কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام ابن ماجة
اقامت نماز اور اس کا طریقہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৩০ টি
হাদীস নং: ১২০৩
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بھول جانا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی، آپ نے کچھ زیادہ یا کچھ کم کردیا، (ابراہیم نخعی نے کہا یہ وہم میری جانب سے ہے) تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا نماز میں کچھ زیادتی کردی گئی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میں بھی انسان ہی ہوں، جیسے تم بھولتے ہوں ویسے میں بھی بھولتا ہوں، لہٰذا جب کوئی شخص بھول جائے تو بیٹھ کر دو سجدے کرے پھر نبی اکرم ﷺ قبلہ کی جانب گھوم گئے، اور دو سجدے کئے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٢) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٩٦ (١٠٢١) ، (تحفة الأشراف : ٩٤٢٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصلاة ٢٣ (٤٠١) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٣ (٣٩٢) ، سنن النسائی/السہو ٢٥ (١٢٤٢) ، مسند احمد (١/٣٧٩، ٤٢٩، ٤٣٨، ٤٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1203 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَزَادَ أَوْ نَقَصَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَالْوَهْمُ مِنِّي، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟، قَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ تَحَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৪
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بھول جانا
عیاض نے ابو سعید خدری (رض) سے پوچھا کوئی شخص نماز ادا کرتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں ادا کرلیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے، اور اسے یاد نہ رہے کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟ تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٩٧ (١٠٢٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٧ (٣٩٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٣٩٦) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧١) ، سنن النسائی/السہو ٢٤ (١٢٤٠) ، موطا امام مالک/الصلاة ١٦ (٦٢) ، مسند احمد (٣/١٢، ٣٧، ٥٠، ٥١، ٥٣، ٥٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٤ (١٥٣٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے یہ اس لئے تاکہ آپ ﷺ کی امت کو اس کا مسئلہ معلوم ہو، اور اللہ تعالیٰ نے سہو کے تدارک میں دو سجدے مقرر کئے، کیونکہ بھول چوک شیطان کے وسوسہ سے ہوتی ہے، اور سجدہ کرنے سے شیطان بہت ناراض ہوتا ہے، تو اس میں یہ حکمت ہے کہ شیطان بھلانے سے باز آجائے گا، جب دیکھے گا کہ میرے بھلانے کی وجہ سے بندے کو زیادہ ثواب ملا۔ اور سجدہ سہو سنت کے ترک سے بھی مشروع ہے، اسی طرح جب نماز میں زیادتی ہوجائے یا شک ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھیں، اور جب امام سجدہ سہو کرے تو مقتدی بھی اس کی پیروی کرے۔
حدیث نمبر: 1204 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنِي عِيَاضٌ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَقَالَ: أَحَدُنَا يُصَلِّي فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৫
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ بھول کر ظہر کی پانچ رکعات پڑھنا
عیاض نے ابو سعید خدری (رض) سے پوچھا نبی اکرم ﷺ نے ظہر پانچ رکعت پڑھائی، آپ ﷺ سے پوچھا گیا : کیا نماز میں اضافہ ہوگیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا بات ہے ؟ آپ سے کہا گیا (کہ آپ نے پانچ رکعت پڑھی ہے) تو آپ ﷺ نے اپنا پاؤں موڑا، اور سہو کے دو سجدے کئے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٣١ (٤٠١) ، ٣٢ (٤٠٤) ، السہو ٢ (١٢٢٦) ، الأیمان ١٥ (٦٦٧١) ، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٢) سنن ابی داود/الصلاة ١٩٦ (١٠١٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٣ (٣٩٢) ، سنن النسائی/السہو ٢٦ (١٢٥٥) ، (تحفة الأشراف : ٩٤١١) وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٧٩، ٤٢٩، ٤٣٨، ٣٧٦، ٤٤٣، ٤٦٥) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٥ (١٥٣٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1205 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقِيلَ لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ فَقِيلَ لَهُ: فَثَنَى رِجْلَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৬
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ دو رکعتیں پڑھ کر بھول لے سے کھڑا ہونا ( یعنی پہلا قعدہ نہ کرنا)
ابن بحینہ (عبداللہ بن مالک) (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کوئی نماز پڑھائی، میرا خیال ہے کہ وہ ظہر کی نماز تھی، جب آپ دوسری رکعت میں تھے تو تشہد کیے بغیر (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوگئے، پھر جب آپ آخری تشہد میں بیٹھے تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الاذان ١٤٦ (٨٢٩) ، ١٤٧ (٨٣٠) ، السہو ١ (١٢٢٤) ، ٥ (١٢٣٠) ، الأیمان ١٥ (٦٦٧٠) ، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٠ (١٠٣٤، ١٠٣٥) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٢ (٣٩١) ، سنن النسائی/التطبیق ١٠٦ (١١٧٨، ١١٧٩) السہو ٢١ (١٢٢٣، ١٢٢٤) ، (تحفة الأشراف : ٩١٥٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ١٧ (٦٥) ، مسند احمد (٥/٣٤٥، ٣٤٦) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٦ (١٥٤٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1206 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِالْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى صَلَاةً أَظُنُّ أَنَّهَا الظُّهْرُ، فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّانِيَةِ قَامَ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ، فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৭
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ دو رکعتیں پڑھ کر بھول لے سے کھڑا ہونا ( یعنی پہلا قعدہ نہ کرنا)
عبدالرحمٰن اعرج سے روایت ہے کہ ابن بحینہ (رض) نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ ظہر کی دوسری رکعت پڑھ کر (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوگئے، اور تشہد بھول گئے، یہاں تک کہ جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے، اور صرف سلام پھیرنا باقی رہ گیا، تو سہو کے دو سجدے کئے، اور سلام پھیرا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ترک سنت سے بھی سجدہ سہو ہوتا ہے، کیونکہ (تشہد) قعدہ اولیٰ سنت ہے۔
حدیث نمبر: 1207 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَابْنُ فُضَيْلٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ لَهُمْ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، أَنَّ ابْنَ بُحَيْنَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَامَ فِي ثِنْتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، نَسِيَ الْجُلُوسَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا أَنْ يُسَلِّمَ، سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৮
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ دو رکعتیں پڑھ کر بھول لے سے کھڑا ہونا ( یعنی پہلا قعدہ نہ کرنا)
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کوئی شخص دو رکعت کے بعد کھڑا ہوجائے لیکن ابھی پورے طور پہ کھڑا نہ ہوا ہو تو بیٹھ جائے، اور اگر پورے طور پہ کھڑا ہوگیا ہو تو نہ بیٹھے، اور آخر میں سہو کے دو سجدے کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢٠١ (١٠٣٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٢ (٣٦٤ تعلیقاً ) ، (تحفة الأشراف : ٢٥ ١١٥) وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٥٣، ٢٥٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٦ (١٥٤٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب تک سیدھا کھڑا نہ ہو اس وقت تک بیٹھ سکتا ہے، اگرچہ قیام کے قریب ہوگیا ہو، اور بعض فقہاء نے کہا کہ قیام کے قریب ہوگیا ہو تو بھی نہ بیٹھے، اور حدیث میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1208 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَلَمْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ، فَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৯
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز میں شک ہو تو یقین کی صورت اختیار کرنا
عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جب کوئی شخص شک کرے کہ دو رکعت پڑھی ہے یا ایک، تو ایک کو اختیار کرے، (کیونکہ وہ یقینی ہے) اور جب دو اور تین رکعت میں شک کرے تو دو کو اختیار کرے، اور جب تین یا چار میں شک کرے تو تین کو اختیار کرے، پھر باقی نماز پوری کرے، تاکہ وہم زیادتی میں ہو کمی میں نہ ہو، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٧٥ (٣٩٨) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٢٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٩٠، ١٩٣، ١٩٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب اس کی رائے کسی طرف قرار نہ پکڑے، اور دونوں جانب برابر ہوں یعنی غلبہ ظن کسی طرف نہ ہو تو کم عدد اختیار کرے کیونکہ اس میں احتیاط ہے، اگر غلطی ہوگی تو یہی ہوگی کہ نماز زیادہ ہوجائے گی، اور وہ بہتر ہے کم ہوجانے سے، اور اس حالت میں یہ حدیث اگلی حدیثوں کے خلاف نہ ہوگی، جن میں سوچنے کا ذکر ہے، اور بعضوں نے کہا سوچنا چاہیے، بلکہ ہر حال میں یقین کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اور کم عدد اختیار کرنا چاہیے، اور ابوحنیفہ (رح) نے کہا کہ اگر پہلی مرتبہ ایسا اتفاق ہو تو نماز سرے سے دوبارہ پڑھے، اگر دوسری یا تیسری بار ہو تو سوچے اور جس رائے پر اطمینان ہو اس پر عمل کرے، اگر کسی پر رائے اطمینان نہ ہو تو کم کو اختیار کرے۔
حدیث نمبر: 1209 حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الرَّقِّيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالْوَاحِدَةِ فَلْيَجْعَلْهَا وَاحِدَةً، وَإِذَا شَكَّ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَلْيَجْعَلْهَا ثِنْتَيْنِ، وَإِذَا شَكَّ فِي الثَّلَاثِ وَالْأَرْبَعِ فَلْيَجْعَلْهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ لِيُتِمَّ مَا بَقِيَ مِنْ صَلَاتِهِ حَتَّى يَكُونَ الْوَهْمُ فِي الزِّيَادَةِ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১০
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز میں شک ہو تو یقین کی صورت اختیار کرنا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کوئی شخص اپنی نماز میں شبہ کرے تو شبہ کو ختم کر کے یقین پر بنا کرے، اور جب نماز کے مکمل ہوجانے کا یقین ہوجائے تو دو سجدے کرے، اگر اس کی نماز پوری تھی تو جو رکعت زائد پڑھی وہ نفل ہوجائے گی، اور اگر ناقص تھی تو یہ رکعت نماز کو پوری کر دے گی، اور یہ دونوں سجدے شیطان کی تذلیل و تحقیر کے لیے ہوں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧١) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٩٧ (١٠٢٤، ١٠٢٧) ، سنن النسائی/السہو ٤٢ (١٢٣٩، ١٢٤٠) (تحفة الأشراف : ٤١٦٣) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ١٦ (٦٢) ، مسند احمد (٣/٧٢، ٨٣، ٨٤، ٨٧) سنن الدارمی/الصلاة ١٧٤ (١٥٣٦) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 1210 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيُلْغِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، فَإِذَا اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ لِتَمَامِ صَلَاتِهِ، وَكَانَتِ السَّجْدَتَانِ رَغْمَ أَنْفِ الشَّيْطَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১১
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز میں شک ہو تو کو شش سے جو صحیح معلوم ہو اس پر عمل کرنا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی، ہمیں یاد نہیں کہ آپ نے اس میں کچھ بیشی کردی یا کمی کردی، پھر آپ ﷺ نے ہم سے اس کے بارے میں پوچھا تو ہم نے آپ سے اسے بیان کیا، آپ نے اپنا پاؤں موڑا اور قبلہ کی جانب رخ کیا، اور دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا : اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو میں تمہیں ضرور باخبر کرتا، میں تو ایک انسان ہوں، میں بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو، لہٰذا جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو، اور تم میں سے جو بھی نماز میں شک کرے تو سوچے، اور جو صحیح کے قریب تر معلوم ہو اسی کے حساب سے نماز پوری کر کے سلام پھیرے، اور دو سجدے کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٣١ (٤٠١) ، ٣٢ (٤٠٤) ، السہو ٢ (١٢٢٦) ، الأیمان والنذور ١٥ (٦٦٧١) ، أخبارالآحاد ١، (٧٢٤٩) ، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٢) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٩٦ (١٠٢٠) ، سنن النسائی/السہو ٢٥ (١٢٤١، ١٢٤٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٤٥١) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٧٣، (٣٩٢) ، مسند احمد (١/٣٧٩، ٤١٩، ٤٣٨، ٤٥٥) ، دي الصلاة ١٧٥ (١٥٣٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مثلاً شک ہوا کہ تین رکعتیں پڑھیں یا چار تو سوچ کر جس عدد پر رائے ٹھہرے اس پر عمل کرے، اگر کسی طرف غلبہ ظن نہ ہو تو احتیاطاً کم عدد اختیار کرے، اور ہر حال میں سجدہ سہو کرے، نیز اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں : ایک یہ کہ نماز کے اندر بھولے سے بات کرے تو نماز نہیں جاتی، دوسرے یہ کہ ایک شخص کی گواہی میں شبہ رہتا ہے تو اس خبر کی تحقیق کرنی چاہیے، تیسرے یہ کہ جب نماز میں کمی ہوجائے تو سجدہ سہو سلام کے بعد کرنا چاہیے، اور اس کی بحث آگے آئے گی۔
حدیث نمبر: 1211 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ شُعْبَةُ: كَتَبَ إِلَيَّ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً لَا يَدْرِي أَزَادَ أَوْ نَقَصَ، فَسَأَلَ، فَحَدَّثْنَاهُ، فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ لَأَنْبَأْتُكُمُوهُ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ مِنَ الصَّوَابِ، فَيُتِمَّ عَلَيْهِ، وَيُسَلِّمَ، وَيَسْجُدَ سَجْدَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১২
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز میں شک ہو تو کو شش سے جو صحیح معلوم ہو اس پر عمل کرنا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کوئی شخص نماز میں شک کرے، تو سوچ کر صحیح کو معلوم کرے، پھر دو سجدے کرے ۔ طنافسی کہتے ہیں : یہی اصل ہے جس کو کوئی شخص رد نہیں کرسکتا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٩٤٥١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی سجدہ سہو سب کے نزدیک لازم ہوگا، اب اختلاف اور امور میں ہے کہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرے، یا سلام سے پہلے۔
حدیث نمبر: 1212 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ، قَالَ الطَّنَافِسِيُّ: هَذَا الْأَصْلُ وَلَا يَقْدِرُ أَحَدٌ يَرُدُّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৩
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ بھول کردویا تین رکعات پر سلام پھیرنا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بھول کر دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، تو ذوالیدین نامی ایک شخص نے آپ ﷺ سے کہا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ آپ ﷺ نے کہا : نہ تو نماز کم ہوئی ہے نہ ہی میں بھولا ہوں ذوالیدین (رض) نے کہا : تب تو آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہے، آپ ﷺ نے پوچھا : کیا حقیقت وہی ہے جو ذوالیدین کہتا ہے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں، آپ آگے بڑھے اور دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے کئے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٩٥ (١٠١٧) ، (تحفة الأشراف : ٧٨٣٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1213 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَهَا فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: ذُو الْيَدَيْنِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقَصُرَتْ أَمْ نَسِيتَ؟، قَالَ: مَا قَصُرَتْ وَمَا نَسِيتُ، قَالَ: صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ، قَالُوا: نَعَمْ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৪
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ بھول کر دو یا تین رکعات پر سلام پھیرنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عشاء (یعنی زوال کے بعد کی دو نمازوں ظہر یا عصر) میں سے کوئی نماز دو ہی رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے، جلد باز لوگ تو یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم ہوگئی، مقتدیوں میں ابوبکرو عمر (رض) بھی تھے، لیکن وہ آپ ﷺ سے کچھ کہنے کی ہمت نہ کرسکے، لوگوں میں ذوالیدین نامی ایک لمبے ہاتھوں والے آدمی نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہ تو وہ کم ہوئی، نہ میں بھولا ہوں تو انہوں نے کہا : آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہے، آپ ﷺ نے پوچھا : کیا ایسا ہی ہے جیسا کہ ذوالیدین کہہ رہے ہیں ؟ ، تو لوگوں نے کہا : جی ہاں، آپ ﷺ کھڑے ہوئے، اور دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٨٨ (٤٨٢) ، الأذان ٦٩ (٧١٤، ٧١٥) ، السہو ٣ (١٢٢٧) ، ٤ (١٢٢٨) ، ٥ (١٢٢٩) ، الادب ٤٥ (٦٠٥١) ، أخبارالآحاد ١ (٧٢٥٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٩٥ (١٠١١) ، سنن النسائی/السہو ٢٢ (١٢٢٥) ، (تحفة الأشراف : ١٤٤٦٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٣) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٦ (٣٩٩) ، مسند احمد (٢/٢٣٥، ٤٢٣، ٤٦٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ سلام سجدہ سہو سے نکلنے کے لئے تھا کیونکہ دیگر تمام روایات میں یہ صراحت ہے کہ آپ ﷺ نے سلام پھیرا، پھر سجدہ سہو کیا (پھر اس کے لئے سلام پھیرا) رکعات کی کمی بیشی کے سبب جو سجدہ سہو آپ نے کئے ہیں، وہ سب سلام کے بعد میں ہیں۔
حدیث نمبر: 1214 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ كَانَتْ فِي الْمَسْجِدِ يَسْتَنِدُ إِلَيْهَا، فَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ يَقُولُونَ: قَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَهَابَاهُ أَنْ يَقُولَا لَهُ شَيْئًا، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ طَوِيلُ الْيَدَيْنِ يُسَمَّى ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟، فَقَالَ: لَمْ تَقْصُرْ وَلَمْ أَنْسَ، قَالَ: فَإِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ، قَالُوا: نَعَمْ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৫
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ بھول کر دو یا تین رکعات پر سلام پھیرنا
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز عصر میں تین ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر اٹھے اور حجرہ میں تشریف لے گئے، تو لمبے ہاتھوں والے خرباق (رضی اللہ عنہ) کھڑے ہوئے اور پکارا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے ؟ آپ ﷺ غصہ کی حالت میں اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نکلے، اور لوگوں سے پوچھا، تو اس کے بارے میں آپ کو خبر دی گئی، تو آپ نے چھوٹی ہوئی ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٤) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٢ (١٠١٨) ، سنن النسائی/السہو ٢٣ (١٢٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٨٢) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٧٤ (٣٩٥) ، مسند احمد (٤/٤٢٧، ٤٣١، ٤٤٠، ٥/١١٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1215 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ، فَقَامَ الْخِرْبَاقُ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ، فَنَادَى: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَسَأَلَ، فَأُخْبِرَ، فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ الَّتِي كَانَ تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৬
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ سلام قبل سجدہ سہو کرنا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : شیطان تم میں سے کسی کے پاس نماز کی حالت میں آتا ہے، اور انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہو کر وسوسے ڈالتا ہے، یہاں تک کہ آدمی نہیں جان پاتا کہ اس نے زیادہ پڑھی یا کم پڑھی، جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے، پھر سلام پھیرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣١ (٥١٦) ، ١٩٨ (١٠٣٢) ، (تحفة الأشراف : ١٥٢٥٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ٤ (٦٠٨) ، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٣٨٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٤ (٣٩٧) ، موطا امام مالک/السہو ١ (١) (حسن صحیح) (قبل أن یسلم کا جملہ صحیح نہیں ہے ) وضاحت : ١ ؎: سجدہ سہو کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے کہ آدمی اسے سلام سے پہلے کرے، یا سلام کے بعد، بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اسے سلام کے بعد کرے، یہ قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا کہ اسے سلام سے پہلے کرے، یہی قول اکثر فقہائے مدینہ مثلاً یحییٰ بن سعید، ربیعہ اور امام شافعی وغیرہ کا ہے، اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سجدہ سہو سلام کے بعد کرے، اور جب کمی رہ گئی ہو تو سلام سے پہلے کرے، یہ قول مالک بن انس کا ہے، اور امام احمد کہتے ہیں کہ جس صورت میں جس طرح پر سجدہ سہو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے اس صورت میں اسی طرح سجدہ سہو کرے، وہ کہتے ہیں کہ جب دو رکعت کے بعد کھڑا ہوجائے تو ابن بحینہ (رض) کی حدیث کے مطابق سلام سے پہلے سجدہ کرے اور جب ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھ لے تو وہ سجدہ سلام کے بعد کرے، اور اگر ظہر و عصر کی نماز میں دو ہی رکعت میں سلام پھیر دے تو ایسی صورت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کرے، اسی طرح جس صورت میں جیسے اللہ کے رسول ﷺ کا فعل موجود ہے، اس پر اس طرح عمل کرے، اور جس صورت میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی فعل مروی نہ ہو تو اس میں سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے۔
حدیث نمبر: 1216 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بَكِيرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَيَدْخُلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نَفْسِهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ زَادَ أَوْ نَقَصَ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ يُسَلِّمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৭
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ سلام قبل سجدہ سہو کرنا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بیشک شیطان انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ وہ نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ؟ جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٦٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ٤ (٦٠٨) ، العمل في الصلاة ١٨ (١٢٢٢) ، السہو ٦ (١٢٣١) ، بدء الخلق ١١ (٣٢٨٥) ، صحیح مسلم/السہو ١٩ (٣٨٩) سنن ابی داود/الصلاة ٣١ (٥١٦) ، مسند احمد (٢/٣١٣، ٣٩٨، ٤١١) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شک کی صورت میں سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے، امام احمد نے عبدالرحمن بن عوف (رض) سے اور بخاری، اور مسلم نے ابوسعید (رض) سے ایسا ہی روایت کیا ہے، اور مغیرہ (رض) کی حدیث میں کمی کی صورت میں سلام کے بعد سجدہ منقول ہے، غرض اس باب میں مختلف حدیثیں وارد ہیں، کسی میں سلام سے پہلے سجدہ سہو منقول ہے، کسی میں سلام کے بعد، اس لیے اہل حدیث نے دونوں طرح جائز رکھا ہے، اور اسی کو صحیح مذہب قرار دیا ہے تاکہ سب حدیثوں پر عمل ہوجائے۔
حدیث نمبر: 1217 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بَكِيرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ بَيْنَ ابْنِ آدَمَ وَبَيْنَ نَفْسِهِ، فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৮
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہوسلام کے بعد کرنا
علقمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کئے، اور بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے بھی ایسا کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٩٤٦٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٦٣، ٣٧٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 1218 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ، وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৯
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہوسلام کے بعد کرنا
ثوبان (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : ہر سہو میں سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٢ (١٠٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٧٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٨٠) (حسن )
حدیث نمبر: 1219 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْزُهَيْرِ بْنِ سَالِمٍ الْعَنْسِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: فِي كُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২০
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز پر بنا کرنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز کے لیے نکلے اور آپ نے الله أكبر کہا، پھر لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں، لوگ ٹھہرے رہے، پھر آپ گھر گئے اور غسل کر کے آئے، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : میں تمہارے پاس جنابت کی حالت میں نکل آیا تھا، اور غسل کرنا بھول گیا تھا یہاں تک کہ نماز کے لیے کھڑا ہوگیا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٤٥٩٤، ومصباح الزجاجة : ٤٢٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ٢٥ (٦٤٠، ٦٣٩) ، صحیح مسلم/المساجد ٢٩ (٦٠٥) ، سنن ابی داود/الطہارة ٩٤ (٢٣٥) ، سنن النسائی/الإمامة ١٤ (٧٩٣) ، مسند احمد (١/٣٦٨، ٢/٢٣٧، ٢٥٩، ٤٤٨) (حسن صحیح) (یہ سند حسن ہے، اس کے رواة ثقہ ہیں، اور مسلم کے راوی ہیں، یعنی سند مسلم کی شرط پر ہے، اور اسامہ بن زید یہ لیثی ابو زید مدنی صدوق ہیں، لیکن ان کے حفظ میں کچھ ضعف ہے، بو صیری اور ابن حجر وغیرہ نے شاید اسامہ بن زید کو عدوی مدنی سمجھ کر اس کی تضعیف کی ہے، لیکن متن حدیث ثابت ہے، نیز اس کے شواہد بھی ہیں، جیسا کہ تخریج سے واضح ہے، ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود : ٢٢٧ - ٢٣١ )
حدیث نمبر: 1220 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَمَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَكَبَّرَ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَيْهِمْ، فَمَكَثُوا، ثُمَّ انْطَلَقَ فَاغْتَسَلَ، وَكَانَ رَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً، فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: إِنِّي خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ جُنُبًا، وَإِنِّي نَسِيتُ حَتَّى قُمْتُ فِي الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২১
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز پر بنا کرنا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جسے نماز میں قے، نکسیر، منہ بھر کر پانی یا مذی آجائے تو وہ لوٹ جائے، وضو کرے پھر اپنی نماز پر بنا کرے، لیکن اس دوران کسی سے کلام نہ کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٦٢٥٢، ومصباح الزجاجة : ٤٢٨) (ضعیف) (اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش ہیں، اور ان کی روایت حجاز سے ضعیف ہوتی ہے، اور یہ اسی قبیل سے ہے )
حدیث نمبر: 1221 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَصَابَهُ قَيْءٌ أَوْ رُعَافٌ أَوْ قَلَسٌ أَوْ مَذْيٌ، فَلْيَنْصَرِفْ، فَلْيَتَوَضَّأْ، ثُمَّ لِيَبْنِ عَلَى صَلَاتِهِ وَهُوَ فِي ذَلِكَ لَا يَتَكَلَّمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২২
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز میں حدث ہوجائے تو کس طرح واپس جائے ؟
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب کسی شخص کو نماز میں حدث ہوجائے، تو اپنی ناک پکڑ لے اور چلا جائے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٧١٢٩، ومصباح الزجاجة : ٤٢٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٦ (١١١٤) (صحیح) (تراجع الألبانی : رقم : ٣٢ ، صحیح ابی داود : ١٠٢٠ ، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ٢٩٧٦ ) وضاحت : ١ ؎: وضو کرنے کے لئے ناک پکڑنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اس سے لوگ سمجھیں کہ اس کی نکسیر پھوٹ گئی ہے، کیونکہ شرم کی بات ہے (ہوا خارج ہوجانے کی بات) کو چھپانا ہی بہتر ہے۔ اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ (رض) سے اسی جیسی حدیث مرفوعاً آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٧١٢٩، ومصباح الز جاجة : ٤٢٩/أ) (صحیح) (اس کی سند میں عمر بن قیس ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ متابعت سے تقویت پاکر صحیح ہے )
حدیث نمبر: 1222 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عَبِيدَةَ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَأَحْدَثَ، فَلْيُمْسِكْ عَلَى أَنْفِهِ، ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ. حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
তাহকীক: