আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৬৪ টি

হাদীস নং: ১৪৩৯৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ صحابہ کی عادت یہ تھی کہ نبی ﷺ کے شروع کرنے سے پہلے ہاتھ نہ بڑھاتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُمْ كَانُوا لَا يَضَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الطَّعَامِ حَتَّى يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ يَبْدَأُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪০০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے قبل اس کے نبی ﷺ نماز عید ادا کریں اپناچھ ماہ کا بکری کا بچہ ذبح کرلیا نبی ﷺ نے فرمایا تمہارے علاوہ کسی اور کی طرف سے یہ کفایت نہیں کرے گا اور نبی ﷺ نے نماز سے قبل جانور ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَتُودًا جَذَعًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ وَنَهَى أَنْ يَذْبَحُوا حَتَّى يُصَلُّوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪০১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ رسول اللہ کے ساتھ واپس آرہے تھے ذات الرقاع میں پہنچ کر ہم نے ایک سایہ دار درخت نبی ﷺ کے لئے چھوڑ دیا ایک مشرک آیا اس وقت نبی ﷺ کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس نے نبی ﷺ کی تلوار لے کر اسے سونت لیا اور کہنے لگا کہ آپ مجھ سے ڈرتے ہیں میں نے کہا نہیں اس نے کہا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا اللہ بچائے گا یہ سن کر اس کے ہاتھ سے تلوار گرگئی پھر آپ نے اس سے پوچھا کہ اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا پھر صحابہ نے اسے ڈرایا اور حضور نے تلوار کو نیام میں ڈال لیا اور پھر نماز کا اعلان کیا نبی ﷺ نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر وہ لوگ چلے گئے اور دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی ﷺ کی چار رکعتیں ہوگئیں اور لوگوں کی دو رکعتیں ہوئیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَ كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ وَسَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرَطَهُ ثُمَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَخَافُنِي قَالَ لَا قَالَ فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَمْنَعُنِي مِنْكَ قَالَ فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَغْمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهُ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ وَتَأَخَّرُوا وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪০২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ رسول اللہ کے ساتھ واپس آرہے تھے ذات الرقاع میں پہنچ کر ہم نے ایک سایہ دار درخت نبی ﷺ کے لئے چھوڑ دیا ایک مشرک آیا اس وقت نبی ﷺ کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس نے نبی ﷺ کی تلوار لے کر اسے سونت لیا اور کہنے لگا کہ آپ مجھ سے ڈرتے ہیں میں نے کہا نہیں اس نے کہا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا اللہ بچائے گا یہ سن کر اس کے ہاتھ سے تلوار گرگئی پھر آپ نے اس سے پوچھا کہ اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا پھر صحابہ نے اسے ڈرایا اور حضور نے تلوار کو نیام میں ڈال لیا اور پھر نماز کا اعلان کیا نبی ﷺ نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر وہ لوگ چلے گئے اور دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی ﷺ کی چار رکعتیں ہوگئیں اور لوگوں کی دو رکعتیں ہوئیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَارِبَ خَصَفَةَ بِنَخْلٍ فَرَأَوْا مِنْ الْمُسْلِمِينَ غِرَّةً فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ كُنْ كَخَيْرِ آخِذٍ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ لَا وَلَكِنِّي أُعَاهِدُكَ أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ قَالَ فَذَهَبَ إِلَى أَصْحَابِهِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ فَلَمَّا كَانَ الظُّهْرُ أَوْ الْعَصْرُ صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَكَانَ النَّاسُ طَائِفَتَيْنِ طَائِفَةً بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ وَطَائِفَةً صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَكَانُوا مَكَانَ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَانُوا بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فَكَانَ لِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪০৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک دفعہ کسی بازار سے گذر رہے تھے وہاں ایک بہت چھوٹے کانوں والی مردار بکری پڑی ہوئی تھی نبی ﷺ نے اسے پکڑ کر اٹھایا اور لوگوں سے فرمایا تم اسے کتنے میں خریدنا چاہتے ہو لوگوں نے کہا ہم تو اسے کسی چیز کے عوض نہیں خریدنا چاہتے ہم نے اس کا کیا کرنا ہے نبی ﷺ نے پھر اپنی بات دہرائی لوگوں نے کہا کہ اگر یہ زندہ ہوتی تو تب بھی اس میں چھوٹے کانوں والی ہونا ایک عیب ہے اب جبکہ مرادار بھی تو ہم اسے کیسے خرید سکتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا بخدا یہ بکری تمہاری نگاہوں میں جتنی حقیر ہے اس سے زیادہ اللہ کی نگاہوں میں دنیا حقیر ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْعَالِيَةَ فَمَرَّ بِالسُّوقِ فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ فَتَنَاوَلَهُ فَرَفَعَهُ ثُمَّ قَالَ بِكَمْ تُحِبُّونَ أَنَّ هَذَا لَكُمْ قَالُوا مَا نُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ وَمَا نَصْنَعُ بِهِ قَالَ بِكَمْ تُحِبُّونَ أَنَّهُ لَكُمْ قَالُوا وَاللَّهِ لَوْ كَانَ حَيًّا لَكَانَ عَيْبًا فِيهِ أَنَّهُ أَسَكُّ فَكَيْفَ وَهُوَ مَيِّتٌ قَالَ فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪০৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نکلے تھے لیکن نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اسے عمرہ کا احرام بنالیا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقُولُ لَبَّيْكَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪০৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے کسی نے پوچھا کہ خمس کا کیا کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کسی مجاہد کو سواری مہیا کردیتے تھے پھر کسی دوسرے کو اللہ کے راستہ میں سواری دیتے تھے پھر کسی تیسرے کو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ بِالْخُمُسِ قَالَ كَانَ يَحْمِلُ الرَّجُلَ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ الرَّجُلَ ثُمَّ الرَّجُلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪০৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر ہمیں پیاس نے ستایا نبی ﷺ کے پاس صرف ایک پیالہ تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے لوگ گھبرائے ہوئے نبی ﷺ کے پاس آئے نبی ﷺ نے اس پیالے میں اپنے دست مبارک کو رکھ دیا اور فرمایا بسم اللہ پڑھ کر یہ پانی لو اور نبی ﷺ کی انگلیوں کے درمیان چشموں کی طرح پانی ابلنے لگا ہم سب نے اسے پیا اور وضو کیا راوی نے حضرت جابر (رض) سے پوچھا کہ آپ کتنے لوگ تھے انہوں نے فرمایا پندرہ سو اور اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو تب بھی وہ پانی ہمارے لئے کافی ہوتا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ وَعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ سَمِعَا سَالِمًا قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا قَالَ أَصَابَنَا عَطَشٌ فَجَهَشْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ مَاءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَثُورُ مِنْ خِلَالِ أَصَابِعِهِ كَأَنَّهَا عُيُونٌ و قَالَ عَمْرٌو وَحُصَيْنٌ كِلَاهُمَا قَالَ خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ حَتَّى وَسِعَنَا وَكَفَانَا و قَالَ لِجَابِرٍ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ وَلَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪০৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی فوت ہوگیا اس نے ایک مدبر غلام چھوڑا اور مقروض ہو کر مرا نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اس کے غلام کو اس کے قرض کے عوض بیچ دو چناچہ لوگوں نے اسے آٹھ سو درہم کے عوض فروخت کردیا۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ عَنْ عَطَاءٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَتَرَكَ مُدَبَّرًا وَدَيْنًا فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي دَيْنِهِ فَبَاعُوهُ بِثَمَانِ مِائَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪০৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام شہید ہوئے تو ان پر کچھ قرض تھا میں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرے والد فوت ہوگئے ہیں ان پر کچھ قرض تھا اور ہمارے پاس تو صرف وہی ہے جو ہمارے درخت کی پیدوار ہے لیکن وہ تو ان کے قرض کے چھٹے حصے کو بھی نہیں پہنچتی نبی ﷺ میرے ساتھ تشریف لے گئے تاکہ قرض خواہ مجھ سے بدتمیزی نہ کرے نبی ﷺ کھجور کے ڈھیر کے گرد چکر لگایا وہیں تشریف لے گئے اور دعا کر کے فرمایا کہ قرض خواہوں کو بلاؤ حتی کہ سب کا قرض پورا کردیا اور میری کھجوریں اسی طرح رہ گئیں جتنی پہلے تھیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا عَامِرٌ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُلْتُ لَهُ إِنَّ أَبِي تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَيْسَ عِنْدِي إِلَّا مَا يُخْرِجُ نَخْلُهُ فَلَا يَبْلُغُ مَا يَخْرُجُ سُدُسَ مَا عَلَيْهِ قَالَ فَانْطَلَقَ مَعِي لِكَيْلَا تَفَحَّشَ عَلَيَّ الْغُرَمَاءُ فَمَشَى حَوْلَ بَيْدَرٍ مِنْ بَيَادِرِ التَّمْرِ ثُمَّ دَعَا وَجَلَسَ عَلَيْهِ وَقَالَ أَيْنَ غُرَمَاؤُهُ فَأَوْفَاهُمْ الَّذِي لَهُمْ وَبَقِيَ مِثْلُ الَّذِي أَعْطَاهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪০৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ خندق کے دن لوگوں کو دشمن کی خبر لانے کے لئے تین مرتبہ ترغیب دی اور تینوں مرتبہ حضرت زبیر نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا جس پر نبی ﷺ نے فرمایا ہر نبی ﷺ کا ایک حواری ہوتا تھا اور میرے حواری زبیر ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ فَقَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا ثُمَّ قَالَ مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ قَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا قَالَ مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ فَقَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا قَالَ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪১০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے دست مبارک پر بیعت کرلی کچھ عرصے میں اسے بہت تیز بخار تھا وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کردیجیے نبی ﷺ نے انکار کردیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا چوتھی مرتبہ وہ نہ آیا نبی ﷺ نے معلوم کیا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ مدینہ منورہ سے چلا گیا ہے اس پر نبی ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو میل کچیل کو دور کردیتا ہے اور عمدہ چیز کو چمکدار اور صاف ستھرا کردیتی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَايِعْنِي عَلَى الْإِسْلَامِ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ثُمَّ جَاءَ مِنْ الْغَدِ مَحْمُومًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي فَأَبَى ثُمَّ جَاءَ مِنْ الْغَدِ مَحْمُومًا فَقَالَ أَقِلْنِي فَأَبَى فَلَمَّا وَلَّى قَالَ الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتَنْصَعُ طَيِّبَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪১১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کا لقمہ گرجائے تو اسے چاہیے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دہ چیز کو ہٹا کر اسے کھالے اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور اپنا ہاتھ تو لیے سے نہ پوچھے اور انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے کہ اس کے کھانے کے کسی حصے میں برکت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمْ لُقْمَةٌ فَلْيُمِطْ مَا أَصَابَهَا مِنْ الْأَذَى وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪১২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ابلیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر روانہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قرب شیطانی وہ پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ فَيَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪১৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا شیطان اس بات سے مایوس ہوگیا ہے کہ اب نمازی دوبارہ اس کی پوجا کرسکیں گے البتہ وہ ان کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کے درپے ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْلِيسَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ حَدَّثَنَاه وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ مَعْنَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪১৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جس حال میں فوت ہوگا اللہ اسے اسی حال میں اٹھائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪১৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ حج کے ارادے سے روانہ ہوئے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا مقام سرف میں پہنچے تو حضرت عائشہ کو ایام آگئے نبی ﷺ حضرت عائشہ کے پاس تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں نبی ﷺ نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگی کہ میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ مجھے ایام شروع ہوگئے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی ساری بیٹیوں کے لئے لکھ دی ہے۔ ہم لوگ چار ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی اور نبی ﷺ کے حکم پر مکمل حلال ہوگئے کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو صرف حج کے ارادے سے نکلے تھے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا جب ہمارے اور عرفات کے درمیان چار دن رہ گئے تو یہ حکم آگیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم عرفات کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرات ٹپک رہے ہوں نبی ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آجاتی جو بعد میں آئی ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا اس لئے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے۔ اور سراقہ بن مالک جمرہ عقبہ کی رمی کے وقت نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ یہ حکم اس سال کے لئے خاص ہے یا ہمیشہ کے لئے فرمایا ہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے پھر ہم عرفات پہنچے وہاں سے واپسی ہوئی تو حضرت عائشہ صدیقہ کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ آپ لوگ حج اور عمرے کے ساتھ روانہ ہوں اور میں صرف حج کے ساتھ۔ نبی ﷺ نے ان کے بھائی عبدالرحمن کو حکم دیا کہ وہ انہیں تنعیم لے جائیں چناچہ حضرت عائشہ نے حج کے بعد ذی الحجہ میں ہی عمرہ کیا اور تنعیم سے عمرہ کرکے واپس آگئیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيَّ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا لَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ وَلَا نَنْوِي غَيْرَهُ حَتَّى إِذَا بَلَغْنَا سَرِفَ حَاضَتْ عَائِشَةُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ مَا لَكِ تَبْكِينَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَنِي الْأَذَى قَالَ إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ يُصِيبُكِ مَا يُصِيبُهُنَّ قَالَ وَقَدِمْنَا الْكَعْبَةَ فِي أَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَيَّامًا أَوْ لَيَالِيَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا فَأَحْلَلْنَا الْإِحْلَالَ كُلَّهُ قَالَ فَتَذَاكَرْنَا بَيْنَنَا فَقُلْنَا خَرَجْنَا حُجَّاجًا لَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ وَلَا نَنْوِي غَيْرَهُ حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَاتٍ إِلَّا أَرْبَعَةُ أَيَّامٍ أَوْ لَيَالٍ خَرَجْنَا إِلَى عَرَفَاتٍ وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ الْمَنِيَّ مِنْ النِّسَاءِ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ أَلَا إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَأَحْلَلْتُ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَبِّرْنَا خَبَرَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ قَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ قَالَ فَأَتَيْنَا عَرَفَاتٍ وَانْصَرَفْنَا مِنْهَا ثُمَّ إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي قَدْ اعْتَمَرُوا قَالَ إِنَّ لَكِ مِثْلَ مَا لَهُمْ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي فَوَقَفَ بِأَعْلَى وَادِي مَكَّةَ وَأَمَرَ أَخَاهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَهَا حَتَّى بَلَغَتْ التَّنْعِيمَ ثُمَّ أَقْبَلَتْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪১৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ حج کے ارادے سے روانہ ہوئے ہم لوگ چارذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے بیت اللہ کا طواف دوگانہ طواف اور صفاومروہ کے درمیان سعی کی اور نبی ﷺ کے حکم پر ہم نے بال چھوٹے کروا لئے پھر نبی ﷺ نے فرمایا حلال ہوجاؤ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ کس طرح فرمایا جس طرح ایک غیر محرم کے لئے عورت خوشبو حلال ہوجاتی ہے چناچہ لوگوں نے اپنے عورتوں سے خلوت کی اور انگھٹیاں خوشبو اڑانے لگیں کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو صرف حج کے ارادے سے نکلے تھے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا جب ہمارے اور عرفات کے درمیان چار دن رہ گئے تو یہ حکم آگیا کہ اس کا مطلب ہے کہ جب ہم عرفات کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرے ٹپک رہے ہوں نبی ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے اگر میرے سامنے بات پہلے ہی سے آجاتی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا اس لئے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے مجھ سے مناسک حج سیکھ لو پھر لوگوں کو غیر محرم ہونے کی حالت میں ہی رہنے دیا یہاں تک کہ جب آٹھ ذی الحجہ کی تاریخ آئی اور منیٰ کی طرف روانگی کا حکم ہوا تو انہوں نے حج کا احرام باندھا اس سفر میں جس کے پاس ہدی کا جانور موجود تھا اس پر قربانی رہی اور جس کے پاس نہیں تھا اس پر روزے رہے اور نبی ﷺ نے ایک اونٹ اور ایک گائے میں سات آدمیوں کو شریک کرایا اور یاد رہے کہ حج اور عمرے کے لئے انہوں نے بیت اللہ کا طواف بھی ایک ہی مرتبہ کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی بھی ایک مرتبہ ہی کی۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ أَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ كُلُّنَا فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَصَلَّيْنَا الرَّكْعَتَيْنِ وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَمَرَنَا فَقَصَّرْنَا ثُمَّ قَالَ أَحِلُّوا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حِلُّ مَاذَا قَالَ حِلُّ مَا يَحِلُّ لِلْحَلَالِ مِنْ النِّسَاءِ وَالطِّيبِ قَالَ فَغُشِيَتْ النِّسَاءُ وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ قَالَ خَلَفٌ وَبَلَغَهُ أَنَّ بَعْضَهُمْ يَقُولُ يَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا قَالَ فَخَطَبَهُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَوْ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ أَلَا فَخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ قَالَ فَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّهِمْ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَأَرَادُوا التَّوَجُّهَ إِلَى مِنًى أَهَلُّوا بِالْحَجِّ قَالَ فَكَانَ الْهَدْيُ عَلَى مَنْ وَجَدَ وَالصِّيَامُ عَلَى مَنْ لَمْ يَجِدْ وَأَشْرَكَ بَيْنَهُمْ فِي هَدْيِهِمْ الْجَزُورَ بَيْنَ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ بَيْنَ سَبْعَةٍ وَكَانَ طَوَافُهُمْ بِالْبَيْتِ وَسَعْيُهُمْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِحَجِّهِمْ وَعُمْرَتِهِمْ طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعْيًا وَاحِدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪১৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے ہم یہی سمجھ رہے تھے کہ ہم حج کرنے جارہے ہیں جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں اعلان ہوگیا کہ تم میں سے جس کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو اسے چاہیے کہ احرام کھول دے اور جس کے پاس ہدی کا جانور ہو اسے اپنے احرام پر باقی رہنا چاہیے چناچہ لوگ عمرہ کر کے احرام سے فارغ ہوگئے الاّ یہ کہ کسی کے پاس ہدی کا جانور ہو نبی ﷺ بھی حالت احرام میں ہی رہے آپ کے پاس اونٹ سو تھے ادھر حضرت علی بھی یمن سے آئے تو نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا انہوں نے عرض کیا کہ میں نے یہ نیت کی تھی کہ اے اللہ میں وہی احرام باندھتاہوں جو آپ کے نبی ﷺ نے باندھا ہے اس پر نبی ﷺ نے انہیں تیس سے زائد اونٹ دیئے اور وہ دونوں حالت احرام میں ہی رہے یہاں تک کہ ہدی کا جانور اپنے ٹھکانہ تک پہنچ گیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا قَطَنٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَحْسِبُ إِلَّا أَنَّنَا حُجَّاجًا فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ نُودِيَ فِينَا مَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ قَالَ فَأَحَلَّ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ إِلَّا مَنْ كَانَ سَاقَ الْهَدْيَ قَالَ وَبَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ مِائَةُ بَدَنَةٍ وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ بِأَيِّ شَيْءٍ أَهْلَلْتَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ نَبِيُّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَعْطَاهُ نَيِّفًا عَلَى الثَّلَاثِينَ مِنْ الْبُدْنِ قَالَ ثُمَّ بَقِيَا عَلَى إِحْرَامِهِمَا حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪১৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا لوگ مختلف کانوں کی طرح ہیں چناچہ ان میں سے جو زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں جب کہ علم دین کی سمجھ بوجھ پیدا کرلیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ النَّاسُ مَعَادِنُ فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا
tahqiq

তাহকীক: