আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২০৯৬ টি
হাদীস নং: ১৩০৮৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی ﷺ نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا لوگو ! میں تمہارا امام ہوں، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے کیا دیکھا ہے ؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا رَأَيْتَ قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৮৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر فرمایا تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ عَلَيْهِ جَنَازَةٌ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ ثُمَّ قَالَ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৮৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کا کاتب تھا، اس نے سورت بقرہ اور آل عمران بھی پڑھ رکھی تھی، نبی ﷺ اسے " سمیعاً " لکھواتے اور وہ اس کی جگہ " سمیعاً بصیراً " لکھ دیتا، نبی ﷺ فرماتے اس اس طرح لکھو، لیکن وہ کہتا کہ میں جیسے چاہوں لکھوں، اسی طرح نبی ﷺ اسے " علیما " لکھواتے تو وہ اس کی جگہ " علیما حکیما " لکھ دیتا، کچھ عرصے بعد وہ آدمی مرتد ہو کر عیسائی ہوگیا اور کہنے لگا کہ میں تم سب میں محمد ﷺ کے پاس جو چاہتا تھا لکھ دیتا تھا، جب وہ آدمی مرا تو اسے دفن کیا گیا تو زمین نے اسے باہر پھینک دیا۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوطلحہ (رض) نے بیان کیا کہ وہ اس جگہ پر گئے تھے جہاں وہ آدمی مرا تھا، انہوں نے اسے باہر پڑا ہوا پایا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَمْلَى عَلَيْهِ سَمِيعًا يَقُولُ كَتَبْتُ سَمِيعًا بَصِيرًا قَالَ دَعْهُ وَإِذَا أَمْلَى عَلَيْهِ عَلِيمًا حَكِيمًا كَتَبَ عَلِيمًا حَلِيمًا قَالَ حَمَّادٌ نَحْوَ ذَا قَالَ وَكَانَ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَكَانَ مَنْ قَرَأَهُمَا قَدْ قَرَأَ قُرْآنًا كَثِيرًا فَذَهَبَ فَتَنَصَّرَ فَقَالَ لَقَدْ كُنْتُ أَكْتُبُ لِمُحَمَّدٍ مَا شِئْتُ فَيَقُولُ دَعْهُ فَمَاتَ فَدُفِنَ فَنَبَذَتْهُ الْأَرْضُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ أَبُو طَلْحَةَ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ مَنْبُوذًا فَوْقَ الْأَرْضِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৮৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مال غنیمت نبی ﷺ کو عطاء فرمایا اور نبی ﷺ عیینہ اور اقرع وغیرہ کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ نبی ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے انصاری صحابہ (رض) کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ ! پھر نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرا پردہ ہیں اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى أَبَا سُفْيَانَ وَعُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعَ وَسُهَيْلَ بْنَ عَمَرٍو فِي الْآخِرِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ وَهُمْ يَذْهَبُونَ بِالْمَغْنَمِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَتَّى فَاضَتْ فَقَالَ أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ قَالُوا لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتِنَا قَالَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ثُمَّ قَالَ أَقُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا قَالُوا نَعَمْ قَالَ أَنْتُمْ الشِّعَارُ وَالنَّاسُ الدِّثَارُ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى دِيَارِكُمْ قَالُوا بَلَى قَالَ الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَهُمْ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ وَقَالَ حَمَّادٌ أَعْطَى مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ يُسَمِّي كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ هَؤُلَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৮৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے دن میں حضرت ابوطلحہ (رض) کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا اور میرے پاؤں نبی ﷺ کے پاؤں کو چھو رہے تھے، ہم وہاں پہنچے تو سورج نکل چکا تھا اور اہل خیبر اپنے مویشیوں کو نکال کر کلہاڑیاں اور کدالیں لے کر نکل چکے تھے، ہمیں دیکھ کر کہنے لگے محمد ﷺ اور لشکر آگئے، نبی ﷺ نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کہ خیبر برباد برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست سے دوچار کردیا، وہ مزید کہتے ہیں کہ حضرت صفیہ (رض) جو بہت خوبصورت تھیں، حضرت دحیہ کلبی (رض) کے حصے میں آئی تھیں، نبی ﷺ نے سات افراد کے عوض انہیں خرید لیا اور خرید کر انہیں حضرت ام سلیم (رض) کے پاس بھیج دیا، تاکہ وہ انہیں بنا سنوار کر دلہن بنائیں، نبی ﷺ نے ان کے ولیمے کے لئے کھجوریں، پنیر اور گھی جمع کیا، اس کا حلوہ تیار کیا گیا اور دستر خوان بچھا کر اسے دستر خوان پر رکھا گیا، لوگوں نے سیراب ہو کر اسے کھایا، اس دوران لوگ یہ سوچنے لگے کہ نبی ﷺ ان سے نکاح فرمائیں گے یا انہیں باندی بنائیں گے ؟ لیکن جب نبی ﷺ نے انہیں سواری پر بٹھا کر پردہ کرایا اور انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا تو لوگ سمجھ گئے کہ نبی ﷺ نے ان سے نکاح فرما لیا ہے۔ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر لوگ اپنے رواج کے مطابق سواریوں سے کود کر اترنے لگے، نبی ﷺ بھی اسی طرح اترنے لگے لیکن اونٹنی پھسل گئی اور نبی ﷺ زمین پر گرگئے، حضرت صفیہ (رض) بھی گرگئیں، دیگر ازواج مطہرات دیکھ رہی تھیں، وہ کہنے لگیں کہ اللہ اس یہودیہ کو دو کرے اور اس کے ساتھ ایسا ایسا کرے، ادھر نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور انہیں پردہ کرایا، پھر اپنے پیچھے بٹھا لیا، میں نے پوچھا اے ابوحمزہ ! کیا واقعی نبی ﷺ گرگئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اللہ کی قسم ! گرگئے تھے۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں حضرت زینب (رض) کے ولیمے میں بھی موجود تھا اور اس نکاح کے ولیمے میں نبی ﷺ نے لوگوں کو خوب پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا، باقی تو سب کھاپی کر چلے گئے، لیکن دو آدمی کھانے کے بعد وہیں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے، یہ دیکھ کر نبی ﷺ خود ہی گھر سے باہر چلے گئے، آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے میں بھی نکل آیا، نبی ﷺ وقت گذارنے کے لئے باری باری اپنی ازواج مطہرات کے حجروں میں جاتے اور انہیں سلام کرتے، وہ پوچھتیں کہ یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے بیوی کو کیسا پایا ؟ نبی ﷺ فرماتے بہت اچھا، پھر جب اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو وہ بیٹھے ہوئے اسی طرح باتیں کر رہے تھے، انہوں نے جب نبی ﷺ کو واپس آتے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہوگئے اور چلے گئے۔ اب مجھے یاد نہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو ان کے جانے کی خبر دی یا کسی اور نے بہرحال ! نبی ﷺ وہاں سے چلتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہوگئے، میں نے بھی داخل ہونا چاہا تو آپ ﷺ نے پردہ لٹکا دیا اور آیت حجاب نازل ہوگئی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتْ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ وَخَرَجُوا بِفُؤُوسِهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ وَمُرُونِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَ فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَوَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُصْلِحُهَا وَتُهَيِّئُهَا وَهِيَ صَفِيَّةُ ابْنَةُ حُيَيٍّ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَتَهَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ قَالَ فُحِصَتْ الْأَرْضُ أَفَاحِيصَ قَالَ وَجِيءَ بِالْأَنْطَاعِ فَوُضِعَتْ فِيهَا ثُمَّ جِيءَ بِالْأَقِطِ وَالتَّمْرِ وَالسَّمْنِ فَشَبِعَ النَّاسُ قَالَ وَقَالَ النَّاسُ مَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا أَمْ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ فَقَالُوا إِنْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَبَ حَجَبَهَا حَتَّى قَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ دَفَعَ وَدَفَعْنَا قَالَ فَعَثَرَتْ النَّاقَةُ الْعَضْبَاءُ قَالَ فَنَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَدَرَتْ قَالَ فَقَامَ فَسَتَرَهَا قَالَ وَقَدْ أَشْرَفَتْ النِّسَاءُ فَقُلْنَ أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَاللَّهِ لَقَدْ وَقَعَ وَشَهِدْتُ وَلِيمَةَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا وَكَانَ يَبْعَثُنِي فَأَدْعُو النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُهُ وَتَخَلَّفَ رَجُلَانِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ لَمْ يَخْرُجَا فَجَعَلَ يَمُرُّ بِنِسَائِهِ وَيُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ كَيْفَ أَصْبَحْتُمْ فَيَقُولُونَ بِخَيْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ فَيَقُولُ بِخَيْرٍ فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ إِذَا هُوَ بِالرَّجُلَيْنِ قَدْ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ فَلَمَّا رَأَيَاهُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَوْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ بِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْكُفَّةِ الْبَابِ أَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأَنْزَلَ اللَّهُ الْحِجَابَ هَذِهِ الْآيَاتِ لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৮৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ یہودیوں میں جب کسی عورت کو ایام آتے تو وہ لوگ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے تھے اور نہ ایک گھر میں اکٹھے ہوتے تھے، صحابہ کرام (رض) نے اس کے متعلق نبی ﷺ سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ " یہ لوگ آپ سے ایام والی عورت کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ ایام بذات خود بیماری ہے، اس لئے ان ایام میں عورتوں سے الگ رہو اور پاک ہونے تک ان کی قربت نہ کرو " یہ آیت مکمل پڑھنے کے بعد نبی ﷺ نے فرمایا صحبت کے علاوہ سب کچھ کرسکتے ہو، یہودیوں کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ یہ آدمی تو ہر بات میں ہماری مخالفت کر رہا ہے۔ پھر حضرت اسید بن حضیر (رض) اور عباد بن بشیر (رض) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ ! یہودی ایسے ایسے کہہ رہے ہیں، کیا ہم اپنی بیویوں سے قربت بھی نہ کرلیا کریں ؟ (تاکہ یہودیوں کی مکمل مخالفت ہوجائے) یہ سن کر نبی ﷺ کے روئے انور کا رنگ بدل گیا اور ہم یہ سمجھنے لگے کہ نبی ﷺ ان سے ناراض ہوگئے ہیں، وہ دونوں بھی وہاں سے چلے گئے، لیکن کچھ ہی دیر بعد نبی ﷺ کے پاس کہیں سے دودھ کا ہدیہ آیا تو نبی ﷺ نے ان دونوں کو بلا بھیجا اور انہیں وہ پلا دیا، اس طرح وہ سمجھ گئے کہ نبی ﷺ ان سے ناراض نہیں ہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الْيَهُودَ كَانَتْ إِذَا حَاضَتْ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ أَخْرَجُوهَا مِنْ الْبَيْتِ فَلَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ الْآيَةِ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاحَ قَالَتْ الْيَهُودُ مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ فَجَاءَ عَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَالَتْ كَذَا وَكَذَا أَفَلَا نَنْكِحُهُنَّ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ وَاسْتَقْبَلَتْهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৮৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی ساری نمازیں قریب قریب برابر ہوتی تھیں، اسی طرح حضرت صدیق اکبر (رض) کی نمازیں بھی، لیکن حضرت عمر (رض) نے فجر کی نماز لمبی کرنا شروع کی تھی اور بعض اوقات نبی ﷺ سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ فرماتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی ﷺ بھول تو نہیں گئے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ رَجُلٍ أَوْجَزَ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً وَكَانَتْ صَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ مُتَقَارِبَةً فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ مَدَّ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَامَ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ وَكَانَ يَقْعُدُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৯০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے کوثر عطاء کی گئی ہے، وہ ایک نہر ہے جو سطح زمین پر بھی بہتی ہے، اس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے ہیں، جنہیں توڑا نہیں گیا، میں نے ہاتھ لگا کر اس کی مٹی کو دیکھا تو وہ مشک خالص تھی اور اس کی کنکریاں موتی تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ الْكَوْثَرَ فَإِذَا هُوَ نَهَرٌ يَجْرِي وَلَمْ يُشَقَّ شَقًّا فَإِذَا حَافَتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ فَضَرَبْتُ بِيَدِي إِلَى تُرْبَتِهِ فَإِذَا هُوَ مِسْكَةٌ ذَفِرَةٌ وَإِذَا حَصَاهُ اللُّؤْلُؤُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৯১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ وَلَكِنْ لِيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৯২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اکثر یہ دعاء مانگا کرتے تھے اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৯৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے ایک پیالے کے متعلق مروی ہے کہ میں نے اس پیالے میں نبی ﷺ کو ہر قسم کا مشروب پلایا ہے، شہد بھی، پانی بھی اور دودھ بھی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَقَدْ سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ الْعَسَلَ وَالْمَاءَ وَاللَّبَنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৯৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْوِصَالِ قَالَ فَقِيلَ إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৯৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی کو پیش کیا گیا جس نے نشہ کیا ہوا تھا، نبی ﷺ نے تقریباً بیس آدمیوں کو حکم دیا اور ان میں سے ہر ایک نے اسے دو دو شاخیں یا جوتے مارے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا رُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَكِرَ فَأَمَرَ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ رَجُلًا فَجَلَدَهُ كُلُّ رَجُلٍ جَلْدَتَيْنِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৯৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ اگر نبی ﷺ زوال شمس سے قبل سفر پر روانہ ہوتے تو نماز ظہر کو نماز عصر تک مؤخر کردیتے، پھر اتر کر دونوں نمازیں اکٹھی پڑھ لیتے اور اگر سفر پر روانہ ہونے سے پہلے زوال کا وقت ہوجاتا تو آپ ﷺ پہلے نماز ظہر پڑھتے، پھر سوار ہوتے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا فَإِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৯৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کی عمر میں برکت اور رزق میں اضافہ ہوجائے، اسے چاہئے کہ صلہ رحمی کیا کرے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ قُرَّةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوَسِّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي رِزْقِهِ وَيَنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৯৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ قُرَّةَ وَعُقَيْلٍ وَيُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ ذَهَبٍ الْتَمَسَ مَعَهُ وَادِيًا آخَرَ وَلَنْ يَمْلَأَ فَمَهُ إِلَّا التُّرَابُ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ فَذَكَرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৯৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بالوں کی سفیدی کو بدل دیا کرو، لیکن کالے رنگ کے قریب بھی نہ جانا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تُقَرِّبُوهُ السَّوَادَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১০০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں منافق کی نماز کے متعلق نہ بتاؤں ؟ منافق نماز عصر کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگیں مار کر اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ قَالَ ابْنُ وَهْبٍ وَحَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ الْمُنَافِقِ يَدَعُ الْعَصْرَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ أَوْ عَلَى قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا نَقَرَاتِ الدِّيكِ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১০১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سارے مسلمان اکٹھے ہوں گے ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی اور وہ کہیں گے کہ اگر ہم اپنے پروردگار کے سامنے کسی کی سفارش لے کر جائیں تو شاید وہ ہمیں اس جگہ سے راحت عطاء فرما دے، چناچہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ اے آدم ! آپ ابوالبشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے، لہٰذا آپ ہمارے رب سے سفارش کردیں کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دے دے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جواب دیں گے کہ میں تو اس کا اہل نہیں ہوں اور انہیں اپنی لغزش یاد آجائے گی اور وہ اپنے رب سے حیاء کریں گے اور فرمائیں گے کہ تم حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ نے اہل زمین کی طرف بھیجا تھا، چناچہ وہ سب لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ اپنے پروردگار سے ہماری سفارش کر دیجئے، وہ جواب دیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے، تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے انہیں اپنا خلیل قرار دیا ہے۔ چناچہ وہ سب لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے وہ بھی یہی کہیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے البتہ تم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے ان سے براہ راست کلام فرمایا ہے اور انہیں تورات دی تھی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی معذرت کرلیں گے کہ میں نے ایک ناحق شخص کو قتل کردیا تھا البتہ تم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول اور اس کا کلمہ اور روح تھے لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی معذرت کرلیں گے اور فرمائیں گے کہ تم محمد ﷺ کے پاس چلے جاؤ، وہ تمہاری سفارش کریں گے جن کی اگلی پچھلی لغزشیں اللہ نے معاف فرما دی ہیں۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ میں اپنے پروردگار کے پاس حاضری کی اجازت چاہوں گا جو مجھے مل جائے گی میں اپنے رب کو دیکھ کر سجدہ ریز ہوجاؤں گا، اللہ جب تک چاہے گا مجھے سجدے ہی کی حالت میں رہنے دے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد ﷺ ! سر اٹھائیے، آپ جو کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی، جو مانگیں گے وہ ملے گا اور جس کی سفارش کریں گے قبول کرلی جائے گی، چناچہ میں اپنا سر اٹھا کر اللہ کی ایسی تعریف کروں گا جو وہ خود مجھے سکھائے گا پھر میں سفارش کروں گا تو اللہ میرے لئے ایک حد مقرر فرما دے گا اور میں انہیں جنت میں داخل کروا کر دوبارہ آؤں گا، تین مرتبہ اسی طرح ہوگا، چوتھی مرتبہ میں کہوں گا کہ پروردگار ! اب صرف وہی لوگ باقی بچے ہیں جنہیں قرآن نے روک رکھا ہے۔ چناچہ جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو، پھر جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو اور جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر موجود ہو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُطَوَّلُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى النَّاسِ فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ فَيَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا رَأْسَ النَّبِيِّينَ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُونَ يَا إِبْرَاهِيمُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِرِسَالَاتِهِ وَبِكَلَامِهِ قَالَ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُونَ يَا مُوسَى اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ يَا عِيسَى اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ فَإِنَّهُ قَدْ حَضَرَ الْيَوْمَ وَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ فَيَقُولُ عِيسَى أَرَأَيْتُمْ لَوْ كَانَ مَتَاعٌ فِي وِعَاءٍ قَدْ خُتِمَ عَلَيْهِ هَلْ كَانَ يُقْدَرُ عَلَى مَا فِي الْوِعَاءِ حَتَّى يُفَضَّ الْخَاتَمُ فَيَقُولُونَ لَا قَالَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِي فَيَقُولُونَ يَا مُحَمَّدُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلِيَقْضِ بَيْنَنَا قَالَ فَأَقُولُ نَعَمْ فَآتِي بَابَ الْجَنَّةِ فَآخُذُ بِحَلْقَةِ الْبَابِ فَأَسْتَفْتِحُ فَيُقَالُ مَنْ أَنْتَ فَأَقُولُ مُحَمَّدٌ فَيُفْتَحُ لِي فَأَخِرُّ سَاجِدًا فَأَحْمَدُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي وَلَا يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ بَعْدِي فَيَقُولُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ يُسْمَعْ مِنْكَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ قَالَ فَأُخْرِجُهُمْ ثُمَّ أَخِرُّ سَاجِدًا فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي وَلَا يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ بَعْدِي فَيُقَالُ لِي ارْفَعْ رَأْسَكَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ أَيْ رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ بُرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ قَالَ فَأُخْرِجُهُمْ قَالَ ثُمَّ أَخِرُّ سَاجِدًا فَأَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ فَيُقَالُ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ قَالَ فَأُخْرِجُهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১০২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی وفات پر حضرت ام ایمن (رض) رونے لگیں، کسی نے پوچھا کہ تم نبی ﷺ پر کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں جانتی ہوں کہ نبی ﷺ دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، میں تو اس وحی پر رو رہی ہوں جو منقطع ہوگئی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أُمَّ أَيْمَنَ بَكَتْ حِينَ مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهَا تَبْكِينَ فَقَالَتْ إِنِّي وَاللَّهِ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَمُوتُ وَلَكِنْ إِنَّمَا أَبْكِي عَلَى الْوَحْيِ الَّذِي انْقَطَعَ عَنَّا مِنْ السَّمَاءِ
তাহকীক: