আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৬৪ টি

হাদীস নং: ১৪৪১৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ روانہ تو سکون کے ساتھ ہوئے لیکن وادی محسر میں اپنی سواری کی رفتار کو تیز کردیا اور انہیں ٹھیکری جیسی کنکریاں دکھا کر سکون وقار سے چلنے کا حکم دیا اور میری امت کو مناسک حج سیکھ لینے چاہئیں کیونکہ ہوسکتا ہے میں آئندہ سال ان سے نہ مل سکوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَأَرَاهُمْ مِثْلَ حَصَا الْخَذْفِ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَقَالَ لِتَأْخُذْ أُمَّتِي مَنَاسِكَهَا فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاهُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ کے راستہ میں جس شخص کے پاؤں غبارآلود ہوئے ہوں وہ آگ پر حرام ہوجائے گا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي الْمُصَبِّحِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُمَا حَرَامٌ عَلَى النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں حضرت ابن ام مکتوم آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ میرا گھر دور ہے مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا البتہ اذان کی آواز ضرور سنتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اذان کی آواز سنتے ہو تو اس کی پکار پر لبیک ضرور کہا کرو خواہ تمہیں گھٹنوں کے بل ہی گھس کر ہی آنا پڑے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ أَبُو إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَى ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْزِلِي شَاسِعٌ وَأَنَا مَكْفُوفُ الْبَصَرِ وَأَنَا أَسْمَعُ الْأَذَانَ قَالَ فَإِنْ سَمِعْتَ الْأَذَانَ فَأَجِبْ وَلَوْ حَبْوًا أَوْ زَحْفًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کسی لشکر کو تیار کررہے تھے اس کام میں آدھی رات گزر گئی پھر نبی ﷺ تشریف لائے اور فرمایا کہ لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم مسلسل نماز میں ہی رہے جتنی دیر تک تم نے نماز کا انتظار کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا لَيْلَةً حَتَّى ذَهَبَ نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ بَلَغَ ذَلِكَ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ قَدْ صَلَّى النَّاسُ وَرَقَدُوا وَأَنْتُمْ تَنْتَظِرُونَ هَذِهِ الصَّلَاةَ أَمَا إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص روزہ رکھنا چاہے اسے کسی چیز سے سحری کر لینی چاہئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَتَسَحَّرْ بِشَيْءٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان صرف ایک جوتی پہن کرچلے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْشِيَ أَحَدُنَا فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی کے سینے یا پیٹ میں کہیں سے آکر تیر لگا اور وہ فوت ہوگیا اسے اس کے کپڑوں میں اس طرح لپیٹ دیا گیا اس وقت ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رُمِيَ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فِي صَدْرِهِ أَوْ قَالَ فِي جَوْفِهِ فَمَاتَ فَأُدْرِجَ فِي ثِيَابِهِ كَمَا هُوَ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک پیغمبر کو خیبر کے مال غنیمت کے طور پر عطاء فرمادیا نبی ﷺ نے یہودیوں کو وہاں ہی رہنے دیا اور اسے لوگوں میں تقسیم کردیا اس کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہ کو بھیجا انہوں نے وہاں پہنچ کر پھل کاٹا اور اس کا اندازہ لگالیا پھر ان سے فرمایا کہ اے گروہ یہود تمام مخلوق میں میرے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض تم ہی لوگ ہو تم نے اللہ کے نبی ﷺ وں کو شہید کیا اور اللہ پر جھوٹ باندھا لیکن یہ نفرت مجھے تم پر زیادہ نہیں کرنے دے گی میں نے بیس ہزار وسق کھجوریں کاٹیں ہیں اگر تم چاہو تو تم لے لو اور اگر چاہو تو میں لے لیتا ہوں وہ کہنے لگے کہ اسی پر زمین آسمان قائم رہیں گے کہ ہم نے انہیں لے لیا اب آپ لوگ چلے جاؤ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ أَفَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا كَانُوا وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ أَنْتُمْ أَبْغَضُ الْخَلْقِ إِلَيَّ قَتَلْتُمْ أَنْبِيَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَذَبْتُمْ عَلَى اللَّهِ وَلَيْسَ يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ قَدْ خَرَصْتُ عِشْرِينَ أَلْفَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ فَإِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ وَإِنْ أَبَيْتُمْ فَلِي فَقَالُوا بِهَذَا قَامَتْ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ قَدْ أَخَذْنَا فَاخْرُجُوا عَنَّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا دجال کا خروج اس وقت میں ہوگا جب دین میں سستی اور علم میں تنزل آجائے گا وہ چالیس راتوں میں ساری زمین پھر جائے گا جس کا ایک دن سال کے برابر دوسرا مہینے کے برابر، تیسرا ہفتے کے برابر اور باقی ایام تمہارے ہی ایام کی طرح ہوں گے اس کے پاس ایک گدھا ہوگا جس پر وہ سواری کرے گا اور جس کے دونوں کانوں کے درمیان چوڑائی چالیس گز کے برابر ہوگی اور وہ لوگوں سے کہے گا کہ میں تمہارا رب ہی ہوں حالانکہ وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان حروف تہجی سے کافر لکھا ہوا ہوگا جسے ہر مسلمان خواہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ پڑھ لے گا وہ مدینہ اور مکہ جنہیں اللہ نے اس پر حرام قرار دیا ہے کے علاوہ ہر پانی اور گھاٹ پر اترے گا اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ ہوں گے اس کے پیروکار کے علاوہ وہ تمام لوگوں اتنہائی پریشان ہوں گے اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی جن کی در حقیقت میں اس سے زیادہ جانتا ہوں ایک نہر کو وہ جنت اور دوسری نہر کو جہنم کہتا ہوگا جسے وہ اپنی جنت میں داخل کرے گا وہ درحقیقت جہنم ہوگی اور جسے وہ اپنی جہنم میں داخل کرے گا وہ جنت ہوگی۔ اللہ اس کے ساتھ شیاطین کو بھیج دے گا جو لوگوں سے باتیں کریں گے اس کے ساتھ ایک عظیم فتنہ ہوگا وہ آسمان کو حکم دے اور لوگوں کو یوں محسوس ہوگا کہ جیسے بارش ہورہی ہے وہ ایک آدمی کو قتل کرے گا پھر لوگوں کی آنکھوں کے سامنے اسے دوبارہ زندہ کرے گا اور لوگوں سے کہے گا کہ لوگوں یہ کام کوئی ایسا شخص کرسکتا ہے جو پروردگار نہ ہو اس وقت حقیقی مسلمان بھاگ جائیں گے اور جا کر شام کے جبل دخان میں پناہ لیں گے دجال ان کا انتہائی سخت محاصرہ کرے گا اور مسلمان انتہائی پریشان ہوں گے۔ پھر حضرت عیسیٰ کا نزول ہوگا اور وہ سحری کے وقت لوگوں کو پکار کر کہیں گے لوگو تمہیں اس کذاب خبیث کی طرف نکلنے سے کس چیز نے روک رکھا ہے لوگ کہیں گے یہ کوئی جن معلوم ہوتا ہے لیکن نکل کر دیکھیں گے تو وہ حضرت عیسیٰ ہوں گے نماز کھڑی ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ روح آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں وہ فرمائیں گے تمہارے امام ہی کو آگے بڑھ کر نماز پڑھانی چاہیے نماز فجر کے بعد وہ دجال کی طرف نکلیں گے جب وہ کذاب حضرت عیسیٰ کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے حضرت عیسیٰ بڑھ کر اسے قتل کریں گے اور اس وقت وہ شجر اور حجر پکار اٹھیں گے اے روح اللہ یہ یہودی یہاں چھپا ہوا ہے چناچہ وہ دجال کے کسی پیروکار کو نہیں چھوڑیں گے اور سب کو قتل کردیں گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي خَفْقَةٍ مِنْ الدِّينِ وَإِدْبَارٍ مِنْ الْعِلْمِ فَلَهُ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً يَسِيحُهَا فِي الْأَرْضِ الْيَوْمُ مِنْهَا كَالسَّنَةِ وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالشَّهْرِ وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالْجُمُعَةِ ثُمَّ سَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ هَذِهِ وَلَهُ حِمَارٌ يَرْكَبُهُ عَرْضُ مَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا فَيَقُولُ لِلنَّاسِ أَنَا رَبُّكُمْ وَهُوَ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ك ف ر مُهَجَّاةٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٌ وَغَيْرُ كَاتِبٍ يَرِدُ كُلَّ مَاءٍ وَمَنْهَلٍ إِلَّا الْمَدِينَةَ وَمَكَّةَ حَرَّمَهُمَا اللَّهُ عَلَيْهِ وَقَامَتْ الْمَلَائِكَةُ بِأَبْوَابِهَا وَمَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَالنَّاسُ فِي جَهْدٍ إِلَّا مَنْ تَبِعَهُ وَمَعَهُ نَهْرَانِ أَنَا أَعْلَمُ بِهِمَا مِنْهُ نَهَرٌ يَقُولُ الْجَنَّةُ وَنَهَرٌ يَقُولُ النَّارُ فَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ الْجَنَّةَ فَهُوَ النَّارُ وَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ النَّارَ فَهُوَ الْجَنَّةُ قَالَ وَيَبْعَثُ اللَّهُ مَعَهُ شَيَاطِينَ تُكَلِّمُ النَّاسَ وَمَعَهُ فِتْنَةٌ عَظِيمَةٌ يَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ وَيَقْتُلُ نَفْسًا ثُمَّ يُحْيِيهَا فِيمَا يَرَى النَّاسُ لَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا مِنْ النَّاسِ وَيَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ هَلْ يَفْعَلُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَيَفِرُّ الْمُسْلِمُونَ إِلَى جَبَلِ الدُّخَانِ بِالشَّامِ فَيَأْتِيهِمْ فَيُحَاصِرُهُمْ فَيَشْتَدُّ حِصَارُهُمْ وَيُجْهِدُهُمْ جَهْدًا شَدِيدًا ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيُنَادِي مِنْ السَّحَرِ فَيَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَى الْكَذَّابِ الْخَبِيثِ فَيَقُولُونَ هَذَا رَجُلٌ جِنِّيٌّ فَيَنْطَلِقُونَ فَإِذَا هُمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَيُقَالُ لَهُ تَقَدَّمْ يَا رُوحَ اللَّهِ فَيَقُولُ لِيَتَقَدَّمْ إِمَامُكُمْ فَلْيُصَلِّ بِكُمْ فَإِذَا صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ خَرَجُوا إِلَيْهِ قَالَ فَحِينَ يَرَى الْكَذَّابُ يَنْمَاثُ كَمَا يَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ فَيَمْشِي إِلَيْهِ فَيَقْتُلُهُ حَتَّى إِنَّ الشَّجَرَةَ وَالْحَجَرَ يُنَادِي يَا رُوحَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ فَلَا يَتْرُكُ مِمَّنْ كَانَ يَتْبَعُهُ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک یہودی عورت کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کی ایک آنکھ پونچھی تو ہوئی تھی اور دوسری روشن ابھری ہوئی تھی نبی ﷺ کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں یہ دجال نہ ہو نبی ﷺ نے اسے ایک چادر میں لیٹے ہوئے دیکھا کہ وہ کچھ گنگنارہا ہے لیکن اس کی ماں نے اسے بروقت مطلع کردیا کہ عبداللہ یہ ابوقاسم آئے ہیں ان کے پاس آؤ چناچہ وہ اپنی چادر سے نکل کر آیا نبی ﷺ نے فرمایا اس عورت کو کیا ہوگیا ہے اس پر اللہ کی مار ہو اگر یہ اسے چھوڑ دیتی تو یہ اپنی حقیقت ضرور واضح کردیتا پھر نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن صائد تو کیا دیکھتا ہے اس نے کہا میں حق بھی دیکھتاہوں اور باطل بھی اور میں پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اس پر معاملہ مشتبہ ہوگیا پھر پوچھا کہ کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے پلٹ کو پوچھا کہ آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں میں اللہ کا رسول ہوں نبی ﷺ نے فرمایا میں تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں پھر نبی ﷺ اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر نبی ﷺ اس کے پاس آئے اور یہی حالات پیش آئے پھر تیسری مرتبہ یا چوتھی مرتبہ مہاجرین انصار کی ایک جماعت کے ساتھ جن میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی تھے اور میں بھی تھا تشریف لائے اور یہی حالات پیش آئے البتہ آخر میں نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اے ابن صائد ہم نے تیرے امتحان کے لئے اپنے ذہن میں ایک چیز چھپائی ہوئی ہے بتاوہ کیا ہے اس نے دخ، دخ، نبی ﷺ نے فرمایا دور ہو اس پر حضرت عمر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجیے میں اسے قتل کردوں نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ وہی ہوا تو اس کے اہل نہیں ہو اس کے اہل حضرت عیسیٰ ہیں اور اگر وہ نہیں ہے تو تمہیں کسی ذمی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی بہرحال نبی ﷺ کو ہمیشہ یہ اندیشہ رہا کہ کہیں یہ دجال نہ ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ امْرَأَةً مِنْ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةٌ عَيْنُهُ طَالِعَةٌ نَاتِئَةٌ فَأَشْفَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونَ الدَّجَّالَ فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَاخْرُجْ إِلَيْهِ فَخَرَجَ مِنْ الْقَطِيفَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ ثُمَّ قَالَ يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ قَالَ فَلُبِسَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَهُ ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فَوَجَدَهُ فِي نَخْلٍ لَهُ يُهَمْهِمُ فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْمَعُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا فَيَعْلَمُ هُوَ هُوَ أَمْ لَا قَالَ يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَلُبِسَ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ فَتَرَكَهُ ثُمَّ جَاءَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي نَفَرٍ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَنَا مَعَهُ قَالَ فَبَادَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِينَا وَرَجَا أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا فَسَبَقَتْهُ أُمُّهُ إِلَيْهِ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ فَقَالَ يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ فَلُبِسَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ صَائِدٍ إِنَّا قَدْ خَبَّأْنَا لَكَ خَبِيئًا فَمَا هُوَ قَالَ الدُّخُّ الدُّخُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَأْ اخْسَأْ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ائْذَنْ لِي فَأَقْتُلَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ لَا يَكُنْ هُوَ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشْفِقًا أَنَّهُ الدَّجَّالُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ہم حج کے قربانی کا گوشت نبی ﷺ کے دور باسعادت میں بھی مدینہ منورہ لے آتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ إِلَى الْمَدِينَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں ہم عزل کرتے تھے آب حیات کا باہر خارج کردینا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي الْعَزْلَ قَالَ قُلْتُ لِعَمْرٍو آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ جَابِرٍ قَالَ لَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں ایک آدمی نے اپنا غلام یہ کہہ کر آزاد کردیا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو نبی ﷺ نے اسے بلا کر بیچ دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ فَدَعَا بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اس وقت آئے جب کہ امام نکل چکا ہو اسے پھر بھی دو رکعتیں پڑھ لینی چاہئیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ خَرَجَ الْإِمَامُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل ابتدا نماز عشاء نبی ﷺ کے ساتھ پڑھتے تھے پھر اپنی قوم میں جا کر انہیں وہیں نماز پڑھا دیتے تھے ایک مرتبہ نبی ﷺ نے نماز عشاء کو مؤخر کردیا حضرت معاذ نے نبی ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھی اور اپنی قوم میں آکر سورت بقرہ شروع کردی ایک آدمی نے یہ دیکھ کر اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا بعد میں اسے کسی نے کہا کہ تم منافق ہوگئے ہو اس نے کہا کہ میں تو منافق نہیں ہوں پھر اس نے یہ بات نبی ﷺ سے جا کر ذکر کردی کہ معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں پھر واپس آکر ہماری امامت کرتے ہیں ہم لوگ کھیتی باڑی کرنے والے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنے والے ہیں انہوں نے آکر ہمیں نماز پڑھائی تو سورة بقرہ شروع کردی نبی ﷺ نے ان سے دو مرتبہ فرمایا معاذ کیا تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو تم سورت اعلی اور سورت الشمس کیوں نہیں پڑھتے ؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ قَالَ فَصَلَّى بِهِمْ مَرَّةً الْعِشَاءَ فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَعَمَدَ رَجُلٌ فَانْصَرَفَ فَكَانَ مُعَاذٌ يَنَالُ مِنْهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فَتَّانٌ فَتَّانٌ أَوْ قَالَ فَاتِنٌ فَاتِنٌ فَاتِنٌ وَأَمَرَهُ بِسُورَتَيْنِ مِنْ أَوْسَطِ الْمُفَصَّلِ قَالَ عَمْرٌو لَا أَحْفَظُهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی ؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا جَارِيَةٌ تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ جب نجاشی کی موت کی اطلاع ملی تو فرمایا کہ آج حبشہ کے نیک آدمی (شاہ حبشہ نجاشی) کا انتقال ہوگیا ہے آؤ صفیں باندھو چناچہ ہم نے صفیں باندھ لیں اور نبی ﷺ کے ساتھ ہم نے ان کی نماز جنازہ پڑھ لی حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ میں دوسری یا تیسری صف میں تھا اور اس کا نام اصحمہ تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَلَغَهُ مَوْتُ النَّجَاشِيِّ قَالَ صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ بِلَادِكُمْ قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ قَالَ جَابِرٌ فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي أَوْ الثَّالِثِ قَالَ وَكَانَ اسْمُهُ أَصْحَمَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک انصار کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا اس نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا چناچہ ہم نے نبی ﷺ سے آکر دریافت کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت مت رکھا کرو کیونکہ میں تمہارے درمیان تقسیم کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ غُلَامٌ فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي فَإِنِّي بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا ہم نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں یہ کیفیت نہیں دیں گے تاآنکہ نبی ﷺ سے پوچھ لیں چناچہ اس نے اپنے بیٹے کو کندھے پر بٹھایا اور نبی ﷺ سے آ کر دریافت کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام تو رکھ لو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ فَحَمَلَهُ عَلَى عَاتِقِهِ فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ أَبِي كَرِيْبٍ أَوْ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي كَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنْ النَّارِ
tahqiq

তাহকীক: