কিতাবুস সুনান - ইমাম ইবনে মাজা' রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام ابن ماجة
اقامت نماز اور اس کا طریقہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৩০ টি
হাদীস নং: ১২২৩
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ بیمار کی نماز
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ مجھے ناسور ١ ؎ کی بیماری تھی، تو میں نے نبی اکرم ﷺ سے نماز کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو، اور اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥٢) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٨ (٣٧٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٣٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٩ (١١١٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: باء اور نون دونوں کے ساتھ اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے، باسور مقعد کے اندرونی حصہ میں ورم کی بیماری کا نام ہے اور ناسور ایک ایسا خراب زخم ہے کہ جب تک اس میں فاسد مادہ موجود رہے تب تک وہ اچھا نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 1223 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كَانَ بِيَ النَّاصُورُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৪
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ بیمار کی نماز
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے دائیں پہلو پر بیٹھ کر نماز پڑھی، اس وقت آپ بیمار تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١١٧٨٩، ومصباح الزجاجة : ٤٣٠) (ضعیف) (اس کی سند میں جابر بن یزید الجعفی ضعیف ومتروک، اور ابو حریز مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 1224 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنْوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى جَالِسًا عَلَى يَمِينِهِ وَهُوَ وَجِعٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৫
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز ( بلاعذر) بیٹھ کر پڑھنا
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے نبی اکرم ﷺ کی جان کو قبض کیا، آپ وفات سے پہلے اکثر بیٹھ کر نمازیں پڑھا کرتے تھے، اور آپ کو وہ نیک عمل انتہائی محبوب اور پسندیدہ تھا جس پر بندہ ہمیشگی اختیار کرے، خواہ وہ تھوڑا ہی ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/قیام اللیل ١٧ (١٦٥٥، ١٦٥٦) ، (تحفة الأشراف : ١٨٢٣٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٠٥، ٣١٩، ٣٢٠، ٣٢١، ٣٢٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : عمل اگرچہ تھوڑا ہو جب وہ ہمیشہ کیا جائے تو اس کی برکت اور ہی ہوتی ہے، اور ہمیشگی کی وجہ سے وہ اس کثیر عمل سے بڑھ جاتا ہے جو چند روز کے لئے کیا جائے، ہر کام کا یہی حال ہے مواظبت اور دوام عجب برکت کی چیز ہے، اگر کوئی شخص ایک سطر قرآن شریف کی ہر روز حفظ کیا کرے تو سال میں دو پارے ہوجائیں گے، اور پندرہ سال میں سارا قرآن حفظ ہوجائے گا، اس حدیث پر ساری حکمتیں قربان ہیں، دین و دنیا کے فائدے اس میں بھرے ہوئے ہیں، نفس پر زور ڈالو اور ہمیشہ کام کرنا سیکھو، اور ہر کام کے لئے وقت مقرر کرو اور کسی کام کا ناغہ نہ کرو، اور تھوڑا کام ہر روز اختیار کرو کہ دل پر بار نہ ہو، پھر دیکھو کیا برکت ہوتی ہے کہ تم خود تعجب کرو گے۔
حدیث نمبر: 1225 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَاتَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَكَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ الْعَمَلَ الصَّالِحَ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৬
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز ( بلاعذر) بیٹھ کر پڑھنا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ (نفل نماز میں) بیٹھ کر قراءت کرتے تھے، جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اتنی دیر کے لیے کھڑے ہوجاتے جتنی دیر میں کوئی شخص چالیس آیتیں پڑھ لیتا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣١) ، سنن النسائی/قیام اللیل ١٦ (١٦٥١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٥٠) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٧ (٢٢) ، مسند احمد (٦/٢١٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اور اتنی قراءت کھڑے کھڑے کر کے پھر رکوع کرتے، نفل میں ایسا کرنا صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 1226 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৭
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز ( بلاعذر) بیٹھ کر پڑھنا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ہمیشہ رات کی نماز کھڑے ہو کر پڑھتے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہوگئے تو بیٹھ کر پڑھنے لگے، جب آپ کی قراءت سے چالیس یا تیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو کر ان کو پڑھتے (پھر رکوع) اور سجدے کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٧٠٣٠، ومصباح الزجاجة : ٤٣١) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/تقصیرالصلاة ٢٠ (١١١٨) ، صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣١) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥٣) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٨ (٣٧٢) ، سنن النسائی/قیام اللیل ١٦ (١٦٥٠) ، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة ٧ (٢٢) ، مسند احمد (٦/٤٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 1227 حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ إِلَّا قَائِمًا، حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ، فَجَعَلَ يُصَلِّي جَالِسًا حَتَّى إِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ قِرَاءَتِهِ أَرْبَعُونَ آيَةً أَوْ ثَلَاثُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا وَسَجَدَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৮
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز ( بلاعذر) بیٹھ کر پڑھنا
عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا : آپ ﷺ رات میں دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے، اور کبھی دیر تک بیٹھ کر نماز پڑھتے، جب آپ کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع کھڑے ہو کر کرتے، اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٠) ، (تحفة الأشراف : ١٦٢٠٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥٥) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٨ (٣٧٥) ، سنن النسائی/ قیام اللیل ١٦ (١٦٤٧) ، مسند احمد (٦/٢٦٢، ٣٦٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: غرض نفل میں ہر طرح اختیار ہے چاہے بیٹھ کر پڑھے، چاہے کھڑے ہو کر شروع کرے پھر بیٹھ جائے، چاہے بیٹھ کر شروع کرے پھر کھڑا ہوجائے۔
حدیث نمبر: 1228 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُعَائِشَةَ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৯
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ بیٹھ کر نماز پڑھتے میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے سے آدھا ثواب ہے
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس سے گزرے اس وقت وہ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے مقابلے میں (ثواب میں) آدھی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٨٨٣٧) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٦ ٧٣٥) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥٠) ، سنن النسائی/قیام اللیل ١٨ (١٦٦٠) ، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٦ (١٩) ، مسند احمد (٢/١٦٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٨ (١٤٢٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے تندرست اور صحت مند آدمی ہی نہیں بلکہ مریض بھی مراد ہے کیونکہ انس (رض) کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کچھ لوگوں کے پاس آئے جو بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے سے آدھا ہے ۔
حدیث نمبر: 1229 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي جَالِسًا، فَقَالَ: صَلَاةُ الْجَالِسِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩০
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ بیٹھ کر نماز پڑھتے میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے سے آدھا ثواب ہے
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ باہر نکلے تو کچھ لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے مقابلے میں (ثواب میں) آدھی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٢٢٩، ومصباح الزجاجة : ٤٣٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢١٤، ٢٤٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1230 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فَرَأَى أُنَاسًا يُصَلُّونَ قُعُودًا، فَقَالَ: صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩১
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ بیٹھ کر نماز پڑھتے میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے سے آدھا ثواب ہے
عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا : جو کھڑے ہو کر نماز پڑھے وہ زیادہ بہتر ہے، اور جو بیٹھ کر نماز پڑھے تو اسے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھا ثواب ہے، اور جو شخص لیٹ کر نماز پڑھے تو اسے بیٹھ کر پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھا ثواب ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تقصیرالصلاة ١٧ (١١١٥) ، ١٨ (١١١٦) ، ١٩ (١١١٨) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥١) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٨ (٣٧١) ، سنن النسائی/ قیام اللیل ١٩ (١٦٦١) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٣١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٣٣، ٤٣٥، ٤٤٢، ٤٤٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1231 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُصَلِّي قَاعِدًا، قَالَ: مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩২
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض الوفات کی نمازوں کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مرض الموت میں مبتلا ہوئے (ابومعاویہ نے کہا : جب آپ مرض کی گرانی میں مبتلا ہوئے) تو بلال (رض) آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے، آپ ﷺ نے فرمایا : ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! ابوبکر (رض) نرم دل آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے، اور نماز نہ پڑھا سکیں گے، لہٰذا اگر آپ عمر (رض) کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، (تو بہتر ہو) تو آپ ﷺ نے فرمایا : ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ والیوں جیسی ہو ، ام المؤمنین عائشہ (رض) نے کہا : ہم نے ابوبکر (رض) کو بلا بھیجا، انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ ﷺ نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں کے سہارے نماز کے لیے نکلے، اور آپ کے پاؤں زمین پہ گھسٹ رہے تھے، جب ابوبکر (رض) نے آپ ﷺ کی آمد کی آہٹ محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، تو آپ ﷺ نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو ان دونوں آدمیوں نے آپ ﷺ کو ابوبکر (رض) کے بائیں پہلو میں بیٹھا دیا، ابوبکر (رض) نبی اکرم ﷺ کی اور لوگ ابوبکر (رض) کی اقتداء کر رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٣٩ (٦٦٤) ، ٦٧ (٧١٢) ، ٦٨ (٧١٣) ، صحیح مسلم/الصلاة ٢٢ (٤١٨) ، ن الکبري/الأمانة ٤٠ (٩٠٧) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٤٥) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/قصرالصلاة ٢٤ (٨٣) ، مسند احمد (٥/٢٦١، ٦/٢١٠، ٢٢٤) ، سنن الدارمی/المقدمة ١٤ (٨٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1232 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: لَمَّا ثَقُلَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ تَعْنِي: رَقِيقٌ، وَمَتَى مَا يَقُومُ مَقَامَكَ يَبْكِي، فَلَا يَسْتَطِيعُ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، قَالَتْ: فَأَرْسَلْنَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَى إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ، قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى أَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৩
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض الوفات کی نمازوں کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مرض الموت میں ابوبکر (رض) کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، وہ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو باہر نکلے، اس وقت ابوبکر (رض) نماز پڑھا رہے تھے، جب ابوبکر (رض) نے آپ ﷺ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ ﷺ نے اشارہ کیا : اپنی جگہ رہو پھر رسول اللہ ﷺ ابوبکر کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے، ابوبکر (رض) رسول اللہ ﷺ کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر (رض) کی اقتداء کر رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٤٧ (٦٨٣) ، صحیح مسلم/الصلاة ٢١ (٤١٨) ، (تحفة الأشراف : ١٦٩٧٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٣١) (صحیح )
حدیث نمبر: 1233 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ، أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ، فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ، فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِفَّةً، فَخَرَجَ وَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ كَمَا أَنْتَ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৪
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض الوفات کی نمازوں کا بیان
سالم بن عبید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر مرض الموت میں بےہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش میں آئے، تو آپ نے پوچھا : کیا نماز کا وقت ہوگیا ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، پھر آپ پر بےہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا نماز کا وقت ہوگیا ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں پھر آپ پر بےہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش آیا، تو فرمایا : کیا نماز کا وقت ہوگیا ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو عائشہ (رض) نے کہا : میرے والد نرم دل آدمی ہیں، جب اس جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے، نماز نہ پڑھا سکیں گے، اگر آپ ان کے علاوہ کسی اور کو حکم دیتے (تو بہتر ہوتا) ! پھر آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی، پھر ہوش آیا، تو فرمایا : بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہیں، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ والیوں جیسی ہو بلال (رض) کو حکم دیا گیا، تو انہوں نے اذان دی، اور ابوبکر (رض) سے کہا گیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ ﷺ نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو فرمایا : دیکھو کسی کو لاؤ جس پر میں ٹیک دے کر (مسجد جا سکوں) بریرہ (رض) اور ایک شخص آئے تو آپ ﷺ نے ان دونوں پر ٹیک لگایا، جب ابوبکر (رض) نے آپ کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو پھر رسول اللہ ﷺ آئے، اور ابوبکر (رض) کے پہلو میں بیٹھ گئے یہاں تک کہ ابوبکر (رض) نے اپنی نماز پوری کی، پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوگیا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے، نصر بن علی کے علاوہ کسی اور نے اس کو روایت نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٧٨٧، ومصباح الزجاجة : ٤٣٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1234 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ مِنْ كِتَابِهِ فِي بَيْتِهِ، قَالَ سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ: أَنْبَأَنَا، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ: أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ: أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ، فَإِذَا قَامَ ذَلِكَ الْمَقَامَ يَبْكِي لَا يَسْتَطِيعُ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ: مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ أَوْ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، قَالَ: فَأُمِرَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ، وَأُمِرَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً، فَقَالَ: انْظُرُوا لِي مَنْ أَتَّكِئُ عَلَيْهِ، فَجَاءَتْ بَرِيرَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ فَاتَّكَأَ عَلَيْهِمَا، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَنْكِصَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى قَضَى أَبُو بَكْرٍ صَلَاتَهُ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ غَيْرُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৫
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض الوفات کی نمازوں کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہوئی، اس وقت آپ عائشہ (رض) کے گھر میں تھے، آپ ﷺ نے فرمایا : علی (رضی اللہ عنہ) کو بلاؤ عائشہ (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا ہم ابوبکر (رض) کو بلا دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : انہیں بلاؤ حفصہ (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا عمر (رض) کو بلا دیں ؟ آپ نے فرمایا : بلا دو ، ام الفضل نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا ہم عباس کو بلا دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں جب سب لوگ جمع ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر اٹھا کر ان لوگوں کی طرف دیکھا، اور خاموش رہے، عمر (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے پاس سے اٹھ جاؤ ١ ؎، پھر بلال (رض) آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں عائشہ (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! ابوبکر (رض) نرم دل آدمی ہیں، پڑھنے میں ان کی زبان رک جاتی ہے، اور جب آپ کو نہ دیکھیں گے تو رونے لگیں گے، اور لوگ بھی رونا شروع کردیں گے، لہٰذا اگر آپ عمر (رض) کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں (تو بہتر ہو) ، لیکن ابوبکر (رض) نکلے، اور انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں پر ٹیک دے کر تشریف لائے اور آپ ﷺ کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے، جب لوگوں نے آپ کو آتے دیکھا تو ابوبکر (رض) کو سبحان الله کہا، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے ان کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، چناچہ رسول اللہ ﷺ تشریف آئے، اور ابوبکر (رض) کے دائیں جانب بیٹھ گئے، اور ابوبکر (رض) کھڑے رہے، ابوبکر (رض) نبی اکرم ﷺ کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر (رض) کی اقتداء کر رہے تھے، عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قراءت وہاں سے شروع کی جہاں تک ابوبکر (رض) پہنچے تھے ٢ ؎۔ وکیع نے کہا : یہی سنت ہے، راوی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا اسی مرض میں انتقال ہوگیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٥٣٥٨، ومصباح الزجاجة : ٤٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣١، ٢٣٢، ٣٤٣، ٣٥٥، ٣٥٦، ٣٥٧) (حسن) (سند میں ابو اسحاق مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اس لئے علی کے ذکر کے ساتھ یہ ضعیف ہے، لیکن دوسری حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے ) وضاحت : ١ ؎: کیوں کہ بیماری کی وجہ سے آپ کو ہمارے بیٹھنے سے تکلیف ہوگی۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ نے علی (رض) کو اپنی مرضی سے بلایا تھا، لیکن بیویوں کے اصرار سے اور لوگوں کو بھی بلا لیا تاکہ ان کا دل ناراض نہ ہو، اور چونکہ بہت سے لوگ جمع ہوگئے اس لئے آپ دل کی بات نہ کہنے پائے، اور سکوت فرمایا، اور ابوبکر (رض) کی فضیلت اور صحابہ پر ثابت ہوئی کہ آپ نے نماز کی امامت کے لئے ان کو منتخب فرمایا، اور امامت صغری قرینہ ہے امامت کبری کا، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جماعت میں شریک ہونا کیسا ضروری ہے کہ نبی اکرم ﷺ بیماری اور کمزوری کے باوجود حجرہ سے باہر مسجد تشریف لائے۔
حدیث نمبر: 1235 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ كَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، فَقَالَ: ادْعُوا لِي عَلِيًّا، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟، قَالَ: ادْعُوهُ، قَالَتْ حَفْصَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ قَالَ: ادْعُوهُ، قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَدْعُو لَكَ الْعَبَّاسَ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، فَنَظَرَ فَسَكَتَ، فَقَالَ عُمَرُ: قُومُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ حَصِرٌ، وَمَتَى لَا يَرَاكَ يَبْكِي، وَالنَّاسُ يَبْكُونَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ سَبَّحُوا بِأَبِي بَكْرٍ، فَذَهَبَ لِيَسْتَأْخِرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ مَكَانَكَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِهِ، وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ كَانَ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ وَكِيعٌ: وَكَذَا السُّنَّةُ، قَالَ: فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৬
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے کسی امتی کے پیچھے نماز پڑھنا
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (ایک سفر میں) پیچھے رہ گئے، اور ہم اس وقت لوگوں کے پاس پہنچے جب عبدالرحمٰن بن عوف (رض) انہیں ایک رکعت پڑھا چکے تھے، جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، نبی اکرم ﷺ نے ان کو نماز مکمل کرنے کا اشارہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے اچھا کیا، ایسے ہی کیا کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢٢ (٢٧٤) ، سنن النسائی/الطہارة ٨٧ (١٠٨) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٩٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/ ٢٤٨، ٢٥١، ١١٢، ١٥٠، ٢١٠، ٢٤٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ٨١ (١٣٧٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی جب نماز کا وقت آ جایا کرے تو نماز شروع کردیا کرو، اور میرے انتظار میں تاخیر نہ کرو، یہ حکم آپ ﷺ نے سفر میں دیا، لیکن حضر میں تو آپ ہر روز نماز کو افضل وقت پر پڑھا کرتے تھے، اور کبھی کبھی لوگ آپ کا انتظار بھی کرتے۔
حدیث نمبر: 1236 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ، وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتِمَّ الصَّلَاةَ، قَالَ: وَقَدْ أَحْسَنْتَ كَذَلِكَ فَافْعَلْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৭
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ بیمار ہوئے، تو آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگ آپ کی عیادت کے لیے اندر آئے، آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی، آپ ﷺ نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اپنا سر اٹھاؤ، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٠٦٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ٥١ (٦٨٨) ، تقصیر الصلاة ١٧ (١١١٣) ، ٢٠ (١١١٩) ، سنن ابی داود/الصلاة ٦٩ (٦٠٥) ، مسند احمد (٦/١١٤، ١٦٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مرض الموت والی روایت سے جس میں ہے کہ آپ ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور لوگوں نے کھڑے ہو کر پڑھی، یہ روایت منسوخ ہے۔
حدیث نمبر: 1237 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُونَهُ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৮
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ گھوڑے سے گرگئے، تو آپ کے دائیں جانب خراش آگئی، ہم آپ کی عیادت کے لیے گئے، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، تو آپ ﷺ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور ہم نے آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ ﷺ نے نماز پوری کرلی تو فرمایا : امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ الله أكبر کہے، تو تم بھی الله أكبر کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب سمع الله لمن حمده کہے، تو تم لوگ ربنا ولک الحمد کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم سب لوگ سجدہ کرو، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب لوگ بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ١٨ (٣٧٨) ، الأذان ٥١ (٦٨٩) ، ٨٢ (٧٣٢) ، ١٢٨ (٨٠٥) ، تقصیرالصلاة ١٧ (١١١٤) ، صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١١) ، سنن النسائی/الإمامة ١٦ (٧٩٥) ، ٤٠ (٨٣٣) ، التطبیق ٢٢ (١٠٦٢) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٦٩ (٣٦١) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٥١ (٧٩٣) ، موطا امام مالک/الجماعة ٥ (١٦) ، مسند احمد (٣/١١٠، ١٦٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ٤٤ (١٢٩١) (صحیح )
حدیث نمبر: 1238 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُرِعَ عَنْ فَرَسٍ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا نَعُودُهُ، وَحَضَرَتَ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا، وَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا، فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৯
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ الله أكبر کہے، تو تم بھی الله أكبر کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب سمع الله لمن حمده کہے تو تم بھی ربنا ولک الحمد کہو، اور اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٨٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ٨٢ (٧٣٤) ، تقصیر الصلاة ١٧ (١١١٤) ، صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١٤) ، سنن ابی داود/الصلاة ٦٩ (٦٠٣) ، مسند احمد (٢/٣١٤، ٢٣٠، ٤١١، ٤٣٨، ٤٧٥) ، سنن الدارمی/الصلاة ٧١ (١٣٥٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1239 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪০
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ بیٹھے ہوئے تھے، اور ابوبکر (رض) تکبیر کہہ رہے تھے تاکہ لوگ سن لیں، آپ ہماری جانب متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھ کر ہماری جانب اشارہ کیا، ہم بیٹھ گئے، پھر ہم نے آپ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو فرمایا : اس وقت تم فارس اور روم والوں کی طرح کرنے والے تھے کہ وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، اور بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں، لہٰذا تم ایسا نہ کرو، اپنے اماموں کی اقتداء کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں تو کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو بیٹھ کر نماز پڑھو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١٣) ، سنن ابی داود/الصلاة ٦٩ (٦٠٦) ، ن السہو ١١ (١١٩٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٠٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٣٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ واقعہ مرض الموت والے واقعے سے پہلے کا ہے، مرض الموت والے واقعے میں ہے کہ آپ ﷺ نے بیٹھ کر امامت کرائی، اور لوگوں نے کھڑے ہو کر آپ کے پیچھے نماز پڑھی، اور آپ نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا، اس لئے یہ بات اب منسوخ ہوگئی، اور نماز میں آپ کا التفات کرنا آپ کی خصوصیات میں سے تھا، امت کے لئے آپ کا یہ فرمان ہے کہ التفات نماز میں چھینا جھپٹی کا نام ہے جو شیطان نمازی کے ساتھ کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 1240 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَبُو بَكْرٍ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا، فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ قُعُودًا، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: إِنْ كِدْتُمْ أَنْ تَفْعَلُوا فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ، يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ، فَلَا تَفْعَلُوا، ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪১
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز فجر میں قنو ت
ابومالک سعد بن طارق اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا : ابا جان ! آپ نے رسول اللہ ﷺ پھر ابوبکرو عمر اور عثمان (رض) عنہم کے پیچھے اور کوفہ میں تقریباً پانچ سال تک علی (رض) کے پیچھے نماز پڑھی ہے، تو کیا وہ لوگ نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے ؟ انہوں نے کہا : بیٹے یہ نئی بات ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٧٨ (٤٠٢) ، سنن النسائی/التطبیق ٣٢ (١٠٧٩) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٧٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٧٢، ٦/٣٩٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: خاص خاص موقوں پر فجر کی نماز میں اور دوسری نمازوں میں بھی قنوت پڑھنا مسنون ہے۔ اسے قنوت نازلہ کہتے ہیں۔ جن لوگوں نے قراء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دھوکے سے شہید کردیا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے خلاف مہینہ بھر قنوت نازلہ پڑھی جیسے کہ آگے حدیث ١٢٤٣ میں آ رہا ہے۔ طارق (رض) نے مطلقاً قنوت کو بدعت نہیں کہا بلکہ فجر کی نماز میں قنوت ہمیشہ پر ھنے کو بدعت کہا، اس سے معلوم ہوا کہ بعض اوقات ایک کام اصل میں سنت ہوتا ہے لیکن اسے غلط طریقے سے انجام دینے سے یا اس کو اس کی اصل حیثیت سے گھٹا دینے سے یا بڑھا دینے کی وجہ سے وہ بدعت بن جاتا ہے، یعنی اس عمل کی وہ خاص کیفیت بدعت ہوتی ہے اگرچہ اصل عمل بدعت نہ ہو۔
حدیث نمبر: 1241 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ: يَا أَبَتِإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ هَاهُنَا بِالْكُوفَةِ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ، فَكَانُوا يَقْنُتُونَ فِي الْفَجْرِ، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، مُحْدَثٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪২
اقامت نماز اور اس کا طریقہ
পরিচ্ছেদঃ نماز فجر میں قنو ت
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے سے منع کردیا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف : ١٨٢١٩، ومصباح الزجاجة : ٤٣٥) (موضوع) (محمد بن یعلی متروک الحدیث اور جہمی ہے، اور عنبسہ حدیث گھڑا کرتا تھا، اور عبد اللہ بن نافع منکر احادیث کے راوی ہیں، نیز نافع کا سماع ام سلمہ (رض) سے صحیح نہیں ہے )
حدیث نمبر: 1242 حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ بَكْرٍ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى زُنْبُورٌ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: نُهِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقُنُوتِ فِي الْفَجْرِ.
তাহকীক: