আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১৩০৬৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سحری کیا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৬৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৬৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی کھیت اگاتا ہے، یا کوئی پودا اگاتا ہے اور اس سے کسی پرندے، انسان یا درندے کو رزق ملتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلَ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بُهْمَةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৬৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی کھیت اگاتا ہے، یا کوئی پودا اگاتا ہے اور اس سے کسی پرندے، انسان یا درندے کو رزق ملتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلَ مِنْهُ دَابَّةٌ أَوْ إِنْسَانٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৬৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ بدر کے قیدیوں کے متعلق لوگوں سے مشورہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر قدرت عطاء فرمائی ہے (اب تمہاری کیا رائے ہے ؟ ) حضرت عمر (رض) کھڑے ہو کر کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے اجازت دیجئے کہ ان سب کی گردنیں اڑا دوں، نبی ﷺ نے ان کی بات سے اعراض کر کے دوبارہ فرمایا لوگو ! اللہ نے تمہیں ان پر قدرت عطاء فرمائی ہے، کل یہ تمہارے ہی بھائی تھے، حضرت عمر (رض) نے دوبارہ کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے اجازت دیجئے کہ ان سب کی گردنیں اڑا دوں، نبی ﷺ نے ان کی بات سے اعراض کر کے تیسری مرتبہ پھر اپنی بات دہرائی، اس مرتبہ حضرت صدیق اکبر (رض) کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! ہماری رائے یہ ہے کہ آپ انہیں معاف کر کے ان سے فدیہ قبول کرلیں، یہ سن کر نبی ﷺ کے چہرے سے غم کی کیفیت دور ہوگئی اور انہیں معاف کر کے ان سے فدیہ قبول کرلیا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی " لَوْلَا كِتَابٌ مِنْ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ وَذَكَرَ رَجُلًا عَنِ الْحَسَنِ قَالَ اسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ قَالَ فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ قَالَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ وَإِنَّمَا هُمْ إِخْوَانُكُمْ بِالْأَمْسِ قَالَ فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ عَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِلنَّاسِ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ تَرَى أَنْ تَعْفُوَ عَنْهُمْ وَتَقْبَلَ مِنْهُمْ الْفِدَاءَ قَالَ فَذَهَبَ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ فِيهِ مِنْ الْغَمِّ قَالَ فَعَفَا عَنْهُمْ وَقَبِلَ مِنْهُمْ الْفِدَاءَ قَالَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَوْلَا كِتَابٌ مِنْ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৬৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک کپڑے میں لپٹ کر حضرت صدیق اکبر (رض) کے پیچھے نماز پڑھی تھی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي ثَوْبٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৬৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
ثابت بنانی (رح) کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے مرض الوفات میں اپنے جسم مبارک پر ایک کپڑا لپیٹ کر بیٹھ کر حضرت صدیق اکبر (رض) کی اقتداء میں نماز پڑھی ہے، پھر نبی ﷺ نے حضرت اسامہ (رض) کو بلایا اور اپنی پشت کو ان کے سینے سے لگایا اور فرمایا اسامہ ! مجھے اٹھاؤ۔ راوی یزید کہتے ہیں کہ میری کتاب میں حضرت انس (رض) کا نام بھی تھا ( کہ یہ روایت حضرت انس (رض) سے مروی ہے) لیکن استاذ صاحب نے اسے منکر قرار دیا اور ثابت ہی کے نام سے اسے محفوظ قرار دیا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ قَاعِدًا مُتَوَشِّحًا بِثَوْبٍ قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ بُرْدًا ثُمَّ دَعَا أُسَامَةَ فَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى نَحْرِهِ ثُمَّ قَالَ يَا أُسَامَةُ ارْفَعْنِي إِلَيْكَ قَالَ يَزِيدُ وَكَانَ فِي الْكِتَابَ الَّذِي مَعِي عَنْ أَنَسٍ فَلَمْ يَقُلْ عَنْ أَنَسٍ فَأَنْكَرَهُ وَأَثْبَتَ ثَابِتًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৭০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ وَخَالِدٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلْيَمْشِ عَلَى هِينَتِهِ فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ وَلْيَقْضِ مَا سُبِقَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৭১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے حلیق نصرانی کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ نبی ﷺ کے پاس وہ کپڑے بھیج دے جو میسرہ کی طرف ہیں، چناچہ میں نے اس کے پاس جا کر اس سے یونہی کہہ دیا کہ نبی ﷺ نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ تم نبی ﷺ کے پاس وہ کپڑے بجھوا دو جو میسرہ کی طرف ہیں، اس نے کہا کون میسرہ ؟ کب کا میسرہ ؟ بخدا ! محمد ﷺ کی ایک بھی بکری یا چرواہا نہیں ہے، میں یہ سن کر واپس آگیا، نبی ﷺ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا دشمن اللہ نے جھوٹ بولا ہے، میں سب سے بہترین خریدو فروخت کرنے والا ہوں، تم میں سے کوئی شخص کپڑے کی کتریں جمع کر کے ان کا کپڑا بنا کر پہن لے، یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ کسی امانت میں سے ایسی چیز پر قبضہ کرلے جس کا اسے حق نہ ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ صَاحِبُ الطَّعَامِ قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ وَلَيْسَ بِجَابِرٍ الْجُعْفِيِّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حَلِيقٍ النَّصْرَانِيِّ لِيَبْعَثَ إِلَيْهِ بِأَثْوَابٍ إِلَى الْمَيْسَرَةِ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ بَعَثَنِي إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَبْعَثَ إِلَيْهِ بِأَثْوَابٍ إِلَى الْمَيْسَرَةِ فَقَالَ وَمَا الْمَيْسَرَةُ وَمَتَى الْمَيْسَرَةُ وَاللَّهِ مَا لِمُحَمَّدٍ سَائِقَةٌ وَلَا رَاعِيَةٌ فَرَجَعْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ أَنَا خَيْرُ مَنْ يُبَايَعُ لَأَنْ يَلْبَسَ أَحَدُكُمْ ثَوْبًا مِنْ رِقَاعٍ شَتَّى خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ بِأَمَانَتِهِ أَوْ فِي أَمَانَتِهِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৭২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت معاذ (رض) سے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৭৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ کے بالائی حصے میں بنو عمرو بن عواف کے محلے میں پڑاؤ کیا اور وہاں چودہ راتیں مقیم رہے، پھر بنو نجار کے سرداروں کو بھلا بھیجا، وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، وہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے کہ نبی ﷺ اپنی سواری پر تھے، حضرت صدیق اکبر (رض) ان کے پیچھے تھے اور بنو نجار ان کے اردگرد تھے، یہاں تک کہ نبی ﷺ حضرت ابو ایوب انصاری (رض) کے صحن میں پہنچ گئے، ابتداء میں جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا نبی ﷺ وہیں نماز پڑھ لیتے اور بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے، پھر نبی ﷺ نے ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم دے دیا اور بنو نجار کے لوگوں کو بلا کر ان سے فرمایا اے بنو نجار ! اپنے اس باغ کی قیمت کا معاملہ میرے ساتھ طے کرلو، وہ کہنے لگے کہ ہم تو اس کی قیمت اللہ ہی سے لیں گے، اس وقت وہاں مشرکین کی کچھ قبریں، ویرانہ اور ایک درخت تھا، نبی ﷺ کے حکم پر مشرکین کی قبروں کو اکھیڑ دیا گیا، ویرانہ برابر کردیا گیا اور درخت کو کاٹ دیا گیا، قبلہ مسجد کی جانب درخت لگا دیا اور اس کے دروازوں کے کواڑ پتھر کے بنا دیئے، لوگ نبی ﷺ کو اینٹیں پکڑاتے تھے اور نبی ﷺ فرماتے جارہے تھے کہ اے اللہ ! اصل تو آخرت کی ہے، اے اللہ ! انصار اور مہاجرین کی نصرت فرما۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ وَكَانَ فِيهِ حَرْثٌ وَنَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِهِ فَقَالُوا لَا نَبْتَغِي بِهِ ثَمَنًا إِلَّا عِنْدَ اللَّهِ قَالَ فَقَطَعَ النَّخْلَ وَسَوَّى الْحَرْثَ وَنَبَشَ قُبُورَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ الْمَسْجِدَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ وَفِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُمْ يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ لِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৭৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سارے مسلمان اکٹھے ہوں گے ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی اور وہ کہیں گے کہ اگر ہم اپنے پروردگار کے سامنے کسی کی سفارش لے کر جائیں تو شاید وہ ہمیں اس جگہ سے راحت عطاء فرما دے، چناچہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ اے آدم ! آپ ابوالبشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے، لہٰذا آپ ہمارے رب سے سفارش کردیں کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دے دے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جواب دیں گے کہ میں تو اس کا اہل نہیں ہوں اور انہیں اپنی لغزش یاد آجائے گی اور وہ اپنے رب سے حیاء کریں گے اور فرمائیں گے کہ تم حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ نے اہل زمین کی طرف بھیجا تھا، چناچہ وہ سب لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ اپنے پروردگار سے ہماری سفارش کر دیجئے، وہ جواب دیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے، تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے انہیں اپنا خلیل قرار دیا ہے۔ چناچہ وہ سب لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے وہ بھی یہی کہیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے البتہ تم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے ان سے براہ راست کلام فرمایا ہے اور انہیں تورات دی تھی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی معذرت کرلیں گے کہ میں نے ایک ناحق شخص کو قتل کردیا تھا البتہ تم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول اور اس کا کلمہ اور روح تھے لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی معذرت کرلیں گے اور فرمائیں گے کہ تم محمد ﷺ کے پاس چلے جاؤ، وہ تمہاری سفارش کریں گے جن کی اگلی پچھلی لغزشیں اللہ نے معاف فرما دی ہیں۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ میں اپنے پروردگار کے پاس حاضری کی اجازت چاہوں گا جو مجھے مل جائے گی میں اپنے رب کو دیکھ کر سجدہ ریز ہوجاؤں گا، اللہ جب تک چاہے گا مجھے سجدے ہی کی حالت میں رہنے دے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد ﷺ ! سر اٹھائیے، آپ جو کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی، جو مانگیں گے وہ ملے گا اور جس کی سفارش کریں گے قبول کرلی جائے گی، چناچہ میں اپنا سر اٹھا کر اللہ رب العزت کی ایسی تعریف کروں گا جو وہ خود مجھے سکھائے گا پھر میں سفارش کروں گا تو اللہ میرے لئے ایک حد مقرر فرما دے گا اور میں انہیں جنت میں داخل کروا کر دوبارہ آؤں گا، تین مرتبہ اسی طرح ہوگا، چوتھی مرتبہ میں کہوں گا کہ پروردگار ! اب صرف وہی لوگ باقی بچے ہیں جنہیں قرآن نے روک رکھا ہے۔ یعنی ان کے لئے جہنم واجب ہوچکی ہے، پھر قتادہ نے آیت مقام محمود کی تلاوت کر کے اسی کو مقام محمود قرار دیا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُحْبَسُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَهْتَمُّونَ لِذَلِكَ فَيَقُولُونَ لَوْ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَيُرِيحُنَا مِنْ مَكَانِنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ أَبُونَا خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ قَالَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ أَكْلَهُ مِنْ الشَّجَرَةِ وَقَدْ نُهِيَ عَنْهَا وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ قَالَ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ سُؤَالَهُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ كَذَبَهُنَّ قَوْلَهُ إِنِّي سَقِيمٌ وَقَوْلَهُ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا وَأَتَى عَلَى جَبَّارٍ مُتْرَفٍ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ فَقَالَ أَخْبِرِيهِ أَنِّي أَخُوكِ فَإِنِّي مُخْبِرُهُ أَنَّكِ أُخْتِي وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ قَالَ فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ قَتْلَهُ الرَّجُلَ وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَكَلِمَةَ اللَّهِ وَرُوحَهُ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ فَيَأْتُونِي فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي دَارِهِ فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَ قَالَ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُخْرِجُهُمْ فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنْ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ الثَّانِيَةَ فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ ارْفَعْ رَأْسَكَ مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَ قَالَ فَأَرْفَعُ رَأْسِي وَأَحْمَدُ رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُخْرِجُهُمْ فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ قَالَ هَمَّامٌ وَأَيْضًا سَمِعْتُهُ يَقُولُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنْ النَّارِ فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ قَالَ ثُمَّ أَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ الثَّالِثَةَ فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُ رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُخْرِجُ فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ قَالَ هَمَّامٌ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنْ النَّارِ فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ فَلَا يَبْقَى فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ ثُمَّ تَلَا قَتَادَةُ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا قَالَ هُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي وَعَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৭৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور ابوعبیدہ اس امت کے امین ہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৭৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے بال کندھوں تک آتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضْرِبُ شَعَرُهُ إِلَى مَنْكِبَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৭৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کتنے حج کئے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ چار مرتبہ، ایک عمرہ تو حدیبیہ کے زمانے میں، دوسرا ذیقعدہ کے مہینے میں مدینہ سے، تیسرا عمرہ ذیقعدہ ہی کے مہینے میں جعرانہ سے جب آپ ﷺ نے غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا تھا اور چوتھا عمرہ حج کے ساتھ کیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا كَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعًا عُمْرَتَهُ الَّتِي صَدَّهُ عَنْهَا الْمُشْرِكُونَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَتَهُ أَيْضًا فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَتَهُ حِينَ قَسَمَ غَنِيمَةَ حُنَيْنٍ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَتَهُ مَعَ حَجَّتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৭৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی ﷺ سے ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! بارش کی دعاء کر دیجئے، نبی ﷺ نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی۔ جس وقت آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا اور جب بارش شروع ہوئی تو رکتی ہوئی نظر نہ آئی، جب اگلا جمعہ ہوا تو اسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! بارش رکنے کی دعاء کردیں، یہ سن کر نبی ﷺ نے اللہ سے دعاء کی اور میں نے دیکھا کہ بادل دائیں بائیں چھٹ گئے اور مدینہ کے اندر ایک قطرہ بھی نہیں ٹپک رہا تھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا قَالَ فَاسْتَسْقَى وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً قَالَ فَأُمْطِرْنَا فَمَا جَعَلَتْ تُقْلِعُ فَلَمَّا أَتَتْ الْجُمُعَةُ قَامَ إِلَيْهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرْفَعَهَا عَنَّا قَالَ فَدَعَا فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى السَّحَابِ يُسْفِرُ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَا يُمْطِرُ مِنْ جَوْفِهَا قَطْرَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৭৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تھوکنا چاہے تو اپنی دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْزُقْ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৮০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے مبارک جوتوں کے دو تسمے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ نَعْلُهُ لَهَا قِبَالَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৮১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نکاح کرنے کا حکم دیتے اور اس سے اعراض کرنے کی شدید ممانعت فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ محبت کرنے والی اور بچوں کی ماں بننے والی عورت سے شادی کیا کرو کہ میں قیامت کے دن دیگر انبیاء (علیہم السلام) پر تمہاری کثرت سے فخر کروں گا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ قَالَ أَبِي وَقَدْ رَأَيْتُ خَلَفَ بْنَ خَلِيفَةَ وَقَدْ قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ يَا أَبَا أَحْمَدَ حَدَّثَكَ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَالَ أَبِي فَلَمْ أَفْهَمْ كَلَامَهُ كَانَ قَدْ كَبِرَ فَتَرَكْتُهُ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالْبَاءَةِ وَيَنْهَى عَنْ التَّبَتُّلِ نَهْيًا شَدِيدًا وَيَقُولُ تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ الْأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৮২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا تھا، رکوع و سجود کے بعد جب وہ بیٹھا تو تشہد میں اس نے یہ دعاء پڑھی ( اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ يَا بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ ) " اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، نہایت احسان کرنے والا ہے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے اور بڑے جلال اور عزت والا ہے " نبی ﷺ نے فرمایا تو نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ ابْنُ أَخِي أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْحَلْقَةِ وَرَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمَّا رَكَعَ وَسَجَدَ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ يَا بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ بِمَا دَعَا اللَّهَ قَالَ فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى
tahqiq

তাহকীক: