আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৬৪ টি
হাদীস নং: ১৪৪৭৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ جب مکہ مکرمہ آئے تو انہوں نے ایک سے زیادہ طواف نہیں کئے۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ حِينَ قَدِمُوا لَمْ يَزِيدُوا عَلَى طَوَافٍ وَاحِدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৮০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یہ بتائیے کہ اگر میں اپنی جان مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور ثابت قدم رہتے ہوئے ثواب کی نیت رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے اور پشت پھیرے بغیر شہید ہوجاؤں تو کیا میں جنت میں داخل ہوجاؤں گا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہاں ! جبکہ تم اس حال میں نہ مرو کہ تم پر کچھ قرض ہو اور اسے ادا کرنے کے لئے تمہارے پاس کچھ نہ ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ جَاهَدْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِي وَمَالِي حَتَّى أُقْتَلَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالَ نَعَمْ إِلَّا أَنْ تَدَعَ دَيْنًا لَيْسَ عِنْدَكَ وَفَاءٌ لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৮১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ میری عیادت کے لئے تشریف لائے اس وقت وہ خچر پر سوار تھے اور نہ ہی گھوڑے پر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي لَيْسَ بِرَاكِبٍ بَغْلًا وَلَا بِرْذَوْنًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৮২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سمندر کے متعلق فرمایا کہ اس کا پانی پاکیزہ اور اس کا مردار ( مچھلی) حلال ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ ابْنِ مِقْسَمٍ قَالَ أَبِي يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْبَحْرِ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৮৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ میں ایک مرتبہ کسی سفر میں شریک تھا نبی ﷺ کے ساتھ اچانک چلتے چلتے میرا اونٹ ایک جگہ کھڑا ہوگیا اب وہ حرکت بھی نہیں کر رہا مجھے نبی ﷺ کی آواز سنائی دی کہ جابر (رض) تمہارے اونٹ کو کیا ہوا ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اسے کیا ہوا نبی ﷺ نے فرمایا اسے پکڑ کر رکھو اور مجھے کو ڑادو میں نے نبی ﷺ کو کوڑا دیا نبی ﷺ نے اسے ایک ضرب لگائی اور وہ مجھے سب سے آگے لے گیا اس موقع پر نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا جابر (رض) کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ نبی ﷺ نے فرمایا مدینہ پہنچ کر۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اپنے والد صاحب کی شہادت کے بعد شادی کرلی میں نے عرض کیا جی ہاں نبی ﷺ نے پوچھا کنواری سے یا شوہر دیدہ سے میں نے عرض کیا شوہر دیدہ سے نبی ﷺ نے کنواری سے کیوں نہیں کی کہ وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے وہ تمہیں ہنساتی اور تم اسے ہنساتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنْتُ أَسِيرُ عَلَى نَاضِحٍ لِي فِي أُخْرَيَاتِ الرِّكَابِ فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرْبَةً أَوْ قَالَ فَنَخَسَهُ نَخْسَةً قَالَ فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَكُونُ فِي أَوَّلِ الرِّكَابِ إِلَّا مَا كَفَفْتُهُ قَالَ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ قَالَ قُلْتُ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَزَادَنِي قَالَ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ قَالَ قُلْتُ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ سُلَيْمَانُ فَلَا أَدْرِي كَمْ مِنْ مَرَّةٍ قَالَ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا ثُمَّ قَالَ هَلْ تَزَوَّجْتَ بَعْدَ أَبِيكَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا قَالَ قُلْتُ ثَيِّبًا قَالَ أَلَا تَزَوَّجْتَهَا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا وَتُضَاحِكُكَ وَتُضَاحِكُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৮৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے پیاز اور لہسن کھانے سے منع فرمایا تھا لیکن جب ہم اپنی ضرورت سے مغلوب ہوگئے تو ہم نے اسے کھالیا اس پر نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اس بدبودار درخت سے کچھ کھائے وہ ہماری مساجد کے قریب نہ آئے کیونکہ جن چیزوں سے انسانوں کو اذیت ہوتی ہے فرشتوں کو بھی ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৮৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ رات کو سوتے ہوئے دروازے بند کرلیا کرو برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو خواہ ایک لکڑی ہی رکھ دو چراغ بجھادیا کرو اور مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو۔
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ بِاللَّيْلِ وَأَطْفِئُوا السُّرُجَ وَأَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ وَخَمِّرُوا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهِ بِعُودٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৮৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتاہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتاہو تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৮৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشا فرمایا اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دے دیتا ہے تو وہ اسی کی ہوجاتی ہے زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلَا تُعْمِرُوهَا فَإِنَّ مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَبَعْدَ مَوْتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৮৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں شدید گرمی میں سورج گرہن ہوگیا نبی ﷺ نے صحابہ کو نماز پڑھائی اور طویل قیام کیا حتی کہ لوگ مرنے لگے پھر اتنا ہی طویل رکوع کیا پھر سر اٹھا کر طویل قیام کیا دوبارہ اسی طرح کیا دو سجدے کئے اور پھر کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھائی پھر دوران نماز ہی آپ پیچھے ہٹنے لگے کچھ دیر بعد نبی ﷺ آگے بڑھ کر اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے۔ اس موقع پر نبی ﷺ نے فرمایا تم سے جس جس چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ سب چیزیں میں نے اپنی اس نماز کے دوران دیکھی ہیں چناچہ میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا میں اگر اس کے پھلوں کا کوئی گچھا توڑنا چاہتا تو توڑ سکتا تھا پھر میرے سامنے جہنم کو بھی لایا گیا یہ وہی وقت تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا تھا کیونکہ اندیشہ تھا کہ کہیں اس کی لپٹ تمہیں نہ لگ جائے۔ میں نے جہنم میں اس بلی والی عورت کو بھی دیکھا جس نے اسے باندھ دیا تھا خود اسے کچھ کھلایا اور نہ ہی اس کو چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتی حتی کہ اس حال میں وہ مرگئی اسی طرح میں نے ابو ثمامہ عمرو بن مالک کو بھی جہنم میں اپنی انتڑیاں کھینچتے ہوئے دیکھا اور چاند سورج اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو اللہ تمہیں دکھاتا ہے لہذاجب انہیں گہن لگ جائے تو نماز پڑھا کرو یہاں تک کہ یہ روشن ہوجائیں۔
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ جَعَلَ يَتَقَدَّمُ ثُمَّ جَعَلَ يَتَأَخَّرُ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ عُرِضَ عَلَيَّ كُلُّ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ فَعُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا أَخَذْتُهُ أَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا فَقَصُرَتْ يَدِي عَنْهُ شَكَّ هِشَامٌ وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَهْبَةَ أَنْ تَغْشَاكُمْ فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُرِيكُمُوهَا فَإِذَا خَسَفَتْ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৮৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ وادی نخلہ میں تھے نبی ﷺ نے صحابہ کو نماز ظہر پڑھائی مشرکین نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا اور کہنے لگے کہ انہیں چھوڑ دو اس نماز کے بعد یہ ایک اور نماز پڑھیں جوان کے نزدیک ان کی اولاد سے بھی زیادہ عزیز ہے حضرت جبرائیل نے نازل ہو کر نبی ﷺ کو اس سے مطلع کیا چناچہ اس مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں دو صفوں میں تقسیم کردیا اور خود سب سے آگے کھڑے ہوگئے نبی ﷺ نے تکبیر کہی ہم نے بھی آپ کے ساتھ تکبیر کہی پھر رکوع کیا اور ہم سب نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا پھر جب رکوع سے سر اٹھا کر سجدے میں گئے تو آپ کے ساتھ صرف پہلی صف والوں نے سجدہ کیا جبکہ دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی جب نبی ﷺ اور پہلی صف کے لوگ کھڑے ہوئے تو پچھلی صف والوں نے سجدہ کیا اس کے بعد پچھلی صف کے لوگ آگئے اور اگلی صف کے لوگ پیچھے آگئے پھر ہم سب نے اکٹھے ہی رکوع کیا اور جب نبی ﷺ نے سجدہ کیا تو اب پہلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا اور جب وہ لوگ بیٹھ گئے تو پچھلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا۔
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الظُّهْرِ قَالَ فَهَمَّ بِهِمْ الْمُشْرِكُونَ قَالَ فَقَالَ دَعُوهُمْ فَإِنَّ لَهُمْ صَلَاةً بَعْدَ هَذِهِ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ قَالَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ فَصَفَّهُمْ صَفَّيْنِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَكَبَّرُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ الَّذِينَ يَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ فَلَمَّا رَفَعَ الَّذِينَ سَجَدُوا رُءُوسَهُمْ سَجَدَ الْآخَرُونَ فَلَمَّا قَامُوا فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ تَأَخَّرَ الَّذِينَ يَلُونَ الصَّفَّ الْأَوَّلَ فَقَامَ أَهْلُ الصَّفِّ الثَّانِي وَتَقَدَّمَ الْآخَرُونَ إِلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَرَكَعُوا جَمِيعًا فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنْ الرُّكُوعِ سَجَدَ الَّذِينَ يَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ سَجَدَ الْآخَرُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৯০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت جابر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھ محمد بن عمرو اور اسباطھی تھے جو حصول علم کے لئے نکلے تھے ہم نے حضرت جابر (رض) سے آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کا مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے مسجد نبوی پہنچا تو نبی ﷺ وہاں نہ ملے میں نے دریافت کیا تو بتایا گیا کہ وہ مقام اسوف میں سعد بن ربیع کی بچیوں کے پاس گئے ہیں تاکہ ان کے درمیان ان کے والد کی وراثت تقسیم کریں یہ پہلی خواتین تھیں جنہیں زمانہ اسلام میں اپنے والد کی میراث ملی۔ میں وہاں سے نکل کر مقام اسوف میں پہنچا جہاں سعد بن ربیع کا مال تھا میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ کے لئے کھجور کا ایک بستر پر پانی چھڑک کر اسے نرم کردیا گیا اور آپ اس پر تشریف فرما ہیں اتنی دیر میں کھانا لایا گیا جس میں روٹی اور گوشت تھا جو خاص طور پر نبی ﷺ کے لئے تیار کیا گیا تھا نبی ﷺ نے اسے تناول فرمایا اور دوسرے لوگوں نے بھی کھایا پھر نبی ﷺ نے پیشاب کر کے نماز ظہر کے لئے وضو کیا لوگوں نے بھی وضو کیا اور نبی ﷺ نے انہیں نماز ظہر ادا کروائی نماز سے فراغت ہونے کے بعد نبی ﷺ دوبارہ بیٹھ گئے اور تقسیم وراثت کا جو کام بچ گیا تھا اسے مکمل کرلیا یہاں تک کہ نماز کا وقت آگیا اور نبی ﷺ بھی ان کے معاملے سے فارغ ہوگئے پھر ان لوگوں نے بھی کھایا پھر نبی ﷺ نے اٹھ کر ہمیں نماز پڑھائی اور نبی ﷺ نے پانی کو ہاتھ لگایا اور نہ ہی لوگوں میں سے کسی نے اسے ہاتھ لگایا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَخِي بَنِي سَلِمَةَ وَمَعِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَأَبُو الْأَسْبَاطِ مَوْلًى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ كَانَ يَتْبَعُ الْعِلْمَ قَالَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ مِنْ الطَّعَامِ فَقَالَ خَرَجْتُ أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِهِ فَلَمْ أَجِدْهُ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقِيلَ لِي هُوَ بِالْأَسْوَافِ عِنْدَ بَنَاتِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ أَخِي بَلْحَارِثِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يَقْسِمُ بَيْنَهُنَّ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ أَبِيهِنَّ قَالَ وَكُنَّ أَوَّلَ نِسْوَةٍ وَرِثْنَ مِنْ أَبِيهِنَّ فِي الْإِسْلَامِ قَالَ فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ الْأَسْوَافَ وَهُوَ مَالُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُورٍ مِنْ نَخْلٍ قَدْ رُشَّ لَهُ فَهُوَ فِيهِ قَالَ فَأُتِيَ بِغَدَاءٍ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ قَدْ صُنِعَ لَهُ فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلَ الْقَوْمُ مَعَهُ قَالَ ثُمَّ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلظُّهْرِ وَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ مَعَهُ قَالَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ الظُّهْرَ قَالَ ثُمَّ قَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَا بَقِيَ مِنْ قِسْمَتِهِ لَهُنَّ حَتَّى حَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَفَرَغَ مِنْ أَمْرِهِ مِنْهُنَّ قَالَ فَرَدُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلَ غَدَائِهِ مِنْ الْخُبْزِ وَاللَّحْمِ فَأَكَلَ وَأَكَلَ الْقَوْمُ مَعَهُ ثُمَّ نَهَضَ فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ وَمَا مَسَّ مَاءً وَلَا أَحَدٌ مِنْ الْقَوْمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৯১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
ایک مرتبہ حسن بن محمد نے حضرت جابر (رض) سے غسل جنابت کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ تین مرتبہ اپنے ہاتھوں سے اپنے سر پر پانی بہاتے تھے پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے تھے وہ کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں ؟ حضرت جابر (رض) نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي بَشِيرٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ يَسْأَلُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِىَّ أَخَا بَنِي سَلِمَةَ عَنْ الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ جَابِرٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْرِفُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ بِيَدَيْهِ ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جِلْدِهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ إِنَّ شَعْرَ رَأْسِي كَثِيرٌ وَأَخْشَى أَنْ لَا تَغْسِلَهُ ثَلَاثُ غَرَفَاتٍ بِيَدَيَّ فَقَالَ لَهُ جَابِرٌ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ مِنْ رَأْسِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৯২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بقر عید کے دن دو مینڈھے ذبح کئے جب انہیں قبلہ رخ کرنے لگے تو فرمایا میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف متوجہ کردیا جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا سب سے کٹ کر اور مسلمانوں ہو کر میں مشرکین میں سے نہیں ہوں میری نماز قربانی زندگی اور موت سب اللہ رب العالمین کے لئے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان، بسم اللہ، اللہ اکبر اے اللہ یہ تیری جانب سے ہے اور تیرے لئے اسے محمد اور ان کی امت کی طرف سے قبول فرما۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ يَوْمَ الْعِيدِ كَبْشَيْنِ ثُمَّ قَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৯৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
ابراہیم بن عبدالرحمن اور حسن بن محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت جابر (رض) کے یہاں گئے وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسری چادر بھی مسجد کے قریب دیوار پر تھی جب انہوں نے سلام پھیرا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لئے کہا ہے کہ تم دونوں دیکھ لو میں نے نبی ﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَذْكُرُ يَعْنِي أَبَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ وَهُوَ يُصَلِّي مُلْتَحِفًا وَرِدَاؤُهُ عَلَى جَدْرِ مَسْجِدِهِ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا فَقَالَ لَنَا إِنَّمَا صَلَّيْتُ لِتَرَيَانِي إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৯৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارے اللہ اسے جہنم میں ضرور داخل کرے گا اگرچہ ایک تازہ مسواک ہی کی وجہ سے ہو۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ جُهَيْنَةَ وَنَحْنُ مَعَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرِئٍ مِنْ النَّاسِ حَلَفَ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا حَقَّ مُسْلِمٍ أَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ النَّارَ وَإِنْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৯৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب بھی اصحاب احد کا ذکر فرماتے تو میں انہیں یہ فرماتے ہوئے سنتا کہ کاش پہاڑ کی چوٹی والوں کے ساتھ دھوکے کے حملے میں شہید ہونے والوں میں میں بھی شامل ہوتا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابُ أُحُدٍ أَمَا وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي غُودِرْتُ مَعَ أَصْحَابِ نُحْصِ الْجَبَلِ يَعْنِي سَفْحَ الْجَبَلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৯৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ ذات الرقاع میں نبی ﷺ کے ہمراہ اپنے ایک کمزور اونٹ پر سوار ہو کر نکلا واپسی پر سواریاں چلتی گئی اور میں پیچھے رہ گیا یہاں تک کہ نبی ﷺ میرے پاس آئے اور فرمایا جابر (رض) تمہیں کیا ہوا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میر اونٹ سست ہوگیا نبی ﷺ نے فرمایا اسے بٹھادو پھر نبی ﷺ نے خود ہی اسے بٹھایا اور فرمایا اپنے ہاتھ کی لاٹھی مجھے دیدو اس درخت سے توڑ کر دیدو میں نے ایسا ہی کیا نبی ﷺ نے اسے چند مرتبہ وہ چبھو کر فرمایا اب اس پر سوار ہوجا چناچہ میں سوار ہوگیا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ اب دوسری اونٹنیوں سے مقابلہ کر رہا تھا۔ نبی ﷺ نے مجھ سے باتیں کرتے ہوئے فرمایا جابر (رض) کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں آپ کو ہبہ کرتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا نہیں تم بیچ دو میں نے عرض کیا پھر مجھے اس کی قیمت بتا دیجیے نبی ﷺ نے فرمایا میں اسے ایک درہم میں لیتا ہوں میں نے کہا پھر نہیں یہ تو نقصان کا سودا ہوگا نبی ﷺ نے دو درہم کہا لیکن میں نے پھر بھی انکار کردیا نبی ﷺ اس طرح بڑھاتے ہوئے ایک اوقیہ تک پہنچ گئے تب میں نے کہا میں راضی ہوں نبی ﷺ نے فرمایا راضی ہو میں نے کہا جی ہاں یہ اونٹ آپ کا ہوا نبی ﷺ نے فرمایا میں نے لے لیا۔ تھوڑی دیر بعد مجھ سے پوچھا کہ جابر (رض) کیا تم نے شادی کرلی میں نے عرض کیا جی ہاں نبی ﷺ نے فرمایا کنواری سے یا شوہردیدہ سے میں نے کہا شوہر دیدہ سے نبی ﷺ نے فرمایا کنواری سے کیوں نہیں کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تمہارے ساتھ کھیلتی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ غزوہ احد میں میرے والد صاحب شہید ہوگئے اور سات بیٹیاں چھوڑ گئے تھے میں نے ایسی عورت سے نکاح کیا جو ان کی دیکھ بھال کرسکے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا پھر فرمایا کہ اگر ہم کسی بلند ٹیلے پر پہنچ گئے تو اونٹ ذبح کریں گے اور ایک دن یہیں قیام کریں گے خواتین کو ہماری آمد کا علم ہوجائے تو وہ بستر جھاڑ لیں گے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ واللہ ہمارے پاس تو ایسی چادریں نہیں ہیں نبی ﷺ نے فرمایا عنقریب ہوں گی اور جب تم گھر پہنچ جاؤ تو اپنی بیوی کے قریب جاسکتے ہو چناچہ ایک بلند ٹیلے پر پہنچ کر ایسا ہی ہوا اور شام کو ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔ میں نے اپنی بیوی کو یہ سارا واقعہ بتایا اور یہ کہ نبی ﷺ نے مجھ سے کیا فرمایا ہے اس نے کہا بہت اچھا سر آنکھوں پر چناچہ صبح ہوئی تو میں نے اونٹ کا سرا پکڑا اور اسے لا کر نبی ﷺ کے دروازے پر بٹھادیا اور خود قریب جا کر مسجد میں بیٹھ گیا نبی ﷺ نے باہر نکلے تو دیکھا تو لوگوں سے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسا ہے ان لوگوں نے بتایا یا رسول اللہ جابر (رض) لے کر آیا ہے نبی ﷺ نے فرمایا جابر (رض) خود کہاں ہے مجھے بلایا گیا اور نبی ﷺ نے فرمایا بھتیجے یہ اونٹ تمہارا ہے تم لے جاؤ اور حضرت بلال کو بلا کر حکم دیا کہ جابر (رض) کو ساتھ لے جاؤ اور ایک اوقیہ چاندی دیدد چناچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا انہوں نے مجھے ایک اوقیہ اور اس میں بھی کچھ جھکتا ہوا دیدیا واللہ وہ ہمیشہ ہمارے پاس رہا حتی کہ حرہ کے دن لوگ اسے لے گئے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ مُرْتَحِلًا عَلَى جَمَلٍ لِي ضَعِيفٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَتْ الرِّفَاقُ تَمْضِي وَجَعَلْتُ أَتَخَلَّفُ حَتَّى أَدْرَكَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لَكَ يَا جَابِرُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْطَأَ بِي جَمَلِي هَذَا قَالَ فَأَنِخْهُ وَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ أَعْطِنِي هَذِهِ الْعَصَا مِنْ يَدِكَ أَوْ قَالَ اقْطَعْ لِي عَصًا مِنْ شَجَرَةٍ قَالَ فَفَعَلْتُ قَالَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَخَسَهُ بِهَا نَخَسَاتٍ ثُمَّ قَالَ ارْكَبْ فَرَكِبْتُ فَخَرَجَ وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ يُوَاهِقُ نَاقَتَهُ مُوَاهَقَةً قَالَ وَتَحَدَّثَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَبِيعُنِي جَمَلَكَ هَذَا يَا جَابِرُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلْ أَهَبُهُ لَكَ قَالَ لَا وَلَكِنْ بِعْنِيهِ قَالَ قُلْتُ فَسُمْنِي بِهِ قَالَ قَدْ قُلْتُ أَخَذْتُهُ بِدِرْهَمٍ قَالَ قُلْتُ لَا إِذًا يَغْبِنُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبِدِرْهَمَيْنِ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَلَمْ يَزَلْ يَرْفَعُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ الْأُوقِيَّةَ قَالَ قُلْتُ فَقَدْ رَضِيتُ قَالَ قَدْ رَضِيتَ قُلْتُ نَعَمْ قُلْتُ هُوَ لَكَ قَالَ قَدْ أَخَذْتُهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِي يَا جَابِرُ هَلْ تَزَوَّجْتَ بَعْدُ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا قَالَ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا قَالَ أَفَلَا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَبِي أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ بَنَاتٍ لَهُ سَبْعًا فَنَكَحْتُ امْرَأَةً جَامِعَةً تَجْمَعُ رُءُوسَهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ قَالَ أَصَبْتَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ أَمَا إِنَّا لَوْ قَدْ جِئْنَا صِرَارًا أَمَرْنَا بِجَزُورٍ فَنُحِرَتْ وَأَقَمْنَا عَلَيْهَا يَوْمَنَا ذَلِكَ وَسَمِعَتْ بِنَا فَنَفَضَتْ نَمَارِقَهَا قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مِنْ نَمَارِقَ قَالَ إِنَّهَا سَتَكُونُ فَإِذَا أَنْتَ قَدِمْتَ فَاعْمَلْ عَمَلًا كَيِّسًا قَالَ فَلَمَّا جِئْنَا صِرَارًا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَزُورٍ فَنُحِرَتْ فَأَقَمْنَا عَلَيْهَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَلَمَّا أَمْسَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَدَخَلْنَا قَالَ فَأَخْبَرْتُ الْمَرْأَةَ الْحَدِيثَ وَمَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَدُونَكَ فَسَمْعًا وَطَاعَةً قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَخَذْتُ بِرَأْسِ الْجَمَلِ فَأَقْبَلْتُ بِهِ حَتَّى أَنَخْتُهُ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسْتُ فِي الْمَسْجِدِ قَرِيبًا مِنْهُ قَالَ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى الْجَمَلَ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا جَمَلٌ جَاءَ بِهِ جَابِرٌ قَالَ فَأَيْنَ جَابِرٌ فَدُعِيتُ لَهُ قَالَ تَعَالَ أَيْ يَا ابْنَ أَخِي خُذْ بِرَأْسِ جَمَلِكَ فَهُوَ لَكَ قَالَ فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ اذْهَبْ بِجَابِرٍ فَأَعْطِهِ أُوقِيَّةً فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً وَزَادَنِي شَيْئًا يَسِيرًا قَالَ فَوَاللَّهِ مَازَالَ يَنْمِي عِنْدَنَا وَنَرَى مَكَانَهُ مِنْ بَيْتِنَا حَتَّى أُصِيبَ أَمْسِ فِيمَا أُصِيبَ النَّاسُ يَعْنِي يَوْمَ الْحَرَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৯৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ جب ہم وادی حنین کے سامنے پہنچے تو تہامہ کی ایک جوف دار وادی میں اترے ہم اس میں لڑھکتے ہوئے اترتے جارہے تھے صبح کا وقت تھا دشمن کے لوگ ہماری تاک میں گھاٹیوں، کناروں اور تنگ جگہوں میں گھات لگائے بیٹھے ہوئے تھے وہ لوگ متفق اور خوب تیاری کے ساتھ آئے ہوئے تھے واللہ ابھی ہم لوگ اتر ہی رہے تھے کہ انہوں نے ہمیں سنبھلنے کا موقع نہ دیا اور یکجان ہو کر تمام لشکروں نے ہم پر حملہ کردیا لوگ شکست کھا کر پیچھے کو پلٹنے لگے اور کسی کو کسی کی ہوش نہ تھی۔ ادھر نبی ﷺ دائیں جانب سمٹ گئے اور لوگوں کو آوازیں دینے لگے کہ اے لوگو میرے پاس آؤ میں اللہ کا رسول ہوں میں محمد بن عبداللہ ہوں اس وقت اونٹ بھی ادھر ادھر بھاگے پھر رہے تھے اور نبی ﷺ کے ساتھ مہاجرین و انصار اور اہل بیت کے افراد بہت کم رہ گئے تھے ان ثابت قدم رہنے والوں میں حضرت ابوبکر، عمر بھی تھے اور اہل بیت میں حضرت علی اور حضرت عباس ان کے صاحبزادے فضل ابوسفیان بن حارث، ربیعہ بن حارث، ایمن بن عبید جو ام ایمن کے صاحبزادے تھے اور حضرت اسامہ بن زید تھے جبکہ بنو ہوازن کا یک آدمی سرخ اونٹ پر سوار تھا اس کے ہاتھ میں ایک سیاہ رنگ کا جھنڈا تھا جو ایک لمبے نیزے کے سر پر بندھا ہوا تھا وہ لوگوں سے آگے تھے اور بقیہ ہوازن اس کے پیچھے پیچھے تھے جب وہ کسی کو پاتا تو اپنے نیزے سے اسے مار دیتا جب کوئی نظر نہ آتا تو وہ اسے اپنے پیچھے والوں کے لئے بلند کردیتا اور وہ اس کے پیچھے چلنے لگتے۔ حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ابھی بنوہوازن کا وہ آدمی جو علمبردار تھا اپنے اونٹ پر ہی سوار تھا اور وہ سب کچھ کرتا جارہا تھا جو کر رہا تھا کہ اچانک اس کا سامنا حضرت علی اور ایک انصاری سے ہوگیا وہ دونوں اس کے پیچھے لگ گئے چناچہ حضرت علی نے پیچھے سے آکر اس کے اونٹ کی ایڑیوں پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ اس کی دم کے بل گرپڑا ادھر سے انصاری نے اس پر چھلانگ لگائی اور اس پر ایسا وار کیا کہ اس کا پاؤں نصف پنڈلی تک چر گیا وہ اپنی سواری سے گرگیا اور لوگ بھاگ کھڑے ہوئے واللہ لوگ اپنی شکست سے جان بچا کر جہاں بھی بھاگے بالا آخر وہ قیدی بنا کر نبی ﷺ کے پاس لائے گئے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا اسْتَقْبَلْنَا وَادِيَ حُنَيْنٍ قَالَ انْحَدَرْنَا فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ تِهَامَةَ أَجْوَفَ حَطُوطٍ إِنَّمَا نَنْحَدِرُ فِيهِ انْحِدَارًا قَالَ وَفِي عَمَايَةِ الصُّبْحِ وَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ كَمَنُوا لَنَا فِي شِعَابِهِ وَفِي أَجْنَابِهِ وَمَضَايِقِهِ قَدْ أَجْمَعُوا وَتَهَيَّئُوا وَأَعَدُّوا قَالَ فَوَاللَّهِ مَا رَاعَنَا وَنَحْنُ مُنْحَطُّونَ إِلَّا الْكَتَائِبُ قَدْ شَدَّتْ عَلَيْنَا شَدَّةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ وَانْهَزَمَ النَّاسُ رَاجِعِينَ فَاسْتَمَرُّوا لَا يَلْوِي أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى أَحَدٍ وَانْحَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ الْيَمِينِ ثُمَّ قَالَ إِلَيَّ أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمَّ إِلَيَّ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَلَا شَيْءَ احْتَمَلَتْ الْإِبِلُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَانْطَلَقَ النَّاسُ إِلَّا أَنَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ غَيْرَ كَثِيرٍ وَفِيمَنْ ثَبَتَ مَعَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَابْنُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ وَرَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وأَيْمَنُ بْنُ عُبَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أُمِّ أَيْمَنَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ وَرَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ فِي يَدِهِ رَايَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ فِي رَأْسِ رُمْحٍ طَوِيلٍ لَهُ أَمَامَ النَّاسِ وَهَوَازِنُ خَلْفَهُ فَإِذَا أَدْرَكَ طَعَنَ بِرُمْحِهِ وَإِذَا فَاتَهُ النَّاسُ رَفَعَهُ لِمَنْ وَرَاءَهُ فَاتَّبَعُوهُ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ هَوَازِنَ صَاحِبُ الرَّايَةِ عَلَى جَمَلِهِ ذَلِكَ يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ إِذْ هَوَى لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُرِيدَانِهِ قَالَ فَيَأْتِيهِ عَلِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ فَضَرَبَ عُرْقُوبَيْ الْجَمَلِ فَوَقَعَ عَلَى عَجُزِهِ وَوَثَبَ الْأَنْصَارِيُّ عَلَى الرَّجُلِ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً أَطَنَّ قَدَمَهُ بِنِصْفِ سَاقِهِ فَانْعَجَفَ عَنْ رَحْلِهِ وَاجْتَلَدَ النَّاسُ فَوَاللَّهِ مَا رَجَعَتْ رَاجِعَةُ النَّاسِ مِنْ هَزِيمَتِهِمْ حَتَّى وَجَدُوا الْأَسْرَى مُكَتَّفِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৯৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ خندق کی کھدائی کر رہے تھے میرے پاس بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ تھا میں نے دل میں سوچا کہ کیوں نہ اسے بھون کر نبی ﷺ کے لئے کھانے کا انتظام کرلیں چناچہ میں نے اپنی بیوی سے کہا اس نے کچھ جو پیسے اور اس سے روٹیاں پکائیں اور بکری ذبح کی جسے ہم نے نبی ﷺ کے لئے بھون لیا۔ جب شام ہوئی اور نبی ﷺ خندق سے واپسی کا ارادہ کرنے لگے کہ ہم لوگ دن بھر کام کرتے تھے اور شام کو گھر واپس آجاتے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے تھوڑا ساگوشت بھونا ہے جو ہمارے پاس تھا اور اس کے ساتھ جو کی کچھ روٹیاں پکائی ہیں میری خواہش ہے کہ آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں میرا ارادہ یہ تھا کہ نبی ﷺ تنہا میرے ساتھ چلیں گے لیکن جب میں نے نبی ﷺ سے چلنے کے لئے کہا تو آپ نے فرمایا اچھا اور ایک منادی کو حکم دیا کہ جس نے پورے لشکر میں اعلان کروا دیا کہ نبی ﷺ کے ساتھ جابر (رض) کے گھر چلو میں نے اپنے دل میں انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اتنے میں نبی ﷺ اور سارے لوگ آگئے اور آکر بیٹھ گئے ہم نے جو کچھ پکایا تھا وہ نبی ﷺ کے سامنے لا کر رکھ دیا نبی ﷺ نے اس میں برکت کی دعا فرمائی اور بسم اللہ پڑھ کر اسے تناول فرمایا لوگ آتے جاتے تھے اور کھاتے تھے حتی کہ تمام اہل خندق نے سیر ہو کر وہ کھانا کھالیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَمِلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَنْدَقِ قَالَ فَكَانَتْ عِنْدِي شُوَيْهَةُ عَنْزٍ جَذَعٌ سَمِينَةٌ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْ صَنَعْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمَرْتُ امْرَأَتِي فَطَحَنَتْ لَنَا شَيْئًا مِنْ شَعِيرٍ وَصَنَعَتْ لَنَا مِنْهُ خُبْزًا وَذَبَحَتْ تِلْكَ الشَّاةَ فَشَوَيْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا أَمْسَيْنَا وَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الِانْصِرَافَ عَنْ الْخَنْدَقِ قَالَ وَكُنَّا نَعْمَلُ فِيهِ نَهَارًا فَإِذَا أَمْسَيْنَا رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِنَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ صَنَعْتُ لَكَ شُوَيْهَةً كَانَتْ عِنْدَنَا وَصَنَعْنَا مَعَهَا شَيْئًا مِنْ خُبْزِ هَذَا الشَّعِيرِ فَأُحِبُّ أَنْ تَنْصَرِفَ مَعِي إِلَى مَنْزِلِي وَإِنَّمَا أُرِيدُ أَنْ يَنْصَرِفَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ قَالَ فَلَمَّا قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ أَمَرَ صَارِخًا فَصَرَخَ أَنْ انْصَرِفُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ جَابِرٍ قَالَ قُلْتُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ النَّاسُ مَعَهُ قَالَ فَجَلَسَ وَأَخْرَجْنَاهَا إِلَيْهِ قَالَ فَبَرَكَ وَسَمَّى ثُمَّ أَكَلَ وَتَوَارَدَهَا النَّاسُ كُلَّمَا فَرَغَ قَوْمٌ قَامُوا وَجَاءَ نَاسٌ حَتَّى صَدَرَ أَهْلُ الْخَنْدَقِ عَنْهَا
তাহকীক: