কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام ابن ماجة
اقامت نماز اور اس کا طریقہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৩০ টি
হাদীস নং: ৯৮৩
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ امام پر کیا واجب ہے ؟
ابوعلی ہمدانی سے روایت ہے کہ وہ ایک کشتی میں نکلے، اس میں عقبہ بن عامر جہنی (رض) بھی تھے، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، ہم نے ان سے عرض کیا کہ آپ ہماری امامت کریں، آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں اس لیے کہ آپ صحابی رسول ہیں، انہوں نے امامت سے انکار کیا، اور بولے : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جس نے لوگوں کی امامت کی اور صحیح طریقہ سے کی تو یہ نماز اس کے لیے اور مقتدیوں کے لیے بھی باعث ثواب ہے، اور اگر اس نے نماز میں کوئی کوتاہی کی تو اس کا وبال امام پر ہوگا، اور مقتدیوں پر کچھ نہ ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٥٩ (٥٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٩١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٤٥، ١٥٤، ١٥٦، ٢٠١) (صحیح )
حدیث نمبر: 983 حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّهُ خَرَجَ فِي سَفِينَةٍ فِيهَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ، فَحَانَتْ صَلَاةٌ مِنَ الصَّلَوَاتِ، فَأَمَرْنَاهُ أَنْ يَؤُمَّنَا، وَقُلْنَا لَهُ: إِنَّكَ أَحَقُّنَا بِذَلِكَ أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ، فَالصَّلَاةُ لَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৪
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جو لوگوں کا امام بنے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے
ابومسعود انصاری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں فلاں شخص کی وجہ سے فجر کی نماز میں دیر سے جاتا ہوں، اس لیے کہ وہ نماز کو بہت لمبی کردیتا ہے، ابومسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اتنا سخت غضبناک کبھی بھی کسی وعظ و نصیحت میں نہیں دیکھا جتنا اس دن دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا : لوگو ! تم میں کچھ لوگ نفرت دلانے والے ہیں، لہٰذا تم میں جو کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے ہلکی پڑھائے، اس لیے کہ لوگوں میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند سبھی ہوتے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٢٨ (٩٠) ، الأذان ٦١ (٧٠٢) ، ٦٣ (٧٠٤) ، الأحکام ١٣ (٧١٥٩) ، صحیح مسلم/الصلاة ٣٧ (٤٦٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠٠٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١١٨، ١١٩، ٥/٢٧٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ٤٦ (١٢٩٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ تین صورتیں آپ ﷺ نے ایسی فرمائیں کہ اس میں سارے معذور لوگ آگئے، اب جس قدر سوچیں کوئی معذور ایسا نہیں ملے گا جو ان تین سے خارج ہو، اس حدیث سے آپ کا کمال رحم اور کرم بھی ثابت ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 984 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ لِمَا يُطِيلُ بِنَا فِيهَا، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُجَوِّزْ فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ، وَالْكَبِيرَ، وَذَا الْحَاجَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৫
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جو لوگوں کا امام بنے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مختصر اور کامل نماز پڑھتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣٧ (٤٦٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الاذان ٦٤ (٧٠٦، ٧٠٨) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٤٧ (٨٥٣) ، مسند احمد (٣/١٠١) ، سنن الدارمی/الصلاة ٤٦ (١٢٩٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مختصر تو اس طور سے ہوتی کہ سورتیں بہت لمبی نہ پڑھتے، اور پوری اس طرح سے ہوتی کہ سجدہ اور قیام اور قعدہ اچھے طور سے ادا کرتے، کم سے کم سجدہ اور رکوع میں پانچ یا تین تسبیحوں کے برابر ٹھہرتے، اسی طرح رکوع سے اٹھ کر سیدھا کھڑے ہوتے، اور سمع الله لمن حمده ربنا ولک الحمد حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه کہتے۔
حدیث نمبر: 985 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُوجِزُ وَيُتِمُّ الصَّلَاةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৬
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جو لوگوں کا امام بنے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے
جابر (رض) فرماتے ہیں کہ معاذ بن جبل (رض) نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کردی، ہم میں سے ایک آدمی چلا گیا اور اکیلے نماز پڑھ لی، معاذ (رض) کو اس شخص کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا : یہ منافق ہے، جب اس شخص کو معاذ (رض) کی بات پہنچی، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو معاذ (رض) کی بات بتائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : معاذ ! کیا تم فتنہ پرداز ہونا چاہتے ہو ؟ جب لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو والشمس وضحاها، سبح اسم ربک الأعلى والليل إذا يغشى اور اقرأ باسم ربك پڑھو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣٦ (٤٦٥) ، سنن النسائی/الإمامة ٣٩ (٨٣٢) ، ٤١ (٨٣٦) ، الافتتاح ٦٣ (٩٨٥) ، ٧٠ (٩٩٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٩١٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ٦٠ (٧٠١) ، ٦٣ (٧٠٥) ، الأدب ٧٤ (٦١٠٦) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٢٧ (٧٩٠) ، مسند احمد (٣/٢٩٩، ٣٠٨، ٣٧٩) ، سنن الدارمی/الصلاہ ٦٥ (١٣٣٣) (صحیح) (تراجع الا ٔلبانی : رقم : ١٢٢ ) وضاحت : ١ ؎: دوسری روایت میں ہے بروج یا وانشقت پڑھو، یہ سب سورتیں قریب قریب برابر کی ہیں، عشاء کی نماز میں جب جماعت سے ہو تو یہی سورتیں پڑھنا مسنون ہے، اور آپ ﷺ نے عشاء کی نماز میں والتين بھی پڑھی۔
حدیث نمبر: 986 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْأَنْصَارِيُّ بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ، فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا، فَصَلَّى، فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ لَهُ مُعَاذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ، إِذَا صَلَّيْتَ بِالنَّاسِ فَاقْرَأْ ب: الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৭
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جو لوگوں کا امام بنے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن ابی العاص (رض) کو کہتے سنا کہ جب نبی اکرم ﷺ نے مجھ کو طائف کا امیر بنایا، تو آپ نے میرے لیے آخری نصیحت یہ فرمائی : عثمان ! نماز ہلکی پڑھنا، اور لوگوں (عام نمازیوں) کو اس شخص کے برابر سمجھنا جو ان میں سب سے زیادہ کمزور ہو، اس لیے کہ لوگوں میں بوڑھے، بچے، بیمار، دور سے آئے ہوئے اور ضرورت مند سبھی قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٤٠ (٥٣١) ، سنن النسائی/الأذان ٣٢ (٦٧٣) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢١٨) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 987 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْمُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، يَقُولُ: كَانَ آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَّرَنِي عَلَى الطَّائِفِ قَالَ لِي: يَا عُثْمَانُتَجَاوَزْ فِي الصَّلَاةِ، وَاقْدِرِ النَّاسَ بِأَضْعَفِهِمْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ، وَالصَّغِيرَ، وَالسَّقِيمَ، وَالْبَعِيدَ، وَذَا الْحَاجَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৮
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جو لوگوں کا امام بنے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عثمان بن ابی العاص (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آخری بات جو مجھ سے کہی وہ یہ تھی : لوگوں کی جب امامت کرو تو نماز ہلکی پڑھاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣٧ (٤٦٨) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٦٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٤٠ (٥٣١) ، سنن النسائی/الأذان ٣٢ (٦٧٣) ، مسند احمد (٤/٢٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 988 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: حَدَّثَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّ آخِرَ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأَخِفَّ بِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৯
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی عارضہ پیش آ جائے تو امام نماز میں تخفیف کرسکتا ہے
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نماز شروع کرتا ہوں اور لمبی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو نماز اس خیال سے مختصر کردیتا ہوں کہ بچے کی ماں کو اس کے رونے کی وجہ سے تکلیف ہوگی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٦٥ (٧٠٩، ٧١٠) ، صحیح مسلم/الصلاة ٣٧ (٤٧٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٠٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ٤٦ (١٢٩٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عہد نبوی میں عورتیں مسجد میں آ کر نماز باجماعت ادا کرتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ بچوں کی رعایت کرتے ہوئے نماز کو مختصر پڑھاتے، تاکہ بچوں کے رونے سے ماؤں کی نماز میں خلل نہ ہو، لہذا آج بھی جن مساجد میں عورتوں کے نماز پڑھنے کا انتظام ہے، ان میں عورتیں اپنے اسلامی شعار کا لحاظ کرتے ہوئے جائیں اور نماز باجماعت ادا کریں، یہ حدیث ہر زمانے اور ہر جگہ کے لئے عام ہے۔
حدیث نمبر: 989 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ، وَأَنَا أُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي مِمَّا أَعْلَمُ لِوَجْدِ أُمِّهِ بِبُكَائِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯০
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی عارضہ پیش آ جائے تو امام نماز میں تخفیف کرسکتا ہے
عثمان بن ابی العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز ہلکی کردیتا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٩٧٦٥، ومصباح الزجاجة : ٣٥٦) (صحیح) (حسن بصری کا سماع عثمان (رض) سے نہیں ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
حدیث نمبر: 990 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯১
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی عارضہ پیش آ جائے تو امام نماز میں تخفیف کرسکتا ہے
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس کو لمبی کروں، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اس ڈر سے نماز ہلکی کردیتا ہوں کہ اس کی ماں پریشان نہ ہوجائے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٦٥ (٧٠٧) ، ١٦٣ (٨٦٨) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٢٦ (٧٨٩) ، سنن النسائی/الإمامة ٣٥ (٨٢٦) ، (تحفة الأشراف : ١٢١١٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٠٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سبحان اللہ آپ ﷺ کا رحم و کرم بےانتہا تھا، نماز ایسی عبادت میں بھی آپ ﷺ ادنیٰ ادنیٰ عورتوں تک کا خیال رکھتے، اور یہ منظور نہ ہوتا کہ کسی امتی پر سختی گزرے، ایسا مہربان نبی جو ہم کو ماں باپ سے بھی زیادہ چاہتا ہے، اور کس امت کو ملا ہے۔
حدیث نمبر: 991 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَقُومُ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ كَرَاهِيَةَ أَنْ أشُقَّ عَلَى أُمِّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯২
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ صفوں کو سید ھا کرنا
جابر بن سمرہ سوائی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم اس طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس باندھتے ہیں ؟ ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف باندھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں، اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٢٧ (٤٣٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ٩٤ (٦٦١) ، سنن النسائی/الإمامة ٢٨ (٨١٧) ، (تحفة الأشراف : ٢١٢٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٠١) (صحیح )
حدیث نمبر: 992 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا، قَالَ: قُلْنَا: وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ، وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৩
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ صفوں کو سید ھا کرنا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنی صفیں برابر کرو، اس لیے کہ صفوں کی برابری تکمیل نماز میں داخل ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٧٤ (٧٢٣) ، صحیح مسلم/الصلاة (٤٣٣) ، سنن ابی داود/الصلاة ٩٤ (٦٦٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢٤٣) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الإمامة ٢٨ (٨١٦) ، التطبیق ٦٠ (١١١٨) ، مسند احمد (٢/٢٣٤، ٣١٩، ٥٠٥، ٣/١٧٧، ١٧٩، ٢٥٤، ٢٧٤، ٢٩١) ، سنن الدارمی/الصلاة ٤٩ (١٢٩٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: نبی اکرم ﷺ خود امامت کے وقت صفوں کو دیکھتے، اور جب اطمینان ہوجاتا کہ صفیں برابر ہوگئیں تو اس وقت تکبیر کہتے، اور کبھی اپنے ہاتھ سے صف میں لوگوں کو آگے اور پیچھے کرتے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ ہر ایک امام کو بذات خاص صفوں کے برابر کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے، اور مقتدیوں کو دیکھنا چاہیے کہ وہ برابر کھڑے ہوئے ہیں یا آگے پیچھے ہیں، اور صف بندی میں یہ ضروری ہے کہ لوگ برابر کھڑے ہوں آگے پیچھے نہ ہوں، اور قدم سے قدم مونڈھے سے مونڈھا ملا کر کھڑے ہوں، اور جب تک پہلی صف پوری نہ ہو دوسری صف میں کوئی کھڑا نہ ہو، اسی طرح سے اخیر صف تک لحاظ رکھا جائے۔
حدیث نمبر: 993 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَبِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৪
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ صفوں کو سید ھا کرنا
نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نیزہ یا تیر کی طرح صف سیدھی کرتے تھے، ایک بار آپ ﷺ نے ایک شخص کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا دیکھا تو فرمایا : اپنی صفیں برابر کرو، یا اللہ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٦) ، سنن ابی داود/الصلاة ٩٤ (٦٦٣ و ٦٦٥) ، سنن الترمذی/الصلاة ٥٣ (٢٢٧) ، سنن النسائی/الإمامة ٢٥ (٨١١) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٢٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٧٠، ٢٧١، ٢٧٢، ٢٧٣، ٢٧٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا، کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے درمیان پھوٹ ڈال دے گا، جس کی وجہ سے افتراق و انتشار عام ہوجائے گا، اور بعضوں نے کہا ہے کہ اس کے حقیقی معنی مراد ہیں، یعنی تمہارے چہروں کو گدّی کی طرف پھیر کر انھیں بدل اور بگاڑ دے گا۔
حدیث نمبر: 994 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي الصَّفَّ حَتَّى يَجْعَلَهُ مِثْلَ الرُّمْحِ أَوِ الْقِدْحِ، قَالَ: فَرَأَى صَدْرَ رَجُلٍ نَاتِئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৫
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ صفوں کو سید ھا کرنا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں پہ اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے دعا کرتے ہیں جو صفیں جوڑتے ہیں، اور جو شخص صف میں خالی جگہ بھر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٦٧٦٤، ومصباح الزجاجة : ٣٥٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٨٩) (صحیح) (سند میں اسماعیل بن عیاش ہیں، اور ان کی اہل حجاز سے روایت ضعیف ہے، لیکن دوسرے طرق اور شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ١٨٩٢ ، ٢٥٣٢ ، ومصباح الزجاجة : ٣٥٨ ، ب تحقیق عوض الشہری )
حدیث نمبر: 995 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ، وَمَنْ سَدَّ فُرْجَةً رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৬
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ صف اوّل کی فضیلت
عرباض بن ساریہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پہلی صف کے لیے تین بار اور دوسری صف کے لیے ایک بار مغفرت کی دعا کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الإمامة ٢٩ (٨١٨) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٨٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٢٦، ١٢٧، ١٢٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ٥٠ (١٣٠٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 996 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: يَسْتَغْفِرُ لِلصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ثَلَاثًا، وَلِلثَّانِي مَرَّةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৭
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ صف اوّل کی فضیلت
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر اپنی صلاۃ بھیجتا یعنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے صلاۃ بھیجتے یعنی اس کے حق میں دعا کرتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٠، ومصباح الزجاجة : ٣٥٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٨٥، ٢٩٦، ٢٩٧، ٢٩٨، ٢٩٩، ٣٠٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ٤٩ (١٢٩٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 997 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ مُصَرِّفٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِ الْأَوَّلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৮
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ صف اوّل کی فضیلت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر لوگ جان لیں کہ پہلی صف میں کتنا (ثواب) ہے تو اس کو پانے کے لیے قرعہ اندازی ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٩) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦٦٣) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٢ (٦) ، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٢٧١، ٣٠٣، ٣٧٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 998 حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ، لَكَانَتْ قُرْعَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৯৯
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ صف اوّل کی فضیلت
عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پہ اپنی صلاۃ یعنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور فرشتے صلاۃ بھیجتے یعنی دعا کرتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٩٧١٤، ومصباح الزجاجة : ٣٥٨) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 999 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০০
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی صفیں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عورتوں کی سب سے بہتر صف ان کی پچھلی صف ہے، اور سب سے خراب صف ان کی اگلی صف ہے ١ ؎، مردوں کی سب سے اچھی صف ان کی اگلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی پچھلی صف ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث العلاء عن أبیہ تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٤٠٨٣) ، وحدیث سہیل عن أبیہ قد أخرجہ : صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٤١) ، سنن الترمذی/الصلاة ٥٢ (٢٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١٢٧٠١) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٩٨ (٦٧٨) ، سنن النسائی/الإمامة ٣٢ (٨٢١) ، مسند احمد (٢/٢٤٧، ٣٣٦، ٣٤٠، ٣٦٦، ٤٨٥) ، سنن الدارمی/الصلاة ٥٢ (١٣٠٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اگلی صف سے مراد امام کے پیچھے والی صف ہے، سب سے اچھی صف پہلی صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ دوسری صفوں کی بہ نسبت اس میں خیر و بھلائی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ جو صف امام سے قریب ہوتی ہے تو جو لوگ اس میں ہوتے ہیں وہ امام سے براہ راست مستفید ہوتے ہیں، تلاوت قرآن اور تکبیرات سنتے ہیں، اور عورتوں سے دور رہنے کی وجہ سے نماز میں خلل انداز ہونے والے وسوسوں اور برے خیالات سے عام طور سے محفوظ رہتے ہیں، اور سب سے بری صف ان مردوں کی آخری صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خیر و بھلائی دوسری صفوں کی بہ نسبت کم ہے، یہ مطلب نہیں کہ اس میں جو لوگ ہوں گے وہ برے ہوں گے۔ ٢ ؎: عورتوں کی آخری صف اس لئے بہتر ہے کہ وہ مردوں سے دور ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ فتنوں سے محفوظ رہتی ہیں، اور عورتوں کی اگلی صف سب سے خراب صف اس لئے ہے کہ وہ مردوں سے قریب ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ شیطان کے وسوسوں اور فتنوں سے محفوظ نہیں رہ پاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 1000 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وعَنْ سُهَيْلٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০১
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی صفیں
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مردوں کی سب سے اچھی صف ان کی اگلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی پچھلی صف ہے، عورتوں کی سب سے اچھی صف ان کی پچھلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی اگلی صف ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٢٣٧١، ومصباح الزجاجة : ٣٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٩٣، ٣٣١، ٣٨٧) (حسن صحیح) (یہ سند حسن ہے اور دوسرے شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملا حظہ ہو : مصباح الزجاجة : ٣٦٢ ، ب تحقیق الشہری، و صحیح ابی داود : ٦٨١ )
حدیث نمبر: 1001 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ مُقَدَّمُهَا، وَشَرُّهَا مُؤَخَّرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ مُؤَخَّرُهَا، وَشَرُّهَا مُقَدَّمُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০০২
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ ستونوں کے درمیان صف بنا کر نماز ادا کرنا
قرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ستونوں کے درمیان صف بندی سے روکا جاتا تھا، اور سختی سے وہاں سے ہٹایا جاتا تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١١٠٨٥، ومصباح الزجاجة : ٣٦٠) (حسن صحیح) (سند میں ہارون بن مسلم مستور ہیں، اور ان سے تین ثقات نے روایت کی ہے، اس لئے اس سند کی شیخ البانی نے تحسین فرمائی ہے، اور شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ٣٣٥ ، صحیح ابی داود : ٦٧٧ ، و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ٣٣٥ ) وضاحت : ١ ؎: ستونوں (کھمبوں) کے بیچ میں صف باندھنے سے منع کئے جاتے تھے کیونکہ ان کے بیچ میں حائل ہونے کی وجہ سے صف ٹوٹ جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 1002 حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ أَبُو طَالِبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ وَأَبُو قُتَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا نُنْهَى أَنْ نَصُفَّ بَيْنَ السَّوَارِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنُطْرَدُ عَنْهَا طَرْدًا.
তাহকীক: