কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)

المجتبى من السنن للنسائي

نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৯২ টি

হাদীস নং: ১১৩৬
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوران سجدہ کتنی مرتبہ تسبیح کہنا چاہئے؟
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) کو کہتے سنا کہ میں نے اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ نماز کسی کی نہیں دیکھی، تو ہم نے ان کے رکوع میں دس تسبیحوں کا، اور سجدے میں بھی دس تسبیحوں کا اندازہ لگایا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٥٤ (٨٨٨) ، (تحفة الأشراف : ٨٥٩) ، مسند احمد ٣/١٦٢، وانظر حدیث رقم : ٩٨٢ (ضعیف) (اس کے راوی ” وہب “ مجہول الحال ہیں، لیکن ” عمر بن عبدالعزیز “ کی نماز کے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ ہونے کی تائید ابوہریرہ (رض) کی صحیح حدیث ہے (رقم : ٩٨٣) سے ہوتی ہے ) قال الشيخ الألباني : حسن الإسناد إن شاء الله صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1135
أخبرنا محمد بن رافع قال حدثنا عبد الله بن إبراهيم بن عمر بن كيسان قال حدثني أبي عن وهب بن مأنوس قال سمعت سعيد بن جبير قال سمعت أنس بن مالك يقول:‏‏‏‏ ما رأيت أحدا أشبه صلاة بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم من هذا الفتى يعني عمر بن عبد العزيز فحزرنا في ركوعه عشر تسبيحات وفي سجوده عشر تسبيحات ‏.‏
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৭
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر دوران سجدہ کچھ نہ پڑھے تو سجدہ جب بھی ادا ہوجائے گا
رفاعہ بن رافع (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے تھے، اور ہم لوگ آپ کے اردگرد تھے، اتنے میں ایک شخص آیا اور وہ قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنے لگا، جب وہ اپنی نماز پوری کرچکا تو آیا، اور رسول اللہ ﷺ اور لوگوں کو سلام کیا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : تم پر بھی سلامتی ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، تو وہ گیا، اور اس نے جا کر پھر سے نماز پڑھی، اور رسول اللہ ﷺ اس کی نماز کو کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے لیکن وہ یہ جان نہیں رہا تھا کہ اس میں وہ کیا غلطی کر رہا ہے ؟ تو جب وہ اپنی نماز پوری کرچکا تو آیا، اور اس نے رسول اللہ ﷺ اور لوگوں کو سلام کیا، رسول اللہ ﷺ نے پھر اس سے فرمایا : تم پر بھی سلامتی ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، چناچہ اس نے دو یا تین بار نماز دہرائی، پھر اس شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میری نماز میں آپ نے کیا خامی پائی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کسی کی نماز پوری نہیں ہوتی جب تک کہ وہ اچھی طرح وضو نہ کرلے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے کرنے کا حکم دیا ہے، وہ اپنا چہرہ دھوئے، اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے، اپنے سر کا مسح کرے، اور اپنے دونوں پیر ٹخنوں سمیت دھوئے، پھر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کرے (یعنی تکبیر تحریمہ کہے) اور اس کی حمد وثناء اور بزرگی بیان کرے (یعنی دعائے ثناء پڑھے) ۔ ہمام کہتے ہیں : میں نے اسحاق کو ويحمد اللہ ويمجده ويكبره بھی کہتے سنا ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے دونوں طرح سے انہیں کہتے سنا ہے۔ آگے آپ ﷺ نے فرمایا : اور قرآن میں سے حسب توفیق اور مرضی الٰہی جو آسان ہو پڑھے، پھر اللہ اکبر کہے، اور رکوع کرے یہاں تک کہ اس کے تمام جوڑ اپنی جگہ آجائیں، اور ڈھیلے پڑجائیں، پھر سمع اللہ لمن حمده کہے، پھر سیدھا کھڑا ہوجائے یہاں تک اس کی پیٹھ برابر ہوجائے، پھر اللہ اکبر کہے، اور سجدہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنا چہرہ زمین پر ٹکا دے ، (میں نے اسحاق کو اپنی پیشانی بھی کہتے سنا ہے) ، اور تمام جوڑ اپنی جگہ آجائیں اور ڈھیلے پڑجائیں، پھر اللہ اکبر کہے، اور اپنا سر اٹھائے یہاں تک کہ اپنی سرین پر سیدھا ہو کر بیٹھ جائے، اور اپنی پیٹھ سیدھی کرلے، پھر اللہ اکبر کہے، اور سجدہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنا چہرہ زمین سے اچھی طرح ٹکا دے، اور ڈھیلا پڑجائے، اگر اس نے اس طرح نہیں کیا تو اس کی نماز پوری نہیں ہوئی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٦٦٨، ویأتي برقم : ١٣١٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مؤلف نے اس سے سجدے میں تسبیحات نہ پڑھنے پر استدلال اس طرح کیا ہے کہ اس میں تسبیحات کا ذکر نہیں ہے، مگر آپ ﷺ نے اس میں دیگر بہت سی واجبات کا بھی ذکر نہیں کیا ہے، یہاں صرف تعدیل ارکان پر توجہ دلانا مقصود ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1136
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ أَبُو يَحْيَى بِمَكَّةَ وَهُوَ بَصْرِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَلِيَّ بْنَ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ مَالِكِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَأَتَى الْقِبْلَةَ فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَعَلَيْكَ اذْهَبْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّفَذَهَبَ فَصَلَّى فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُ صَلَاتَهُ وَلَا يَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَعَلَيْكَ اذْهَبْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّفَأَعَادَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِبْتَ مِنْ صَلَاتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِنَّهَا لَمْ تَتِمَّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَغْسِلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَيَمْسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُكَبِّرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَحْمَدَهُ وَيُمَجِّدَهُ قَالَ هَمَّامٌ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَيَحْمَدَ اللَّهَ وَيُمَجِّدَهُ وَيُكَبِّرَهُ قَالَ فَكِلَاهُمَا قَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ وَيَقْرَأَ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ وَأَذِنَ لَهُ فِيهِ ثُمَّ يُكَبِّرَ وَيَرْكَعَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَسْتَوِيَ قَائِمًا حَتَّى يُقِيمَ صُلْبَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُكَبِّرَ وَيَسْجُدَ حَتَّى يُمَكِّنَ وَجْهَهُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ جَبْهَتَهُ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ وَيُكَبِّرَ فَيَرْفَعَ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمَ صُلْبَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُكَبِّرَ فَيَسْجُدَ حَتَّى يُمَكِّنَ وَجْهَهُ وَيَسْتَرْخِيَ فَإِذَا لَمْ يَفْعَلْ هَكَذَا لَمْ تَتِمَّ صَلَاتُهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৮
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بندہ اللہ عزوجل سے کب نزدیک ہوتا ہے؟
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے، لہٰذا (سجدے میں) تم لوگ بکثرت دعا کیا کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٢) ، سنن ابی داود/فیہ ١٥٢ (٧٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢٥٦٥) ، مسند احمد ٢/٤٢١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1137
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُمَيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৯
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کرنے کی فضیلت کا بیان
ربیعہ بن کعب اسلمی (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ کے وضو اور آپ کی حاجت کا پانی لے کر آتا تھا، تو ایک بار آپ ﷺ نے فرمایا : جو مانگنا ہو مجھ سے مانگو ، میں نے کہا : میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : اس کے علاوہ اور بھی کچھ ؟ میں نے عرض کیا : بس یہی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تو اپنے اوپر کثرت سجدہ کو لازم کر کے میری مدد کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٣ (٤٨٩) ، سنن ابی داود/فیہ ٣١٢ (١٣٢٠) ، سنن الترمذی/الدعوات ٢٧ (٣٤١٦) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٦ (٣٨٧٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٦٠٣) ، مسند احمد ٤/٥٧، ٥٨، ٥٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی کثرت سے سجدے کیا کرو اس لیے کہ نماز کی عبادت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے، شاید تمہاری کثرت سجود سے مجھے تمہارے لیے اپنی رفاقت کی سفارش کا موقع مل جائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1138
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِقْلِ بْنِ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كُنْتُ آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوئِهِ وَبِحَاجَتِهِ فَقَالَ:‏‏‏‏ سَلْنِي، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ:‏‏‏‏ أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ قُلْتُ:‏‏‏‏ هُوَ ذَاكَ قَالَ:‏‏‏‏ فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪০
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ خداوندقدوس کے واسطے جو شخص ایک سجدہ کرے تو اس کو کس قدر اجر ملے گا؟
معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے غلام ثوبان (رض) سے ملاقات کی، تو میں نے کہا : مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے فائدہ پہنچائے، یا مجھے جنت میں داخل کرے، وہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر میری طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے : تم سجدوں کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے بدلے، اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔ معدان کہتے ہیں : پھر میں ابو الدرداء (رض) سے ملا اور میں نے ان سے وہی سوال کیا جو ثوبان (رض) سے کرچکا تھا، تو انہوں نے بھی مجھ سے یہی کہا : تم سجدوں کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٣ (٤٨٨) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٠ (٣٨٨، ٣٨٩) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٠١ (١٤٢٣) مختصراً ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٦٥، ٢١١٢) ، مسند احمد ٥/٢٧٦، ٢٨٠، ٢٨٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1139
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعُنِي أَوْ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ فَسَكَتَ عَنِّي مَلِيًّا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ:‏‏‏‏ عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةًقَالَ مَعْدَانُ:‏‏‏‏ ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ ثَوْبَانَ فَقَالَ لِي:‏‏‏‏ عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪১
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوران سجدہ زمین پر لگنے والے اعضاء کی فضیلت کا بیان
عطاء بن یزید کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ (رض) اور ابوسعید کے پاس بیٹھا ہوا تھا، تو ان دونوں میں سے ایک نے شفاعت کی حدیث بیان کی، اور دوسرے خاموش رہے، انہوں نے کہا : فرشتے آئیں گے، شفاعت کریں گے، اور انبیاء و رسل بھی شفاعت کریں گے، نیز انہوں نے پل صراط کا ذکر کیا، اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : پل صراط پار کرنے والا سب سے پہلا شخص میں ہوں گا جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلوں سے فارغ ہوگا، اور جہنم سے جسے نکالنا چاہے گا نکال لے گا، تو اللہ فرشتوں کو اور رسولوں کو حکم دے گا کہ وہ شفاعت کریں، قابل شفاعت لوگ اپنی نشانیوں سے پہچان لیئے جائیں گے، آگ ابن آدم کی ہر چیز کھاجائے گی سوائے سجدہ کی جگہ کے، پھر ان پر چشمہ حیات کا پانی انڈیلا جائے گا، تو وہ اگنے لگیں گے جیسے سیلاب کے خش و خاشاک میں دانہ اگتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٢٩ ١ (٨٠٦) ، الرقاق ٥٢ (٦٥٧٣) ، التوحید ٢٤ (٧٤٣٧) ، صحیح مسلم/الإیمان ٨٠ (١٨٢) ، (تحفة الأشراف : ٤١٥٦، ١٤٢١٣) ، مسند احمد ٢/٢٧٥، ٢٩٣، ٥٣٣ و ٣/٩٤، سنن الدارمی/الرقاق ٩٦ (٢٨٥٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جس طرح سیلاب کے کوڑا کرکٹ میں دانہ اُگ کر جلد ہی ترو تازہ ہوجاتا ہے، اسی طرح یہ لوگ بھی اس پانی کی برکت سے بھلے چنگے ہوجائیں گے، اور آگ کے نشانات مٹ جائیں گے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1140
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ بِالْمِصِّيصَةِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كُنْتُ جَالِسًا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَحَدَّثَ:‏‏‏‏ أَحَدُهُمَا حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ وَالْآخَرُ مُنْصِتٌ قال:‏‏‏‏ فَتَأْتِي الْمَلَائِكَةُ فَتَشْفَعُ وَتَشْفَعُ الرُّسُلُ وَذَكَرَ الصِّرَاطَ قال:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ فَإِذَا فَرَغَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ خَلْقِهِ وَأَخْرَجَ مِنَ النَّارِ مَنْ يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَ أَمَرَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ وَالرُّسُلَ أَنْ تَشْفَعَ فَيُعْرَفُونَ بِعَلَامَاتِهِمْ إِنَّ النَّارَ تَأْكُلُ كُلَّ شَيْءٍ مِنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا مَوْضِعَ السُّجُودِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مِنْ مَاءِ الْجَنَّةِ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪২
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا ایک سجدہ دوسرے سے طویل کرنا جائز ہے؟
شداد (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مغرب اور عشاء کی دونوں نمازوں میں سے کسی ایک نماز کے لیے نکلے، اور حسن یا حسین کو اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو انہیں (زمین پر) بٹھا دیا، پھر آپ نے نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہی، اور نماز شروع کردی، اور اپنی نماز کے دوران آپ نے ایک سجدہ لمبا کردیا، تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بچہ رسول اللہ ﷺ کی پیٹھ پر ہے، اور آپ سجدے میں ہیں، پھر میں اپنے سجدے کی طرف دوبارہ پلٹ گیا، جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پوری کرلی تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ اتنا لمبا کردیا کہ ہم نے سمجھا کوئی معاملہ پیش آگیا ہے، یا آپ پر وحی نازل ہونے لگی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : ان میں سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی، البتہ میرے بیٹے نے مجھے سواری بنا لی تھی تو مجھے ناگوار لگا کہ میں جلدی کروں یہاں تک کہ وہ اپنی خواہش پوری کرلے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، حم ٣/٤٩٣، ٦/٤٦٧، (تحفة الأشراف : ٤٨٣٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1141
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْبَصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعِشَاءِ وَهُوَ حَامِلٌ حَسَنًا أَوْ حُسَيْنًا فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ كَبَّرَ لِلصَّلَاةِ فَصَلَّى فَسَجَدَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ صَلَاتِهِ سَجْدَةً أَطَالَهَا قَالَ:‏‏‏‏ أَبِي فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَإِذَا الصَّبِيُّ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ فَرَجَعْتُ إِلَى سُجُودِي فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ النَّاسُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ سَجَدْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ صَلَاتِكَ سَجْدَةً أَطَلْتَهَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ أَوْ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْكَ قَالَ:‏‏‏‏ كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ وَلَكِنَّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي فَكَرِهْتُ أَنْ أُعَجِّلَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৩
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت سجدہ سے سر اٹھائے تو تکبیر پڑھنا چاہئے
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں اللہ اکبر کہتے دیکھا، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی، اور میں نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٨٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1142
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ قَالَ وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৪
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ پہلے سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا
مالک بن حویرث (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے یعنی اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر الأرقام : ١٠٨٦، ١٠٨٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم : ١٠٨٦ ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1143
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ كُلَّهُ يَعْنِي رَفْعَ يَدَيْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৫
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دونوں سجدوں کے درمیان ہاتھ نہ اٹھانے سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے، اور جب رکوع کرتے تو بھی، اور رکوع کے بعد بھی، اور دونوں سجدوں کے درمیان نہیں اٹھاتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٢٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1144
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَبَعْدَ الرُّكُوعِ وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৬
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دونوں سجدوں کے درمیان دعا کرنا
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے اور آپ کے پہلو میں جا کر کھڑے ہوگئے، آپ نے اللہ أكبر ذو الملکوت والجبروت والکبرياء والعظمة کہا، پھر آپ نے سورة البقرہ پڑھی، پھر رکوع کیا، آپ کا رکوع تقریباً آپ کے قیام کے برابر رہا، اور آپ نے رکوع میں :سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم‏ کہا، اور جب آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا تو : لربي الحمد لربي الحمد کہا، اور آپ اپنے سجدہ میں سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى اور دونوں سجدوں کے درمیان رب اغفر لي رب اغفر لي‏ کہتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٧٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1145
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَمْزَةَ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْرَجُلٍ مِنْ عَبْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَى جَنْبِهِ فَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ بِالْبَقَرَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ فَقَالَ:‏‏‏‏ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَقَالَ:‏‏‏‏ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ وَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى وَكَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৭
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ چہرہ کے سامنے دونوں ہاتھ اٹھانے سے متعلق
نضر بن کثیر ابوسہل ازدی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن طاؤس نے منیٰ میں مسجد خیف میں میرے پہلو میں نماز پڑھی، تو انہوں نے جب پہلا سجدہ کیا، اور سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے کے بالمقابل اٹھایا، مجھے یہ بات عجیب لگی تو میں نے وہیب بن خالد سے کہا کہ یہ ایسا کام کر رہے ہیں جو میں نے کبھی کسی کو کرتے نہیں دیکھا ؟ ، تو وہیب نے ان سے کہا : آپ ایسا کام کرتے ہیں جسے ہم نے کسی کو کرتے نہیں دیکھا ؟ اس پر عبداللہ بن طاؤس نے کہا : میں نے اپنے والد کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور میرے والد نے کہا : میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١١٧ (٧٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٧١٩) (صحیح) (اس کے راوی ” نضر بن کثیر “ ضعیف ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح لغیرہ ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1146
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو سَهْلٍ الْأَزْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ صَلَّى إِلَى جَنْبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ بِمِنًى فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَكَانَإِذَا سَجَدَ السَّجْدَةَ الْأُولَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْهَا رَفَعَ يَدَيْهِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِفَأَنْكَرْتُ أَنَا ذَلِكَ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لِوُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ إِنَّ هَذَا يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ وَهَيْبٌ تَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ نَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ أَبِي يَصْنَعُهُ وَقَالَ أَبِي:‏‏‏‏ رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَصْنَعُهُ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৮
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دونوں سجدوں کے درمیان کتنی دیر تک بیٹھنا چاہئے؟
براء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز یعنی آپ کا رکوع، سجدہ، رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کا قیام اور دونوں سجدوں کے درمیان کا بیٹھنا تقریباً سب برابر برابر ہوتا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٦٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1148
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنِالْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كَانَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُكُوعُهُ وَسُجُودُهُ وَقِيَامُهُ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا طریقہ
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے پہلو سے جدا رکھتے یہاں تک کہ آپ کے پیچھے آپ کے بغل کی سفیدی نظر آتی، اور جب بیٹھتے تو اپنی بائیں ران زمین پر لگا کر بیٹھتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١١١٠ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1147
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏قالت:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ خَوَّى بِيَدَيْهِ حَتَّى يُرَى وَضَحَ إِبْطَيْهِ مِنْ وَرَائِهِ وَإِذَا قَعَدَ اطْمَأَنَّ عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫০
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کے واسطے تکبیر پڑھنا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر اٹھتے، جھکتے، کھڑے ہوتے اور بیٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے، اور ابوبکر و عمر اور عثمان (رض) عنہم بھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٨٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1149
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَوَضْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَأَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫১
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سجدہ کے واسطے تکبیر پڑھنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے اٹھتے تو جس وقت کھڑے ہوتے اللہ اکبر کہتے، پھر جب رکوع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جس وقت اپنی پیٹھ رکوع سے اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمده کہتے، پھر کھڑے ہو کر کہتے : ربنا لک الحمد پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب (دوسرا) سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر پوری نماز میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ آپ اسے پوری کرلیتے، اور جس وقت دوسری رکعت سے بیٹھنے کے بعد اٹھتے تو (بھی) اللہ اکبر کہتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١١٧ (٧٨٩) ، صحیح مسلم/الصلاة ١٠ (٣٩٢) ، سنن ابی داود/الصلاة ١١٧ (٧٣٨) ، مسند احمد ٢/٢٧٠، ٤٥٤، (تحفة الأشراف : ١٤٨٦٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1150
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأَسَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫২
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت دونوں سجدوں سے فارغ ہو کر اٹھنے لگے تو پہلے سیدھا کھڑا ہو کر بیٹھ جاتے پھر اٹھتے
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ابوسلیمان مالک بن حویرث (رض) ہماری مسجد میں آئے اور کہنے لگے : میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کیسے نماز پڑھتے دیکھا ہے، تو وہ پہلی رکعت میں آخری سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے وقت بیٹھے (جلسہ استراحت کرتے) ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٤٥ (٦٧٧) ، ١٢٧ (٨٠٢) ، ١٤٠ (٨١٨) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٤٢ (٨٤٢، ٨٤٣) ، (تحفة الأشراف : ١١١٨٥) ، مسند احمد ٣/٤٣٦، ٥/٥٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس بیٹھک کو جلسہ استراحت کہتے ہیں، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مسنون نہیں، اور اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ آپ اسے بالقصد نہیں کرتے تھے بلکہ اخیر عمر میں کبر سنی کی وجہ سے ایسا کرتے تھے، لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ صحیحین کی روایت میں اس کے کرنے کا حکم آیا ہے، اور جو روایتیں اس کے خلاف آئی ہیں وہ ضعیف اور ناقابل اعتبار ہیں، اور اگر نبی اکرم ﷺ اور بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کا ترک تسلیم بھی کرلیا جائے تو یہ اس کے مسنون ہونے کے منافی نہیں، کیونکہ جو چیز واجب نہ ہو اسے کبھی کبھی ترک کرنا جائز ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1151
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ جَاءَنَا أَبُو سُلَيْمَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ إِلَى مَسْجِدِنَا فَقَالَ:‏‏‏‏ أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَالَ:‏‏‏‏ فَقَعَدَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الْآخِرَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت دونوں سجدوں سے فارغ ہو کر اٹھنے لگے تو پہلے سیدھا کھڑا ہو کر بیٹھ جاتے پھر اٹھتے
مالک بن حویرث (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا، جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعتوں میں ہوتے تو جب تک بیٹھ کر سیدھے نہیں ہوجاتے نہیں اٹھتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٤٢ (٨٢٣) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٤٢ (٨٤٤) ، سنن الترمذی/الصلاة ٩٨ (٢٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١١١٨٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1152
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَإِذَا كَانَ فِي وَتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৪
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کھڑے ہوتے وقت ہاتھ زمین پر ٹکانا
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مالک بن حویرث (رض) ہمارے پاس آتے تو کہتے : کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ تو وہ بغیر وقت کے نماز پڑھتے، جب وہ پہلی رکعت میں دوسرے سجدے سے اپنا سر اٹھاتے تو بیٹھ کر سیدھے ہوجاتے، پھر کھڑے ہوتے تو زمین پر اپنا ہاتھ ٹیکتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١١٥٢، (تحفة الأشراف : ١١١٨٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1153
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا فَيَقُولُ:‏‏‏‏ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَيُصَلِّي فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ فِي أَوَّلِ الرَّكْعَةِ اسْتَوَى قَاعِدًا ثُمَّ قَامَ فَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৫
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے اٹھانا
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو گھٹنوں کو ہاتھ سے پہلے زمین پر رکھتے، اور جب اٹھتے تو اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : اسے شریک سے یزید بن ہارون کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٩٠ (ضعیف) (شریک القاضی حافظے کے کمزور راوی ہیں اس لیے جب کسی روایت میں منفرد ہوں تو ان کی روایت قبول نہیں کی جاتی ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1154
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ لَمْ يَقُلْ هَذَا عَنْ شَرِيكٍ غَيْرُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
tahqiq

তাহকীক: