কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৯২ টি
হাদীস নং: ১২৫৬
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو کوئی شخص نماز کی پانچ رکعات پڑھے تو اس کو کیا کرنا چاہئے؟
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھائی، تو لوگوں نے عرض کیا : آپ نے پانچ (رکعت) پڑھائی ہے، تو آپ نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٢٥٥، وتفرد بہ النسائي من طریق مغیرة بن مقسم، (تحفة الأشراف : ٩٤٤٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1255
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَمُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقَالُوا: إِنَّكَ صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৭
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو کوئی شخص نماز کی پانچ رکعات پڑھے تو اس کو کیا کرنا چاہئے؟
ابراہیم بن سوید کہتے ہیں کہ علقمہ نے پانچ (رکعت) نماز پڑھی، تو ان سے (اس زیادتی کے بارے میں) کہا گیا، تو انہوں نے کہا : میں نے (ایسا) نہیں کیا ہے، تو میں نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا : کیوں نہیں ؟ آپ نے ضرور کیا ہے، انہوں نے کہا : اور تم اس کی گواہی دیتے ہو اے اعور ! تو میں نے کہا : ہاں (دیتا ہوں) تو انہوں نے دو سجدے کیے، پھر انہوں نے عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے پانچ (رکعتیں) پڑھیں، تو لوگ ایک دوسرے سے کھسر پھسر کرنے لگے، ان لوگوں نے آپ ﷺ سے پوچھا : کیا نماز میں اضافہ کردیا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ، لوگوں نے آپ کو بتایا (کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں) ، تو آپ ﷺ نے اپنا پاؤں موڑا، اور دو سجدے کیے، پھر فرمایا : میں انسان ہی ہوں، میں (بھی) بھول سکتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٢) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٩٦ (١٠٢٢) مختصراً ، مسند احمد ١/٤٣٨، ٤٤٨، (تحفة الأشراف : ٩٤٠٩) ، ویأتي ہذا الحدیث عند المؤلف برقم : ١٢٥٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1256
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْإِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: صَلَّى عَلْقَمَةُ خَمْسًا، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: مَا فَعَلْتُ، قُلْتُ بِرَأْسِي: بَلَى، قَالَ: وَأَنْتَ يَا أَعْوَرُ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ حَدَّثَنَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ صَلَّى خَمْسًا فَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالُوا لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا فَأَخْبَرُوهُفَثَنَى رِجْلَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو کوئی شخص نماز کی پانچ رکعات پڑھے تو اس کو کیا کرنا چاہئے؟
مالک بن مغول کہتے ہیں کہ میں نے (عامری شراحیل) شعبی کو کہتے ہوئے سنا کہ علقمہ بن قیس سے نماز میں سہو ہوگیا، تو لوگوں نے آپ سے میں گفتگو کرنے کے بعد ان سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے پوچھا : کیا ایسا ہی ہے، اے اعور ! (ابراہیم بن سوید نے) کہا : ہاں، تو انہوں نے اپنا حبوہ ١ ؎ کھولا، پھر سہو کے دو سجدے کیے، اور کہنے لگے : اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے، (مالک بن مغول) نے کہا : اور میں نے حکم (ابن عتیبہ) کو کہتے ہوئے سنا کہ علقمہ نے پانچ (رکعتیں) پڑھی تھیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، مسند احمد ١/٤٣٨ (صحیح) (اس حدیث میں علقمہ نے عبداللہ بن مسعود کا ذکر نہیں کیا ہے، جن سے اوپر صحیح حدیث گزری، اس لیے یہ سند مرسل ہے، لیکن اصل حدیث دوسرے طرق سے صحیح ہے، اور امام نسائی نے اس طریق کو اس کی علت ارسال کی وضاحت کے لیے کیا ہے، یہ بھی واضح رہے کہ مزی نے تحفة الاشراف میں اس حدیث کا ذکر نہیں کیا ہے، جب کہ اس کا مقام مراسیل علقمہ بن قیس النخعی ہے ) وضاحت : ١ ؎: حبوہ : ایک طرح کی بیٹھک ہے جس میں سرین کو زمین پر ٹکا کر دونوں رانوں کو دونوں ہاتھ سے باندھ لیا جاتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1257
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَهَا عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ فِي صَلَاتِهِ فَذَكَرُوا لَهُ بَعْدَ مَا تَكَلَّمَ، فَقَالَ: أَكَذَلِكَ يَا أَعْوَرُ، قَالَ: نَعَمْ، فَحَلَّ حُبْوَتَهُ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، وَقَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَسَمِعْتُ الْحَكَمَ، يَقُولُ: كَانَ عَلْقَمَةُ صَلَّى خَمْسًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو کوئی شخص نماز کی پانچ رکعات پڑھے تو اس کو کیا کرنا چاہئے؟
ابراہیم سے روایت ہے کہ علقمہ نے پانچ (رکعتیں) پڑھیں، جب انہوں نے سلام پھیرا، تو ابراہیم بن سوید نے کہا : ابو شبل (علقمہ) ! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، انہوں نے کہا : کیا ایسا ہوا ہے اے اعور ؟ (انہوں نے کہا : ہاں) تو علقمہ نے سہو کے دو سجدے کیے، پھر کہا : اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٢٥٧ (صحیح) (علقمہ نے اس حدیث میں صحابی کا ذکر نہیں کیا، اس لیے یہ روایت مرسل ہے، لیکن اصل حدیث علقمہ نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے، جیسا کہ اوپر گزرا، اس لیے یہ حدیث بھی صحیح ہے، اور امام نسائی نے اس طریق کو اس کی علت ارسال کی وضاحت کے لیے کیا ہے، یہ بھی واضح رہے کہ مزی نے تحفة الاشراف میں اس حدیث کا ذکر نہیں کیا ہے، جب کہ اس کا مقام مراسیل علقمہ بن قیس النخعی ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1258
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلْقَمَةَ صَلَّى خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ: يَا أَبَا شِبْلٍ صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَقَالَ: أَكَذَلِكَ يَا أَعْوَرُ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو کوئی شخص نماز کی پانچ رکعات پڑھے تو اس کو کیا کرنا چاہئے؟
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شام کی دونوں نمازوں (یعنی ظہر اور عصر) میں سے کوئی ایک نماز پانچ رکعت پڑھائی، تو آپ سے کہا گیا : کیا نماز میں اضافہ کردیا گیا ہے ؟ آپ نے پوچھا : وہ کیا ؟ لوگوں نے عرض کیا : آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : میں انسان ہی تو ہوں، میں بھی بھولتا ہوں جس طرح تم بھولتے، ہو اور مجھے بھی یاد رہتا ہے جیسے تمہیں یاد رہتا ہے ، پھر آپ نے دو سجدے کیے، اور پیچھے کی طرف پلٹے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٢) ، مسند احمد ١/٤٠٩، ٤٢٠، ٤٢٨، ٤٦٣، (تحفة الأشراف : ٩١٧١) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1259
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ النَّهْشَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ خَمْسًا، فَقِيلَ لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ، قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا، قَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ وَأَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ انْفَتَلَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنی نماز میں سے کچھ بھول جائے تو وہ شخص کیا کرے اس کے متعلق
یوسف سے روایت ہے کہ معاویہ (رض) نے لوگوں کے آگے نماز پڑھی (یعنی ان کی امامت کی) تو وہ نماز میں کھڑے ہوگئے، حالانکہ انہیں بیٹھنا چاہیئے تھا، تو لوگوں نے سبحان اللہ کہا، پر وہ کھڑے ہی رہے، اور نماز پوری کرلی، پھر بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر منبر پر بیٹھے، اور کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : جو اپنی نماز میں سے کوئی چیز بھول جائے تو وہ ان دونوں سجدوں کی طرح سجدے کرلے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، مسند احمد ٤/١٠٠، (تحفة الأشراف : ١١٤٥٢) (ضعیف) (اس کے راوی ” یوسف “ اور ان کے بیٹے ” محمد “ دونوں لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎: ایک تو یہ حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، دوسرے اس میں مذکور بھول بالکل عام نہیں ہے، بلکہ رکن کے سوا کسی اور چیز کی بھول مراد ہے، معاویہ (رض) قعدہ اولیٰ بھولے تھے جو رکن نہیں ہے، اس طرح کی بھول کا کفارہ سجدہ سہو ہوسکتا ہے، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1260
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ مَوْلَى عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ يُوسُفَ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ صَلَّى أَمَامَهُمْ فَقَامَ فِي الصَّلَاةِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَسَبَّحَ النَّاسُ فَتَمَّ عَلَى قِيَامِهِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ أَنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ، ثُمَّ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ نَسِيَ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ مِثْلَ هَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو کے دوران تکبیر کہنا
عبداللہ بن بحینہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی دوسری رکعت کے بعد (بغیر قعدہ کے) کھڑے ہوگئے، پھر (واپس) نہیں بیٹھے، پھر جب آپ نے اپنی نماز پوری کرلی تو جو تشہد آپ بھول گئے تھے اس کے عوض بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے، اور ہر سجدہ میں اللہ اکبر کہا، آپ کے ساتھ لوگوں نے (بھی) یہ دونوں سجدے کیے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١١٧٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1261
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، وَيُونُسُ، وَاللَّيْثُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍأَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَامَ فِي الثِّنْتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ فَلَمْ يَجْلِسْ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ كَبَّرَ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৩
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ آخر جلسہ میں کس طریقہ سے بیٹھنا چاہئے؟
ابو حمید ساعدی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب ان دو رکعتوں میں ہوتے تھے جن میں نماز ختم ہوتی ہے، تو آپ (قعدہ میں) اپنا بایاں پاؤں (داہنی طرف) نکال دیتے، اور اپنی ایک سرین پر ٹیک لگا کر بیٹھتے پھر سلام پھیرتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٤٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس بیٹھک کو تورک کہتے ہیں، اس سے پتہ چلا کہ قعدہ اخیرہ میں اس طرح بیٹھنا سنت ہے، بعض لوگ اسے کبرسنی پر محمول کرتے ہیں لیکن اس پر محمول کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی صحیح دلیل نہیں، نیز بعض لوگوں کا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ فجر کے قعدہ اخیرہ میں تورک ثابت نہیں، اس حدیث کے الفاظ سے صراحت کے ساتھ یہ ثابت ہو رہا ہے کہ قعدہ اخیرہ میں تورک کرتے تھے، اب خواہ یہ قعدہ اخیرہ فجر و مغرب کا ہو یا چار رکعتوں والی نمازوں کا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1262
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بُنْ دَارٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَاعَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَنْقَضِي فِيهِمَا الصَّلَاةُ، أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَى شِقِّهِ مُتَوَرِّكًا، ثُمَّ سَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৪
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ آخر جلسہ میں کس طریقہ سے بیٹھنا چاہئے؟
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع میں جاتے اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے (تو بھی اسی طرح اٹھاتے) اور جب آپ (قعدہ میں) بیٹھتے تو بایاں (پاؤں) لٹاتے، اور دایاں (پاؤں) کھڑا رکھتے، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھتے، اور درمیان والی انگلی اور انگوٹھے دونوں کو ملا کر گرہ بناتے، اور اشارہ کرتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٨٩٠ و ١١٦٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث میں یہ صراحت نہیں ہے کہ یہ بیان آخری قعدہ کے بارے میں ہے، اس لیے باب سے مناسبت واضح نہیں، یا یہ مراد ہے کہ یہ بیان دونوں قعدوں کے بارے میں ہے، تو یہ بھی درست نہیں، کیونکہ ابو حمید ساعدی (رض) کی حدیث صحیحین کی ہے نیز تورک کے بارے میں واضح ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1263
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَإِذَا جَلَسَ أَضْجَعَ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَيَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَعَقَدَ ثِنْتَيْنِ الْوُسْطَى وَالْإِبْهَامَ وَأَشَارَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دونوں بازو کس جگہ رکھے؟
وائل بن حجر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نماز میں بیٹھے تو آپ نے اپنا بایاں پاؤں بچھایا، اور اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں رانوں پر رکھا، اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا، آپ اس کے ذریعہ دعا کر رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٠٢ (٢٩٢) مختصراً ، (تحفة الأشراف : ١١٧٨٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1264
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، أَنَّهُ: رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ يَدْعُو بِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৬
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دونوں کہنیاں بیٹھنے کے وقت کس جگہ رکھنی چاہئیں؟
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ کر رہوں گا کہ آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں، تو (میں نے دیکھا کہ) رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اور قبلہ رو ہوئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اٹھایا کہ وہ آپ کے کانوں کے بالمقابل ہوگئے، پھر اپنے دائیں (ہاتھ) سے اپنے بائیں (ہاتھ) کو پکڑا، پھر جب رکوع میں جانے کا ارادہ کیا تو ان دونوں کو پھر اسی طرح اٹھایا، اور اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا، پھر جب رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو پھر ان دونوں کو اسی طرح اٹھایا، پھر جب سجدہ کیا تو اپنے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان اسی جگہ پر رکھا ١ ؎، پھر آپ بیٹھے تو اپنا بایاں پاؤں بچھایا، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا، اور اپنی دائیں کہنی کو اپنی دائیں ران سے دور رکھا، پھر اپنی دو انگلیاں بند کیں، اور حلقہ بنایا، اور میں نے انہیں اس طرح کرتے دیکھا۔ بشر نے داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا، اور انگوٹھے اور درمیانی انگلی کا حلقہ بنایا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٨٩٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اپنا سر اس طرح رکھا کہ دونوں ہاتھ دونوں کانوں کے بالمقابل ہوگئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1265
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ رَأْسَهُ بِذَلِكَ الْمَنْزِلِ مِنْ يَدَيْهِ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ وَرَأَيْتُهُ يَقُولُ: هَكَذَا، وَأَشَارَ بِشْرٌ بِالسَّبَّابَةِ مِنَ الْيُمْنَى وَحَلَّقَ الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৭
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دونوں ہتھیلیاں بیٹھنے کے وقت کس جگہ رکھنی چاہئے؟
علی بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بغل میں نماز پڑھی، تو میں کنکریوں کو الٹنے پلٹنے لگا، (نماز سے فارغ ہونے پر) انہوں نے مجھ سے کہا : (نماز میں) کنکریاں مت پلٹو، کیونکہ کنکریاں کو الٹنا پلٹنا شیطان کی جانب سے ہے، (بلکہ) اس طرح کرو جس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے دیکھا ہے، میں نے کہا : آپ نے رسول اللہ ﷺ کو کیسے کرتے دیکھا ہے ؟ ، انہوں نے کہا : اس طرح سے، اور انہوں نے دائیں پیر کو قعدہ میں کھڑا کیا، اور بائیں پیر کو لٹایا ١ ؎، اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا، اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١١٦١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: دائیں پاؤں کو کھڑا کر کے بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھنے والی ساری روایتیں مبہم ہیں، اور ابوحمید (رض) والی روایت کہ جس میں قعدہ اخیرہ میں تورک کا ذکر ہے، مفصل ہے اس لیے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ مبہم کو مفصل پر محمول کیا جائے۔ ٢ ؎: دونوں قعدوں میں دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور درمیانی انگلی کا حلقہ بنا کر دائیں گھٹنے پر رکھنا، اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنا سنت ہے اس اشارہ کا کوئی وقت متعین نہیں ہے، شروع تشہد سے اخیر تک اشارہ کرتے رہنا چاہیئے، اور اس اشارہ میں کبھی انگلی کو حرکت دینا اور کبھی نہ دینا دونوں ثابت ہے، اس بابت تمام روایات کا یہی حاصل ہے، صرف أشھد أن لا إلہ إلا اللہ پر اشارہ کرنا ثابت نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1266
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ لَقِيتُ الشَّيْخَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ فَقَلَّبْتُ الْحَصَى، فَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ: لَا تُقَلِّبِ الْحَصَى، فَإِنَّ تَقْلِيبَ الْحَصَى مِنَ الشَّيْطَانِ وَافْعَلْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ، قُلْتُ: وَكَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ؟ قَالَ: هَكَذَا وَنَصَبَ الْيُمْنَى وَأَضْجَعَ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی انگلی کے علاوہ دائیں ہاتھ کی تمام انگلیوں کو بند کرنے سے متعلق
علی بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے دیکھا تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے مجھے منع کیا، اور کہا : اس طرح کیا کرو جس طرح رسول اللہ ﷺ کرتے تھے، میں نے کہا : آپ ﷺ کس طرح کرتے تھے ؟ کہا : جب آپ ﷺ نماز میں بیٹھتے تو اپنی دائیں ہتھیلی اپنی دائیں ران پر رکھتے ١ ؎، اور اپنی سبھی انگلیاں سمیٹے رکھتے، اور اپنی اس انگلی سے جو انگوٹھے کے قریب ہے اشارہ کرتے، اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران پر رکھتے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١١٦١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اور ایک روایت میں ہے اپنے داہنے گھٹنے پر۔ ٢ ؎: اور ایک روایت میں ہے اپنے بائیں گھٹنے پر۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1267
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: رَآنِي ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَى فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي، وَقَالَ: اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ، قُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ ؟ قَالَ: كَانَإِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ وَقَبَضَ يَعْنِي أَصَابِعَهُ كُلَّهَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں کو بند کرنا اور درمیان کی انگلی اور انگوٹھے کا حلقہ باندھنے سے متعلق
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کو دیکھوں گا کہ آپ کیسے پڑھتے ہیں ؟ تو میں نے دیکھا، پھر انہوں نے آپ ﷺ کے نماز پڑھنے کی کیفیت بیان کی، اور کہا : پھر آپ ﷺ بیٹھے اور آپ ﷺ نے اپنا بایاں پیر بچھایا، اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا، اور اپنی دائیں کہنی کے سرے کو اپنی دائیں ران پر کیا، پھر اپنی انگلیوں میں سے دو کو سمیٹا، اور (باقی انگلیوں میں سے دو سے) حلقہ بنایا، پھر اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی تو میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اسے ہلا رہے تھے، اس کے ذریعہ دعا مانگ رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٨٩٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1268
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ،: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي ؟ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَوَصَفَ، قَالَ: ثُمَّ قَعَدَ وَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ اثْنَتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ أُصْبُعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَامُخْتَصَرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭০
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بائیں ہاتھ کو گھٹنوں پر رکھنے سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو آپ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے، اور جو انگلی انگوٹھے سے لگی ہوتی اسے اٹھاتے، اور اس سے دعا مانگتے، اور آپ کا بایاں ہاتھ آپ کے بائیں گھٹنے پر پھیلا ہوتا تھا، (یعنی : بائیں ہتھیلی کو حلقہ بنانے کے بجائے اس کی ساری انگلیاں بائیں گھٹنے پر پھیلائے رکھتے تھے) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٢١ (٥٨٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٠٥ (٢٩٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٧ (٩١٣) ، مسند احمد ٢/١٤٧، (تحفة الأشراف : ٨١٢٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1269
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَرَفَعَ أُصْبُعَهُ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ، فَدَعَا بِهَا وَيَدُهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطُهَا عَلَيْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭১
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بائیں ہاتھ کو گھٹنوں پر رکھنے سے متعلق
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے، اور اسے ہلاتے نہیں تھے ١ ؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو نے (اس میں) اضافہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ عامر بن عبداللہ بن زبیر نے مجھے خبر دی، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ اسی طرح دعا کرتے، اور آپ اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے بائیں پاؤں کو تھامے رہتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٨٦ (٩٨٩، ٩٩٠) ، مسند احمد ٤/٣، سنن الدارمی/الصلاة ٨٣ (١٣٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٦٤) (شاذ) صرف ” ولا یحرکھا “ کا جملہ شاذ ہے ۔ وضاحت : ١ ؎: حدیث کے اس ٹکڑے اور اس کو ہلاتے نہیں تھے کو بعض علماء نے شاذ قرار دیا ہے، اور بعض اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ کبھی بھی نہیں ہلاتے تھے، اور صرف اشارہ پر اکتفاء کرتے تھے یا یہ مطلب ہے کہ صرف اشارہ کے عمل کو وائل (رض) نے ہلاتے رہتے تھے سے تعبیر کردیا ہے، اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم نے اصل حقیقت بیان کردی ہے، یعنی اشارہ کرتے تھے ہلاتے نہیں تھے، ہمارے خیال میں : تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ اشارہ تو بلا تعیین وقت کرتے تھے، رہی ہلانے کی بات تو کبھی ہلاتے تھے اور کبھی نہیں ہلاتے تھے، جس نے جو دیکھا اسے بیان کردیا، یا مطلب یہ ہے کہ اشارہ میں انگلی کا ہل جانا بالکل ممکن ہے اس کو وائل (رض) نے ہلاتے تھے سے تعبیر کردیا، اصل کام اشارہ تھا۔ قال الشيخ الألباني : شاذ بزيادة ولا يحركها صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1270
أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْعَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَيُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا وَلَا يُحَرِّكُهَا، قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ، وَزَادَ عَمْرٌو، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُرَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو كَذَلِكَ، وَيَتَحَامَلُ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭২
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے درمیان انگلی سے اشارہ کرنے سے متعلق
نمیر خزاعی (رض) کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نماز میں اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٨٦ (٩٩١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٧ (٩١١) ، (تحفة الأشراف : ١١٧١٠) ، مسند احمد ٣/٤٧١، ویأتي عند المؤلف برقم : ١٢٧٥ (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ” مالک “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1271
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، عَنِ الْمُعَافَى، عَنْ عِصَامِ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ مَالِكٍ وَهُوَ ابْنُ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى فِي الصَّلَاةِ وَيُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৩
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دو انگلی سے اشارہ کرنے کی ممانعت اور کونسی انگلی سے اشارہ کرے؟
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کر رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک سے (اشارہ) کرو ایک سے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدعوات ١٠٥ (٣٥٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢٨٦٥) ، مسند احمد ٢/٤٢٠، ٥٢٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1272
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَدْعُو بِأُصْبُعَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحِّدْ أَحِّدْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৪
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ دو انگلی سے اشارہ کرنے کی ممانعت اور کونسی انگلی سے اشارہ کرے؟
سعد (رض) کہتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ ﷺ گزرے، اور میں (تشہد میں) اپنی انگلیوں ١ ؎ سے (اشارہ کرتے ہوئے) دعا کر رہا تھا، تو آپ نے فرمایا : ایک سے (اشارہ) کرو ایک سے ، اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٨ (١٤٩٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٥٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے پہلے والی روایت میں، دو انگلیوں سے اشارہ کرنے کا ذکر ہے اس لیے اسے اقل جمع یعنی دو پر محمول کیا جائے گا، یا یہ مانا جائے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں، واللہ اعلم۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1273
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَدْعُو بِأَصَابِعِي، فَقَالَ: أَحِّدْ أَحِّدْ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৫
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی انگلی کو اشارہ کے دوران جھکانے سے متعلق
نمیر (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا، اس حال میں کہ آپ اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھے ہوئے تھے، اور اپنی شہادت کی انگلی اٹھائے ہوئے تھے، اور آپ نے اسے کچھ جھکا رکھا تھا، اور آپ دعا کر رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٢٧٢ (منکر) (انگلی کو جھکانے کا ” تذکرہ “ منکر ہے، اس کے راوی ” مالک “ لین الحدیث ہیں، اور اس ٹکڑے میں ان کا کوئی متابع نہیں ہے، باقی کے صحیح شواہد موجود ہیں) ۔ قال الشيخ الألباني : منکر بزيادة الإحناء صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1274
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ قُدَامَةَ الْجَدَلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيُّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ: رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي الصَّلَاةِ، وَاضِعًا ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، رَافِعًا أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ قَدْ أَحْنَاهَا شَيْئًا وَهُوَ يَدْعُو.
তাহকীক: