ الْبَحْرِ أَوْ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ هُمْ الْمُلُوكُ عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৩৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
محمد بن ابی بکر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ عرفہ کے دن آپ لوگ کیا کر رہے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے ساتھ ہم میں سے کچھ لوگ تہلیل کہہ رہے تھے، ان پر بھی نکیر نہ ہوتی تھی اور بعض تکبیر کہہ رہے تھے اور ان پر بھی کوئی نکیر نہ کی گئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ إِلَى عَرَفَةَ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ وَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৩৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ روشن اور حسین دن کوئی نہیں دیکھا جب نبی ﷺ اور حضرت صدیق اکبر (رض) مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے اور میں نے نبی ﷺ کی دنیا سے رخصتی کا دن بھی پایا ہے اور اس دن سے زیادہ تاریک اور قبیح دن کوئی نہیں دیکھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ وَشَهِدْتُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يَوْمَ دَخَلَ عَلَيْنَا الْمَدِينَةَ فَلَمْ أَرَ يَوْمًا أَضْوَأَ مِنْهُ وَلَا أَحْسَنَ مِنْهُ وَشَهِدْتُهُ يَوْمَ مَاتَ فَلَمْ أَرَ يَوْمًا أَقْبَحَ مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৩৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے زیادہ ہلکی اور مکمل نماز کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی، بعض اوقات نبی ﷺ کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر کردیتے تھے، اس اندیشے سے کہ کہیں اس کی ماں پریشان نہ ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَتَمَّ وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ وَرَاءَهُ فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৩৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ آٹھ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، غم، پریشانی، لاچاری، سستی، بخل، بزدلی، قرضہ کا غلبہ اور دشمن کا غلبہ۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَالْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৩৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ خیبر سے واپس آرہے تھے، جب احد پہاڑ نظر آیا تو فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، پھر جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا اے اللہ ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا قَالَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৩৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کو بلا اطلاع سفر سے واپسی پر اپنے گھر میں نہیں آتے تھے بلکہ صبح یا دوپہر کو تشریف لاتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا كَانَ يَدْخُلُ غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৪০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی ﷺ نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے کیا دیکھا ہے ؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔ لوگو ! میں تمہارا امام ہوں، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو۔ کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا قَالُوا وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَحَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَسْبِقُوهُ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنْ الصَّلَاةِ وَقَالَ إِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৪১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
علی بن زید کہتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کو انصار کے ایک سردار سے کوئی ایسی چیز پہنچی جس کی بناء پر مصعب نے اس سے سمجھنے کا ارادہ کرلیا، اسی اثناء میں حضرت انس (رض) وہاں تشریف لے آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انصار سے اچھا سلوک کرنے کی وصیت پر عمل کرو، ان کی نیکوں کی نیکی قبول کرو اور ان کے گناہگاروں سے درگذر کیا کرو، یہ سن کر مصعب نے اپنے آپ کو تخت پر گرا لیا اور اپنے رخسار کو تکیے سے لگا لیا اور کہنے لگا کہ نبی ﷺ کا حکم سر آنکھوں پر اور اسے یہ کہہ کر چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ عَرِيفِ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ فَهَمَّ بِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اسْتَوْصُوا بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا أَوْ قَالَ مَعْرُوفًا اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ فَأَلْقَى مُصْعَبٌ نَفْسَهُ عَنْ سَرِيرِهِ وَأَلْزَقَ خَدَّهُ بِالْبِسَاطِ وَقَالَ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ فَتَرَكَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৪২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے کہا اے ہمارے سردار ابن سردار، اے ہمارے خیر ابن خیر ! نبی ﷺ نے فرمایا لوگو ! تقویٰ کو اپنے اوپر لازم کرلو، شیطان تم پر حملہ نہ کر دے، میں صرف محمد بن عبداللہ ہوں، اللہ کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہوں، بخدا ! مجھے یہ چیز پسند نہیں ہے کہ تم مجھے میرے مرتبے سے " جو اللہ کے یہاں ہے " بڑھا چڑھا کر بیان کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا وَيَا خَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا بِقَوْلِكُمْ وَلَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمْ الشَّيْطَانُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَا رَفَعَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَدَّثَنَاه الْأَشْيَبُ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ وَلَا يَسْتَجْرِئَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ
tahqiq

তাহকীক: