মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৬৩৯১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی نصرانی کو کاتب بنانے کا بیان
(٢٦٣٩٢) حضرت ابو الدھقانہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب سے کہا گیا : بیشک یہاں اہل حیرہ کا ایک لڑکا ہے۔ اس سے زیادہ مضبوط حافظہ والا اور اس سے اچھا کوئی بھی کاتب نہیں دیکھا گیا۔ اگر آپ کی رائے ہو تو آپ اس کو اپنے امور کے لیے کاتب رکھ لیں ؟ جب بھی آپ کو ضرورت ہوگی وہ آپ کے پاس حاضر ہوجائے گا۔ حضرت عمر نے فرمایا؛ تحقیق اس صورت میں تو میں مومنین کے علاوہ کسی اور کو ہم نشین بنانے والا ہوں گا۔
(۲۶۳۹۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی الزِّنْبَاعِ ، عَنْ أَبِی الدِّہْقَانَۃِ ، قَالَ : قیلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : إنَّ ہَاہُنَا غُلاَمًا مِنْ أَہْلِ الْحِیرَۃِ ، لَمْ یُرَ قَطُّ أَحْفَظُ مِنْہُ ، وَلاَ أَکْتُبُ مِنْہُ ، فَإِنْ رَأَیْت أَنْ تَتَّخِذَہُ کَاتِبًا بَیْنَ یَدَیْک، إذَا کَانَتْ لَکَ الْحَاجَۃُ شَہِدَک، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: قَدِ اتَّخَذْت إذًا بِطَانَۃً مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৯২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی نصرانی کو کاتب بنانے کا بیان
(٢٦٣٩٣) حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کا کاتب نصرانی تھا۔
(۲۶۳۹۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِیِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : کَانَ لِعَبْدِ اللہِ کَاتِبٌ نَصْرَانِیٌّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৯৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی نصرانی کو کاتب بنانے کا بیان
(٢٦٣٩٤) حضرت عیاض اشعری فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ کا کاتب نصرانی تھا۔
(۲۶۳۹۴) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِیَاضٍ الأَشْعَرِیِّ ، أَنَّ أَبَا مُوسَی کَانَ لَہُ کَاتِبٌ نَصْرَانِیٌّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৯৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کا کوئی کاتب ہو اور جس نے کاتب رکھ لینے میں رخصت دی
(٢٦٣٩٥) حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت ابوبکر کا خط آیا ۔ اس حال میں کہ ہم قادسیہ میں تھے تو حضرت عبداللہ بن ارقم نے اس کا جواب لکھا۔
(۲۶۳۹۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، قَالَ : جَائَنَا کِتَابُ أَبِی بَکْرٍ وَنَحْنُ بِالْقَادِسِیَّۃِ ، وَکَتَبَ عَبْدُ اللہِ بْنُ الأَرْقَمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৯৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کا کوئی کاتب ہو اور جس نے کاتب رکھ لینے میں رخصت دی
(٢٦٣٩٦) حضرت حسن بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عبید اللہ بن ابو رافع جو حضرت علی کے کاتب ہیں انھوں نے آپ کو خبر دی۔
(۲۶۳۹۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أنَّ عُبَیْدَ اللہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ کَاتِبِ عَلِیٍّ أَخْبَرَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৯৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کا کوئی کاتب ہو اور جس نے کاتب رکھ لینے میں رخصت دی
(٢٦٣٩٧) حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے ان سے ارشاد فرمایا : کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے وحی بھی لکھا کرتے تھے، پس تم ہی قرآن کو جمع کرو، تو میں نے قرآن لکھا۔
(۲۶۳۹۷) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ إسْمَاعِیلَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ أَبَا بَکْرٍ، قَالَ لَہُ: قدْ کُنْتَ تَکْتُبُ الْوَحْیَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاجْمَعِ الْقُرْآنَ فَاکْتُبْہُ۔
(بخاری ۴۶۷۹۔ ترمذی ۳۱۰۳)
(بخاری ۴۶۷۹۔ ترمذی ۳۱۰۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৯৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کا کوئی کاتب ہو اور جس نے کاتب رکھ لینے میں رخصت دی
(٢٦٣٩٨) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت جابر نے حضرت علی کے کاتب سے روایت نقل فرمائی۔
(۲۶۳۹۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ کَاتِبٍ لِعَلِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৯৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کا کوئی کاتب ہو اور جس نے کاتب رکھ لینے میں رخصت دی
(٢٦٣٩٩) حضرت مسیب بن رافع فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت وراد نے حدیث بیان کی جو حضرت مغیرہ بن شعبہ کے کاتب تھے۔
(۲۶۳۹۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: حدَّثَنِی وَرَّادٌ کَاتِبُ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৯৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کا کوئی کاتب ہو اور جس نے کاتب رکھ لینے میں رخصت دی
(٢٦٤٠٠) بجالہ کہتے ہیں کہ میں جزی بن معاویہ کا کاتب تھا۔
(۲۶۴۰۰) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ بَجَالَۃَ ، قَالَ : کُنت کَاتِبًا لِجَِزِی بْنِ مُعَاوِیَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪০০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کا کوئی کاتب ہو اور جس نے کاتب رکھ لینے میں رخصت دی
(٢٦٤٠١) حضرت حاتم بن ابی مغیرہ حضرت عطیہ سے روایت نقل کرتے ہیں جو حضرت عبداللہ بن مطرف کے کاتب تھے۔
(۲۶۴۰۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بَکْرٍ السَّہْمِیُّ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِی صَغِیرَۃَ ، عَنْ عَطِیَّۃَ ، کَاتِبٍ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ مُطَرِّفٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪০১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص خط لکھے تو اپنی ذات سے ابتدا کرے
(٢٦٤٠٢) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت علاء بن الحضرمی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خط لکھا تو آپ نے اپنی ذات سے ابتدا کی۔
(۲۶۴۰۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ مَنصُور ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، أَنَّ الْعَلاَئَ بْنَ الْحَضْرَمِیِّ کَتَبَ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَبَدَأَ بِنَفْسِہِ۔ (ابوداؤد ۵۰۹۲۔ حاکم ۶۳۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪০২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص خط لکھے تو اپنی ذات سے ابتدا کرے
(٢٦٤٠٣) امام محمد فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے یوں خط لکھا ! عبداللہ بن قیس کی جانب سے عامر بن عبداللہ کی طرف۔
(۲۶۴۰۳) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : کَتَبَ أَبُو مُوسَی : مِنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ قَیْسٍ إلَی عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪০৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص خط لکھے تو اپنی ذات سے ابتدا کرے
(٢٦٤٠٤) حضرت میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے حضرت عمر کو خط لکھا تو آپ نے یوں لکھا : عبداللہ بن عمر کی جانب سے حضرت عمر کی طرف۔ فرماتے ہیں کہ حضرت میمون نے ارشاد فرمایا : بیشک یہ ایسی چیز ہے کہ عجمی اس کے ذریعہ ایک دوسرے کو فضیلت دیتے ہیں۔
(۲۶۴۰۴) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَتَبَ إلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَکَتَبَ : مِنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ إلَی عُمَرَ ، قَالَ جَعْفَرٌ : قَالَ مَیْمُونٌ : إنَّمَا ہُوَ شَیْئٌ یُعَظِّمُ بِہِ الأَعَاجِمُ بَعْضُہَا بَعْضًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪০৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص خط لکھے تو اپنی ذات سے ابتدا کرے
(٢٦٤٠٥) حضرت کہمس فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسلم بن یسار نے مجھ سے کہا : کیا مجھ پر حرج ہے اس بات میں کہ میں خط میں اس طرح ابتدا نہ کروں ؟ ! اس لیے کہ وہ خط کی ابتدا نہیں کرتے تھے مگر امانت دار سے اور آدمی تو اپنے والد سے ابتدا کرتا ہے۔
(۲۶۴۰۵) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ کَہْمَسٍ ، قَالَ : قَالَ لِی عَبْدُ اللہِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ : أَوَ حَرَجٌ عَلَیَّ أَلاَ أَبْدَأَ بِہِ فِی الْکِتَابِ ، فَإِنَّہُ لاَ یُبْدَأُ إلاَّ بِأَمِینٍ وَیَبْدَأُ الرَّجُلُ بِأَبِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪০৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص خط لکھے تو اپنی ذات سے ابتدا کرے
(٢٦٤٠٦) حضرت معاذ بن معاذ فرماتے ہیں کہ میں نے بغداد میں حضرت شعبہ کو خط لکھا اور اپنے نام سے ابتدا کی، تو آپ نے مجھے خط لکھ کر ایسا کرنے سے منع فرمایا اور ذکر کیا کہ حضرت حکم اس کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(۲۶۴۰۶) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : کَتَبْت إلَی شُعْبَۃَ بِبَغْدَادَ فَبَدَأْت بِاسْمِہِ ، فَکَتَبَ إلَیَّ یَنْہَانِی وَیَذْکُرُ أَنَّ الْحَکَمَ کَانَ یَکْرَہُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪০৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی آدی کی طرف خط لکھے اور اسی کے نام سے خط کی ابتدا کرے
(٢٦٤٠٧) حضرت اوزاعی نے کسی شیخ سے نقل کیا کہ حضرت زید بن ثابت نے حضرت معاویہ کو خط لکھاتو حضرت معاویہ کے نام سے ابتدا کی۔
(۲۶۴۰۷) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ شَیْخٍ ، أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ کَتَبَ إلَی مُعَاوِیَۃَ فَبَدَأَ بِمُعَاوِیَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪০৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی آدی کی طرف خط لکھے اور اسی کے نام سے خط کی ابتدا کرے
(٢٦٤٠٨) حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کو جب خط لکھا جاتا تھا تو آپ کے نام ہی سے ابتدا کی جاتی تھی اور آپ نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔
(۲۶۴۰۸) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ یُکْتَبُ إلَیْہِ فَیُبْدَأَ بِہِ ، فَلَمْ یَرَ بِہِ بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪০৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی آدی کی طرف خط لکھے اور اسی کے نام سے خط کی ابتدا کرے
(٢٦٤٠٩) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر کو حضرت معاویہ سے کوئی کام تھا، تو آپ نے ان کو خط لکھنے کا ارادہ فرمایا، لوگوں نے کہا : اگر آپ ان کے نام سے خط لکھیں تو اچھا ہوگا اور ان لوگوں نے مسلسل یہی بات کہی یہاں تک کہ آپ نے لکھا، بسم اللہ الرحمن الرحیم، حضرت معاویہ کی طرف۔
(۲۶۴۰۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کَانَتْ لابْنِ عُمَرَ حَاجَۃٌ إلَی مُعَاوِیَۃَ ، فَأَرَادَ أَنْ یَکْتُبَ إلَیْہِ فَقَالُوا : لَوْ بَدَأْت بِہِ ، فَلَمْ یَزَالُوا بِہِ حَتَّی کَتَبَ : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ إلَی مُعَاوِیَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪০৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی آدی کی طرف خط لکھے اور اسی کے نام سے خط کی ابتدا کرے
(٢٦٤١٠) حضرت یونس فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت حسن کی جانب سے صالح بن عبد الرحمن کی طرف خط لکھا تو اس نے یوں لکھا، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ حسن کی جانب سے صالح کی طرف، تو ایک آدمی نے کہا : اے ابو سعید اگر آپ اس کے نام سے ابتدا کرتے تو اچھا ہوتا، تو آپ نے اس شخص کے نام سے ابتدا کی۔
(۲۶۴۱۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، قَالَ : کَتَبَ رَجُلٌ کِتَابًا مِنَ الْحَسَنِ إلَی صَالِحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَکَتَبَ : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ مِنَ الْحَسَنِ إلَی صَالِحٍ ، فَقَالَ : الرَّجُلُ : یَا أَبَا سَعِیدٍ ، لَوْ بَدَأْت بِہِ ، فَبَدَأَ بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪১০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی آدی کی طرف خط لکھے اور اسی کے نام سے خط کی ابتدا کرے
(٢٦٤١١) حضرت اسماعیل مکی فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری اور حضرت نخعی یہ دونوں حضرات اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ ایک آدمی کسی آدمی کو خط لکھے تو اس کے نام سے خط کی ابتدا کرے۔
(۲۶۴۱۱) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ الْمَکِّیِّ ، عَنِ الْحَسَنِ وَالنَّخَعِیِّ أَنَّہُمَا لَمْ یَرَیَا بَأْسًا أَنْ یَکْتُبَ الرَّجُلُ إلَی الرَّجُلِ فَیَبْدَأَ بِہِ۔
তাহকীক: