মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৬২১১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مکروہ سمجھے سلام کے جواب میں السلام علیک کہنے کو، یہاں تک کہ علیکم کہا جائے
(٢٦٢١٢) حضرت خالد بن ابی الصلت فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین حضرت ابن ھبیرہ کے پاس تشریف لائے اور کہا : السلام علیکم، اس پر حضرت ابن ھبیرہ نے فرمایا : یہ سلام کا کون سا طریقہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا جاتا تھا۔
(۲۶۲۱۲) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِیُّ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أبی الصَّلْتِ ، قَالَ : دَخَلَ ابْنُ سِیرِینَ عَلَی ابْنِ ہُبَیْرَۃَ فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ ، فَقَالَ : ابْنُ ہُبَیْرَۃَ: مَا ہَذَا السَّلاَمُ؟ فَقَالَ: ہَکَذَا کَانَ یُسَلَّمُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (ترمذی ۲۶۸۹۔ ابوداؤد ۵۱۵۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২১২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مکروہ سمجھے سلام کے جواب میں السلام علیک کہنے کو، یہاں تک کہ علیکم کہا جائے
(٢٦٢١٣) حضرت مالک بن اوس بن حدثان فرماتے ہیں کہ حضرت ابو زر شام سے تشریف لائے تو مسجد میں داخل ہوئے، مسجد میں حضرت عثمان موجود تھے۔ آپ نے فرمایا : السلام علیکم۔
(۲۶۲۱۳) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِی أَنَسٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : قدِمَ أَبُو ذَرٍّ مِنَ الشَّامِ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَفِیہِ عُثْمَانُ ، فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২১৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مکروہ سمجھے سلام کے جواب میں السلام علیک کہنے کو، یہاں تک کہ علیکم کہا جائے
(٢٦٢١٤) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر تشریف لائے اور فرمایا : رسول اللہ پر سلام ہو، السلام علیکم۔
(۲۶۲۱۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَسَن ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَائَ عمر إلَی بَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَی رَسُولِ اللہِ ، السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ۔ (بخاری ۱۰۸۵۔ احمد ۱/۳۲۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২১৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مکروہ سمجھے سلام کے جواب میں السلام علیک کہنے کو، یہاں تک کہ علیکم کہا جائے
(٢٦٢١٥) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت مجالد حضرت عمر کو یوں سلام کرتے تھے ۔ اے امیر المؤمنین ! السلام علیک، السلام علیکم، یعنی ان لوگوں پر بھی جو آپ کے پاس ہیں۔
(۲۶۲۱۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، قَالَ : کَانَ یُسَلَّمُ عَلَی عُمَرَ السَّلاَمُ عَلَیْک یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَعْنِی عَلَی مَنْ عِنْدَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২১৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مکروہ سمجھے سلام کے جواب میں السلام علیک کہنے کو، یہاں تک کہ علیکم کہا جائے
(٢٦٢١٦) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ امام محمد یوں کہنے کو مکروہ سمجھتے تھے : السلام علیک، یہاں تک کہ یوں کہا جائے۔ السلام علیکم۔
(۲۶۲۱۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : کَانَ مُحَمَّدٌ یَکْرَہُ أَنْ یَقُولَ السَّلاَمُ عَلَیْک حَتَّی یَقُولَ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২১৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مکروہ سمجھے سلام کے جواب میں السلام علیک کہنے کو، یہاں تک کہ علیکم کہا جائے
(٢٦٢١٧) حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب کوئی آدمی کسی آدمی کو سلام کرے اگرچہ وہ اکیلا بھی ہو تو اس کو یوں کہے : السلام علیکم ، کیونکہ اس کے ساتھ ملائکہ بھی ہوتے ہیں۔
(۲۶۲۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا سَلَّمَ الرَّجُلُ عَلَی الرَّجُلِ ، وَإِنْ کَانَ وَحْدَہُ فَلْیَقُلِ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ - یَعْنِی مَعَہُ الْمَلاَئِکَۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২১৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مکروہ سمجھے سلام کے جواب میں السلام علیک کہنے کو، یہاں تک کہ علیکم کہا جائے
(٢٦٢١٨) حضرت عبد المومن فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سلام کیا جو حضرت مسلم بن یسار کے ساتھ چل رہا تھا ۔ میں نے یوں کہا : السلام علیک، اس پر حضرت مسلم نے مجھ سے فرمایا : رک جاؤ۔ میں نے کہا : میں اس کو جانتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : اگرچہ پہچانتے ہو ۔ جب تم سلام کرو تو یوں کہا کرو : السلام علیکم، اس لیے کہ اس شخص کے ساتھ نگران فرشتے بھی ہوتے ہیں۔
(۲۶۲۱۸) أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ، قَالَ: سَلَّمْت عَلَی رَجُلٍ یَمْشِی مَعَ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ فَقُلْت: السَّلاَمُ عَلَیْک، فَقَالَ لِی مُسْلِمٌ : مَہْ ، فَقُلْت : إنِّی عَرَفْتہ ، فَقَالَ : وَإِنْ إذَا سَلَّمْت فَقُلْ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ ، فَإِنَّ مَعَہُ حَفَظَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২১৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو یوں کہے : کہ فلاں آدمی کو سلام کہہ دینا
(٢٦٢١٩) حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت سلمان کے پاس آیا اور کہنے لگا : بیشک فلاں آدمی نے آپ کو سلام کیا ہے۔ آپ نے پوچھا : کتنے دن پہلے ؟ اس نے دن ذکر کیے آپ نے فرمایا : اگر تم ایسا نہ کرتے تو یہ امانت تھی جس کا ادا کرنا تمہارے لیے ضروری تھا۔
(۲۶۲۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ أَبِی غِفَارٍ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی سَلْمَانَ ، فَقَالَ : إنَّ فُلاَنًا یُقْرِئُک السَّلاَمَ ، فَقَالَ : مُذْ کَمْ ؟ فَذَکَرَ أَیَّامًا فَقَالَ : أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَکَانَتْ أَمَانَۃً تُؤَدِّیہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২১৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو یوں کہے : کہ فلاں آدمی کو سلام کہہ دینا
(٢٦٢٢٠) حضرت عبد الاعلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن حنفیہ نے ایک آدمی کے بارے میں کہا کہ فلاں کو سلام کہہ دینا اور فرمایا : یہ امانت ہے مگر یہ کہ وہ شخص بھول جائے۔
(۲۶۲۲۰) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ؛ فِی الرَّجُلِ یَقُولُ : أقْرِئْ فُلاَنًا السَّلاَمَ ، قَالُوا : ہِیَ أَمَانَۃٌ إلاَّ أَنْ یَنْسَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২২০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو یوں کہے : کہ فلاں آدمی کو سلام کہہ دینا
(٢٦٢٢١) حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابومجلز سے پوچھا کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کو یوں کہنا : کہ فلاں کو سلام کہہ دینا اور کوئی حرج نہیں ۔ آپ نے فرمایا : یہ امانت ہوگی اور جب یوں کہے۔ میں تمہاری طرف سے سلام پہنچا دوں ؟ آپ نے فرمایا : اس میں گنجائش ہوگی۔
(۲۶۲۲۱) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : قُلْتُ لأَبِی مِجْلَزٍ : قَوْلُ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ : أَقْرِئْ فُلاَنًا السَّلاَمَ ، وَلاَ حَرَجَ ، قَالَ : ہِیَ أَمَانَۃٌ ، وَإذَا قَالَ : أُبَلِّغُ عَنْک ، کَانَ فِی سَعَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২২১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص علیک السلام کہنے کو مکروہ سمجھے
(٢٦٢٢٢) حضرت ابو جری الہجیمی فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں نے یوں کہا : علیک السلام، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علیک السلام، مت کہو۔ اس لیے کہ علیک السلام تو مردوں کا سلام ہے۔
(۲۶۲۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ أَبِی غِفَارٍ ، عَنْ أَبِی تَمِیمَۃَ الْہُجَیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی جُرَیٍّ الْہُجَیْمِیِّ ، قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْت : عَلَیْک السَّلاَمُ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : لاَ تَقُلْ : عَلَیْک السَّلاَمُ ، فَإِنَّ عَلَیْک السَّلاَمُ تَحِیَّۃُ الْمَوْتَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২২২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص علیک السلام کہنے کو مکروہ سمجھے
(٢٦٢٢٣) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یوں سلام کیا : علیک السلام یا نبی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ناپسند کیا اور ارشاد فرمایا : یہ تو مردوں کا سلام ہے۔
(۲۶۲۲۳) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، أَنَّ رَجُلاً سَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : عَلَیْک السَّلاَمُ یَا نبی اللہِ ، فَکَرِہَ ذَلِکَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : تِیکَ تَحِیَّۃُ الْمَوْتَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২২৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص علیک السلام کہنے کو مکروہ سمجھے
(٢٦٢٢٤) حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس یوں سلام کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔ علیکم السلام، فرماتے : بیشک یوں کہے، سلام علی المرسلین۔
(۲۶۲۲۴) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَقُولَ : عَلَیْکُمُ السَّلاَمُ ، إنَّمَا قَالَ : {وَسَلاَمٌ عَلَی الْمُرْسَلِینَ}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২২৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی سے جب بھی ملتا ہے تو سلام کرتا ہے
(٢٦٢٢٥) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن ابی زکریا کے ساتھ روم کے علاقہ میں سفر کررہا تھا کہ میری سواری کے جانور کو پیشاب آیا تو اس جانور نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، پھر میں دوبارہ آپ کے ساتھ جا ملا۔ آپ نے فرمایا : تم نے سلام کیوں نہیں کیا ؟ میں نے عرض کیا : میں ابھی تو آپ سے جدا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا : اگرچہ ابھی تم مجھ سے جدا ہوئے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ سفر کر رہے ہوتے تھے کہ ان کے درمیان درخت جدائی کردیتے تھے جب وہ دوبارہ اکٹھے ہوتے تو ان میں سے بعض بعض کو سلام کرتے تھے۔
(۲۶۲۲۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : کُنْتُ أَسِیرُ مَعَ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی زَکَرِیَّا فِی أَرْضِ الرُّومِ ، فَبَالَتْ دَابَّتِی ، فَقَامَتْ فَبَالَتْ ، فَلَحِقْتُہُ فَقَالَ : أَلاَ سَلَّمْتَ ؟ فَقُلْت : إنَّمَا فَارَقْتُک الآنَ ، قَالَ : وَإِنْ فَارَقْتَنِی ، کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَسَایَرُونَ فَتَفْرُقُ بَیْنَہُمُ الشَّجَرَۃُ فَیَلْتَقُونَ فَیُسَلِّمُ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২২৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی سے جب بھی ملتا ہے تو سلام کرتا ہے
(٢٦٢٢٦) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے دو آدمی اکٹھے سفر کر رہے تھے کہ ان کے درمیان کوئی درخت تفریق کردیتا پھر جب وہ دوبارہ ملتے تو ان میں سے ایک دوسرے پر سلام کرتا تھا۔
(۲۶۲۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : کَانَ الرَّجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَسَایَرَانِ فَتَفْرُقُ بَیْنَہُمَا الشَّجَرَۃُ فَیَلْتَقِیَانِ فَیُسَلِّمُ أَحَدُہُمَا عَلَی الآخَرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২২৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی سے جب بھی ملتا ہے تو سلام کرتا ہے
(٢٦٢٢٧) حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو البختری اور حضرت سعید بن جبیر ، دونوں کو پیٹ کی تکلیف ہو رہی تھی، یہ دونوں واپس آتے ، اور دوبارہ ایک دوسرے کو سلام کرتے۔
(۲۶۲۲۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ أَنَّہُمَا کَانَا یَشْکِیَانِ بُطُونَہُمَا فَیَجِیئَانِ فَیُسَلِّمَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২২৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی سے جب بھی ملتا ہے تو سلام کرتا ہے
(٢٦٢٢٨) حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم مجھ سے جدا نہیں ہوتے مگر سلام کر کے ، میں آتا پھر میں جاتا تو وہ مجھے سلام کرتے، پھر میں آتا پھر میں جاتا تو وہ مجھے سلام کرتے۔
(۲۶۲۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : کَانَ لاَ یُفَارِقُنِی إلاَّ عَلَی سَلاَمٍ ، أَجِیئُ ، ثُمَّ أَذْہَبُ فَیُسَلِّمُ عَلَیَّ ، ثُمَّ أَجِیئُ ، ثُمَّ أَذْہَبُ فَیُسَلِّمُ عَلَیَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২২৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی سے جب بھی ملتا ہے تو سلام کرتا ہے
(٢٦٢٢٩) حضرت عوّام فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم تیمی نے ارشاد فرمایا : اگر مسلمانوں کا ایک آدمی اپنے ساتھی سے جدا ہوجائے اور ان دونوں کے درمیان ایک درخت حائل ہو اور پھر وہ دوبارہ ملیں تو یہ اپنے ساتھی کو سلام کرے۔
(۲۶۲۲۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، قَالَ : إِنْ کَانَ الرَّجُلُ مِنْہُمْ لَیُفَارِقُ صَاحِبَہُ ، مَا یَحُولُ بَیْنَہُ إلاَّ شَجَرَۃٌ ، ثُم یَلقَاہُ فَیُسَلِّمُ عَلَیہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২২৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سلام کے وقت مصافحہ کرنے کی رخصت دی ہے
(٢٦٢٣٠) حضرت سماک فرماتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان مصافحہ پر بات چیت ہو رہی تھی کہ حضرت نعمان بن حمید نے فرمایا : کہ میں اپنے ماموں حضرت عباد بن شرحبیل کے ساتھ حضرت سلمان پر داخل ہوا جب آپ نے ان کو دیکھا تو حضرت سلمان نے ان سے مصافحہ کیا۔
(۲۶۲۳۰) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، قَالَ : تَذَاکَرُوا الْمُصَافَحَۃَ فَقَالَ النُّعْمَانُ بْنُ حُمَیْدٍ : دَخَلْت عَلَی سَلْمَانَ مَعَ خَالِی عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِیلَ ، فَلَمَّا رَآہُ صَافَحَہُ سَلْمَانُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৩০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سلام کے وقت مصافحہ کرنے کی رخصت دی ہے
(٢٦٢٣١) حضرت برائ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : دو مسلمان آپس میں ملاقات نہیں کرتے، پھر وہ مصافحہ کرتے ہیں، مگر یہ کہ ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت کردی جاتی ہے۔
(۲۶۲۳۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، وَابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِ یَلْتَقِیَانِ فَیَتَصَافَحَانِ إلاَّ غُفِرَ لَہُمَا قَبْلَ أَنْ یَتَفَرَّقَا۔

(ابوداؤد ۵۱۷۰۔ ابن ماجہ ۳۷۰۳)
tahqiq

তাহকীক: