কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৯২ টি
হাদীস নং: ১১১৬
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کپڑوں کو جوڑنے کی ممانعت سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور بال اور کپڑے سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٩٤، (تحفة الأشراف : ٥٧٣٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1115
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৭
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کپڑے پر سجدہ کرنے سے متعلق
انس (رض) کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھتے تو گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٢٣ (٣٨٥) ، المواقیت ١١ (٥٤٢) ، العمل في الصلاة ٩ (١٢٠٨) ، صحیح مسلم/المساجد ٣٣ (٦٢٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ٩٣ (٦٦٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٩٤ (الجمعة ٥٨) (٥٨٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٤ (١٠٣٣) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٠) ، مسند احمد ٣/١٠٠، سنن الدارمی/الصلاة ٨٢ (١٣٧٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1116
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ السُّلَمِيُّ، قال: حَدَّثَنِي غَالِبٌ الْقَطَّانُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قال: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظَّهَائِرِ سَجَدْنَا عَلَى ثِيَابِنَا اتِّقَاءَ الْحَرِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৮
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کے مکمل طریقہ سے ادا کرنے سے متعلق
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم رکوع اور سجدہ پوری طرح کرو، اللہ کی قسم ! میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے تمہیں رکوع اور سجدہ کی حالت میں دیکھتا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٢٩، ١١١١، (تحفة الأشراف : ١١٩٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1117
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِ ظَهْرِي فِي رُكُوعِكُمْ وَسُجُودِكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৯
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کی حالت میں قرآن کریم پڑھنے کے ممنوع ہونے سے متعلق
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب ﷺ نے تین باتوں سے منع کیا ہے، میں نہیں کہتا کہ لوگوں کو بھی منع کیا ہے، مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے، قسی کے بنے ہوئے ریشمی کپڑے پہننے سے، اور کسم میں رنگے ہوئے گہرے سرخ کپڑے پہننے سے منع کیا ہے، اور میں رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن نہیں پڑھتا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٤٢، (تحفة الأشراف : ١٠١٩٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1118
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قال: أَبُو عَلِيٍّ حَدَّثَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال: نَهَانِي حِبِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثٍ لَا أَقُولُ نَهَى النَّاسَ نَهَانِي عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَعَنِ الْمُعَصْفَرِ الْمُفَدَّمَةِ وَلَا أَقْرَأُ سَاجِدًا وَلَا رَاكِعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২০
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کی حالت میں قرآن کریم پڑھنے کے ممنوع ہونے سے متعلق
علی (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٤٤، (تحفة الأشراف : ١٠١٧٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1119
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ. ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَعَلِيًّا قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২১
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کے دوران کو شش سے دعا کرنا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی پردہ ہٹایا، آپ کا سر مبارک کپڑے سے بندھا ہوا تھا، آپ ﷺ نے تین بار فرمایا : اے اللہ ! میں نے پہنچا دیا (پھر فرمایا :) نبوت کی خوش خبریوں میں سے سوائے سچے خواب کے جسے بندہ خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے کوئی اور دیکھتا ہے کوئی اور چیز باقی نہیں رہ گئی ہے، سنو ! مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، تو جب تم رکوع کرو تو اپنے رب کی عظمت بیان کرو، اور جب سجدہ کرو تو دعا میں کوشش کرو کیونکہ یہ حالت اس لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول کی جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٤٦، (تحفة الأشراف : ٥٨١٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1120
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قال: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتْرَ وَرَأْسُهُ مَعْصُوبٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ قَدْ بَلَّغْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْعَبْدُ أَوْ تُرَى لَهُ أَلَا وَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَإِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا رَبَّكُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَإِنَّهُ قَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২২
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بحالت سجدہ دعا کرنے سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری، اور رسول اللہ ﷺ بھی اس رات کو ان ہی کے پاس رہے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنی حاجت کے لیے اٹھے، مشک کے پاس آئے، اور اس کا بندھن کھولا، پھر وضو کیا جو دو وضوؤں کے درمیان تھا، (یعنی شرعی وضو نہیں تھا) ، پھر آپ اپنے بستر پہ آئے، اور سو گئے، پھر دوسری بار اٹھے، مشک کے پاس آئے، اور اس کا بندھن کھولا، پھر وضو کیا یہ (شرعی) وضو تھا، پھر آپ ﷺ اٹھ کر نماز پڑھنے لگے، آپ اپنے سجدے میں یہ دعا پڑھ رہے تھے : اللہم اجعل في قلبي نورا واجعل في سمعي نورا واجعل في بصري نورا واجعل من تحتي نورا واجعل من فوقي نورا وعن يميني نورا وعن يساري نورا واجعل أمامي نورا واجعل خلفي نورا وأعظم لي نورا اے اللہ ! میرے دل کو منور کر دے، میرے کانوں کو نور (روشنی) سے بھر دے، میری آنکھوں کو روشن کر دے، میرے نیچے نور کر دے، میرے اوپر نور کر دے، میرے دائیں نور کر دے، میرے بائیں نور کر دے، میرے آگے نور کر دے، میرے پیچھے نور کر دے، اور میرے لیے نور کو عظیم کر دے ، پھر آپ سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر بلال (رض) آئے، اور آپ ﷺ کو نماز کے لیے جگایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدعوات ١٠ (٦٣١٦) ، صحیح مسلم/الحیض ٥ (٣٠٤) ، المسافرین ٢٦ (٧٦٣) ، سنن ابی داود/الأدب ١٠٥ (٥٠٤٣) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧١ (٥٠٨) ، مسند احمد ١/٢٣٤، ٢٨٣، ٢٨٤، ٣٤٣، (تحفة الأشراف : ٦٣٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دعا آپ نے تہجد کے سجدے میں پڑھی تھی، اس لیے تہجد یا نوافل میں اس طرح کی لمبی دعائیں پڑھے، فرائض میں خصوصاً جب امام ہو تو مختصر دعائیں پڑھے جن میں سے بعض کا تذکرہ آگے آ رہا ہے، ان میں سے معروف دعا سبحان ربي الأعلیٰ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1121
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي رِشْدِينَ وَهُوَ كُرَيْبٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فَرَأَيْتُهُ قَامَ لِحَاجَتِهِ فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ، ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَنَامَ، ثُمَّ قَامَ قَوْمَةً أُخْرَى فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا هُوَ الْوُضُوءُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ تَحْتِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَاجْعَلْ أَمَامِي نُورًا وَاجْعَلْ خَلْفِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا، ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَأَيْقَظَهُ لِلصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৩
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوران سجدہ دوسری قسم کی دعا مانگنا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں سبحانک اللہم ربنا وبحمدک اللہم اغفر لي اے اللہ ! ہمارے رب ! تو پاک ہے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے کہہ رہے تھے، آپ قرآن کی عملی تفسیر فرما رہے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٤٨، (تحفة الأشراف : ١٧٦٣٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فسبح بحمد ربک آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے آپ اسی حکم کی تعمیل میں یہ دعا پڑھ رہے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1122
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৪
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوران سجدہ دوسری قسم کی دعانہ پڑھنا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رکوع اور سجدے میں سبحانک اللہم ربنا وبحمدک اللہم اغفر لي اے اللہ ہمارے رب ! تو پاک ہے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے کہہ رہے تھے، آپ ﷺ قرآن کی عملی تفسیر فر مار ہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٤٨، (تحفة الأشراف : ١٧٦٣٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1123
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَقالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৫
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوران سجدہ دوسری قسم کی دعا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ مجھے اپنی خواب گاہ میں نہیں ملے، تو میں آپ کو تلاش کرنے لگی، اور مجھے گمان ہوا کہ شاید آپ اپنی کسی لونڈی کے پاس چلے گئے ہیں کہ اچانک میرا ہاتھ آپ پر پڑا، آپ سجدے میں تھے، اور کہہ رہے تھے : اللہم اغفر لي ما أسررت وما أعلنت اے اللہ ! بخش دے میرے ان گناہوں کو جنہیں میں نے چھپا کر کیا ہے اور جنہیں میں نے اعلانیہ کیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٧٦٧٨) ، مسند احمد ٦/١٤٧، وانظر حدیث رقم : ١٦٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1124
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قال: قالت عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَضْجَعِهِ فَجَعَلْتُ أَلْتَمِسُهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ أَتَى بَعْضَ جَوَارِيهِ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৬
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوران سجدہ ایک دوسری دعا پڑھنا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کو اپنے بستر پر موجود نہیں پایا، میں نے گمان کیا کہ شاید آپ اپنی کسی لونڈی کے پاس چلے گئے ہیں، چناچہ میں نے آپ کو تلاش کیا، تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ سجدہ میں ہیں اور کہہ رہے ہیں : رب اغفر لي ما أسررت وما أعلنت اے میرے رب ! میرے تمام گناہوں کو جو میں نے چھپے اور کھلے کئے ہیں بخش دے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٧٨) ، وانظر حدیث رقم : ١٦٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1125
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قالت: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ أَتَى بَعْضَ جَوَارِيهِ فَطَلَبْتُهُ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ: رَبِّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৭
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوران سجدہ ایک دوسری قسم دعا
علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو کہتے : اللہم لک سجدت ولک أسلمت وبک آمنت سجد وجهي للذي خلقه وصوره فأحسن صورته وشق سمعه وبصره تبارک اللہ أحسن الخالقين اے اللہ ! میں نے تیرے لیے اپنی پیشانی زمین سے ٹیک دی، اور تیرے ہی لیے میں اسلام لایا، اور تجھی پر میں ایمان لایا، میرے چہرے نے سجدہ کیا، اس ذات کے لیے جس نے اسے پیدا کیا، اور اس کی صورت گری کی، اور اچھی صورت گری کی، اور جس نے اس کے کان اور اس کی آنکھیں پھاڑیں، اللہ بڑی برکت والا ہے، اور سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٨٩٨ و ١٠٥١، (تحفة الأشراف : ١٠٢٢٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1126
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنِي عَمِّي الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا سَجَدَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৮
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک دوسری قسم کی دعا
جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے سجدے میں کہتے تھے : اللہم لک سجدت وبک آمنت ولک أسلمت وأنت ربي سجد وجهي للذي خلقه وصوره وشق سمعه وبصره تبارک اللہ أحسن الخالقين اے اللہ ! میں نے تیرے لیے اپنی پیشانی زمین پر ٹیک دی، تیرے ہی اوپر ایمان لایا، تیرے ہی لیے میں مسلمان ہوا، تو ہی میرا رب ہے، میرے چہرہ نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اور اس کی صورت گری کی، اور جس نے اس کے کان اور اس کی آنکھیں بنائیں، بڑی برکتوں والا ہے، اللہ سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٣٠٥٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1127
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو حَيْوَةَ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَأَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৯
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوران سجدہ ایک دوسری قسم دعا پڑھنا
محمد بن مسلمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات میں اٹھتے تو نفل پڑھتے، اور جب سجدہ کرتے تو کہتے : اللہم لک سجدت وبک آمنت ولک أسلمت اللہم أنت ربي سجد وجهي للذي خلقه وصوره وشق سمعه وبصره تبارک اللہ أحسن الخالقين اے اللہ ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا، تجھی پر میں ایمان لایا، تیرے لیے میں مسلمان ہوا، اے اللہ ! تو ہی میرا رب ہے، میرے چہرہ نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اور اس کی صورت گری کی، اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں بنائیں، اللہ بڑی برکتوں والا، سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٨٩٩ و ١٠٥٣، (تحفة الأشراف : ١١٢٣٠) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1128
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ حِمْيَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي تَطَوُّعًا قَالَ إِذَا سَجَدَ اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩০
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دعا کا ایک اور طریقہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رات کو تلاوت قرآن کے سجدوں میں کہتے : سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته میرے چہرہ نے سجدہ کیا اس ذات کے لیے جس نے اسے پیدا کیا، اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں اپنی قوت و طاقت سے بنائیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٤ (١٤١٤) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٩٠ (الجمعة ٥٥) ، (٥٨٠) ، الدعوات ٣٣ (٣٤٢٥) ، مسند احمد ٦/٣٠، ٢١٧، (تحفة الأشراف : ١٦٠٨٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1129
أَخْبَرَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَوَّار الْقَاضِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ: سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩১
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوران سجدہ ایک دوسری دعا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کو (بستر پر) موجود نہیں پایا، تو دیکھا کہ آپ سجدے کی حالت میں ہیں، اور آپ کے دونوں قدموں کے پنجے قبلہ رخ ہیں، تو میں نے آپ کو سجدہ میں کہتے سنا : أعوذ برضاک من سخطک وأعوذ بمعافاتک من عقوبتک وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، میں پناہ مانگتا ہوں تیری معافی کی تیری سزا سے، اور میں پناہ مانگتا ہوں تیری تجھ سے، میں تیری حمد و ثنا کا حق نہیں ادا کرسکتا، تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف خود کی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدعوات ٧٦ (٣٤٩٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٥٨٥) ، موطا امام مالک/القرآن ٨ (٣١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1130
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ. قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَوَجَدْتُهُ وَهُوَ سَاجِدٌ وَصُدُورُ قَدَمَيْهِ نَحْوَ الْقِبْلَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنَتْ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩২
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوران سجدہ ایک دوسری دعا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک رات (بستر پر) موجود نہیں پایا، تو میں نے گمان کیا کہ آپ اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس چلے گئے ہیں، پھر میں نے آپ کو تلاش کیا تو اچانک کیا دیکھتی ہوں کہ آپ رکوع یا سجدہ کی حالت میں کہہ رہے ہیں : سبحانک اللہم وبحمدک لا إله إلا أنت اے اللہ ! تو پاک ہے، میں تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتا ہوں، نہیں ہے کوئی معبود برحق مگر تو ہی ، تو وہ کہنے لگیں : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ! میں کس خیال میں تھی اور آپ کس حال میں ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١٦٢٥٦) ، مسند احمد ٦/١٥١، ویأتی عند المؤلف في عشرة النساء ٤ برقم : (٣٤١٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1131
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ الْمِقْسَمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قالت: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَتَحَسَّسْتُهُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَفَقَالَتْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنِّي لَفِي شَأْنٍ وَإِنَّكَ لَفِي آخَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৩
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک اور دعا
عوف بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اٹھا، پہلے آپ نے مسواک کی، پھر وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے، تو آپ نے سورة البقرہ شروع کی، آپ جب بھی کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے اس پر رحمت کا سوال کرتے، اور جب بھی عذاب کی کسی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے، اور اس کے عذاب سے اس کی پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع کیا، تو رکوع میں اپنے قیام کے بقدر ٹھہرے رہے، آپ اپنے رکوع میں کہہ رہے تھے : سبحان ذي الجبروت والملکوت والکبرياء والعظمة پھر آپ نے اپنے رکوع کے بقدر سجدہ کیا، اور اپنے سجدے میں آپ کہہ رہے تھے : سبحان ذي الجبروت والملکوت والکبرياء والعظمة، پھر آپ نے دوسری رکعت میں سورة آل عمران پڑھی، پھر ایک اور سورة پڑھی، پھر ایک اور سورة پڑھی، آپ نے اسی طرح کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٥٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1132
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَأَ فَاسْتَاكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَبَدَأَ فَاسْتَفْتَحَ مِنَ الْبَقَرَةِ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ وَسَأَلَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ يَتَعَوَّذُ، ثُمَّ رَكَعَ فَمَكَثَ رَاكِعًا بِقَدْرِ قِيَامِهِ يَقُولُ: فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ رُكُوعِهِ يَقُولُ: فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ثُمَّ قَرَأَ آلَ عِمْرَانَ ثُمَّ سُورَةً ثُمَّ سُورَةً فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৪
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوران سجدہ ایک اور قسم کی دعا
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ نے سورة البقرہ شروع کردی، آپ نے سو آیتیں پڑھ لیں لیکن رکوع نہیں کیا، اور آگے بڑھ گئے، میں نے اپنے جی میں کہا : لگتا ہے کہ آپ اسے دونوں رکعتوں میں ختم کردیں گے، لیکن آپ برابر آگے بڑھتے رہے، تو میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ اسے ختم کر کے ہی پھر رکوع کریں گے، لیکن آپ سورت ختم کر کے آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ پوری سورة نساء آپ نے پڑھ ڈالی، پھر سورة اٰل عمران بھی پڑھ ڈالی، پھر تقریباً اپنے قیام ہی کے برابر رکوع میں رہے، اپنے رکوع میں کہہ رہے تھے : سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور سمع اللہ لمن حمده ربنا لک الحمد کہا، اور دیر تک کھڑے رہے، پھر آپ نے سجدہ کیا تو دیر تک سجدہ میں رہے، آپ سجدے میں کہہ رہے تھے : سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى جب آپ کسی خوف کی یا اللہ تعالیٰ کی بڑائی کی آیت پر سے گزرتے، تو اللہ کا ذکر کرتے یعنی اس کی حمد و ثنا کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر رقم : ١٠٠٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1133
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قال: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَاسْتَفْتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَقَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ لَمْ يَرْكَعْ فَمَضَى قُلْتُ يَخْتِمُهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَمَضَى قُلْتُ يَخْتِمُهَا، ثُمَّ يَرْكَعُ فَمَضَى حَتَّى قَرَأَ سُورَةَ النِّسَاءِ، ثُمَّ قَرَأَ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى لَا يَمُرُّ بِآيَةِ تَخْوِيفٍ أَوْ تَعْظِيمٍ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا ذَكَرَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৫
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوران سجدہ ایک دوسری قسم کی دعا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں سبوح قدوس رب الملائكة والروح تمام فرشتے اور جبرائیل کا رب ہر نقص و عیب سے پاک ہے کہتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٤٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1134
أَخْبَرَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَاسَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ.
তাহকীক: