আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৬৪ টি

হাদীস নং: ১৪৪৫৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں ایک انصاری آدمی جس کا نام مذکور تھا اپنا غلام جس کا نام یعقوب تھا یہ کہہ کر آزاد کردیا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا مال نہ تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو نبی ﷺ کو اس کی حالت زار کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا ؟ نعیم بن عبداللہ نے اسے آٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا نبی ﷺ نے وہ پیسے اسے دے دئیے اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص تنگدست ہو تو وہ اپنی ذات سے صدقے کا آغاز کرے اگر بچ جائے تو اپنے بچوں پر پھر اپنے قریبی رشتہ داروں پر اور پھر دائیں بائیں خرچ کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْكُورٍ وَكَانَ لَهُ عَبْدٌ قِبْطِيٌّ فَأَعْتَقَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ وَكَانَ ذَا حَاجَةٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ ذَا حَاجَةٍ فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ قَالَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَسْتَنْفِعَ بِهِ فَبَاعَهُ مِنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّحَّامِ الْعَدَوِيِّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৬০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جابر (رض) کے پاس نبی ﷺ کے کچھ صحابہ تشریف لائے انہوں نے اس کے سامنے روئی اور سرکہ پیش کیا اور کہا کہ کھائیے میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سرکہ بہترین سالن ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ دَخَلَ إِلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَّبَ إِلَيْهِمْ خُبْزًا وَخَلًّا فَقَالَ كُلُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৬১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک طبیب حضرت ابی بن کعب کے پاس بھیجا اس نے ان کے بازو کی رگ کو کاٹا پھر اس کو داغ دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ مَرِضَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ مَرَضًا فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَبِيبًا فَكَوَاهُ عَلَى أَكْحَلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৬২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں دس ذی الحجہ کو صحابہ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ حرمت والا دن کونسا ہے صحابہ نے عرض کیا آج کا دن نبی ﷺ نے پوچھا سب سے زیادہ حرمت والا مہینہ کونسا ہے صحابہ نے عرض کیا ہمارا یہی شہر نبی ﷺ نے فرمایا پھر یاد رکھو تمہاری جان مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچادیا ؟ انہوں نے کہا جی ہاں نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ تو گواہ رہ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوسعید خدری (رض) سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ أَيُّ يَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً فَقَالُوا يَوْمُنَا هَذَا قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً قَالُوا شَهْرُنَا هَذَا قَالَ أَيُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً قَالُوا بَلَدُنَا هَذَا قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৬৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنوسلمہ کے لوگوں کا یہ ارادہ ہوا کہ وہ اپنا گھر بیچ کر مسجد کے قریب منتقل ہوجائیں نبی ﷺ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نشانات قدم کا ثواب بھی لکھاجائے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَبِيعُوا دِيَارَهُمْ يَنْتَقِلُونَ قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دِيَارَكُمْ إِنَّمَا تُكْتَبُ آثَارُكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৬৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھے طریقے سے اسے کفنائے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَلِيَ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৬৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) اور حضرت ابن عمر اور ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہوجانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي شِبْلٌ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يَقُولُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৬৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ کون سا اسلام افضل ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ دوسرے مسلمان تمہاری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ يَعْنِي الْعَدَنِيَّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَاه وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৬৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا زمزم کا پانی جس نیت سے بھی پیا جائے وہ پوری ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৬৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے پھل خوب پک کر عمدہ ہوجانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ الرَّاسِبِيُّ بِمَكَّةَ وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُطْعَمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৬৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بیمار ہوگیا میرے پاس میری سات بہنیں تھیں نبی ﷺ میرے یہاں عیادت کے لئے تشریف لائے مجھے ہوش آگیا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنی بہنوں کے لئے دو تہائی کی وصیت کردوں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ بہتر طریقہ اختیار کرو میں نے نصف کے لئے پوچھا تو پھر یہی فرمایا تھوڑی دیر بعد نبی ﷺ یہاں سے چلے گئے پھر واپس آکر فرمایا جابر (رض) میں نہیں سمجھتا کہ تم اس بیماری میں مرجاؤگے تاہم اللہ تعالیٰ نے ایک حکم نازل فرمادیا ہے جس نے تمہاری بہنوں کا حصہ متعین کردیا ہے یعنی دوتہائی حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ آیت کلالہ میرے ہی بارے میں نازل ہوئی ہے۔
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ اشْتَكَيْتُ وَعِنْدِي سَبْعُ أَخَوَاتٍ لِي فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَضَحَ فِي وَجْهِي فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي لِأَخَوَاتِي بِالثُّلُثَيْنِ قَالَ أَحْسِنْ قُلْتُ بِالشَّطْرِ قَالَ أَحْسِنْ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَنِي ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا جَابِرُ إِنِّي لَا أَرَاكَ مَيِّتًا مِنْ وَجَعِكَ هَذَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ فَبَيَّنَ الَّذِي لِأَخَوَاتِكَ فَجَعَلَ لَهُنَّ الثُّلُثَيْنِ فَكَانَ جَابِرٌ يَقُولُ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِيَّ يَسْتَفْتُونَكَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৭০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہر اس مال میں حق شفعہ کو ثابت قرار دیا ہے جب تک تقسیم نہ ہوا ہو یا حدبندی نہ کی جائے۔
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالشُّفْعَةِ مَا لَمْ تُقْسَمْ أَوْ يُوقَفْ حُدُودُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৭১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک غلام آیا اور نبی ﷺ سے ہجرت پر بیعت کرلی نبی ﷺ کو پتہ نہیں چلا تھا کہ یہ غلام ہے اتنے میں اس کا آقا اس کو تلاش کرتے ہوئے یہاں پر آگیا نبی ﷺ نے اسے خرید کر آزاد کردیا اس وقت نبی ﷺ اس وقت سے لے کر تب تک بیعت نہیں لیتے تھے جب تک یہ نہ پوچھ لیں کہ وہ غلام ہے یا آزاد ؟
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ عَبْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعَهُ فَجَاءَهُ مَوْلَاهُ فَعَرَّفَهُ فَاشْتَرَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَعْتَقَهُ ثُمَّ لَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ أَحَدًا بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى يَسْأَلَهُ حُرٌّ أَوْ عَبْدٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৭২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک غلام دو غلاموں کے بدلے خریدا۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا بِعَبْدَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৭৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں مجھے ابوطلحہ کی بیوی رمیصاء نظر آئی پھر میں نے اپنے آگے کسی کے جوتوں کی آہٹ سنی میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ بلال ہیں پھر میں نے ایک سفید رنگ کا محل دیکھا جس کے صحن میں ایک لونڈی پھر رہی تھی میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ محل عمربن خطاب کا ہے پہلے میں نے سوچا کہ اس میں داخل ہو کر اسے دیکھوں لیکن پھر مجھے تمہاری غیرت یاد آگئی حضرت عمر کہنے لگے یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا میں آپ پر غیرت کھاؤں گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُنِي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ وَسَمِعْتُ خَشْفًا أَمَامِي فَقُلْتُ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا بِلَالٌ قَالَ وَرَأَيْتُ قَصْرًا أَبْيَضَ بِفِنَائِهِ جَارِيَةٌ قَالَ قُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ فَأَنْظُرَ إِلَيْهِ قَالَ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ فَقَالَ عُمَرُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَعَلَيْكَ أَغَارُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ فَسَمِعْتُ خَشْفًا أَمَامِي يَعْنِي صَوْتًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৭৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ کسی سفر جہاد میں شریک تھا واپسی پر نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص جلدی جانا چاہتا ہے وہ چلاجائے میں ایک تیز رفتار اونٹ پر سوار تھا پورے لشکر میں اس جیسا اونٹ نہیں تھا میں نے اسے دوڑایا تو سب لوگ مجھ سے پیچھے رہ گئے اچانک چلتے چلتے میر اونٹ ایک جگہ کھڑا ہوگیا اب وہ حرکت بھی نہیں کر رہا تھا مجھے نبی ﷺ کی آواز آئی کہ جابر (رض) تمہارے اونٹ کو کیا ہوا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اسے کیا ہوا ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اسے پکڑ کر رکھو اور مجھے کوڑا دو اور نبی ﷺ نے اسے ایک ضرب لگائی وہ مجھے سب سے آگے لے گیا اس موقع پر نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا جابر (رض) کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ نبی ﷺ نے فرمایا مدینہ پہنچ کر۔ مدینہ پہنچ کر نبی ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ مسجد نبوی میں داخل ہوئے میں نے اپنے اونٹ کو باندھا اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ رہا آپ کا اونٹ نبی ﷺ باہر نکل کر اس کے گرد چکر لگانے اور فرمانے لگے میر اونٹ کتناخوبصورت ہے پھر فرمایا اے فلاں جا کر چند اوقیہ سونا لے آؤ اور جابر (رض) کو دیدو جب میں نے قیمت وصول کرلی تو نبی ﷺ نے فرمایا تمہیں قیمت پوری پوری مل گئی۔ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ نبی ﷺ نے دو مرتبہ یہ قیمت بھی تمہاری ہوئی اور اونٹ بھی تمہارا ہوا۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي بَشِيرَ بْنَ عُقْبَةَ الدَّوْرَقِيَّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَأَحْسِبُهُ قَالَ غَازِيًا فَلَمَّا أَقْبَلْنَا قَافِلِينَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتَعَجَّلَ فَلْيَتَعَجَّلْ وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ أَرْمَكَ لَيْسَ فِي الْجُنْدِ مِثْلُهُ فَانْدَفَعْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا النَّاسُ خَلْفِي فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ قَامَ جَمَلِي فَجَعَلَ لَا يَتَحَرَّكُ فَإِذَا صَوْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا شَأْنُ جَمَلِكَ يَا جَابِرُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَدْرِي مَا عَرَضَ لَهُ قَالَ اسْتَمْسِكْ وَأَعْطِنِي السَّوْطَ فَأَعْطَيْتُهُ السَّوْطَ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً فَذَهَبَ بِيَ الْبَعِيرُ كُلَّ مَذْهَبٍ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ يَا جَابِرُ أَتَبِيعُنِي جَمَلَكَ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَقْدِمْ الْمَدِينَةَ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ فِي طَوَائِفَ مِنْ أَصْحَابِهِ الْمَسْجِدَ فَعَقَلْتُ بَعِيرِي فَقُلْتُ هَذَا جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَخَرَجَ فَجَعَلَ يُطِيفُ بِهِ وَيَقُولُ نِعْمَ الْجَمَلُ جَمَلِي فَقَالَ يَا فُلَانُ انْطَلِقْ فَائْتِنِي بِأَوَاقٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ أَعْطِهَا جَابِرًا فَقَبَضْتُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَوْفَيْتَ الثَّمَنَ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَلَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ أَوْ لَكَ الْجَمَلُ وَلَكَ الثَّمَنُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৭৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
ابومتوکل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت جابر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائی جس کا آپ نے مشاہدہ کیا ہو انہوں نے فرمایا کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ان پر کچھ وسق کھجوروں کا قرض تھا ہمارے پاس مختلف قسم کی چند کھجوریں اور کچھ عجوہ تھی جس سے ہمارا قرض ادا نہیں ہوسکتا تھا چناچہ میں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ بات ذکر کردی نبی ﷺ نے مجھے قرض خواہ کے پاس بھیجا لیکن اس نے سوائے عجوہ کے کوئی دوسری کھجور لینے سے انکار کردیا نبی ﷺ نے فرمایا جا کر اسے عجوہ ہی دیدو چناچہ میں اپنے خیمے میں پہنچا اور کھجوروں کو کاٹنا شروع کردیا ہمارے پاس ایک بکری بھی تھی جسے ہم گھاس پھوس کھلایا کرتے تھے اور وہ خوب صحت مند ہوگئی تھی۔ اچانک ہم نے دیکھا کہ دو آدمی چلے آرہے ہیں قریب آئے تو دیکھا کہ وہ نبی ﷺ اور حضرت عمر تھے میں نے ان دونوں کو خوش آمدید کہا نبی ﷺ نے فرمایا جابر (رض) ہمارے ساتھ چلو ہم تمہارے باغ کا ایک چکر لگانا چاہتے ہیں میں نے عرض کیا بہت بہتر چناچہ ہم نے باغ کا ایک چکر لگایا ادھر میں نے اپنی بیوی کو حکم دیا اور اس نے بکری کا بچہ ذبح کرلیا پھر ہم ایک تکیہ لائے جس سے نبی ﷺ نے ٹیک لگائی وہ بالوں کا بنا ہوا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی لیکن حضرت عمر کے لئے دوسرا تکیہ نہ مل سکا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے دسترخوان بچھایا اور اس پر دو طرح کھجوریں اور گوشت لا کر رکھا اور نبی ﷺ اور حضرت عمر کے سامنے پیش کیا ان دونوں نے کھانا تناول فرمایا مجھ پر فطری طور حیاء کا غلبہ تھا جب نبی ﷺ اٹھ کر جانے لگے تو میری بیوی نے نبی ﷺ سے دعا کی درخواست کی چناچہ نبی ﷺ نے ہمارے لئے برکت کی دعا کی اس کے بعد میں نے اپنے قرض خواہوں کو بلا بھیجا وہ درانتیاں اور قینچیاں لے کر آگئے لیکن اس ذات کی قسم جس کی دست قدرت میں میری جان ہے میں نے انہیں اس باغ میں بیس وسق عجوہ کھجور ادا کردی اور اس کے باوجود بھی وہ بڑی مقدار میں بچ گئی میں نبی ﷺ کو یہ خوش خبری سنانے چلا گیا کہ اللہ نے مجھ پر کتنی مہربانی فرمائی ہے جب میں نے نبی ﷺ کو یہ خوش خبری سنائی تو آپ نے دو مرتبہ فرمایا اللھم لک الحمد پھر حضرت عمر سے فرمایا کہ جابر (رض) نے اپنے قرض خواہوں کا ساراقرض اتاردیا حضرت عمر بھی اللہ کا شکر کرنے لگے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ قَالَ أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ شَهِدْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تُوُفِّيَ وَالِدِي وَتَرَكَ عَلَيْهِ عِشْرِينَ وَسْقًا تَمْرًا دَيْنًا وَلَنَا تُمْرَانٌ شَتَّى وَالْعَجْوَةُ لَا يَفِي بِمَا عَلَيْنَا مِنْ الدَّيْنِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَبَعَثَ إِلَى غَرِيمِي فَأَبَى إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ الْعَجْوَةَ كُلَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلِقْ فَأَعْطِهِ فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَرِيشٍ لَنَا أَنَا وَصَاحِبَةٌ لِي فَصَرَمْنَا تَمْرَنَا وَلَنَا عَنْزٌ نُطْعِمُهَا مِنْ الْحَشَفِ قَدْ سَمُنَتْ إِذَا أَقْبَلَ رَجُلَانِ إِلَيْنَا إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرُ فَقُلْتُ مَرْحَبًا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرْحَبًا يَا عُمَرُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا جَابِرُ انْطَلِقْ بِنَا حَتَّى نَطُوفَ فِي نَخْلِكَ هَذَا فَقُلْتُ نَعَمْ فَطُفْنَا بِهَا وَأَمَرْتُ بِالْعَنْزِ فَذُبِحَتْ ثُمَّ جِئْنَا بِوِسَادَةٍ فَتَوَسَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوِسَادَةٍ مِنْ شَعْرٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَأَمَّا عُمَرُ فَمَا وَجَدْتُ لَهُ مِنْ وِسَادَةٍ ثُمَّ جِئْنَا بِمَائِدَةٍ لَنَا عَلَيْهَا رُطَبٌ وَتَمْرٌ وَلَحْمٌ فَقَدَّمْنَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ فَأَكَلَا وَكُنْتُ أَنَا رَجُلًا مِنْ نِشْوِيِّ الْحَيَاءُ فَلَمَّا ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَضُ قَالَتْ صَاحِبَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعَوَاتٌ مِنْكَ قَالَ نَعَمْ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ قَالَ نَعَمْ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ ثُمَّ بَعَثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى غُرَمَائِي فَجَاءُوا بِأَحْمِرَةٍ وَجَوَالِيقَ وَقَدْ وَطَّنْتُ نَفْسِي أَنْ أَشْتَرِيَ لَهُمْ مِنْ الْعَجْوَةِ أُوفِيهِمُ الْعَجْوَةَ الَّذِي عَلَى أَبِي فَأَوْفَيْتُهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ الْعَجْوَةِ وَفَضَلَ فَضْلٌ حَسَنٌ فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَشِّرُهُ بِمَا سَاقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ فَلَمَّا أَخْبَرْتُهُ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ فَقَالَ لِعُمَرَ إِنَّ جَابِرًا قَدْ أَوْفَى غَرِيمَهُ فَجَعَلَ عُمَرُ يَحْمَدُ اللَّهَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৭৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اسے چاہئے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے یا اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پردے دے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৭৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حجر اسودوالے کونے سے حجراسود والے کونے تک رمل کیا۔
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৭৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک دن میں حالت احرام میں تلبیہ کہتا ہوا گزرے یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے تو وہ اس کے گناہوں کو لے کر غروب ہوگا اور وہ ایساصاف ہوجائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو۔
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَضْحَى يَوْمًا مُحْرِمًا مُلَبِّيًا حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ غَرَبَتْ بِذُنُوبِهِ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ
tahqiq

তাহকীক: