আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১৩০৪৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ کچھ یہودی ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کرتے ہوئے " السام علیکم " کہا، نبی ﷺ نے بھی فرمایا " السام علیکم " حضرت عائشہ (رض) نے پیچھے سے یہودیوں کا یہ جملہ سن کر فرمایا اے بندروں اور خنزیروں کے بھائیو ! سام (موت) اور اللہ کی لعنت و غضب تم ہی پر نازل ہو، نبی ﷺ نے حضرت عائشہ (رض) کو سکون کی تلقین کی، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے سنا نہیں کہ انہوں نے کیا کہا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا عائشہ ! میں نے انہیں جو جواب دیا ہے، کیا تم نے نہیں سنا ؟ نرمی جس چیز میں بھی شامل ہوجائے، وہ اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے چھین لی جائے اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الْيَهُودَ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ السَّامُ عَلَيْكُمْ يَا إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ وَلَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَهْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا قَالَ أَوَمَا سَمِعْتِ مَا رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ يَا عَائِشَةُ لَمْ يَدْخُلْ الرِّفْقُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৪৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، نبی ﷺ نے کان لگا کر سنا تو ایک آدمی کے اللہ اکبر اللہ اکبر کہنے کی آواز سنائی دی، نبی ﷺ نے فرمایا فطرت سلیمہ پر ہے، پھر جب اس نے " اشہد ان الا الہ الا اللہ " کہا تو فرمایا کہ تو جہنم کی آگ سے نکل گیا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ إِذْ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْفِطْرَةِ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ هَذَا مِنْ النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৪৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو راستے میں کھجور پڑی ہوئی ملتی اور انہیں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوگی تو وہ اسے کھالیتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِالتَّمْرَةِ فَمَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَأْخُذَهَا فَيَأْكُلَهَا إِلَّا مَخَافَةَ أَنْ تَكُونَ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৪৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے صحابہ (رض) کے ایک گروہ میں سے کسی ایک نے یہ کہا کہ میں کبھی شادی نہیں کروں گا، دوسرے نے یہ کہہ دیا کہ میں ساری رات نماز پڑھا کروں گا اور سونے سے بچوں گا اور تیسرے نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزے رکھا کروں گا، کبھی ناغہ نہیں کروں گا، نبی ﷺ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں، میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں اب جو شخص میری سنت سے اعراض کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْضُهُمْ لَا أَتَزَوَّجُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أُصَلِّي وَلَا أَنَامُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৪৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک آدمی کا گذر ہوا، بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں، نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے ؟ اس نے کہا نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا پھر جا کر اسے بتادو، اس پر وہ آدمی کھڑا ہوا اور جا کر اس سے کہنے لگا بھائی ! میں اللہ کی رضا کے لئے آپ سے محبت کرتا ہوں، اس نے جواب دیا کہ جس ذات کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو وہ تم سے محبت کرے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ جَالِسٌ فَقَالَ الرَّجُلُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ هَذَا فِي اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتَهُ بِذَلِكَ قَالَ لَا قَالَ قُمْ فَأَخْبِرْهُ تَثْبُتْ الْمَوَدَّةُ بَيْنَكُمَا فَقَامَ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ أَنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ أَوْ قَالَ أُحِبُّكَ لِلَّهِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي فِيهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৪৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو بارش کے لئے دعاء کرتے ہوئے دیکھا کہ وہ ہتھیلیوں کا اوپر والا حصہ آسمان کی جانب کر کے ہاتھ پھیلا کر دعاء کر رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي فَبَسَطَ يَدَيْهِ ظَاهِرَهُمَا مِمَّا يَلِي السَّمَاءَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৪৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی جب بھی نبی ﷺ کو ملتا تو نبی ﷺ اس سے دریافت فرماتے کہ تمہارا کیا حال ہے ؟ اور وہ ہمیشہ یہی جواب دیتا کہ الحمدللہ ! خیریت سے ہوں، نبی ﷺ اسے جواباً فرما دیتے کہ اللہ تمہیں خیریت ہی سے رکھے، ایک دن جب نبی ﷺ کی اس سے ملاقات ہوئی تو آپ ﷺ نے حسب معمول اس سے سوال پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ خیریت سے ہوں بشرطیکہ شکر کروں، اس پر نبی ﷺ خاموش ہوگئے۔ اس نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی ! پہلے تو جب آپ مجھ سے میرا حال دریافت کرتے تھے تو مجھے دعاء دیتے تھے کہ اللہ تمہیں خیریت سے رکھے، آج آپ خاموش ہوگئے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ پہلے میں تم سے سوال کرتا تھا تو تم یہ کہتے تھے کہ الحمدللہ ! خیریت سے ہوں، اس لئے میں جواباً کہہ دیتا تھا کہ اللہ تمہیں خیریت سے رکھے، لیکن آج تم نے کہا کہ " اگر میں شکر کروں " تو مجھے شک ہوگیا اس لئے میں خاموش ہوگیا۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْقَى رَجُلًا فَيَقُولُ يَا فُلَانُ كَيْفَ أَنْتَ فَيَقُولُ بِخَيْرٍ أَحْمَدُ اللَّهَ فَيَقُولُ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ كَيْفَ أَنْتَ يَا فُلَانُ فَقَالَ بِخَيْرٍ إِنْ شَكَرْتُ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّكَ كُنْتَ تَسْأَلُنِي فَتَقُولُ جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ وَإِنَّكَ الْيَوْمَ سَكَتَّ عَنِّي فَقَالَ لَهُ إِنِّي كُنْتُ أَسْأَلُكَ فَتَقُولُ بِخَيْرٍ أَحْمَدُ اللَّهَ فَأَقُولُ جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ وَإِنَّكَ الْيَوْمَ قُلْتَ إِنْ شَكَرْتُ فَشَكَكْتَ فَسَكَتُّ عَنْكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৫০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ پردہ کا جب حکم نازل ہوا، اس وقت کی کیفیت تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے۔ اس رات نبی ﷺ نے حضرت زینب (رض) کے ساتھ خلوت فرمائی تھی اور صبح کے وقت نبی ﷺ دولہا تھے، اس کے بعد نبی ﷺ نے لوگوں کو دعوت دی، انہوں نے آکر کھانا کھایا اور چلے گئے، لیکن کچھ لوگ وہیں بیٹھ رہے اور کافی دیر تک بیٹھے رہے حتیٰ کہ نبی ﷺ خود ہی اٹھ کر باہر چلے گئے، میں بھی باہر چلا گیا تاکہ وہ بھی چلے جائیں، لیکن وہ بیٹھے رہے بار بار ایسا ہی ہوا، ادھر حضرت زینب (رض) ایک کونے میں بیٹھی ہوئی تھیں، نبی ﷺ کو ان سے کچھ کہتے ہوئے حجاب محسوس ہوا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " اے اہل ایمان ! پیغمبر کے گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہوا کرو جب تک تمہیں کھانے کے لئے بلایا نہ جائے "، نیز اس کے پکنے کا انتظار نہ کیا کرو، البتہ جب تمہیں بلایا جائے تو چلے جاؤ، پھر نبی ﷺ کے حکم پر پردہ گرا دیا گیا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ أَوْ مِنْ أَعْلَمْ النَّاسِ بِآيَةِ الْحِجَابِ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ابْنَةَ جَحْشٍ فَذَبَحَ شَاةً فَدَعَا أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَقَعَدُوا يَتَحَدَّثُونَ وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ وَيَدْخُلُ وَهُمْ قُعُودٌ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ وَيَرْجِعُ وَهُمْ قُعُودٌ وَزَيْنَبُ قَاعِدَةٌ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْيِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا الْآيَاتُ إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ قَالَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِجَابٍ مَكَانَهُ فَضُرِبَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৫১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارش کے ذمے دار فرشتے نے اللہ تعالیٰ سے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی، اللہ تعالیٰ نے اسے اجازت دے دی، نبی ﷺ نے اس موقع پر حضرت ام سلمہ (رض) سے فرمایا کہ دروازے کا خیال رکھو کہ ہمارے پاس کوئی اندر نہ آنے پائے، تھوڑی دیر میں حضرت امام حسین (رض) آئے اور گھر میں داخل ہونا چاہا، حضرت ام سلمہ (رض) نے انہیں روکا تو وہ کود کر اندر داخل ہوگئے اور جا کر نبی ﷺ کی پشت پر، مونڈھوں اور کندھوں پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس سے محبت ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! تو فرشتے نے کہا کہ یاد رکھئے ! آپ کی امت اسے قتل کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ بھی دکھا سکتا ہوں جہاں یہ شہید ہوں گے، یہ کہہ کر فرشتے نے اپنا ہاتھ مارا تو اس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی مٹی آگئی، حضرت ام سلمہ (رض) نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں باندھ لی۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مَلَكَ الْمَطَرِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ امْلِكِي عَلَيْنَا الْبَابَ لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ قَالَ وَجَاءَ الْحُسَيْنُ لِيَدْخُلَ فَمَنَعَتْهُ فَوَثَبَ فَدَخَلَ فَجَعَلَ يَقْعُدُ عَلَى ظَهَرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مَنْكِبِهِ وَعَلَى عَاتِقِهِ قَالَ فَقَالَ الْمَلَكُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبُّهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فَجَاءَ بِطِينَةٍ حَمْرَاءَ فَأَخَذَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فَصَرَّتْهَا فِي خِمَارِهَا قَالَ قَالَ ثَابِتٌ بَلَغَنَا أَنَّهَا كَرْبَلَاءُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৫২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مدینہ منورہ کو اس جگہ سے اس جگہ تک حرم قرار دیا تھا اور فرمایا تھا جو شخص یہاں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مِنْ كَذَا إِلَى كَذَا مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا قَالَ حَمَّادٌ وَزَادَ فِيهَا حُمَيْدٌ لَا يُحْمَلُ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৫৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اسلام کی حالت میں فوت ہوجائے اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے چار گھروں کے لوگ اس کے حق میں بہتری کی گواہی دے دیں، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اس کے متعلق تمہارے علم کو قبول کرلیا اور جو تم نہیں جانتے، اسے معاف کردیا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةٌ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ إِلَّا قَالَ قَدْ قَبِلْتُ فِيهِ عِلْمَكُمْ فِيهِ وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لَا تَعْلَمُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৫৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سے کچھ اہل اللہ ہوتے ہیں، قرآن والے، اللہ کے خاص لوگ اور اہل اللہ ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَهْلِينَ مِنْ النَّاسِ وَإِنَّ أَهْلَ الْقُرْآنِ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৫৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی لے کر اس کی طرف قدم بڑھائے تو وہ پیچھے ہٹنے لگا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نبی ﷺ وہ کنگھی اسے دے ماریں گے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنْ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ أَوْ مَشَاقِصَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَخْتِلُهُ لِيَطْعَنَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৫৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ مجھے " دو کانوں والے " کہہ کر مخاطب فرمایا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৫৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت صفیہ (رض) بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৫৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، اس وقت ام سلیم اور ام حرام ہمارے پیچھے چٹائی پر تھیں۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِ وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا عَلَى بِسَاطٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৫৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم (رض) نے مجھ سے فرمایا کہ نبی ﷺ کے پاس جا کر کہو کہ اگر آپ ہمارے ساتھ کھانا کھانا چاہتے ہیں تو آجائیں، میں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر پیغام دیا، نبی ﷺ نے فرمایا کیا آپ کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی ؟ میں نے کہہ دیا جی ہاں ! نبی ﷺ نے صحابہ (رض) سے فرمایا اٹھو، ادھر میں جلدی سے گھر پہنچا اس وقت میں نبی ﷺ کے ساتھ بہت سے لوگ ہونے کی وجہ سے گھبرایا ہوا تھا، حضرت ام سلیم (رض) نے پوچھا انس ! تمہیں کیا ہوا ؟ اسی وقت نبی ﷺ بھی گھر میں تشریف لے آئے اور حضرت ام سلیم (رض) سے پوچھا کہ تمہارے پاس گھی ہے ؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ میرے پاس گھی کا ڈبہ ہے جس میں تھوڑا سا گھی موجود ہے، نبی ﷺ نے فرمایا وہ میرے پاس لے آؤ۔ میں وہ ڈبہ لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا، نبی ﷺ نے اس کا ڈھکن کھولا اور بسم اللہ پڑھ کر یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! اس میں خوب برکت پیدا فرما، پھر نبی ﷺ نے حضرت ام سلیم (رض) سے فرمایا کہ اسے اٹھاؤ، انہوں نے اسے اٹھایا تو نبی ﷺ اس میں سے گھی نچوڑنے لگے اور اس دوران بسم اللہ پڑھتے رہے اور ایک ہنڈیا کے برابر گھی نکل آیا، اس سے اسی سے بھی زائد لوگوں نے کھانا کھالیا لیکن وہ پھر بھی بچ گیا، جو نبی ﷺ نے حضرت ام سلیم (رض) کے حوالے کردیا اور فرمایا کہ خود بھی کھاؤ اور اپنے پڑوسیوں کو بھی کھلاؤ۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ اذْهَبْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ لَهُ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَغَدَّى عِنْدَنَا فَافْعَلْ قَالَ فَجِئْتُهُ فَبَلَّغْتُهُ فَقَالَ وَمَنْ عِنْدِي قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ انْهَضُوا قَالَ فَجِئْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَأَنَا لَدَهِشٌ لِمَنْ أَقْبَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَا صَنَعْتَ يَا أَنَسُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ قَالَ هَلْ عِنْدَكِ سَمْنٌ قَالَتْ نَعَمْ قَدْ كَانَ مِنْهُ عِنْدِي عُكَّةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ سَمْنٍ قَالَ فَأْتِ بِهَا قَالَتْ فَجِئْتُهُ بِهَا فَفَتَحَ رِبَاطَهَا ثُمَّ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ أَعْظِمْ فِيهَا الْبَرَكَةَ قَالَ فَقَالَ اقْلِبِيهَا فَقَلَبْتُهَا فَعَصَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُسَمِّي قَالَ فَأَخَذْتُ نَقْعَ قِدْرٍ فَأَكَلَ مِنْهَا بِضْعٌ وَثَمَانُونَ رَجُلًا فَفَضَلَ فِيهَا فَضْلٌ فَدَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَ كُلِي وَأَطْعِمِي جِيرَانَكِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৬০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ خیبر سے واپس آ رہے تھے، جب احد پہاڑ نظر آیا تو فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، پھر جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا اے اللہ ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔ اے اللہ ! ان کے صاع اور مد میں برکت عطاء فرما۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ مِنْ بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَلَمَّا بَدَا لَنَا أُحُدٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৬১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے یہ آیت ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ " تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ تمہارے رب نے فرمایا ہے، میں اس بات کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ کسی کو معبود نہ بنایا جائے جو میرے ساتھ کسی کو معبود بنانے سے ڈرتا ہے وہ اس بات کا اہل ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ أَخُو ابْنِ أَبِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى أَنْ يُجْعَلَ مَعِي إِلَهًا آخَرَ وَمَنْ اتَّقَى أَنْ يَجْعَلَ مَعِي إِلَهًا آخَرَ فَهُوَ أَهْلٌ لِأَنْ أَغْفِرَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৬২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو، کیوں کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا
tahqiq

তাহকীক: