মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৬৪৩১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے ابو القاسم کنیت رکھنے کی اجازت دی
(٢٦٤٣٢) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن حنفیہ کو ابو القاسم کنیت سے پکارا جاتا تھا۔
(۲۶۴۳۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّ ابْنَ الْحَنَفِیَّۃِ کَانَ یُکَنَّی أَبَا الْقَاسِمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৩২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے ابو القاسم کنیت رکھنے کی اجازت دی
(٢٦٤٣٣) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں حضرت محمد بن اشعث جو حضرت عائشہ کے بھانجے تھے ان کو ابو القاسم کنیت سے پکارا جاتا تھا۔
(۲۶۴۳۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ مُحَمَّدُ بْنُ الأَشْعَث وَکَانَ ابْنَ أُخْتِ عَائِشَۃَ وَکَانَ یُکَنَّی أَبَا الْقَاسِمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৩৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے ابو القاسم کنیت رکھنے کی اجازت دی
(٢٦٤٣٤) حضرت محمد بن حنفیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد میرے کوئی لڑکا پیدا ہوا تو کیا میں اس کا نام آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام پر اور اس کی کنیت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نیت پر رکھ دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔
(۲۶۴۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنْ وُلِدَ لِی غُلاَمٌ بَعْدَکَ أُسَمِّیہِ بِاسْمِکَ وَأُکَنِّیہِ بِکُنْیَتِکَ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ (ابوداؤد ۴۹۲۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৩৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے کے وقت آگ بجھانے کا بیان
(٢٦٤٣٥) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم لوگ سوتے وقت اپنے گھروں میں آگ کو جلتا ہوا مت چھوڑو۔
(۲۶۴۳۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لاَ تَتْرُکُوا النَّارَ فِی بُیُوتِکُمْ حِینَ تَنَامُونَ۔ (بخاری ۶۲۹۳۔ مسلم ۱۵۹۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৩৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے کے وقت آگ بجھانے کا بیان
(٢٦٤٣٦) حضرت ابوبردہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے ارشاد فرمایا : مدینہ میں ایک گھر جل گیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان گھرو الوں کی حالت بیان کی گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک آگ تمہاری دشمن ہے، پس جب تم سونے لگو تو اس کو بجھا دو ۔
(۲۶۴۳۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ بُرَیْدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : احْتَرَقَ بَیْتٌ بِالْمَدِینَۃِ عَلَی أَہْلِہِ ، فَحُدِّثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشَأْنِہِمْ فَقَالَ : إنَّمَا ہَذِہِ النَّارُ عَدُوٌّ لَکُمْ ، فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوہَا عَنْکُمْ۔ (بخاری ۶۲۹۴۔ مسلم ۱۵۹۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৩৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے کے وقت آگ بجھانے کا بیان
(٢٦٤٣٧) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں کچھ حکم ارشاد فرمایے اور چند باتوں سے منع فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے چراغوں کو بجھا دیا کریں۔
(۲۶۴۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَہَانَا ، فَأَمَرَنَا أَنْ نُطْفِئَ سُرُجَنَا۔ (بخاری ۶۲۹۶۔ مسلم ۱۵۹۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৩৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے کے وقت آگ بجھانے کا بیان
(٢٦٤٣٨) حضرت عبدالملک فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ چراغ کو صبح تک جلتا ہوا چھوڑ دینے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(۲۶۴۳۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : کَانَ یُکْرَہُ أَنْ نَدَعَ السُّراجَ حَتَّی نُصْبِحَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৩৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے کے وقت آگ بجھانے کا بیان
(٢٦٤٣٩) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ غزوہ حدیبیہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ارشاد فرمایا : تم رات کے وقت آگ مت جلاؤ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم جلاؤ اور آگ بجھا دو ۔ کیونکہ کوئی قوم تمہارے مد اور تمہارے صاع کو نہیں پا سکے گی۔
(۲۶۴۳۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی یَحْیَی ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : قَالَ لنا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ : لاَ تُوقِدُوا نَارًا بِلَیْلٍ ، ثُمَّ قَالَ : أَوْقِدُوا وأطفئوا فَإِنَّہُ لَنْ یُدْرِکَ قَوْمٌ مُدَّکُمْ ، وَلاَ صَاعَکُمْ۔ (نسائی ۸۸۵۵۔ احمد ۳/۲۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৩৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے کے وقت آگ بجھانے کا بیان
(٢٦٤٤٠) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تم سونے لگو تو آگ کو بجھا دو ۔
(۲۶۴۴۰) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ طَلْحَۃَ ، عَنْ أَسْبَاطِ بْنِ نَصْرٍ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوہَا۔ (بخاری ۱۲۲۲۔ ابوداؤد ۵۲۰۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৪০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر اور راستہ کو جھاڑو لگانے اور صاف کرنے کا بیان
(٢٦٤٤١) حضرت ابو زیاد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی ام ولد باندی نے فرمایا : کہ حضرت عبداللہ بن مسعود گھر کے بارے میں حکم دیتے تھے پس گھر میں جھاڑو دی جاتی، یہاں تک کہ تم گھر میں بھوسہ یا لکڑی کا ٹکڑا بھی تلاش کرنا چاہتے تو تم اس کی قدرت نہ رکھتے !
(۲۶۴۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ أَبِی الْعُمَیْسِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِعَبْدِاللہِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَتْ : کَانَ عَبْدُ اللہِ یَأْمُرُ بِدَارِہِ فَتُکْنَسُ حَتَّی لَوِ الْتَمَسْت فِیہَا تَبِنَۃً ، أَوْ قَصَبَۃً مَا قَدَرْت عَلَیْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৪১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر اور راستہ کو جھاڑو لگانے اور صاف کرنے کا بیان
(٢٦٤٤٢) حضرت سریۃ الربیع فرماتی ہیں کہ حضرت ربیع روزانہ گھر کو صاف کرنے کا حکم دیتے تھے۔
(۲۶۴۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سُرِّیَّۃِ الرَّبِیعِ ، قَالَتْ : کَانَ الرَّبِیعُ یَأْمُرُ بِالدَّارِ تُنَظَّفُ کُلَّ یَوْمٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৪২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر اور راستہ کو جھاڑو لگانے اور صاف کرنے کا بیان
(٢٦٤٤٣) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو موسیٰ اشعری بصرہ تشریف لائے تو آپ نے ان لوگوں سے فرمایا : بیشک امیر المؤمنین نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ میں تمہیں تمہارے طریقے سکھاؤں اور میں تمہارے راستوں کو صاف کروں۔
(۲۶۴۴۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ الأَشْعَرِیُّ الْبَصْرَۃَ ، قَالَ لَہُمْ : فیما تقولون إنَّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ بَعَثَنِی إلَیْکُمْ لأَعَلِّمَکُمْ سُنَّتَکُمْ وَأُنَظِّفَ لَکُمْ طُرُقَکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৪৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کنیت اور نام کو جمع کرنے کا بیان
(٢٦٤٤٤) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو القاسم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا : تم میرے نام پر نام رکھ لو اور میری کنیت اختیار مت کرو۔
(۲۶۴۴۴) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : سَمُّوا بِاسْمِی ، وَلاَ تَکَنَّوْا بِکُنْیَتِی۔ (بخاری ۳۵۳۹۔ مسلم ۱۶۸۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৪৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کنیت اور نام کو جمع کرنے کا بیان
(٢٦٤٤٥) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم میرے نام پر اپنے نام رکھ لو اور میری کنیت اختیار مت کرو۔
(۲۶۴۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَسَمَّوْا بِاسْمِی ، وَلاَ تَکَنَّوْا بِکُنْیَتِی۔ (احمد ۳۱۳۔ ابویعلی ۱۹۱۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৪৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کنیت اور نام کو جمع کرنے کا بیان
(٢٦٤٤٦) حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنت البقیع میں تھے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو یوں پکارا ۔ اے ابو القاسم، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف متوجہ ہوئے، وہ کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے آپ کو مراد نہیں لیا۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میرے نام پر اپنے نام کو رکھ لو اور میری کنیت کو اختیار مت کرو۔
(۲۶۴۴۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِیعِ ، فَنَادَی رَجُلٌ آخَرَ یَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَالْتَفَتَ إلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إنِّی لَمْ أَعْنِکَ یَا رَسُولَ اللہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَسَمَّوْا بِاسْمِی ، وَلاَ تَکَنَّوْا بِکُنْیَتِی۔ (بخاری ۲۱۲۰۔ مسلم ۱۶۸۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৪৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کنیت اور نام کو جمع کرنے کا بیان
(٢٦٤٤٧) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم میرے نام پر اپنے نام رکھ لو اور میری کنیت اختیار مت کرو۔ اس لیے کہ مجھے قاسم بنایا گیا ہے میں تمہارے درمیان تقیسم کروں گا۔
(۲۶۴۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: تَسَمَّوا بِاسْمِی ، وَلاَ تَکَنَّوْا بِکُنْیَتِی ، فَإِنَّمَا جُعِلْت قَاسِمًا أَقْسِمُ بَیْنَکُمْ۔ (بخاری ۶۱۸۷۔ مسلم ۱۶۸۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৪৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کنیت اور نام کو جمع کرنے کا بیان
(٢٦٤٤٨) حضرت عبد الرحمن بن ابی عمرہ کے چچا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم میرے نام اور میری کنیت کو جمع مت کرو۔
(۲۶۴۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی عَمْرَۃَ ، عَنْ عَمِّہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَجْمَعُوا بَیْنَ اسْمِی وَکُنْیَتِی۔ (احمد ۵/۳۶۴۔ ابن سعد ۱۰۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৪৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کنیت اور نام کو جمع کرنے کا بیان
(٢٦٤٤٩) حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ حضرت جابر نے ارشاد فرمایا : کہ ہم میں سے ایک آدمی کے بیٹا پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام قاسم رکھا۔ اس پر ہم نے کہا ! کہ ہم تجھے ابو القاسم کی کنیت سے نہیں پکاریں گے اور اس کے ذریعہ سے ہم تیری آنکھ کو ٹھنڈک نہیں پہنچائیں گے، پس وہ شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور اس نے یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے بیٹے کا نام عبد الرحمن رکھ لو۔
(۲۶۴۴۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ سَمِعَ جَابِرًا یَقُولُ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلاَمٌ ، قَالَ : فَسَمَّاہُ الْقَاسِمَ ، قَالَ : فَقُلْنَا : لاَ نُکَنِّیہِ أَبَا الْقَاسِمِ ولاَ نُنْعِمُہُ عَیْنًا ، فَأَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ لَہُ ذَلِکَ فَقَالَ : أَسْم ابْنَک عَبْدَ الرَّحْمَن۔ (بخاری ۶۱۸۶۔ مسلم ۱۶۸۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৪৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کنیت اور نام کو جمع کرنے کا بیان
(٢٦٤٥٠) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے امام محمد سے پوچھا : کیا آدمی کی کنیت ابو القاسم رکھنا مکروہ ہے اگرچہ اس کا نام محمد نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! ۔
(۲۶۴۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ : أَکَانَ یُکْرَہُ أَنْ یُکَنَّی الرَّجُلُ بِأَبِی الْقَاسِمِ ، وَإِنْ لَمْ یَکُنِ اسْمُہُ مُحَمَّدًا ؟ قَالَ : نَعَمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৫০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کنیت اور نام کو جمع کرنے کا بیان
(٢٦٤٥١) حضرت سلیمان احول فرماتے ہیں کہ ہم لوگ طواف کر رہے تھے اس حال میں کہ حضرت مقسم ہمارے ساتھ تھے ، اور حضرت طاؤس باتیں کر رہے تھے۔ انھوں نے فرمایا : خاموش ہو جاؤ، ہم نے کہا : ابو القاسم : تو حضرت طاؤس نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اس کنیت کو نہیں رکھتا۔
(۲۶۴۵۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ الأَحْوَلِ ، قَالَ : کُنَّا نَطُوفُ وَمَعَنَا مِقْسَمٌ فَجَعَلَ طَاوُوسٌ یُحَدِّثُہُ وَیَقُولُ إِیہًا فَقُلْنَا : أَبُو الْقَاسِمِ ، فَقَالَ : وَاللَّہِ لاَ أَکْنِیہِ بِہَا۔
তাহকীক: