মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৬৩৫১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو ایسے گھر میں داخل ہو جس میں کوئی نہ ہو
(٢٦٣٥٢) حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ نے ارشاد فرمایا : جب تم ایسے گھر میں داخل ہو جس میں کوئی نہ ہو تو تم یوں کہو : (السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ ) سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔
(۲۶۳۵۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : إذَا دَخَلْت بَیْتًا لَیْسَ فِیہِ أَحَدٌ فَقُلْ : السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৫২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو ایسے گھر میں داخل ہو جس میں کوئی نہ ہو
(٢٦٣٥٣) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے اس آدمی کے بارے میں جو کسی گھر یا مسجد میں داخل ہو اور وہاں کوئی نہ ہو یوں ارشاد فرمایا : کہ وہ شخص یوں کہے۔ (السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ ) ۔
(۲۶۳۵۳) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ فِی الرَّجُلِ یَدْخُلُ فِی الْبَیْتِ ، أَوْ فِی الْمَسْجِدِ لَیْسَ فِیہِ أَحَدٌ ، قَالَ : یَقُولُ : السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৫৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو ایسے گھر میں داخل ہو جس میں کوئی نہ ہو
(٢٦٣٥٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ تم یہ کہو : ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو۔
(۲۶۳۵۴) حَدَّثَنَا أَبو الأَحوص ، عَن مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : قُل : السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৫৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو ایسے گھر میں داخل ہو جس میں کوئی نہ ہو
(٢٦٣٥٥) حضرت ابو سنان فرماتے ہیں کہ حضرت ماھان نے اللہ رب العزت کے اس قول : { فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ تَحِیَّۃً مِنْ عِنْدِ اللہِ مُبَارَکَۃً طَیِّبَۃً } کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا : کہ وہ آدمی یوں سلام کرے : (السَّلاَمُ عَلَیْنَا مِنْ رَبِّنَا) ہم پر ہمارے رب کی طرف سے سلامتی ہو۔
(۲۶۳۵۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی سِنَانٍ ، عَنْ مَاہَانَ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی : {فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ تَحِیَّۃً مِنْ عِنْدِ اللہِ مُبَارَکَۃً طَیِّبَۃً} قَالَ : تَقُولُ : السَّلاَمُ عَلَیْنَا مِنْ رَبِّنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৫৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو ایسے گھر میں داخل ہو جس میں کوئی نہ ہو
(٢٦٣٥٦) حضرت عبدالکریم فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد یوں فرماتے تھے : السَّلاَمُ عَلَیْنَا، وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ ۔
(۲۶۳۵۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ عَبْدِالْکَرِیمِ، عَنْ مُجَاہِدٍ، قَالَ: تَقُولُ: السَّلاَمُ عَلَیْنَا، وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৫৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو ایسے گھر میں داخل ہو جس میں کوئی نہ ہو
(٢٦٣٥٧) حضرت عبد الکریم فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا : جب تم کسی گھر میں داخل ہو جہاں کوئی بھی نہ ہو تو تم یوں کہو : ” اللہ کے نام کے ساتھ داخل ہوتا ہوں ۔ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو۔ “
(۲۶۳۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : إِذَا دَخَلْتَ بَیْتًا ، لَیْسَ فِیہِ أَحَدٌ ، فَقُلْ بِسْمِ اللہِ ، الْحَمْدُ لِلَّہِ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا ، وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৫৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو ایسے گھر میں داخل ہو جس میں کوئی نہ ہو
(٢٦٣٥٨) حضرت عبد الملک فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ نے ارشاد فرمایا : جب گھر میں کوئی نہ ہو تو یوں کہا کرو۔ السلام علینا من ربنا۔ ہم پر ہمارے رب کی طرف سے سلامتی ہو۔
(۲۶۳۵۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ: إذَا لَمْ یَکُنْ فِیہِ أَحَدٌ فَقُلْ: السَّلاَمُ عَلَیْنَا مِنْ رَبِّنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৫৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو یوں خط لکھے : اللہ کے نام کے ساتھ فلاں شخص کے لیے
(٢٦٣٥٩) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر کو خط میں یوں لکھا : اللہ کے نام کے ساتھ فلاں شخص کے لیے، اس پر حضرت ابن عمر نے فرمایا : رک جاؤ۔ یقیناً اللہ کا نام صرف اسی کے لیے خاص ہے۔
(۲۶۳۵۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ: حدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، أَنَّ رَجُلاً کَتَبَ لابْنِ عُمَرَ: بِسْمِ اللہِ لِفُلاَنٍ، فَقَالَ : ابْنُ عُمَرَ : مَہْ ، إنَّ اسْمَ اللہِ ہُوَ لَہُ وَحْدَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৫৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو یوں خط لکھے : اللہ کے نام کے ساتھ فلاں شخص کے لیے
(٢٦٣٦٠) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم خط کے شروع میں یوں لکھنے کو مکروہ سمجھتے تھے ۔ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم لفلان۔ اور اس کو پتہ کے شروع میں لکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(۲۶۳۶۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ یُکْرَہُ أَنْ یُکْتَبَ أَوَّلَ الرِّسَالَۃِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ لِفُلاَنٍ ، وَلاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یُکْتَبَ فِی أول والعُنْوان۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৬০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو یوں خط لکھے : اللہ کے نام کے ساتھ فلاں شخص کے لیے
(٢٦٣٦١) حضرت حمید فرماتے ہیں کہ حضرت بکر نے ارشاد فرمایا : یوں لکھا کرو۔ (الی فلان) فلاں آدمی کی طرف ، یوں مت لکھا کرو ۔ لِفلان۔ یعنی فلاں آدمی کے لیے۔
(۲۶۳۶۱) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ، عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ بَکْرٍ، قَالَ: أکْتُبْ إلَی فُلاَنٍ، وَلاَ أکْتُبْ لِفُلاَنٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৬১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو یوں خط لکھے : اللہ کے نام کے ساتھ فلاں شخص کے لیے
(٢٦٣٦٢) حضرت دینار فرماتے ہیں کہ حضرت ابن حنفیہ نے ارشاد فرمایا : کہ بسم اللّٰہ لفلان لکھنے میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
(۲۶۳۶۲) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَمَانٍ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ سَلمان ، عَنْ دِینَارٍ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَکْتُبَ : بِسْمِ اللہِ لِفُلاَنٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৬২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو یوں خط لکھے : اللہ کے نام کے ساتھ فلاں شخص کے لیے
(٢٦٣٦٣) امام شعبی سے مذکورہ ارشاد اس سند سے منقول ہے۔
(۲۶۳۶۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَمَانٍ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ مِثْلُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৬৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی آدمی کو خط لکھنا چاہتا ہے تو وہ کیسے خط لکھے
(٢٦٣٦٤) حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم جب خط لکھتے تو یوں لکھتے : السلام علیک۔ ترجمہ : اس میں میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور وہی حمد کا اہل ہے۔ اس کی ذات بابرکت اور بلند ہے۔ اس ہی کا ملک اور اس ہی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
(۲۶۳۶۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّہُ قَالَ : إذَا کَتَبَ کَتَبَ : السَّلاَمُ عَلَیْک فِیمَا أَحْمَدُ اللَّہَ الَّذِی لاَ إلَہَ إلاَّ ہُوَ وَہُوَ لِلْحَمْدِ أَہْلٌ تَبَارَکَ وَتَعَالَی : {لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৬৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو خط میں ” اما بعد “ لکھے
(٢٦٣٦٥) حضرت محمد بن سوقہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت نعیم بن ابی ھند کے پاس آیا تو آپ نے مجھے ایک صحیفہ نکال کر دکھایا اس میں یوں لکھا ہوا تھا۔ ابو عبیدہ بن جراح اور معاذ بن جبل کی جانب سے حضرت عمر بن خطاب کی طرف ۔ آپ پر سلامتی ہو ۔ اما بعد : حمدو صلوۃ کے بعد اور پھر جب حضرت عمر نے ان دونوں کو خط کا جواب لکھا تو وہ یوں تھا۔ عمر بن خطاب کی جانب سے حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت معاذ بن جبل کی طرف، تم دونوں پر سلام ہو، اما بعد۔
(۲۶۳۶۵) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَۃَ ، قَالَ : أَتَیْتُ نُعَیْمَ بْنَ أَبِی ہِنْدٍ فَأَخْرَجَ إلَیَّ صَحِیفَۃً فَإِذَا فِیہَا مِنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ إلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ سَلاَمٌ عَلَیْک أَمَّا بَعْدُ فَکَتَبَ إلَیْہِمَا مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ سَلاَمٌ عَلَیْکُمَا أَمَّا بَعْدُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৬৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو خط میں ” اما بعد “ لکھے
(٢٦٣٦٦) امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے حضرت معاویہ کی طرف خط لکھا تو اس میں لکھا : اما بعد۔
(۲۶۳۶۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِیحٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : کَتَبَتْ عَائِشَۃُ إلَی مُعَاوِیَۃَ : أَمَّا بَعْدُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৬৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو خط میں ” اما بعد “ لکھے
(٢٦٣٦٧) حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بیان کیا جس نے حضرت عثمان کا خط پڑھا یا اس پر حضرت عثمان کا خط پڑھا گیا۔ آپ نے یوں لکھا تھا، اما بعد۔
(۲۶۳۶۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَنْ قَرَأَ کِتَابَ عُثْمَانَ ، أَوْ مَنْ قُرِیء عَلَیْہِ: أَمَّا بَعْدُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৬৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو خط میں ” اما بعد “ لکھے
(٢٦٣٦٨) حضرت عبدہ بن سلیمان فرماتے ہیں کہ حضرت ہشام بن عروہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوط پڑھے جب بھی کوئی بات ختم ہوتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ” اما بعد “
(۲۶۳۶۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، قَالَ : قرَأْت رَسَائِلَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کُلَّمَا انْقَضَتْ قِصَّۃٌ ، قَالَ : أَمَّا بَعْدُ۔ (بخاری ۷۔ مسلم ۱۳۹۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৬৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو خط میں ” اما بعد “ لکھے
(٢٦٣٦٩) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت زیاد نے ارشاد فرمایا : بیشک حضرت داؤد کو یہ فصل خطاب عطا کیا گیا تھا ” اما بعد “۔
(۲۶۳۶۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرًا یَقُولُ : قَالَ زِیَادٌ : إنَّ فَصْلَ الْخِطَابِ الَّذِی أُعْطِیَ دَاوُد أَمَّا بَعْدُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৬৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو خط میں ” اما بعد “ لکھے
(٢٦٣٧٠) حضرت جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے خط میں یوں لکھا ” امابعد “ پھر ارشاد فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوط میں بھی یوں لکھا ہوتا تھا ” اما بعد “۔
(۲۶۳۷۰) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، أَنَّہُ کَتَبَ فِی رِسَالَۃٍ: أَمَّا بَعْدُ ، ثُمَّ قَالَ : کَانَ فِی رَسَائِلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَّا بَعْدُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৭০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو خط میں ” اما بعد “ لکھے
(٢٦٣٧١) حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے حضرت ابن عمر کے پاس بھیجا میں نے ان کو دیکھا کہ وہ خط لکھ رہے تھے اور یوں لکھا کہ : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ أَمَّا بَعْدُ ۔
(۲۶۳۷۱) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : أَرْسَلَنِی أَبِی إلَی ابْنِ عُمَرَ فَرَأَیْتہ یَکْتُبُ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ أَمَّا بَعْدُ۔
তাহকীক: