কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৯২ টি
হাদীস নং: ১২৩৬
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ سے روایات کا اختلاف کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہو کے سجدے فرمائے یا نہیں؟
ابن سیرین ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بھول ہوجانے کی صورت میں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ (سہو) کیا۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث ابن عون، عن ابن سیرین قد تقدم تخریجہ برقم : ١٢٢٥، وحدیث خالد بن مہران الحذائ، عن ابن سیرین قد تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٤٦٦٥) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1235
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ عَوْنٍوَخَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَجَدَ فِي وَهْمِهِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৭
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ سے روایات کا اختلاف کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہو کے سجدے فرمائے یا نہیں؟
عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ کو سہو ہوگیا، تو آپ نے دو سجدے (سہو کے) کیے، پھر سلام پھیرا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٢ (١٠٣٩) ، سنن الترمذی/فیہ ١٧٤ (٣٩٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٨٥) ، مسند احمد ٥/١١٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ سلام سجدہ سہو سے نکلنے کے لیے تھا، کیونکہ دیگر تمام روایات میں یہ صراحت ہے کہ آپ نے سلام پھیرا، پھر سجدہ سہو کیا (پھر اس کے لیے سلام پھیرا) نماز میں رکعات کی کمی بیشی کے سبب جو سجدہ سہو آپ نے کئے ہیں، وہ سب سلام کے بعد میں ہیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے، ہاں ان سجدوں کے بعد تشہد کے بارے میں تینوں احادیث ضعیف ہیں کما في التعلیقات السلفیۃ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1236
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৮
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ سے روایات کا اختلاف کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہو کے سجدے فرمائے یا نہیں؟
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی تین رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر آپ اپنے حجرے میں چلے گئے، تو آپ کی طرف اٹھ کر خرباق نامی ایک شخص گئے اور پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے ؟ تو آپ غصہ کی حالت میں اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے، اور پوچھا : کیا یہ سچ کہہ رہے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں، تو آپ کھڑے ہوئے، اور (جو چھوٹ گئی تھی) اسے پڑھایا پھر سلام پھیرا، پھر اس رکعت کے (چھوٹ جانے کے سبب) دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٤) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٩٥ (١٠١٨) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٣٤ (١٢١٥) ، مسند احمد ٤/٤٢٧، ٤٣١، ٤٤٠، (تحفة الأشراف : ١٠٨٨٢) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ١٣٣٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1237
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، يُقَالُ لَهُ: الْخِرْبَاقُ، فَقَالَ: يَعْنِي نَقَصَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ، فَقَالَ: أَصَدَقَ، قَالُوا: نَعَمْ، فَقَامَ فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْهَا، ثُمَّ سَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৯
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت نماز کے دوران کسی قسم کا شک ہوجائے؟ (تو کتنی رکعت پڑھے؟)
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو اس کی نماز میں شک ہوجائے تو وہ شک کو چھوڑ دے، اور یقین پر بنا کرے، جب اسے نماز کے پورا ہونے کا یقین ہوجائے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے، (اب) اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھیں ہوں گی تو (یہ) دونوں سجدے اس کی نماز کو جفت بنادیں گے، اور اگر اس نے چار رکعتیں پڑھی ہوں گی تو (یہ) دونوں سجدے شیطان کی ذلت و خواری کے موجب ہوں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ المساجد ١٩ (٥٧١) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٩٧ (١٠٢٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٣٢ (١٢١٠) ، موطا امام مالک/الصلاة ١٦ (٦٢) مرسلاً ، حم ٣/٧٢، ٨٣، ٨٤، ٨٧، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٤ (١٥٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٤١٦٣) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ١٢٤٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1238
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُلْغِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، فَإِذَا اسْتَيْقَنَ بِالتَّمَامِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَتَا لَهُ صَلَاتَهُ، وَإِنْ صَلَّى أَرْبَعًا كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪০
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت نماز کے دوران کسی قسم کا شک ہوجائے؟ (تو کتنی رکعت پڑھے؟)
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی (نماز پڑھتے وقت) نہ جان پائے کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار، تو اسے ایک رکعت اور پڑھ لینی چاہیئے، پھر وہ ان سب کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے، (اب) اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھی ہوں گی، تو یہ دونوں سجدے اس کی نماز کو جفت بنادیں گے، اور اگر اس نے چار رکعتیں پڑھی ہوں گی تو یہ دونوں سجدے شیطان کی ذلت و خواری کا اور اسے غیظ و غضب میں مبتلا کرنے کا سبب بنیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1239
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً، ثُمَّ يَسْجُدْ بَعْدَ ذَلِكَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَتَا لَهُ صَلَاتَهُ، وَإِنْ صَلَّى أَرْبَعًا كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪১
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شک ہوجانے کی صورت میں سوچ میں پڑجانے سے متعلق
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو اس کی نماز میں شک ہوجائے تو اسے چاہیئے کہ وہ (غور و فکر کے بعد) اس چیز کا قصد کرے جسے اس نے درست سمجھا ہو، اور اسی پر اتمام کرے، پھر اس کے بعد یعنی دو سجدے کرے ، راوی کہتے ہیں : آپ کے بعض حروف کو میں اس طرح سمجھ نہیں سکا جیسے میں چاہ رہا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٣١ (٤٠١) مطولاً ، ٣٢ (٤٠٤) ، السھو ٢ (١٢٢٦) ، الأیمان ١٥ (٦٦٧١) مطولاً ، أخبار الآحاد ١ (٧٢٤٩) ، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٢) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٩٦ (١٠٢٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٣٣ (١٢١١، ١٢١٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٤٥١) ، مسند احمد ١/٣٧٩، ٤٢٩، ٤٣٨، ٤٥٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٥ (١٥٣٩) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ١٢٤٢، ١٢٤٣، ١٢٤٤، ١٢٤٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1240
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ الصَّوَابُ فَيُتِمَّهُ، ثُمَّ يَعْنِي يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ وَلَمْ أَفْهَمْ بَعْضَ حُرُوفِهِ كَمَا أَرَدْتُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪২
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شک ہوجانے کی صورت میں سوچ میں پڑجانے سے متعلق
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو اس کی نماز میں شک ہوجائے تو اسے چاہیئے کہ وہ غور و فکر کرے، (اور ظن غالب کو تلاش کرے) اور نماز سے فارغ ہوجانے کے بعد دو سجدے کرلے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سجدہ سہو کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے کہ آدمی اسے سلام سے پہلے کرے یا سلام کے بعد، بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اسے سلام کے بعد کرے، یہ قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے سلام سے پہلے کرے، یہی قول اکثر فقہائے مدینہ مثلاً یحییٰ بن سعید، ربیعہ اور شافعی وغیرہ کا ہے، اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد کرے، اور جب کمی رہ گئی ہو تو سلام سے پہلے کرے، یہ قول مالک بن انس کا ہے، اور امام احمد کہتے ہیں کہ جس صورت میں جس طرح پر سجدہ سہو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے اس صورت میں اسی طرح سجدہ سہو کرنا چاہیئے، وہ کہتے ہیں کہ جب دو رکعت کے بعد کھڑے ہوجائے تو ابن بحینہ کی حدیث کے مطابق سلام سے پہلے سجدہ کرے، اور جب ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھ لے تو وہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرے، اور اگر ظہر و عصر کی نماز میں دو ہی رکعت میں سلام پھیر دے تو ایسی صورت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کرے، اس طرح جس صورت میں جیسے رسول اللہ ﷺ کا فعل موجود ہے اس پر اسی طرح عمل کرے، اور جس صورت میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی فعل مروی نہ ہو تو اس میں سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1241
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَتَحَرَّ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا يَفْرُغُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৩
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شک ہوجانے کی صورت میں سوچ میں پڑجانے سے متعلق
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی تو آپ نے کچھ بڑھایا گھٹا دیا، جب آپ نے سلام پھیرا تو ہم نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا نماز میں کوئی نئی بات ہوئی ہے ؟ آپ نے فرمایا : اگر نماز کے سلسلہ میں کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمہیں اسے بتاتا، البتہ میں بھی انسان ہی ہوں، جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو، مجھ سے بھی بھول ہوسکتی ہے، لہٰذا تم میں سے کسی کو نماز میں کچھ شک ہوجائے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس چیز کو دیکھے جو صحت و درستی کے زیادہ لائق ہے، اور اسی پر اتمام کرے، پھر سلام پھیرے، اور دو سجدے کرلے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٢٤١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1242
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَادَ أَوْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ، قَالَ: لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمُوهُ وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৪
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شک ہوجانے کی صورت میں سوچ میں پڑجانے سے متعلق
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی، آپ نے اس میں کچھ بڑھا، یا گھٹا دیا، تو جب آپ نے سلام پھیرا تو ہم نے پوچھا : اللہ کے نبی ! کیا نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : وہ کیا ہے ؟ تو ہم نے آپ سے اس چیز کا ذکر کیا جو آپ ﷺ نے کیا تھا، تو آپ نے اپنا پاؤں موڑا، قبلہ رخ ہوئے، اور سہو کے دو سجدے کیے، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اگر نماز کے متعلق کوئی نئی چیز ہوتی تو میں تمہیں اس کی خبر دیتا ، پھر فرمایا : میں انسان ہی تو ہوں، جیسے تم بھولتے ہو، میں بھی بھولتا ہوں، لہٰذا تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی شک ہوجائے تو غور و فکر کرے، اور اس چیز کا قصد کرے جس کو وہ درست سمجھ رہا ہو، پھر وہ سلام پھیرے، پھر سہو کے دو سجدے کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٢٤١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1243
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُجَالِدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَزَادَ فِيهَا أَوْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ، قُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ، فَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي فَعَلَ، فَثَنَى رِجْلَهُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ لَأَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَأَيُّكُمْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ شَيْئًا، فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ صَوَابٌ، ثُمَّ يُسَلِّمْ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৫
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شک ہوجانے کی صورت میں سوچ میں پڑجانے سے متعلق
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے، تو لوگوں نے عرض کیا : کیا نماز کے متعلق کوئی نئی چیز واقع ہوئی ہے ؟ آپ ﷺ نے پوچھا : وہ کیا ؟ تو لوگوں نے آپ کو جو آپ نے کیا تھا بتایا، تو آپ ﷺ نے (اسی حالت میں) اپنا پاؤں موڑا، اور آپ قبلہ رخ ہوئے، اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر آپ (دوبارہ) لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا : میں انسان ہی تو ہوں اسی طرح بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو، تو جب میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد دلا دو ، آپ ﷺ نے فرمایا : اگر نماز میں کوئی چیز ہوئی ہوتی تو میں تمہیں اسے بتاتا ، نیز آپ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو اس کی نماز میں وہم ہوجائے تو اسے چاہیئے کہ وہ سوچے، اور اس چیز کا قصد کرے جو درستی سے زیادہ قریب ہو، پھر اسی پر اتمام کرے، پھر دو سجدے کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٢٤١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1244
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ مَنْصُورٌ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ رَجُلًا، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ، فَقَالُوا: أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ حَدَثٌ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ، فَأَخْبَرُوهُ بِصَنِيعِهِ، فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَقَالَ: لَوْ كَانَ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ حَدَثٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، وَقَالَ: إِذَا أَوْهَمَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ مِنَ الصَّوَابِ، ثُمَّ لِيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৬
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شک ہوجانے کی صورت میں سوچ میں پڑجانے سے متعلق
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں جسے اپنی نماز میں وہم ہوجائے تو اسے صحیح اور صواب جاننے کی کوشش کرنی چاہیئے، پھر فارغ ہونے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدہ کرے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف : ٩٢٤١) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ١٢٤٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1245
أخبرنا سويد بن نصر قال أنبأنا عبد الله عن شعبة عن الحكم قال سمعت أبا وائل يقول قال عبد الله: من أوهم في صلاته فليتحر الصواب ثم يسجد سجدتين بعد ما يفرغ وهو جالس .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৭
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شک ہوجانے کی صورت میں سوچ میں پڑجانے سے متعلق
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ جسے کچھ شک یا وہم ہوجائے تو اسے صحیح اور صواب جاننے کی کوشش کرنی چاہیئے، پھر دو سجدے کرے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1246
أخبرنا سويد بن نصر قال أنبأنا عبد الله عن مسعر عن الحكم عن أبي وائل عن عبد الله قال: من شك أو أوهم فليتحر الصواب ثم ليسجد سجدتين .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৮
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شک ہوجانے کی صورت میں سوچ میں پڑجانے سے متعلق
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ لوگ کہتے تھے کہ جب کسی آدمی کو وہم ہوجائے تو اسے صحیح و صواب جاننے کی کوشش کرنی چاہیئے، پھر دو سجدے کرے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1247
أخبرنا سويد بن نصر قال أنبأنا عبد الله عن بن عون عن إبراهيم قال: كانوا يقولون إذا أوهم يتحرى الصواب ثم يسجد سجدتين .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৯
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شک ہوجانے کی صورت میں سوچ میں پڑجانے سے متعلق
عبداللہ بن جعفر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص کو اس کی نماز میں شک ہوجائے، تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٩٩ (١٠٣٣) ، مسند احمد ١/٢٠٤، ٢٠٥، (تحفة الأشراف : ٥٢٢٤) (ضعیف) (اس کے راوی ” عقبہ یا عتبہ “ لین الحدیث ہیں، نیز ” عبداللہ بن مسافع “ کے ان سے سماع میں سخت اختلاف ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1248
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫০
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شک ہوجانے کی صورت میں سوچ میں پڑجانے سے متعلق
عبداللہ بن جعفر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اپنی نماز میں شک کرے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف) (اس کے رواة ” مصعب “ اور ” عقبہ یا عتبہ “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1249
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫১
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شک ہوجانے کی صورت میں سوچ میں پڑجانے سے متعلق
عبداللہ بن جعفر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو اپنی نماز میں شک کرے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٢٤٩ (ضعیف) (دیکھئے پچھلی دونوں روایتیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1250
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ، أَنَّمُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫২
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شک ہوجانے کی صورت میں سوچ میں پڑجانے سے متعلق
عبداللہ بن جعفر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اپنی نماز میں شک کرے تو وہ دو سجدے کرے ، حجاج کی روایت میں ہے : سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے ، اور روح کی روایت میں ہے : بیٹھے بیٹھے (دو سجدے کرے) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٢٤٩ (ضعیف) (دیکھئے پچھلی روایات ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1251
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، وَرَوْحٌ هُوَ ابْنُ عُبَادَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ، أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ: مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ، قَالَ حَجَّاجٌ: بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ، وَقَالَ رَوْحٌ: وَهُوَ جَالِسٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৩
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شک ہوجانے کی صورت میں سوچ میں پڑجانے سے متعلق
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں کوئی کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے، اور اس پر اس کی نماز کو گڈمڈ کردیتا ہے، یہاں تک کہ وہ نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ایسا محسوس کرے تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/السھو ٧ (١٢٣٢) ، صحیح مسلم/الصلاة ٨ (٣٨٩) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٩٨ (١٠٣٠) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ١ (٦) ، (تحفة الأشراف : ١٥٢٤٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1252
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَسَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৪
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شک ہوجانے کی صورت میں سوچ میں پڑجانے سے متعلق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، پھر جب اقامت کہہ دی جاتی ہے تو وہ واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ آدمی کے دل میں گھس کر وسوسے ڈالتا ہے، یہاں تک کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی، لہٰذا جب تم میں سے کوئی اس قسم کی صورت حال دیکھے تو وہ دو سجدے کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/السہو ٧ (١٢٣١) ، صحیح مسلم/الصلاة ٨ (٣٩٨) ، مسند احمد ٢/٥٢٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٤ (١٥٣٥) ، (تحفة الأشراف : ١٥٤٢٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1253
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ، فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৫
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو کوئی شخص نماز کی پانچ رکعات پڑھے تو اس کو کیا کرنا چاہئے؟
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر کی نماز پانچ (رکعت) پڑھی، تو آپ سے عرض کیا گیا : کیا نماز میں زیادتی کردی گئی ہے ؟ تو آپ نے پوچھا : وہ کیا ؟ لوگوں نے کہا : آپ نے پانچ (رکعت) پڑھی ہے، تو آپ نے اپنا پاؤں موڑا اور دو سجدے کیے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٣٢ (٤٠٤) ، السہو ٢ (١٢٢٦) ، أخبار الآحاد ١ (٧٢٤٩) ، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٢) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٩٦ (١٠١٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٣ (٣٩٢) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٣٠ (١٢٠٥) ، مسند احمد ١/٣٧٦، ٤٤٣، ٤٦٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٥ (١٥٣٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٤١١) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ١٢٥٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1254
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقِيلَ لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ، قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَثَنَى رِجْلَهُ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ.
তাহকীক: