মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৬৩১১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہنے کو مکروہ سمجھے : زعموا۔ انھوں نے گمان کیا
(٢٦٣١٢) حضرت یحییٰ بن ھانی فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے کہا : اے میرے بیٹے : اپنے کلام میں دو لفظوں کو استعمال کرنے سے بچو ۔ اور وہ یہ ہیں۔ ” زعموا “ اور ” سوف “ ۔
(۲۶۳۱۲) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ ہَانِئٍ ، قَالَ : قَالَ لِی أَبِی : یَا بُنَیَّ ، ہَبْ لِی من الْحَدِیثِ زَعَمُوا وَسَوْفَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩১২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یوں کہنے کو مکروہ سمجھے : زعموا۔ انھوں نے گمان کیا
(٢٦٣١٣) حضرت یحییٰ بن وثاب فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے مجھ سے فرمایا : بیشک ” زعموا “ جھوٹ کی کنیت ہے۔
(۲۶۳۱۳) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ وَثَّابٍ ، قَالَ : قَالَ لِی شُرَیْحٌ : إنَّ زَعَمُوا کُنْیَۃُ الْکَذِبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩১৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے لفظ ” زعموا “ کے استعمال میں رخصت دی
(٢٦٣١٤) حضرت حبیب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو قلابہ سے سوال کیا ؟ تو آپ نے فرمایا : ” زعموا “ ۔
(۲۶۳۱۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ حَبِیبٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا قِلاَبَۃَ فَقَالَ : زَعَمُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩১৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے لفظ ” زعموا “ کے استعمال میں رخصت دی
(٢٦٣١٥) حضرت قرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن کو بارہا یوں فرماتے ہوئے سنا : ” زعموا واللّٰہ “۔
(۲۶۳۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ قُرَّۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ یَقُولُ : زَعَمُوا وَاللَّہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩১৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے لفظ ” زعموا “ کے استعمال میں رخصت دی
(٢٦٣١٦) حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا : کیا گھڑوں میں بنی ہوئی نبیذ سے منع کیا گیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ان لوگوں نے یوں کہا اور لفظ ” زعموا “ کا استعمال فرمایا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے پوچھا : کیا آپ نے یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ان لوگوں نے یوں کہا ہے۔ اور لفظ ” زعموا “ کا آپ نے استعمال فرمایا۔
(۲۶۳۱۶) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : أَنُہِیَ ، عَنْ نَبِیذِ الْجَرِّ ، فَقَالَ : زَعَمُوا ذَلِکَ ، قَالَ : قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتہ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : زَعَمُوا ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩১৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے لفظ ” زعموا “ کے استعمال میں رخصت دی
(٢٦٣١٧) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ؟ تو آپ فرماتے : ان لوگوں نے یوں کہا : اور لفظ ” زعموا “ کا استعمال فرماتے۔
(۲۶۳۱۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ شَیْئٍ فَقَالَ : زَعَمُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩১৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے لفظ ” زعموا “ کے استعمال میں رخصت دی
(٢٦٣١٨) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جو سواری پر وتر پڑھ لے ؟ آپ نے فرمایا : لوگ یوں کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر زمین پر وتر پڑھتے تھے اور آپ نے لفظ ” زعموا “ کا استعمال فرمایا۔
(۲۶۳۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْقَاسِمَ عَنِ الرَّجُلِ یُوتِرُ عَلَی رَاحِلَتِہِ ، قَالَ : زَعَمُوا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یُوتِرُ بِالأَرْضِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩১৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس سے یوں پوچھا جائے۔ تو نے کیسے صبح کی ؟
(٢٦٣١٩) حضرت ابو عمرہ فرماتے ہیں کہ پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے کس حالت میں صبح کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خیریت کے ساتھ اس قوم میں جو جنازے میں حاضر نہیں ہوتے اور نہ ہی مریض کی عیادت کرتے ہیں۔
(۲۶۳۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِیِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنِ ابْنِ أبی عَمْرَۃ ، قَالَ : قیلَ یَا رَسُولَ اللہِ ، کَیْفَ أَصْبَحْت ؟ قَالَ : بِخَیْرٍ مِنْ قَوْمٍ لَمْ یَشْہَدُوا جِنَازَۃً وَلَمْ یَعُودُوا مَرِیضًا۔

(طبرانی ۷۳۲۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩১৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس سے یوں پوچھا جائے۔ تو نے کیسے صبح کی ؟
(٢٦٣٢٠) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے کس حالت میں صبح کی ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خیر کے ساتھ اس آدمی سے بہتر جس نے صبح نہیں کی روزے دار کی حالت میں اور نہ کسی بیمار کی عیادت کی۔
(۲۶۳۲۰) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قُلْتُ: کَیْفَ أَصْبَحْت یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : بِخَیْرٍ مِنْ رَجُلٍ لَمْ یُصْبِحْ صَائِمًا وَلَمْ یَعُدْ سَقِیمًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩২০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس سے یوں پوچھا جائے۔ تو نے کیسے صبح کی ؟
(٢٦٣٢١) حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا : آپ نے کس حال میں صبح کی ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کی نعمتوں کے ساتھ۔
(۲۶۳۲۱) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَیْثَمَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ : کَیْفَ أَصْبَحْت ؟ قَالَتْ : بِنِعْمَۃٍ مِنَ اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩২১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس سے یوں پوچھا جائے۔ تو نے کیسے صبح کی ؟
(٢٦٣٢٢) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں حضرت عامر شعبی کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ وہ اپنے گھر کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے، تو میں نے پوچھا : آپ کیسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جب حضرت شریح سے پوچھا جاتا کہ آپ کیسے ہیں ؟ تو وہ فرماتے : اس کی نعمتوں میں ہوں، اپنی شہادت کی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کرتے تھے۔
(۲۶۳۲۲) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : مَرَرْت بِعَامِرٍ الشَّعْبِیِّ وَہُوَ جَالِسٌ بِفِنَائِہِ فَقُلْت : کَیْفَ أَنْتَ؟ فَقَالَ : کَانَ شُرَیْحٌ إذَا قِیلَ لَہُ : کَیْفَ أَنْتَ ؟ قَالَ : بِنِعْمَۃٍ وَمَدَّ إصْبَعَہُ السَّبَّابَۃَ إلَی السَّمَائِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩২২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس سے یوں پوچھا جائے۔ تو نے کیسے صبح کی ؟
(٢٦٣٢٣) حضرت بکیر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابو تمیمہ الہجیمی سے پوچھا : آپ کیسے ہیں ؟ ّآپ نے فرمایا : دو نعمتوں کے درمیان ہوں : ایک تو چھپے ہوئے گناہوں کے درمیان ہوں اور ایسی تعریف کے درمیان ہوں کہ ان لوگوں میں سے کوئی بھی اس کو نہیں جانتا اور اللہ کی قسم میں بھی اس تک نہیں پہنچا اور نہ میں اس قابل ہوں۔
(۲۶۳۲۳) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی بَکْرٌ ، قَالَ : قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لأَبِی تَمِیمَۃَ الہُجَیمِی : کَیْفَ أَنْتُمْ ؟ قَالَ : بَیْنَ نِعْمَتَیْنِ : بَیْنَ ذَنْبٍ مَسْتُورٍ ، وَثَنَائٍ لاَ یَعْلَمُ بِہِ أَحَدٌ مِنْ ہَؤُلاَئِ النَّاسِ ، وَاللَّہِ مَا بَلَغْتُہُ ، وَلاَ أَنَا بِذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩২৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس سے یوں پوچھا جائے۔ تو نے کیسے صبح کی ؟
(٢٦٣٢٤) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم کو سلام کیا جاتا تو آپ یوں جواب دیتے وعلیکم اور جب ان سے پوچھا جاتا : آپ کیسے ہیں ؟ تو آپ جواب دیتے اللہ کی نعمت میں ہوں۔
(۲۶۳۲۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ إبْرَاہِیمَ وَسُلِّمَ عَلَیْہِ فَقَالَ : وَعَلَیْکُمْ ، فقیل لہ : کَیْفَ أَنْتَ ؟ قَالَ : بِنِعْمَۃٍ مِنَ اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩২৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس سے یوں پوچھا جائے۔ تو نے کیسے صبح کی ؟
(٢٦٣٢٥) حضرت اسماعیل بن ابی خالد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے امام شعبی سے پوچھا : اے ابو عمرو ! آپ نے کس حالت میں صبح کی ؟ آپ نے فرمایا : نعمتوں میں۔ میں نے پوچھا : کس کی نعمت میں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کی نعمتوں میں۔
(۲۶۳۲۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا إبْرَاہِیمُ بْنُ حُمَیْدٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، أَنَّ رَجُلاً ، قَالَ لَہُ : کَیْفَ أَصْبَحْت یَا أَبَا عَمْرٍو ؟ فَقَالَ : بِنِعْمَۃٍ ، قُلْتُ : مِمَّنْ ؟ قَالَ : مِنَ اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩২৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس سے یوں پوچھا جائے۔ تو نے کیسے صبح کی ؟
(٢٦٣٢٦) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی سے جب بیماری کی حالت میں پوچھا جاتا کہ آپ کیسے ہیں ؟ آپ فرماتے بہت بری حالت میں اور یہ آیت تلاوت فرماتے۔ ترجمہ : اور ہم تمہیں آزمائیں گے خیر اور شر کے ساتھ۔
(۲۶۳۲۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ إذَا سُئِلَ وَہُوَ مَرِیضٌ ، کَیْفَ أَنْتَ ؟ قَالَ : بِشَرٍّ : وَقَرَأَ ہَذِہِ الآیَۃَ : {وَنَبْلُوکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩২৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس سے یوں پوچھا جائے۔ تو نے کیسے صبح کی ؟
(٢٦٣٢٧) حضرت ایوب فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ حضرت عکرمہ سے مدینہ میں ملا، اور پوچھا : آپ کیسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : بری حالت میں ہوں، میرے دونوں ہاتھ پھٹے ہوئے ہیں اور میں اس طرح اور اس طرح ہوں۔ راوی فرماتے ہیں کہ آپ اس آیت کی تاویل کرتے تھے۔ { وَنَبْلُوکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً وَإِلَیْنَا تُرْجَعُونَ }۔
(۲۶۳۲۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، قَالَ : لَقِیَ رَجُلٌ عِکْرِمَۃَ بِالْمَدِینَۃِ فَقَالَ : کَیْفَ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا بِشَرٍّ یَدَایَ مُتَشَقِّقَتَانِ وَأَنَا کَذَا وَأَنَا وَکَذَا، قَالَ: وَکَانَ یَتَأَوَّلُ ہَذِہِ الآیَۃَ: {وَنَبْلُوکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً وَإِلَیْنَا تُرْجَعُونَ}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩২৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس سے یوں پوچھا جائے۔ تو نے کیسے صبح کی ؟
(٢٦٣٢٨) حضرت عطاء بن مبارک فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبد الرحمن سلمی سے جب پوچھا جاتا : کہ آپ کیسے ہیں ؟ تو آپ فرماتے خیریت کے ساتھ اور ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو البختری کے سامنے یہ ذکر کیا تو آپ نے تین مرتبہ فرمایا : انھوں نے یہ طریقہ کہاں سے لیا ؟
(۲۶۳۲۸) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیّ کَانَ إذَا قِیلَ لَہُ : کَیْفَ أَنْتَ ؟ قَالَ : بِخَیْرٍ نَحْمَدُ اللَّہَ ، قَالَ عَطَائٌ : فَذَکَرْت ذَلِکَ لأَبِی الْبَخْتَرِیِّ فَقَالَ : أَنَّی أَخْذُہَا ؟ ثَلاَثًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩২৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس سے یوں پوچھا جائے۔ تو نے کیسے صبح کی ؟
(٢٦٣٢٩) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ ایک آدمی امام محمد سے ملا اور پوچھا : آپ کیسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : بہت بری حالت میں ہوں۔ مجھے بھوک لگتی ہے اور میں اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ میں سیر ہو سکوں اور مجھے پیاس لگتی ہے اور میں طاقت نہیں رکھتا کہ میں پیاس بجھا لوں۔
(۲۶۳۲۹) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : لَقِیَ رَجُلٌ مُحَمَّدًا فَقَالَ : کَیْفَ أَنْتَ ؟ قَالَ : بِشَرٍّ ، أَجُوعُ فَلاَ أَسْتَطِیعُ أَنْ أَشْبَعَ ، وَأَعْطَشُ فَلاَ أَسْتَطِیعُ أَنْ أُرْوَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩২৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے پیچھے چلنے کو ناپسند سمجھے
(٢٦٣٣٠) حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا : صحابہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ ان کے پیچھے چلا جائے ۔
(۲۶۳۳۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یَکْرَہُونَ أَنْ تُوطَأَ أَعْقَابُہُمْ۔ (دارمی ۵۲۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩৩০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے پیچھے چلنے کو ناپسند سمجھے
(٢٦٣٣١) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی نہیں دیکھا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٹیک لگا کر کھانا کھایا ہو اور نہ ہی کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے دو آدمی چلے۔
(۲۶۳۳۱) حَدَّثَنَا سُوَیْد بْنُ عَمْرٍو الْکَلْبِیُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عنْ شُعَیْبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : مَا رُئِیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْکُلُ مُتَّکِئًا قَطُّ ، وَلاَ یَطَأُ عَقِبَیہِ رَجُلاَنِ۔

(ابوداؤد ۳۷۶۴۔ احمد ۲/۱۶۵)
tahqiq

তাহকীক: