কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام ابن ماجة
اقامت نماز اور اس کا طریقہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৩০ টি
হাদীস নং: ১০২৩
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نمازی بلغم کس طرف تھوکے ؟
حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے شبث بن ربعی کو اپنے آگے تھوکتے ہوئے دیکھا تو کہا : شبث ! اپنے آگے نہ تھوکو، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ اس سے منع فرماتے تھے، اور کہتے تھے : آدمی جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو جب تک وہ نماز پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، یہاں تک کہ نماز پڑھ کر لوٹ جائے، یا اسے برا حدث ہوجائے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٣٤٩، ومصباح الزجاجة : ٣٦٦) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: برے حدث سے مراد کوئی نیا امر اور نئی بات، جو خشوع کے خلاف ہو جیسے سامنے تھوکنا، یا اس سے مراد ہوا خارج ہونا ہے جس سے انسان کی پاکی ختم ہوجاتی ہے۔
حدیث نمبر: 1023 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ رَأَى شَبَثَ بْنَ رِبْعِيٍّ بَزَقَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا شَبَثُ، لَا تَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَان يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي، أَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، حَتَّى يَنْقَلِبَ أَوْ يُحْدِثَ حَدَثَ سُوءٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৪
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نمازی بلغم کس طرف تھوکے ؟
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کی حالت میں اپنے کپڑے میں تھوکا، پھر اسے مل دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٨٨، ومصباح الزجاجة : ٣٦٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصلاة ٣٣ (٤٠٥) ، ٣٩ (٤١٧) ، سنن ابی داود/الطہارة ١٤٣ (٣٩٠) ، سنن النسائی/الطہارة ١٩٣ (٣٠٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ١١٦ (١٤٣٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 1024 حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، وَعَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَزَقَ فِي ثَوْبِهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ دَلَكَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৫
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کنکریوں پر ہاتھ پھیر کر برابر کرنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے نماز میں کنکریوں کو چھوا، اس نے فضول کام کیا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٢٥٤٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الجمعة ٨ (٨٥٧) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٩ (١٠٥٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٤٠ (٤٩٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1025 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৬
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کنکریوں پر ہاتھ پھیر کر برابر کرنا
معیقیب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں کنکریوں کے ہٹانے کے بارے میں فرمایا : اگر تمہیں ایسا کرنا ضروری ہو تو ایک بار کرلو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العمل في الصلاة ٨ (١٢٠٧) ، صحیح مسلم/المساجد ١٢ (٥٤٦) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٥ (٩٤٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٣ (٣٨٠) ، سنن النسائی/السہو ٨ (١١٩٣) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٨٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٢٦، ٥/٤٢٥، ٤٢٦، سنن الدارمی/الصلاة ١١٠ (١٤٢٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1026 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِييَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْحِ الْحَصَى فِي الصَّلَاةِ: إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَمَرَّةً وَاحِدَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৭
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کنکریوں پر ہاتھ پھیر کر برابر کرنا
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے، اس لیے کہ رحمت اس کے سامنے ہوتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٧٥ (٩٤٥) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٣ (٣٧٩) ، سنن النسائی/السہو ٧ (١١٩٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٥٠، ١٦٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ١١٠ (١٤٢٨) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ابو الاحوص اللیثی ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو : الإرواء : ٣٧٧ )
حدیث نمبر: 1027 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ، فَلَا يَمْسَحْ بِالْحَصَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৮
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ چٹائی پر نماز پڑھنا
ام المؤمنین میمونہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چٹائی پر نماز پڑھتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحیض ٣٠ (٣٣٣) ، الصلاة ١٩ (٣٧٩) ، ٢١ (٣٨١) ، سنن النسائی/المساجد ٤٤ (٧٣٩) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٦٢) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (٥١٣) ، سنن ابی داود/الصلاة ٩١ (٦٥٩) ، مسند احمد (٦/٣٣٠، ٣٣٥) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٠١ (١٤١٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: خمرہ : بورئیے کا ٹکڑا یا کھجور کی چٹائی۔
حدیث نمبر: 1028 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُزَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৯
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ چٹائی پر نماز پڑھنا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چٹائی پر نماز پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٥٢ (٥١٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٠ (٣٣٢) ، (تحفة الأشراف : ٣٩٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٠، ٥٢، ٥٣، ٥٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1029 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩০
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ چٹائی پر نماز پڑھنا
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس (رض) نے بصرہ میں اپنے بچھونے پر نماز پڑھی، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بچھونے پر نماز پڑھتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٦٣١٠، ومصباح الزجاجة : ٣٦٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣٢) (صحیح) (اس کی سند میں زمعہ بن صالح ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود : ٦٦٥ ) وضاحت : ١ ؎: حدیث میں تصریح نہیں ہے کہ بچھونا کس چیز کا تھا غالباً روئی کا ہوگا تو کپڑے پر نماز پڑھنا جائز ہوگا، دوسری حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گرمی کی شدت سے زمین پر اپنا کپڑا بچھاتے پھر اس پر سجدہ کرتے۔
حدیث نمبر: 1030 حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: صَلَّى ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ بِالْبَصْرَةِ عَلَى بِسَاطِهِ، ثُمَّ حَدَّثَ أَصْحَابَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: يُصَلِّي عَلَى بِسَاطِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩১
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ سردی یا گرمی کی وجہ سے کپڑوں پر سجدہ کا حکم
عبداللہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور بنو عبدالاشہل کی مسجد میں ہمیں نماز پڑھائی، تو میں نے دیکھا کہ آپ سجدے کے وقت اپنے دونوں ہاتھ اپنے کپڑے پر رکھے ہوئے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٦٥٧٨، ومصباح الزجاجة : ٣٦٩) (ضعیف) (اس کی سند میں اسماعیل بن ابی حبیبہ ضعیف ہیں، نیز سند معضل ہے، عبد اللہ بن عبد الرحمن کے بعد عن أبیہ عن جدہ کا ذکر یہاں نہیں ہے، جو آگے آ رہا ہے، نیز خود عبد اللہ بن عبد الرحمن مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو : الارواء : ٣١٢ )
حدیث نمبر: 1031 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: جَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِنَا فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى ثَوْبِهِ إِذَا سَجَدَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩২
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ سردی یا گرمی کی وجہ سے کپڑوں پر سجدہ کا حکم
ثابت بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (مسجد) بنو عبدالاشہل میں نماز پڑھی، آپ اپنے جسم پہ ایک کمبل لپیٹے ہوئے تھے، کنکریوں کی ٹھنڈک سے بچنے کے لیے اپنا ہاتھ اس پر رکھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٢٠٦١، ومصباح الزجاجة : ٣٧٠) (ضعیف) (اس کی سند میں ابراہیم بن اسماعیل الأشہل ضعیف اور منکر الحدیث ہیں، اور امام بخاری نے تاریخ کبیر میں عبد الرحمن بن ثابت کے بارے میں فرمایا کہ ان کی حدیث صحیح نہیں ہے، ٥ /٢٦٦ و الضعفاء الصغیرلہ : ٦٩ )
حدیث نمبر: 1032 حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْأَشْهَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ وَعَلَيْهِ كِسَاءٌ مُتَلَفِّفٌ بِهِ يَضَعُ يَدَيْهِ عَلَيْهِ يَقِيهِ بَرْدَ الْحَصَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৩
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ سردی یا گرمی کی وجہ سے کپڑوں پر سجدہ کا حکم
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سخت گرمی میں نماز پڑھتے تھے، جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پہ نہ رکھ سکتا تو اپنا کپڑا بچھا لیتا، اور اس پر سجدہ کرتا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٢٣ (٣٨٥) ، المواقیت ١١ (٥٤٢) ، العمل في الصلاة ٩ (١٢٠٨) ، صحیح مسلم/المساجد ٣٣ (٦٢٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ٩٣ (٦٦٠) ، سنن الترمذی/الجمعة ٥٨ (٥٨٤) ، سنن النسائی/التطبیق ٥٩ (١١١٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/ ١٠٠، ٤٠٠) ، سنن الدارمی/الصلاة ٨٢ (١٣٧٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 1033 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، فَإِذَا لَمْ يَقْدِرْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ جَبْهَتَهُ، بَسَطَ ثَوْبَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৪
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز میں مرد تسبیح کہیں اور عورتیں تالی بجائیں
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (نماز میں جب امام بھول جائے، تو اس کو یاد دلانے کے لیے) سبحان الله کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العمل في الصلاة ٥ (١٢٠٣) ، صحیح مسلم/الصلاة ٢٣ (٤٢٢) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٥٥ (٦٣٩) ، ١٧٣، (٩٣٩) سنن النسائی/السہو ١٥ (١٢٠٨) ، (تحفة الأشراف : ١٥١٤١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٦١، ٣١٧، ٦ ٣٧، ٢ ٤٣، ٤٤٠، ٣ ٤٧، ٤٧٩، ٤٩٢، ٥٠٧) ، سنن الدارمی/الصلاة ٩٥ (١٤٠٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام نماز میں بھول جائے، تو مرد سبحان الله کہہ کر اسے اس کی اطلاع دیں، اور عورت زبان سے کچھ کہنے کے بجائے دستک دے، اس کی صورت یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ کی دونوں انگلیوں سے اپنی بائیں ہتھیلی پر مارے، کچھ لوگ سبحان اللہ کہنے کے بجائے الله أكبر کہہ کر امام کو متنبہ کرتے ہیں، یہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
حدیث نمبر: 1034 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز میں مرد تسبیح کہیں اور عورتیں تالی بجائیں
سہل بن سعد ساعدی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (نماز میں جب امام بھول جائے، تو اس کو یاد دلانے کے لیے) مردوں کے لیے سبحان الله کہنا ہے، اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٤٦٩٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/العمل في الصلاة ٥ (١٢٠٤) ، صحیح مسلم/الصلاة ٢٣ (٤٢١) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٣ (٩٤١) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٦ (٣٦٩) ، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٠ (٦١) سنن الدارمی/الصلاة ٩٥ (١٤٠٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1035 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز میں مرد تسبیح کہیں اور عورتیں تالی بجائیں
نافع کہتے تھے کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے (نماز میں جب امام بھول جائے، تو اس کو یاد دلانے کے لیے) عورتوں کو تالی بجانے، اور مردوں کو سبحان الله کہنے کی رخصت دی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٧٥٠٨ و ٨٢٢٥، ومصباح الزجاجة : ٣٧١) (صحیح) (سند میں سوید بن سعید میں ضعف ہے، لیکن سابقہ شواہد سے یہ صحیح ہے، نیز بوصیری نے اس سند کی تحسین کی ہے، اور شواہد ذکر کئے ہیں )
حدیث نمبر: 1036 حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عُمَر: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ فِي التَّصْفِيقِ، وَلِلرِّجَالِ فِي التَّسْبِيحِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৭
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جو توں سمیت نماز پڑھنا
ابن ابی اوس کہتے ہیں کہ میرے دادا اوس (رض) کبھی نماز پڑھتے ہوئے مجھے اشارہ کرتے تو میں انہیں ان کے جوتے دے دیتا (وہ پہن لیتے اور نماز پڑھتے) اور (پھر نماز کے بعد) کہتے : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے جوتے پہن کر نماز پڑھتے دیکھا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٢، ومصباح الزجاجة : ٣٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٠٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس باب میں بہت سی حدیثیں وارد ہیں، بلکہ علماء نے خاص اس مسئلہ میں مستقل رسالے لکھے ہیں، حاصل یہ ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھنا مستحب اور مسنون ہے، اور جو کہتا ہے کہ جوتے اتار کر پڑھنا ادب ہے اس کا قول غلط ہے اس لئے کہ نبی اکرم ﷺ کا کوئی فعل خلاف ادب نہیں ہوسکتا، دوسری حدیث میں ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھو اور یہود کی مخالفت کرو، وہ جوتے پہن کر نماز نہیں پڑھتے، البتہ یہ ضروری ہے کہ جوتے پاک و صاف ہوں، مگر ہماری شریعت میں جوتوں کی پاکی یہ رکھی گئی ہے کہ ان کو زمین سے رگڑ دے، اور جوتوں کا دھونا کسی حدیث سے ثابت نہیں، اور نہ سلف صالحین ہی سے منقول ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ تمدن اور شہریت کے اس زمانہ میں جب کہ مساجد میں فرش اور قالین بچھانے کا رواج ہے تو ان میں جوتا پہن کر جانا نامناسب ہے خاص کر برصغیر کے شہروں اور دیہاتوں کی مساجد میں کہ یہاں کی مٹی اور کیچڑ نیز راستہ کی گندگی اور کوڑا کرکٹ انسان کے جوتے اور کپڑوں میں لگ کر اس کو گندا کردیتے ہیں، رہ گئی بات عرب دنیا کی تو وہاں پر عام زمین ریتیلی اور پہاڑی ہے اور بالعموم جوتے یا بدن میں لگنے کے بعد بھی خود سے یا رگڑنے سے صاف ہوجاتی ہے، بہرحال صفائی اور ستھرائی کا خیال کرنا بہت اہم مسئلہ ہے، اور صاف جوتے پہن کر مناسب مقام میں نماز پڑھنے کا جواز ایک الگ مسئلہ ہے، چناچہ عرب ملکوں میں آج بھی لوگ جوتے پہن کر نماز ادا کرتے ہیں، لیکن مساجد میں جوتے پہن کر نماز نہیں ادا کرتے بلکہ اس کے لئے اندر اور باہر جگہیں ہر مسجد میں موجود ہوتی ہیں، جہاں انہیں رکھ کر آدمی مسجد میں داخل ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1037 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْسٍ، قَالَ: كَانَ جَدِّي أَوْسٌ أَحْيَانًا يُصَلِّي، فَيُشِيرُ إِلَيَّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَأُعْطِيهِ نَعْلَيْهِ وَيَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৮
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جو توں سمیت نماز پڑھنا
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ کبھی جوتے نکال کر اور کبھی جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٨٩ (٦٥٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٨٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٧٤، ١٧٩، ٢٠٦، ٢١٥) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 1038 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، قَال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৯
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ جو توں سمیت نماز پڑھنا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو جوتے، اور موزے پہن کر نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٩٤٧٣، ومصباح الزجاجة : ٣٧٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٤٦١) (صحیح) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند میں ابو اسحاق مدلس و مختلط ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، اور زہیر بن معاویہ خدیج کی ان سے روایت اختلاط کے بعد کی ہے )
حدیث نمبر: 1039 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ وَالْخُفَّيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪০
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں نماز میں بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٣٣ (٨٠٩) ، ١٣٤ (٨١٠) ، ١٣٧ (٨١٥) ، ١٣٨ (٨١٦) ، صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٥٥ (٨٨٩، ٨٩٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ٨٨ (٢٧٣) ، سنن النسائی/التطبیق ٤٠ (١٠٩٤) ، ٤٣ (١٠٩٧) ، ٤٥ (١٠٩٩) ، ٥٦ (١١١٤) ، ٥٨ (١١١٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢١، ٢٢٢، ٢٥٥، ٢٧٠، ٢٧٩، ٢٨٠، ٢٨٥، ٢٨٦، ٢٩٠، ٣٠٥، ٣٢٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ٧٣ (١٣٥٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سمیٹنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بالوں اور کپڑوں کو مٹی نہ لگے، تو اس سے نمازی کو منع کیا گیا، اس لئے بالوں اور کپڑوں کو اپنے حال پر رہنے دے، چاہے مٹی لگے یا نہ لگے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے آگے رکوع و سجود میں اگر مٹی لگ جائے تو یہ تواضع، انکساری اور عاجزی کی نشانی ہے، جو یقینا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔
حدیث نمبر: 1040 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَأَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ لَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪১
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹیں اور زمین پر چلنے کے سبب دوبارہ وضو نہ کریں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٨١ (٢٠٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٦٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اگر وضو کر کے زمین پر چلیں، اور پاؤں یا کپڑوں میں کوئی نجاست اور گندگی لگ جائے، تو وضو کا دہرانا ضروری نہیں صرف انہیں دھو ڈالنا کافی ہے۔
حدیث نمبر: 1041 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أُمِرْنَا أَلَّا نَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا، وَلَا نَتَوَضَّأَ مِنْ مَوْطَإٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪২
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنا
مدینہ کے ایک باشندہ ابوسعد کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے مولی ابورافع کو دیکھا کہ انہوں نے حسن بن علی (رض) کو اس حال میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ وہ اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے تھے، ابورافع (رض) نے اسے کھول دیا، یا اس (جوڑا باندھنے) سے منع کیا، اور کہا : رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے بالوں کو جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٢٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٨٨ (٦٤٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٥ (٣٨٤) ، مسند احمد (٦/٨، ٣٩١) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٥ (١٤٢٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ سجدے میں اگر بال کھلے ہوں گے تو وہ بھی سجدہ کریں گے، اور جب جوڑا باندھ لیا جائے تو بال زمین پر نہ گریں گے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر مرد کے بال لمبے ہوں تو وہ ان کا جوڑا باندھ سکتا ہے، لیکن نماز کے وقت کھول دے۔
حدیث نمبر: 1042 حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُخَوَّلُ بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعْدٍ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يَقُولُ: رَأَيْتُ أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ عَقَصَ شَعْرَهُ، فَأَطْلَقَهُ، أَوْ نَهَى عَنْهُ، وَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ عَاقِصٌ شَعَرَهُ.
তাহকীক: