মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৬১৭১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی آدمی بال کٹوائے یا پچھنے لگوائے یا اپنے ناخون کاٹے یا اپنی داڑھ کو اکھیڑ دے تو اس کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے
(٢٦١٧٢) حضرت معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مسلم بن یسار سے اجازت چاہی ، پس میں بیٹھ گیا، پھر تھوڑی دیر بعد آپ نے مجھے اجازت دی تو میں ان کے پاس داخل ہوگیا تو آپ نے فرمایا : تحقیق تم نے اجازت طلب کی تھی اور میں اس وقت اپنے ایک بچے کو دفن کررہا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ ان کی عورت کا حمل ساقط ہوگیا تھا تو انھوں نے اس بچے کو دفن کردیا۔
(۲۶۱۷۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَبِیبُ بْنُ شَہِیدٍ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ ، قَالَ : اسْتَأْذَنْت عَلَی مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ فَجَلَست ثُمَّ أَذِنَ لِی ، فَدَخَلْت عَلَیْہِ فَقَالَ : لَقَدَ اسْتَأْذَنْت عَلَیَّ وَإِنِّی لأدْفِنُ بَعْضَ وَلَدِی ، قَالَ : وَکَانَ بَعْضُ نِسَائِہِ أَسْقَطَتْ فَدَفَنَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৭২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی آدمی بال کٹوائے یا پچھنے لگوائے یا اپنے ناخون کاٹے یا اپنی داڑھ کو اکھیڑ دے تو اس کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے
(٢٦١٧٣) حضرت یزید بن عبد الملک فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن علی نے پچھنے لگانے والے کو پچھنے لگانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ پچھنوں کا خون کتے کو ڈال دینا وہ اس کو چاٹ لے گا۔
(۲۶۱۷۳) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ ، أَنَّہُ أَمَرَ حَجَّامًا یَحْجُمُہُ أَنْ یُفْرِغَ مَحْجَمَۃَ دَمٍ لِکَلْبٍ یَلَغُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৭৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی آدمی بال کٹوائے یا پچھنے لگوائے یا اپنے ناخون کاٹے یا اپنی داڑھ کو اکھیڑ دے تو اس کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے
(٢٦١٧٤) قبیلہ بنو ہاشم کے ایک شخص بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بال، ناخن اور خون کو دفن کرنے کا حکم دیا۔
(۲۶۱۷۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِدَفْنِ الشَّعْرِ وَالظُّفْرِ وَالدَّمِ۔ (بخاری ۲۰۹۴۔ بزار ۲۹۶۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৭৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی آدمی بال کٹوائے یا پچھنے لگوائے یا اپنے ناخون کاٹے یا اپنی داڑھ کو اکھیڑ دے تو اس کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے
(٢٦١٧٥) حضرت ابراہیم بن مہاجر فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد جب اپنے ناخن کاٹتے تو ان کو دفن فرما دیتے، یا ان کو دفن کرنے کا حکم دیتے۔
(۲۶۱۷۵) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مُہَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، أنَّہُ کَانَ إذَا قَلَّمَ أَظْفَارَہُ دَفَنَہَا ، أَوْ أَمَرَ بِہَا فَدُفِنَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৭৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی آدمی بال کٹوائے یا پچھنے لگوائے یا اپنے ناخون کاٹے یا اپنی داڑھ کو اکھیڑ دے تو اس کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے
(٢٦١٧٦) حضرت افلح فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم نے اپنے بالوں کو مٹی میں دفن فرما دیا۔
(۲۶۱۷۶) حدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِیُّ ، عَنْ أَفْلَحَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، أَنَّہُ کَانَ یَدْفِنُ شَعْرَہُ بِمِنًی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৭৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی آدمی بال کٹوائے یا پچھنے لگوائے یا اپنے ناخون کاٹے یا اپنی داڑھ کو اکھیڑ دے تو اس کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے
(٢٦١٧٧) حضرت مہدی فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جمعہ کے دن عصر کے بعد حضرت محمد بن سیرین کے پاس گئے، تو آپ نے قینچی منگوائی پھر اپنے ناخن کاٹے اور جمع کیے۔ مہدی کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ہشام نے خبر دی کہ آپ نے ان کو دفنانے کا حکم دیا۔
(۲۶۱۷۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مَہْدِیٍّ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ یَوْمَ جُمُعَۃٍ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَدَعَا بِمِقْصٍ فَقَلَّمَ أَظْفَارَہُ فَجَمَعَہَا ، قَالَ مَہْدِیٌّ : فَأَنْبَأَنَا ہِشَامٌ ، أَنَّہُ کَانَ یَأْمُرُ بِہَا أَنْ تُدْفَنَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৭৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے پاس اجازت لینے سے قبل ہی بیٹھ جائے
(٢٦١٧٨) حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ کی مسجد میں داخل ہوا تو حضرت عبداللہ بن سلام بیٹھے ہوئے تھے، تو میں نے سلام کیا پھر میں بیٹھ گیا۔ اس پر آپ نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم بیٹھ گئے اور ہمارا تو اٹھنے کا ارادہ ہے۔
(۲۶۱۷۸) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، قَالَ : دَخَلْت مَسْجِدَ الْمَدِینَۃِ فَإِذَا عَبْدُ اللہِ بْنُ سَلاَمٍ ، فَسَلَّمْت ثُمَّ جَلَسْت ، فَقَالَ : یَا ابْنَ أَخِی ، إنَّک جَلَسْت وَنَحْنُ نُرِیدُ الْقِیَامَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৭৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے پاس اجازت لینے سے قبل ہی بیٹھ جائے
(٢٦١٧٩) حضرت اشعث ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت حسن کے پاس بیٹھ گیا، تو آپ نے اس سے کہا : تم ہمارے اٹھنے کے وقت ہمارے پاس بیٹھ گئے ہو، تمہاری طرف سے اجازت ہے ! اٹھنے کی ؟
(۲۶۱۷۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، قَالَ : حدَّثَنِی رَجُلٌ ، أَنَّ رَجُلاً جَلَسَ إلَی الْحَسَنِ فَقَالَ لَہُ : جَلَسْت إلَیْنَا عَلَی حِینِ قِیَامٍ مِنَّا ، أَفَتَأْذَنُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৭৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے پاس اجازت لینے سے قبل ہی بیٹھ جائے
(٢٦١٨٠) حضرت عمران فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مجلز نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص قصداً تمہارے پاس بیٹھے تو تم اس سے اجازت لینے سے پہلے مت اٹھو۔
(۲۶۱۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِمْرَانَ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ: إذَا جَلَسَ إلَیْک رَجُلٌ مُتَعَمِّدًا فَلاَ تَقُمْ حَتَّی تَسْتَأْذِنَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৮০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے پاس اجازت لینے سے قبل ہی بیٹھ جائے
(٢٦١٨١) حضرت ابراہیم سے مذکورہ ارشاد اسی سند سے منقول ہے۔
(۲۶۱۸۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ مِثْلُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৮১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے پاس اجازت لینے سے قبل ہی بیٹھ جائے
(٢٦١٨٢) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ کوئی بھی آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہیں بیٹھا یہاں تک کہ وہ کھڑا ہوتا تو آپ کھڑے ہوتے ۔
(۲۶۱۸۲) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ أَبِی حَنِیفَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ: مَا جَلَسَ إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ فَقَامَ حَتَّی یَقُومَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৮২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے پاس اجازت لینے سے قبل ہی بیٹھ جائے
(٢٦١٨٣) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت محمد اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ جب کوئی آدمی کسی آدمی کے پاس بیٹھے تو وہ بغیر اجازت کے کھڑا ہوجائے ۔
(۲۶۱۸۳) حَدَّثَنَا أَزْہَرُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا إذَا جَلَسَ الرَّجُلُ إلَی الرَّجُلِ أَنْ یَقُومَ، وَلاَ یَسْتَأْذِنَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৮৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے پاس اجازت لینے سے قبل ہی بیٹھ جائے
(٢٦١٨٤) حضرت موسیٰ بن نافع فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر کے پاس بیٹھا ہوا تھا جب آپ نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو فرمایا : تم لوگ میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو، کیا تمہاری اجازت ہے ؟
(۲۶۱۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُوسَی بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ : قعَدْت إلَی سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ یَقُومَ ، قَالَ : أَتَأْذَنُونَ ؟ إنَّکُمْ جَلَسْتُمْ إلَیَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৮৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے کا بیان
(٢٦١٨٥) حضرت ربعی فرماتے ہیں کہ بنو عامر کے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں تھے، اس شخص نے کہا : کیا میں آجاؤں ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خادم سے کہا : اس کے پاس جاؤ اور اس کو اجازت طلب کرنے کا طریقہ سکھلاؤ۔ اس کو کہو کہ یوں کہے : السلام علیکم، کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ اس آدمی نے یہ سن لیا اور کہا : السلام علیکم : کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے داخل ہونے کی اجازت دے دی اور وہ داخل ہوگیا۔
(۲۶۱۸۵) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، قَالَ : حدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَامِرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ فِی بَیْتٍ فَقَالَ : أَلِجُ ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِخَادِمِہِ : اخْرُجْ إلَی ہَذَا فَعَلِّمْہُ الاسْتِئْذَانَ وَقُلْ لَہُ : قُلِ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ أَدْخُلُ ؟ فَسَمِعَہُ الرَّجُلُ فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ أَدْخُلُ ؟ فَأَذِنَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ۔ (بخاری ۱۰۸۴۔ ابوداؤد ۵۱۳۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৮৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے کا بیان
(٢٦١٨٦) حضرت عامر بن عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ریحانہ (رض) نے بیان فرمایا : کہ میرے گھر والوں نے مجھے حضرت عمر کے پاس بھیجا، تو میں آپ کے پاس بغیر اجازت کے داخل ہوگئی۔ آپ نے مجھے اجازت کا طریقہ سکھلایا اور فرمایا : باہر جاؤ پھر سلام کرو اور جب تمہیں سلام کا جواب دیا جائے تو پھر اجازت مانگو۔
(۲۶۱۸۶) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ سَمِعَ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ یَقُولُ : حدَّثَتْنِی رَیْحَانَۃُ ، أَنَّ أَہْلَہَا أَرْسَلُوہَا إلَی عُمَرَ ، فَدَخَلَتْ عَلَیْہِ بِغَیْرِ إذْنٍ ، فَعَلَّمَہَا فَقَالَ لَہَا : اخْرُجِی فَسَلِّمِی ، فَإِذَا رُدَّ عَلَیْک فَاسْتَأْذِنِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৮৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے کا بیان
(٢٦١٨٧) حضرت ابو ایوب انصاری فرماتے ہںَ کہ ہم لوگوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ تو سلام کرنا ہے پس اجازت کیسے طلب کی جائے گی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدمی سبحان اللہ، اللہ اکبر، الحمد للہ کہہ لے اور کھنکھار لے اور گھر والوں کو اجازت دے۔
(۲۶۱۸۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی سَوْرَۃَ ، عَنْ أَبِی أیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ ، قَالَ : قلْنا یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَذَا السَّلاَمُ فَمَا الاسْتِئْنَاسُ ، قَالَ : یَتَکَلَّمُ الرَّجُلُ بِتَسْبِیحَۃٍ وَتَکْبِیرَۃٍ وَتَحْمِیدَۃٍ ، وَیَتَنَحْنَحُ ، وَیُؤْذِنُ أَہْلَ الْبَیْتِ۔ (ابن ماجہ ۳۷۰۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৮৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے کا بیان
(٢٦١٨٨) حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے حضرت ابن عمر کے پاس بھیجا تو میں نے ان کو کہا : کیا میں آجاؤں ؟ آپ نے فرمایا : تم اس طرح مت کہو اور یوں کہو : السلام علیکم : جب تمہیں کہہ دیا جائے، وعلیکم السلام، تو تم داخل ہو جاؤ۔
(۲۶۱۸۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِیُّ أَبُو زُکَیْرٍ سَمِعَ زَیْدَ بْنَ أَسْلَمَ یَقُولُ : بَعَثَنِی أَبِی إلَی ابْنِ عُمَرَ فَقُلْت : أَلِجُ ؟ فَقَالَ : لاَ تَقُلْ ہَکَذَا ، وَلَکِنْ قُلْ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ ، فَإِذَا قِیلَ وَعَلَیْکُمْ ، فَادْخُلْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৮৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے کا بیان
(٢٦١٨٩) حضرت عبداللہ بن نجی فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس میں دو مرتبہ جاتا تھا۔ ایک مرتبہ دن میں اور ایک مرتبہ رات میں، پس میں جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے ہوتے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے لیے کھنکھار دیتے۔
(۲۶۱۸۹) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُجَیٍّ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : کَانَ لِی مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَدْخَلاَنِ : مَدْخَلٌ بِاللَّیْلِ ، وَمَدْخَلٌ بِالنَّہَارِ ، فَکُنْت إذَا أَتَیْتہ وَہُوَ یُصَلِّی یَتَنَحْنَحُ لِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৮৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے کا بیان
(٢٦١٩٠) حضرت یزید بن ابی زیاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اجازت مانگی اس حال میں کہ وہ اندھیرے میں نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ نے میرے لیے دروازہ کھول دیا۔
(۲۶۱۹۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، قَالَ : اسْتَأْذَنْت عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی وَہُوَ یُصَلِّی بِالظَّلاَمِ فَفَتَحَ لِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৯০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سلام کا جواب دے تو وہ کس طرح جواب دے ؟
(٢٦١٩١) حضرت زہرہ بن حمیضہ فرماتے ہیں کہ میں سواری پر حضرت ابوبکر کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا کہ چند لوگوں پر ہمارا گزر ہوا تو ہم نے ان پر سلام کیا، تو انھوں نے ہمارے سلام کا جواب خوب بڑھا کردیا۔ اس پر حضرت ابوبکر نے فرمایا : کہ آج کے دن تو لوگ ثواب میں ہم پر غالب آ رہے ہیں۔
(۲۶۱۹۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَِسَافٍ ، عَنْ زُہْرَۃَ بْنِ حُمِیضَۃَ ، قَالَ : رَدَفْت أَبَا بَکْرٍ فَکُنَّا نَمُرُّ بِالْقَوْمِ فَنُسَلِّمُ عَلَیْہِمْ فَیَرُدُّونَ عَلَیْنَا أَکْثَرَ مِمَّا نُسَلِّمُ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : مَا زَالَ النَّاسُ غَالِبِینَ لَنَا مُنْذُ الْیَوْمِ۔
তাহকীক: