মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৬১৯১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سلام کا جواب دے تو وہ کس طرح جواب دے ؟
(٢٦١٩٢) حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : میں حضرت ابوبکر کے پیچھے سواری پر سوار تھا، پھر انھوں نے مذکورہ حدیث ذکر کی ، اور فرمایا : کہ لوگ آج ثواب میں ہم سے آگے بڑھ گئے۔
(۲۶۱۹۲) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ وَأَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ عُمَر ، قَالَ : کُنْتُ رِدْفَ أَبِی بَکْرٍ فَذَکَرَ ، مِثْلَہُ ، ثُمَّ قَالَ : لَقَدْ فَضَلَنَا النَّاسُ الْیَوْمَ بِخَیْرٍ کَثِیرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৯২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سلام کا جواب دے تو وہ کس طرح جواب دے ؟
(٢٦١٩٣) حضرت ابو البختری فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت علی کے پاس آیا، اور کہا : اے امیر المؤمنین : السلام علیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ نے فرمایا : وعلیکم ، وہ آدمی سمجھا کہ آپ نے سنا نہیں۔ اس نے پھر کہا : اے امیرالمؤمنین ! السلام علیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ نے فرمایا : وعلیکم، اس آدمی نے کہا : آپ مجھے ویسے جواب کیوں نہیں دے رہے جیسا کہ میں نے آپ کو کہا ؟ آپ نے فرمایا : کیا میں نے ایسا نہیں کیا ؟
(۲۶۱۹۳) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَلِی فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْک یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ ، فَقَالَ : وَعَلَیْکُمْ فَظَنَّ أَنَّہُ لَمْ یَسْمَعْ فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَیْک یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ ، فَقَالَ : وَعَلَیْکُمْ ، فَقَالَ : أَلاَ تَرُدُّ عَلَیَّ لِمَا أَقُولُ لَکَ؟ قَالَ : أَلَیْسَ قَدْ فَعَلْت ؟۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৯৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سلام کا جواب دے تو وہ کس طرح جواب دے ؟
(٢٦١٩٤) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اس حال میں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کے کونے میں بیٹھے ہوئے تھے، اس آدمی نے نماز پڑھی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وعلیک السلام، تجھ پر بھی سلام ہو۔
(۲۶۱۹۴) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیُّ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَجُلاً دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِی نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّی ، ثُمَّ جَائَ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ فَقَالَ : وَعَلَیْک السَّلاَمُ۔ (بخاری ۶۲۵۱۔ ترمذی ۲۶۹۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৯৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سلام کا جواب دے تو وہ کس طرح جواب دے ؟
(٢٦١٩٥) حضرت مالک بن اوس بن حمد ثان فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذر شام سے واپس آئے اور مسجد میں داخل ہوگئے۔ اس حال میں کہ حضرت عثمان بھی مسجد میں تھے۔ آپ نے فرمایا : السلام علیکم، انھوں نے جواب دیا : وعلیکم السلام، اے ابو ذر، کیسے ہو تم ؟ انھوں نے فرمایا : خیریت سے ہوں، تم کیسے ہو ؟ اے عثمان ! آپ نے جواب میں کہا، میں بھی خیریت سے ہوں۔
(۲۶۱۹۵) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِی أَنَسٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : قدِمَ أَبُو ذَرٍّ مِنَ الشَّامِ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَفِیہِ عُثْمَانُ فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ ، فَقَالَ : وَعَلَیْکُمُ السَّلاَمُ ، کَیْفَ أَنْتَ یَا أَبَا ذَرٍّ ؟ قَالَ : بِخَیْرٍ ، کَیْفَ أَنْتَ یَا عُثْمَانُ ؟۔ قَالَ : بِخَیر۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৯৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سلام کا جواب دے تو وہ کس طرح جواب دے ؟
(٢٦١٩٦) حضرت میمون فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سلمان فارسی کو سلام کیا اور کہا : السلام علیک و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ، حضرت سلمان نے کہا، کافی ہے کافی ہے، پھر آپ نے ویسے ہی اس کو جواب دیا جیسا کہ اس شخص نے سلام کیا تھا، پھر چند اور کلمات کا اضافہ فرمایا : اس پر اس شخص نے آپ سے پوچھا : اے ابو عبداللہ ! کیا آپ مجھے جانتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میری روح تمہاری روح کو جانتی ہے۔
(۲۶۱۹۶) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ مَیْمُونٍ ، أَنَّ رَجُلاً سَلَّمَ عَلَی سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ ، فَقَالَ : سَلْمَانُ : حَسْبُک حَسْبُک ، ثُمَّ رَدَّ عَلَیہ الَّذِی قَالَ ، ثُمَّ زَادَ أُخْرَی ، فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ : أَتَعْرِفُنِی یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ؟ فَقَالَ : أَمَّا رُوحِی فَقَدْ عَرَفَ رُوحَک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৯৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سلام کا جواب دے تو وہ کس طرح جواب دے ؟
(٢٦١٩٧) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ویسے ہی سلام کا جواب دیتے تھے جیسے ان کو سلام کہا جاتا تھا، مثلاً السلام علیکم۔
(۲۶۱۹۷) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّہُ کَانَ یَرُدُّ السَّلاَمَ کَمَا یُقَالَ لَہُ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৯৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سلام کا جواب دے تو وہ کس طرح جواب دے ؟
(٢٦١٩٨) حضرت معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے وصیت فرمائی کہ جب تمہیں سلام کیا جائے تو جواب میں وعلیک مت کہہ۔ بلکہ وعلیکم۔ کہو۔ اس لیے کہ اس شخص کے ساتھ فرشتے بھی ہوتے ہیں۔
(۲۶۱۹۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ الْجَلْدِ بْنِ أَیُّوبَ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ ، قَالَ : أَوْصَانِی أَبِی ، قَالَ: إذَا سُلِّمَ عَلَیْک، فَلاَ تَقُلْ : وَعَلَیْک ، قُلْ : وَعَلَیْکُمْ ، فَإِنَّ مَعَہُ مَلاَئِکَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৯৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سلام کا جواب دے تو وہ کس طرح جواب دے ؟
(٢٦١٩٩) حضرت عبد الرحمن الرحال فرماتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم جب سلام کا جواب دیتے تو یوں کہتے : وعلیکم اور سلام کرنے والے پر جواب کی نیت کرلیتے۔
(۲۶۱۹۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّحَّالِ ، قَالَ : کَانَ الرَّبِیعُ بْنُ خُثَیْمٍ إذَا رَدَّ السَّلاَمَ یَقُولُ : وَعَلَیْکُمْ یَعْنِی یَنْوِی الرَّدَّ عَلَی مَا سُلِّمَ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৯৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سلام کا جواب دے تو وہ کس طرح جواب دے ؟
(٢٦٢٠٠) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت شریح جب سلام کا جواب دیتے تو یوں کہتے : وعلیکم : یعنی تم پر بھی ہو۔
(۲۶۲۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، أَنَّ شُرَیْحًا إذَا رَدَّ قَالَ : وَعَلَیْکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২০০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سلام کا جواب دے تو وہ کس طرح جواب دے ؟
(٢٦٢٠١) حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن وھب کو جب سلام کیا جاتا تو آپ یوں جواب دیتے ۔ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ و مغفرتہ۔
(۲۶۲۰۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَید بن وَہب ، أَنَّہُ کَانَ إذَا سُلِّمَ عَلَیْہِ قَالَ : وَعَلَیْکُمُ السَّلاَمُ وَرَحْمۃ اللہ وَبَرَکَاتُہ وَمَغْفِرَتہ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২০১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سلام کا جواب دے تو وہ کس طرح جواب دے ؟
(٢٦٢٠٢) حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب کوئی آدمی سلام کا جواب دے تو اس کو چاہیے کہ وہ جمع کا صیغہ استعمال کرے اور یوں کہے وعلیکم، اس لے ب کہ آدمی کے ساتھ فرشتے بھی ہوتے ہیں۔
(۲۶۲۰۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، قَالَ: إذَا رَدَّ الرَّجُلُ فَلْیَقُلْ: وَعَلَیْکُمْ - یَعْنِی مَعَہُ الْمَلاَئِکَۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২০২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سلام کا جواب دے تو وہ کس طرح جواب دے ؟
(٢٦٢٠٣) حضرت اسماعیل اور حضرت ابن عون یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم جب سلام کا جواب دیتے تو یوں کہتے، وعلیکم ورحمۃ اللہ۔
(۲۶۲۰۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، وَابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّہُ کَانَ إذَا رَدَّ ، قَالَ : وَعَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২০৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سلام کا جواب دے تو وہ کس طرح جواب دے ؟
(٢٦٢٠٤) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ امام محمد جب سلام کا جواب دیتے تو یوں کہتے : وعلیکم۔
(۲۶۲۰۴) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : کَانَ مُحَمَّدٌ إذَا رَدَّ ، قَالَ : وَعَلَیْکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২০৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی دوسرے آدمی کو سلام پہنچائے تو اس کو یوں کہا جائے
(٢٦٢٠٥) حضرت غالب فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت حسن بصری کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : میرے والد نے میرے دادا سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا : کہ میرے والد نے مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا اور کہا : کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرا سلام کہنا، پس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا میں نے کہا کہ میرے والد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کہہ رہے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علیک و علی ابیک السلام۔ تجھ پر اور تیرے والد پر سلام ہو۔
(۲۶۲۰۵) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ غَالِبٍ ، قَالَ : إنَّا لَجُلُوسٌ بِبَابِ الْحَسَنِ إذْ جَائَہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِی أَبِی ، عَنْ جَدِّی ، قَالَ : بَعَثَنِی أَبِی إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : ائْتِہِ فَأَقْرِئْہُ السَّلاَمَ ، فَأَتَیْتہ فَقُلْت : إنَّ أَبِی یُقْرِئُک السَّلاَمَ ، فَقَالَ : وَعَلَیْک وَعَلَی أَبِیک السَّلاَمُ۔ (ابوداؤد ۵۱۸۹۔ احمد ۵/۳۶۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২০৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی دوسرے آدمی کو سلام پہنچائے تو اس کو یوں کہا جائے
(٢٦٢٠٦) حضرت محمد بن ابو المخالد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفی سے عرض کیا : آپ کے بھتیجوں نے آپ کو سلام کہا ہے پھر مسجد والوں نے بھی۔ آپ نے جواب دیا۔ وَعَلَیْک وَعَلَیْہِمْ ۔
(۲۶۲۰۶) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی الْمُجَالِدِ ، عَنِ ابْنِ أَبِی أَوْفَی ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : إنَّ بَنِی أَخِیک یُقْرِئُونَک السَّلاَمَ ، ثُمَّ أَہْلَ الْمَسْجِدِ ، قَالَ : وَعَلَیْک وَعَلَیْہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২০৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی دوسرے آدمی کو سلام پہنچائے تو اس کو یوں کہا جائے
(٢٦٢٠٧) حضرت اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے مجھ سے ارشاد فرمایا : جب تم حضرت عمر سے ملو تو ان کو سلام کہنا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب میں آپ سے ملا تو میں نے ان کو سلام کہا۔ آپ نے یوں جواب دیا۔ وعلیہ یا یوں جواب دیا، وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ۔
(۲۶۲۰۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : قَالَ لی عَبْدُ اللہِ : إذَا لَقِیت عُمَرَ ، أَوْ کَلِمَۃٌ نَحْوُہَا ، فَأَقْرِئْہُ السَّلاَمَ ، قَالَ : فَلَقِیتہ فَأَقْرَأْتہ فَقَالَ : عَلَیْہِ ، أَوْ وَعَلَیْہِ السَّلاَمُ وَرَحْمَۃُ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২০৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی دوسرے آدمی کو سلام پہنچائے تو اس کو یوں کہا جائے
(٢٦٢٠٨) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : بیشک جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔ آپ نے یوں جواب دیا وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ۔
(۲۶۲۰۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، أَنَّ عَائِشَۃَ حَدَّثَتْہُ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَہَا : إنَّ جِبْرِیلَ یَقْرَأُ عَلَیْک السَّلاَمَ ، فَقَالَتْ : وَعَلَیْہِ السَّلاَمُ وَرَحْمَۃُ اللہِ۔
(بخاری ۶۲۵۳۔ ترمذی ۲۶۹۳)
(بخاری ۶۲۵۳۔ ترمذی ۲۶۹۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২০৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی دوسرے آدمی کو سلام پہنچائے تو اس کو یوں کہا جائے
(٢٦٢٠٩) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ جب امام سے کہا جاتا کہ فلاں شخص نے آپ کو سلام کہا ہے تو آپ یوں جواب دیتے، وعلیک وعلیہ السلام۔
(۲۶۲۰۹) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ وَأَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : کَانَ مُحَمَّدٌ إذَا قِیلَ لَہُ إنَّ فُلاَنًا یُقْرِئُک السَّلاَمَ ، قَالَ : وَعَلَیْک وَعَلَیْہِ السَّلاَمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২০৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مکروہ سمجھے سلام کے جواب میں السلام علیک کہنے کو، یہاں تک کہ علیکم کہا جائے
(٢٦٢١٠) حضرت معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے وصیت فرمائی کہ جب تم کسی آدمی سے ملاقات کرو تو اسے السلام علیک مت کہو، یوں کہو السلام علیکم۔
(۲۶۲۱۰) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ الجلدِ بْنِ أَیُّوبَ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أوْصَانِی أَبِی ، قَالَ : إذَا لَقِیت رَجُلاً فَلاَ تَقُلْ : السَّلاَمُ عَلَیْک ، قُلْ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২১০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مکروہ سمجھے سلام کے جواب میں السلام علیک کہنے کو، یہاں تک کہ علیکم کہا جائے
(٢٦٢١١) حضرت میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابوبکر کو یوں سلام کیا۔ اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ! السلام علیک۔ اس پر حضرت ابوبکر نے فرمایا : ان سب کے درمیان صرف مجھے ؟ !
(۲۶۲۱۱) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ بَیَانٍ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ، أَنَّ رَجُلاً سَلَّمَ عَلَی أَبِی بَکْرٍ فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْک یَا خَلِیفَۃَ رَسُولِ اللہِ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : مِنْ بَیْنِ ہَؤُلاَئِ أَجْمَعِینَ۔
তাহকীক: