কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৯২ টি
হাদীস নং: ৯৭৬
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز ظہر میں امام کا آیت کریمہ پڑھنا اگر سنایا جائے
ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر و عصر میں پہلی دونوں رکعتوں میں سورة فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، اور پہلی رکعت میں دوسری رکعت کے بہ نسبت قرآت لمبی کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 975
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسْلِمٍ يُعْرَفُ بِابْنِ أَبِي جَمِيلٍ الدِّمَشْقِيِّ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَمَاعَةَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَتَيْنِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৭
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز ظہر کی دوسری رکعت میں پہلی رکعت سے کم قرأت کرنا
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم پر ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرآت کرتے، اور کبھی کبھار آپ ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، پہلی رکعت میں لمبی قرآت کرتے اور دوسری رکعت میں اس سے کم، اور فجر میں بھی ایسے ہی کرتے تھے پہلی میں لمبی قرآت کرتے اور دوسری میں اس سے کم کرتے، اور عصر میں بھی پہلی دونوں رکعتوں میں ہم پر قرآت کرتے، پہلی میں لمبی کرتے اور دوسری میں اس سے کم۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٩٧٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 976
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنِيعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَيُطَوِّلُ فِي الْأُولَى وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يُطَوِّلُ فِي الْأُولَى وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَانَ يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ يُطَوِّلُ الْأُولَى وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৮
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز ظہر کی دو رکعت میں قرات
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورة فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے، اور آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورة فاتحہ پڑھتے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے تھے، اور ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٩٧٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 977
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَتَيْنِ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَكَانَ يُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطِيلُ أَوَّلَ رَكْعَةٍ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৯
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز عصر کی شروع والی دو رکعت میں قرات
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورة فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، اور ظہر میں پہلی رکعت لمبی کرتے، اور دوسری رکعت (پہلی کی بہ نسبت) مختصر کرتے تھے، نیز فجر میں بھی ایسا ہی کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٩٧٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 978
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى فِي الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮০
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز عصر کی شروع والی دو رکعت میں قرات
جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ظہر اور عصر میں والسماء ذات البروج اور والسماء والطارق اور اسی جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٣١ (٨٠٥) ، سنن الترمذی/الصلاة ١١٣ (٣٠٧) ، (تحفة الأشراف : ٢١٤٧) ، مسند احمد ٥/١٠٣، ١٠٦، ١٠٨، سنن الدارمی/الصلاة ٦٢ (١٣٢٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 979
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ وَنَحْوِهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮১
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز عصر کی شروع والی دو رکعت میں قرات
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ظہر میں والليل إذا يغشى پڑھتے تھے، اور عصر میں اسی جیسی سورت پڑھتے، اور صبح میں اس سے زیادہ لمبی سورت پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٥٩) ، المساجد ٣٣ (٦١٨) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٣١ (٨٠٦) ، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٣ (٦٧٣) ، (تحفة الأشراف : ٢١٧٩، ٢١٨٥) ، مسند احمد ٥/٨٦، ٨٨، ١٠١، ١٠٦، ١٠٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 980
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَ اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذَلِكَ وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮২
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قیام اور قرأت کو مختصر کرنے سے متعلق
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک (رض) کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا : تم لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ ہم نے کہا : جی ہاں ! تو انہوں نے کہا : بیٹی ! میرے لیے وضو کا پانی لاؤ، میں نے کسی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جس کی نماز تمہارے اس امام ١ ؎ کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی نماز سے مشابہت رکھتی ہو، زید کہتے ہیں : عمر بن عبدالعزیز رکوع اور سجدے مکمل کرتے اور قیام و قعود ہلکا کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٨٤٠) ، مسند احمد ٣/١٦٢، ١٦٣، ٢٥٤، ٢٥٥، ٢٥٩ (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے ) وضاحت : ١ ؎: اس سے مراد خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 981
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قال: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ: صَلَّيْتُمْقُلْنَا: نَعَمْقَالَ: يَا جَارِيَةُ هَلُمِّي لِي وَضُوءًا مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَاقَالَ زَيْدٌ: وَكَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَيُخَفِّفُ الْقِيَامَ وَالْقُعُودَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৩
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قیام اور قرأت کو مختصر کرنے سے متعلق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو فلاں ١ ؎ کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ ہو، سلیمان کہتے ہیں : وہ ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتے اور آخری دونوں رکعتیں ہلکی کرتے، اور عصر کو ہلکی کرتے، اور مغرب میں قصارِ مفصل پڑھتے تھے، اور عشاء میں وساطِ مفصل پڑھتے تھے، اور فجر میں طوالِ مفصل پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧ (٨٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٣٤٨٤) ، مسند احمد ٢/٣٠٠، ٣٢٩، ٣٣٠، ٥٣٢ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: فلاں سے مراد عمرو بن سلمہ (رض) ہیں۔ ٢ ؎: مفصل قرآن کا آخری ساتواں حصہ ہے جس کی ابتداء صحیح قول کی بنا پر سورة قٓ سے ہوتی ہے، مفصل کی تین قسمیں ہیں طوال مفصل وساط مفصل، قصارِ مفصل سورة ق یا سورة حجرات سے لے کر عم یتسألون یا سورة بروج تک طوال مفصل ہے، اور وساط مفصل سورة عم یتسألون سے یا سورة بروج سے لے کر والضحیٰ یا سورة لم یکن تک ہے، اور قصار مفصل والضحیٰ یا لم یکن سے لے کر اخیر قرآن تک ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 982
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍقَالَ سُلَيْمَانُ: كَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَيُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِطُوَلِ الْمُفَصَّلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৪
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز مغرب میں مفصل کی چھوٹی سورت پڑھنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے فلاں سے بڑھ کر کسی کے پیچھے رسول اللہ ﷺ کی نماز سے مشابہ نماز نہیں پڑھی (سلیمان کہتے ہیں) ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی، وہ ظہر کی پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتے تھے، اور آخری دونوں (رکعتیں) ہلکی کرتے، اور عصر بھی ہلکی کرتے، اور مغرب میں قصار مفصل پڑھتے، اور عشاء میں والشمس وضحاها اور اسی طرح کی سورتیں پڑھتے، اور فجر میں دو لمبی دو سورتیں پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 983
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَ ذَلِكَ الْإِنْسَانِ وَكَانَ يُطِيلُ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَيُخَفِّفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَيُخَفِّفُ فِي الْعَصْرِ وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَأَشْبَاهِهَا وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِسُورَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৫
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز مغرب میں سبح اسم ربک الاعلی کی تلاوت کرنا
جابر (رض) کہتے ہیں : انصار کا ایک شخص دو اونٹوں کے ساتھ جن پر سنچائی کے لیے پانی ڈھویا جاتا ہے معاذ (رض) کے پاس سے گزرا، اور وہ مغرب ١ ؎ پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے سورة البقرہ شروع کردی، تو اس شخص نے (الگ جا کر) نماز پڑھی، پھر وہ چلا گیا تو یہ بات نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : معاذ ! کیا تم فتنہ پرداز ہو ؟ معاذ کیا تم فتنہ پرداز ہو ؟ سبح اسم ربک الأعلى اور والشمس وضحاها اور اس طرح کی سورتیں کیوں نہیں پڑھتے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٨٣٢ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: صحیح بات یہ ہے کہ یہ واقعہ عشاء میں ہوا، جیسا کہ صحیح بخاری میں اس کی صراحت ہے، نیز دیکھئیے حدیث رقم : ٩٩٨ ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 984
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: مَرَّ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِنَاضِحَيْنِ عَلَى مُعَاذٍ وَهُوَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَصَلَّى الرَّجُلُ، ثُمَّ ذَهَبَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَلَّا قَرَأْتَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৬
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز مغرب میں سورت و المرسلات کی تلاوت
ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اپنے گھر میں مغرب پڑھائی، تو آپ نے سورة المرسلات پڑھی، اس کے بعد آپ نے کوئی بھی نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٨٠٥٠) ، مسند احمد ٦/٣٣٨، ٣٣٩، ٣٤٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 985
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، قالت: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ الْمُرْسَلَاتِ مَا صَلَّى بَعْدَهَا صَلَاةً حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৭
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز مغرب میں سورت و المرسلات کی تلاوت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو مغرب میں سورة المرسلات پڑھتے سنا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٩٨ (٧٦٣) مطولاً ، المغازي ٨٣ (٤٤٢٩) ، صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٦٢) ، سنن ابی داود/فیہ ١٣٢ (٨١٠) مطولاً ، سنن الترمذی/فیہ ١١٤ (٣٠٨) مطولاً ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩ (٨٣١) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٥٢) ، موطا امام مالک/الصلاة ٥ (٢٤) ، مسند احمد ٦/٣٣٨، ٣٤٠، سنن الدارمی/الصلاة ٦٤ (١٣٣١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : سكت عنه الشيخ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 986
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَاسَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلَاتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৮
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز مغرب میں سورت والطور کی تلاوت کرنا
جبیر بن مطعم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو مغرب میں سورة الطور پڑھتے سنا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٩٩ (٧٦٥) ، الجھاد ١٧٢ (٣٠٥٠) ، المغازي ١٢ (٤٠٢٣) ، تفسیر الطور ١ (٤٨٥٤) ، صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٦٣) ، سنن ابی داود/فیہ ١٣٢ (٨١١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩ (٨٣٢) ، (تحفة الأشراف : ٣١٨٩) ، موطا امام مالک/الصلاة ٥ (٢٣) ، مسند احمد ٤/٨٠، ٨٣، ٨٤، ٨٥، سنن الدارمی/الصلاة ٦٤ (١٣٣٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 987
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৯
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز مغرب میں سورت حم دخان کی تلاوت
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے مغرب میں سورة حم الدخان پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٦٥٧٩) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” معاویہ “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 988
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَذَكَرَ آخَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَرَأَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِ حم، الدُّخَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯০
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز مغرب میں سورت المص کی تلاوت کرنا
زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے مروان سے پوچھا : اے ابوعبدالملک ! کیا تم مغرب میں قل هو اللہ أحد اور إنا أعطيناک الکوثر پڑھتے ہو ؟ تو انہوں نے کہا : جی ہاں ! تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں المص جو دو لمبی سورتوں (انعام اور اعراف) میں زیادہ لمبی ہے (سورۃ الاعراف) پڑھتے دیکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٣٧٣٢) ، مسند احمد ٥/١٨٥، ١٨٧، ١٨٨، ١٨٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 989
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِيُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ لِمَرْوَانَ يَا أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ: أَتَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ و إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ قَالَ: نَعَمْقَالَ: فَمَحْلُوفَةٌ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِيهَا بِأَطْوَلِ الطُّولَيَيْنِ المص.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯১
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز مغرب میں سورت المص کی تلاوت کرنا
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مروان بن حکم نے انہیں خبر دی کہ زید بن ثابت (رض) کہنے لگے کہ کیا بات ہے کہ میں مغرب میں تمہیں چھوٹی سورتیں پڑھتے دیکھتا ہوں، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس نماز میں دو بڑی سورتوں میں جو زیادہ بڑی سورت ہے اسے پڑھتے دیکھا ہے، میں نے پوچھا : اے ابوعبداللہ ! دو بڑی سورتوں میں سے زیادہ بڑی سورت کون سی ہے ؟ انہوں نے کہا : اعراف۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٩٨ (٧٦٤) مختصراً ، سنن ابی داود/الصلاة ١٣٢ (٨١٢) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٣٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 990
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قال: مَا لِي أَرَاكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ السُّوَرِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِيهَا بِأَطْوَلِ الطُّولَيَيْنِ، قُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ: مَا أَطْوَلُ الطُّولَيَيْنِ قَالَ الْأَعْرَافُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯২
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز مغرب میں سورت المص کی تلاوت کرنا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مغرب میں سورة الاعراف پڑھی، آپ نے اسے دونوں رکعتوں میں بانٹ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٦٩٥٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 991
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، وَأَبُو حَيْوَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَمْزَةَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَرَأَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِسُورَةِ الْأَعْرَافِ فَرَّقَهَا فِي رَكْعَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৩
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز مغرب میں کونسی سورت تلاوت کی جائے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیس مرتبہ مغرب کے بعد کی اور فجر کے پہلے کی دونوں رکعتوں میں قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے دیکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٩٢ (٤١٧) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٠٢ (١١٤٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٨٨) ، مسند احمد ٢/٢٤، ٣٥، ٥٨، ٩٤، ٩٥، ٩٩ (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 992
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو الْجَوَّابِ، قال: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: رَمَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ مَرَّةً يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৪
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سورہ قل ھو اللہ احد کی فضیلت سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھایا کرتا تھا، اور قرأت قل هو اللہ أحد پر ختم کرتا تھا، جب لوگ لوٹ کر واپس آئے، تو لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا : ان سے پوچھو، وہ ایسا کیوں کرتے تھے ؟ ان لوگوں نے ان سے پوچھا : انہوں نے کہا : یہ رحمن عزوجل کی صفت ہے، اس لیے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اسے بتادو کہ اللہ عزوجل بھی اسے پسند کرتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/توحید ١ (٧٣٧٥) ، صحیح مسلم/المسافرین ٤٥ (٨١٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩١٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 993
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِمُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ فَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ فَعَلَ ذَلِكَ فَسَأَلُوهُفَقَالَ: لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৫
نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سورہ قل ھو اللہ احد کی فضیلت سے متعلق
عبید بن حنین مولی آل زید بن خطاب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آیا، تو آپ نے ایک شخص کو قل هو اللہ أحد * اللہ الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له کفوا أحد پڑھتے سنا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : واجب ہوگئی ، میں نے آپ سے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا چیز واجب ہوگئی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جنت ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/فضائل القرآن ١١ (٢٨٩٧) ، (تحفة الأشراف : ١٤١٢٧) ، موطا امام مالک/القرآن ٦ (١٨) ، مسند احمد ٢/٣٠٢، ٥٣٥، ٥٣٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 994
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى آلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، قال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يقول: أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ 1 اللَّهُ الصَّمَدُ 2 لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ 3 وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ 4 سورة الإخلاص آية 1-4 فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَبَتْ فَسَأَلْتُهُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: الْجَنَّةُ.
তাহকীক: