মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৬০৯১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی کا دوسرے آدمی کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ جانے کی کراہت کا بیان
(٢٦٠٩٢) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کوئی آدمی کسی آدمی کے لیے اپنی جگہ سے کھڑا نہ ہو البتہ تم کشادگی کرو اللہ تمہارے لیے کشادگی فرمائیں گے۔
(۲۶۰۹۲) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حدَّثَنَا فُلَیْحٌ ، عَنْ أَیُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ أَبِی یَعْقُوبَ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَقُومُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ عَنْ مَجْلِسِہِ ، وَلَکِنِ افْسَحُوا یَفْسَحَ اللَّہُ لَکُمْ۔ (احمد ۲/۳۳۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬০৯২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی کا دوسرے آدمی کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ جانے کی کراہت کا بیان
(٢٦٠٩٣) حضرت ابو البختری کہ اس بات کو مکروہ سمجھا جاتا کہ ایک آدمی کسی آدمی کے لیے اپنی جگہ سے کھڑا ہوجائے تاکہ وہ اس کی جگہ میں بیٹھ جائے۔
(۲۶۰۹۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، قَالَ : کَانَ یُکْرَہُ أَنْ یَقُومَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِہِ لِلرَّجُلِ لِیَجْلِسَ فِیہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬০৯৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی آدمی کو دیکھ کر کھڑا ہو جائے
(٢٦٠٩٤) حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے (اس حال میں کہ) لاٹھی کو سہارا لگائے ہوئے تھے تو ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اکرام میں کھڑے ہوگئے۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم لوگ عجمیوں کی طرح کھڑے مت ہوا کرو۔ وہ لوگ اس طرح ایک دوسرے کی تعظیم کرتے ہیں۔
(۲۶۰۹۴) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِی الْعَنْبَسِ ، عَنْ أَبِی الْعَدَبَّسِ ، عَنْ أَبِی مَرْزُوقٍ ، عَنْ أَبِی غَالِبٍ ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُتَوَکِّئًا عَلَی عَصًا ، فَقُمْنَا إلَیْہِ فَقَالَ : لاَ تَقُومُوا کَمَا تَقُومُ الأَعَاجِمُ یُعَظِّمُ بَعْضُہَا بَعْضًا۔ (ابوداؤد ۵۱۸۷۔ ابن ماجہ ۳۸۳۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬০৯৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی آدمی کو دیکھ کر کھڑا ہو جائے
(٢٦٠٩٥) حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ ایک گھر میں داخل ہوئے جس میں حضرت عبداللہ بن عامر اور حضرت عبداللہ بن زبیر موجود تھے، حضرت عبداللہ بن عامر ، تو کھڑے ہوگئے اور حضرت عبداللہ بن زبیر کھڑے نہیں ہوئے۔ اس پر حضرت معاویہ نے حضرت عبداللہ بن عامر سے فرمایا : بیٹھ جاؤ اس لیے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سنا جو شخص اس بات کو پسند کرے کہ آدمی اس کے لیے کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
(۲۶۰۹۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ شَہِیدٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : دَخَلَ مُعَاوِیَۃُ بَیْتًا فِیہِ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَامِرٍ، وَعَبْدُ اللہِ بْنُ الزُّبَیْرِ ، فَقَامَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَامِرٍ وَلَمْ یَقُمْ عَبْدُ اللہِ بْنُ الزُّبَیْرِ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ لابْنِ عَامِرٍ : اجْلِسْ ، فَإِنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَتَمَثَّلَ لَہُ الرِّجَالُ قِیَامًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔ (ترمذی ۲۷۵۵۔ ابوداؤد ۵۱۸۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬০৯৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی آدمی کو دیکھ کر کھڑا ہو جائے
(٢٦٠٩٦) حضرت حمید فرماتے ہیں کہ حضرت انس نے ارشاد فرمایا : کہ صحابہ کے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ کوئی محبوب شخص نہیں تھا اور جب وہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھتے تھے تو کھڑے نہیں ہوتے تھے اس لیے کہ وہ لوگ اس وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ناپسندیدگی کو جانتے تھے۔
(۲۶۰۹۶) عَفَّان ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَا کَانَ شَخْصٌ أَحَبَّ إلَیْہِمْ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَکَانُوا إذَا رَأَوْہُ لَمْ یَقُومُوا لِمَا یَعْلَمُونَ مِنْ کَرَاہِیَتِہِ لِذَلِکَ۔

(ترمذی ۲۷۵۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬০৯৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے تکیہ لگانے کا بیان
(٢٦٠٩٧) حضرت طارق فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت شعبی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت جریر بن یزید تشریف لائے تو حضرت شعبی نے ان کے لیے تکیہ منگوایا، تو ہم نے آپ سے کہا : اے ابو عمرو ! ہم آپ کے پاس بڑے لوگ ہیں اور آپ اس بچے کے لیے تکیہ منگوا رہے ہیں ؟ تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تمہارے پاس پاس قوم کا معزز شخص آئے تو تم اس کا اکرام کرو۔
(۲۶۰۹۷) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ طَارِقٍ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ الشَّعْبِیِّ ، فَجَائَ جَرِیرُ بْنُ یَزِیدَ ، فَدَعَا لَہُ الشَّعْبِیُّ بِوِسَادَۃٍ فَقُلْنَا لَہُ : یَا أَبَا عَمْرٍو نَحْنُ عِنْدَکَ أَشْیَاخٌ ، دَعَوْت لِہَذَا الْغُلاَمِ بِوِسَادَۃٍ ؟ فَقَالَ : إنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إذَا أَتَاکُمْ کَرِیمُ قَوْمٍ فَأَکْرِمُوہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬০৯৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے تکیہ لگانے کا بیان
(٢٦٠٩٨) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب تمہارے پاس قوم کا معزز شخص آئے تو تم اس کا اکرام کرو۔
(۲۶۰۹۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ طَارِق ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا أَتَاکُمْ کَرِیمُ قَوْمٍ فَأَکْرِمُوہُ۔ (ابوداؤد ۵۱۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬০৯৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے تکیہ لگانے کا بیان
(٢٦٠٩٩) حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قلابہ نے ایک آدمی کے لیے تکیہ لگوایا اور فرمایا، یا یوں کہا جاتا تھا کہ تم اپنے بھائی پر اس کے اکرام کو رد مت کرو۔
(۲۶۰۹۹) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : طَرَحَ أَبُو قِلاَبَۃَ لِرَجُلٍ وِسَادَۃً فَقَالَ أَبُو قِلاَبَۃَ : إِنَّہُ کَانَ یُقَالُ : لاَ تَرُدَّ عَلَی أَخِیک کَرَامَتَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬০৯৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے تکیہ لگانے کا بیان
(٢٦١٠٠) حضرت جعفر کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت علی اور ایک آدمی ان کے پاس تشریف لائے تو ان دونوں کے لیے تکیے لگوائے گئے حضرت علی تو بیٹھ گئے اور دوسرا آدمی نہیں بیٹھا ، اس پر حضرت علی نے ارشاد فرمایا : بیٹھ جاؤ اکرام واپس نہیں کرتا مگر گدھا۔
(۲۶۱۰۰) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : دَخَلَ عَلِیٌّ وَرَجُلٌ ، فَطَرَحَ لَہُمَا وِسَادَتَیْنِ ، فَجَلَسَ عَلِیٌّ وَلَمْ یَجْلِسِ الآخَرُ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : لاَ یَرُدُّ الْکَرَامَۃَ إلاَّ حِمَارٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১০০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہے : تم کسی بات کی سمجھ اسی سے حاصل کرو جس سے تم نے اس بات کو سنا
(٢٦١٠١) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : تم کسی بات کی سمجھ اسی سے حاصل کرو جس سے تم نے بات کو سنا، اس لیے کہ اس کی مثال اس تیر کی ہے جو کسی اور نے چلایا ہو۔
(۲۶۱۰۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خُذِ الْحُکْمَ مِمَّنْ سَمِعْتہ ، فَإِنَّمَا ہُوَ مِثْلُ الرَّمْیَۃِ مِنْ غَیْرِ رَامٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১০১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس کو مجلس اختیار کرنے اور دخل دینے کا حکم دیا گیا ہو
(٢٦١٠٢) حضرت علی بن اقمر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو جحیفہ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ تم بڑے لوگوں کی مجلس اختیار کرو، اور عقل مندوں سے ملا کرو، اور علماء سے سوال کیا کرو۔
(۲۶۱۰۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ الأَقْمَرِ ، أَنَّ أَبَا جُحَیْفَۃَ کَانَ یَقُولُ : جَالِسُوا الْکُبَرَائَ ، وَخَالِطُوا الْحُکَمَائَ ، وَسَائِلُوا الْعُلَمَائَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১০২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس کو مجلس اختیار کرنے اور دخل دینے کا حکم دیا گیا ہو
(٢٦١٠٣) حضرت ابو جعفر الخطمی فرماتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت عمیر بن حبیب نے اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی : کہ اے میرے بیٹھے ! تم بیوقوفوں کی صحبت اختیار کرنے سے بچو پس بیشک ان کی صحبت تو بیماری ہے، اور جو شخص بیوقوف سے درگزر کرتا ہے تو اس کی درگزر کی وجہ سے اس کو خوشی ملتی ہے اور جو بیوقوف سے محبت کرتا ہے تو وہ شرمندہ ہوتا ہے، اور جو شخص بیوقوف کی تھوڑی بات سے بھی آنکھ ٹھنڈی نہیں کرتا تو اس کی آنکھ کثرت سے ٹھنڈی ہوتی ہے ، اور تم میں کوئی ارادہ کرے نیکی کے حکم کرنے کا اور برائی سے روکنے کا تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو تکلیف پر صبر کرنے کا عادی بنادے ۔ اس لیے کہ جو شخص صبر کرتا ہے تو اس کو تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔
(۲۶۱۰۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ الْخَطْمِیِّ ، أَنَّ جَدَّہُ وَہُوَ عُمَیْرُ بْنُ حَبِیبٍ أَوْصَی بَنِیہِ فَقَالَ : یَا بَنِیَّ ، إیَّاکُمْ وَمُجَالَسَۃَ السُّفَہَائِ ، فَإِنَّ مُجَالَسَتَہُمْ دَائٌ ، إِنَّہُ مَنْ یَحْلُمُ ، عَنِ السَّفِیہِ یُسَرَّ بِحِلْمِہِ ، وَمَنْ یُحبہ یَنْدَمُ ، وَمَنْ لاَ یَقَرُّ بِقَلِیلِ مَا یَجِیئُ بِہِ السَّفِیہُ یَقَرُّ بِالْکَثِیرِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَحَدُکُمْ أَنْ یَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَی عَنِ الْمُنْکَرِ فَلْیُوَطِّنْ نَفْسَہُ عَلَی الصَّبْرِ عَلَی الأَذَی ، فَإِنَّہُ مَنْ یَصْبِرُ لاَ یَجِدُ لِلأَذَی مَسًّا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১০৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس کو مجلس اختیار کرنے اور دخل دینے کا حکم دیا گیا ہو
(٢٦١٠٤) حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدردائ نے ارشاد فرمایا : بیشک آدمی کا چلنا اور اس کی مجلس کا تعلق اس کی سمجھ داری سے ہے۔

ابو قلابہ نے نصیحت کے انداز میں فرمایا : اللہ شاعر کو ہلاک کرے کہ اس نے یوں کہا :

آدمی کے بارے میں کسی سے مت پوچھ بلکہ اس کے ساتھیوں کو دیکھ۔۔۔

ہر ساتھی اپنے ساتھیوں کے ذریعہ ہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے۔۔۔
(۲۶۱۰۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ : إنَّ مِنْ فِقْہِ الرَّجُلِ مَمْشَاہُ وَمَدْخَلَہُ ، قَالَ أَبُو قِلاَبَۃَ : قَاتَلَ اللَّہُ الشَّاعِرَ حَیْثُ یَقُولُ :

عَنِ الْمَرْئِ لاَ تَسْأَلْ وأبصر قَرِینَہُ وَ کُلُّ قَرِینٍ بِالْمُقَارَنِ مُہْتَدِی
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১০৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس کو مجلس اختیار کرنے اور دخل دینے کا حکم دیا گیا ہو
(٢٦١٠٥) حضرت مرہ یا حضرت ابن ھبیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : لوگوں کے دوستوں کے ذریعے ان کا اعتبار کرو۔
(۲۶۱۰۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عن أبی إسحاق، عَنْ مُرَّۃَ، أَوْ ہُبَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ: اعْتَبِرُوا النَّاسَ بِأخْدانِہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১০৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہے : جب تم کسی قوم کے پاس جاؤ تو وہ جس جگہ تمہیں بٹھائیں تم بیٹھ جاؤ
(٢٦١٠٦) حضرت ابو منصور میمون الجھنی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی کسی کے گھر میں داخل ہو تو وہ لوگ جہاں اس کو بٹھائیں تو اس کو چاہیے کہ وہ بیٹھ جائے اس لیے کہ وہ لوگ اپنے گھر کے پردہ کے متعلق زیادہ جانتے ہں ۔
(۲۶۱۰۶) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ مَیْمُونٍ الْجُہَنِیِّ أَبی مَنْصُورا ، قَالَ : سَمِعْتُ إبْرَاہِیمَ یَقُولُ : إذَا دَخَلَ أَحَدُکُمْ بَیْتًا فَأَیْنَمَا أَجْلَسُوہُ فَلْیَجْلِسْ ، ہُمْ أَعْلَمُ بِعَوْرَۃِ بَیْتِہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১০৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی کوکھ پر ہاتھ رکھ کر چلے
(٢٦١٠٧) حضرت اسماعیل بن ابی خالد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شریح کو دیکھا کہ وہ اپنی کوکھ پر ہاتھ رکھ کر چل رہے تھے۔
(۲۶۱۰۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ شُرَیْحًا یَمْشِی مُخْتَصِرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১০৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی کوکھ پر ہاتھ رکھ کر چلے
(٢٦١٠٨) حضرت خالد حذائ فرماتے ہیں کہ حضرت حمید بن ھلال نے ارشاد فرمایا : کہ نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنا مکروہ ہے۔ اس لیے کہ ابلیس کو زمین پر اتارا گیا تھا اس حال میں کہ اس نے اپنی کوکھ پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔
(۲۶۱۰۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، قَالَ : إنَّمَا یُکْرَہُ الاخْتِصَارُ فِی الصَّلاَۃِ لأَنَّ إبْلِیسَ أُہْبِطَ مُخْتَصِرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১০৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہے : کہ جب کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کو کوئی بات بیان کرے اور کہے میری بات کو چھپانا تو یہ امانت ہے
(٢٦١٠٩) حضرت حکم بن عطیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جب کوئی آدمی دوسرے آدمی کو کوئی بات بیان کرکے یوں کہے کہ میری بات کو چھپانا تو یہ بات امانت ہوگی۔
(۲۶۱۰۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عَطِیَّۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ یَقُولُ إذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ بِحَدِیثٍ وَقَالَ : اکْتُمْ عَلَیَّ ، فَہِیَ أَمَانَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১০৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہے : کہ جب کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کو کوئی بات بیان کرے اور کہے میری بات کو چھپانا تو یہ امانت ہے
(٢٦١١٠) امام شعبی سے مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
(۲۶۱۱۰) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ مِثْلُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১১০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہے : کہ جب کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کو کوئی بات بیان کرے اور کہے میری بات کو چھپانا تو یہ امانت ہے
(٢٦١١١) حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب کوئی آدمی دوسرے آدمی کو کوئی بات بیان کرے پھر وہ ادھر ادھر دیکھے تو یہ امانت ہوگی۔
(۲۶۱۱۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَائٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِیکٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ بِالْحَدِیثِ ، ثُمَّ الْتَفَتَ فَہِیَ أَمَانَۃٌ۔ (ابوداؤد ۴۸۳۵۔ ترمذی ۱۹۵۹)
tahqiq

তাহকীক: