মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৬৪৫১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور کو برا بھلا کہنے کا بیان
(٢٦٤٥٢) حضرت عمران بن حصن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی سفر میں تھے اور انصار کی ایک عورت اونٹنی پر تھی کہ اس اونٹنی نے تنگ کیا تو اس عورت نے اونٹنی کو لعنت کی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سنا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو کچھ اس پر ہے وہ لے لو اور اس کو چھوڑو ، بیشک یہ تو ملعونہ ہے ، حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں گویا کہ میں اسے دیکھ رہا ہوں کہ وہ بازاروں میں چکر لگا رہی ہے اور کوئی بھی اس کو خریدنے کے لیے نہیں دیکھ رہا۔
(۲۶۴۵۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، قَالَ : بَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ وَامْرَأَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ عَلَی نَاقَۃٍ ، فَضَجِرَتْ فَلَعَنَتْہَا ، فَسَمِعَ ذَلِکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : خُذُوا مَا عَلَیْہَا وَدَعُوہَا فَإِنَّہَا مَلْعُونَۃٌ ، قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ : فَکَأَنِّی أَرَاہَا تَجُولُ فِی السُّوقِ مَا یَعْرِضُ لَہَا أَحَدٌ۔ (مسلم ۲۰۰۴۔ ابوداؤد ۲۵۵۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৫২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور کو برا بھلا کہنے کا بیان
(٢٦٤٥٣) حضرت ابو برزہ فرماتے ہیں کہ ہمارے درمیان ایک باندی تھی جو اونٹ یا کسی سواری پر سوار تھی اور اس اونٹ پر چند لوگوں کا سامان تھا جو دو پہاڑوں کے درمیان سے گزر رہا تھا، پس پہاڑنے اس کا راستہ تنگ کردیا۔ اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس آئے۔ جب عورت نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو اس نے اونٹ کو کہنا شروع کردیا، چل چل۔ اے اللہ ! اس پر لعنت فرما، چل چل۔ اے اللہ ! اس پر لعنت فرما۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس سواری کا مالک کون ہے ؟ ہمارے ساتھ وہ اونٹ یا سواری نہیں چلے گی جس پر اللہ کی لعنت ہو یا جیسا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔
(۲۶۴۵۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ ، أَنَّ جَارِیَۃً بَیْنَمَا ہِیَ عَلَی بَعِیرٍ ، أَوْ رَاحِلَۃٍ عَلَیْہَا مَتَاعٌ لِلْقَوْمِ بَیْنَ جَبَلَیْنِ فَتَضَایَقَ بِہَا الْجَبَلُ ، فَأَتَی عَلَیْہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَبْصَرَتْہُ جَعَلَتْ تَقُولُ : حل اللَّہُمَّ الْعَنْہُ حَلَّ اللَّہُمَّ الْعَنْہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَاحِبُ الرَّاحِلَۃِ ؟ لاَ یَصْحَبُنَا بَعِیرٌ ، أَوْ رَاحِلَۃٌ عَلَیْہَا لَعَنْۃٌ مِنَ اللہِ ، أَوْ کَمَا قَالَ۔

(مسلم ۲۰۰۵۔ احمد ۴/۴۱۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৫৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور کو برا بھلا کہنے کا بیان
(٢٦٤٥٤) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ میں سے چند لوگوں کے درمیان سفر کر رہے تھے، کہ ان میں سے ایک آدمی نے اپنے اونٹ کو لعنت کی ۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کس نے اپنے اونٹ کو لعنت کی ؟ اس شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو ہمارے سے دور کردو ۔ تحقیق تمہاری دعا قبول ہوگئی ہے۔
(۲۶۴۵۴) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: بَیْنَمَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسِیرُ فِی نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِہِ إذْ لَعَنْ رَجُلٌ مِنْہُمْ بَعِیرَہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ لَعَنْ بَعِیرَہُ ؟ فَقَالَ: أَنَا یَا رَسُولَ اللہِ، قَالَ: أَخِّرْہُ عَنَّا، فَقَدْ أُجِبْت۔ (احمد ۲/۴۲۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৫৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور کو برا بھلا کہنے کا بیان
(٢٦٤٥٥) حضرت یحییٰ بن وثاب فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ کے قریب ایک اونٹ کیا گیا تاکہ آپ اس پر سوار ہوجائیں پس اس اونٹ نے آپ پر سوار ہونا دشوار کردیا تو آپ نے اس پر لعنت کی، اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس پر سوار مت ہو کیونکہ تم نے اس کو لعنت کی ہے۔
(۲۶۴۵۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شِمْرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ وَثَّابٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، أَنَّہَا قُرِّبَ إلَیْہَا بَعِیرًا لِتَرْکَبَہُ ، فَالْتَوَی عَلَیْہَا فَلَعَنَتْہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَرْکَبِیہِ فَإِنَّک لَعَنْتِیہِ۔

(احمد ۶/۲۵۷۔ ابویعلی ۴۷۱۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৫৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور کو برا بھلا کہنے کا بیان
(٢٦٤٥٦) حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ حضرت عمر اپنے ساتھیوں میں سفر کر رہے تھے کہ لوگوں میں ایک شخص جو اپنے اونٹ پر سفر کررہا تھا اور قوم میں سے جو چاہتا اس کو سامان رکھ دیتا ، میں نہیں جانتا کہ اس پر کیا دشواری آئی کہ اس نے اونٹ کو لعنت کی، اس پر حضرت عمر نے پوچھا : یہ لعنت کرنے والا کون شخص ہے ؟ لوگوں نے کہا : فلاں شخص ہے۔ آپ نے فرمایا : تو اور تیرا اونٹ ہم سے دور ہوجائیں ہم کسی ملعون سواری کو اپنے ساتھ نہیں رکھیں گے۔
(۲۶۴۵۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ : بَیْنَمَا عُمَرُ یَسِیرُ فِی أصْحَابِہِ وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ یَسِیرُ عَلَی بَعِیرٍ لَہُ مِنَ الْقَوْمِ یَضَعُہُ حَیْثُ یَشَائُ ، فَلاَ أَدْرِی بِمَا الْتَوَی عَلَیْہِ فَلَعَنْہُ ، فَقَالَ عُمَرُ : مَنْ ہَذَا اللاَّعِنُ ؟ قَالُوا : فُلاَنٌ ، قَالَ : تَخَلَّفْ عَنَّا أَنْتَ وَبَعِیرُک ، لاَ تَصْحَبُنَا رَاحِلَۃٌ مَلْعُونَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৫৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اس بات کو مستحب سمجھتا ہو کہ وہ جب بھی بیٹھے تو قبلہ رخ ہو کر بیٹھے
(٢٦٤٥٧) حضرت سلیمان بن موسیٰ فرماتے ہیں کہ بیشک ہر چیز کے لیے عزت و بزرگی ہے۔ معزز ترین مجلس وہ ہیں جن میں قبلہ رخ ہو کر بیٹھا جاتا ہے اور آپ نے فرمایا : میں نے حضرت سفیان کو قبلہ رخ کے سوا بیٹھے ہوئے نہیں دیکھا۔
(۲۶۴۵۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی ، قَالَ : إنَّ لِکُلِّ شَیْئٍ شَرَفًا ، وَأَشْرَفُ الْمَجَالِسِ مَا اسْتَقْبَلَ بِہِ الْقِبْلَۃَ ، وقَالَ : مَا رَأَیْت سُفْیَانَ یَجْلِسُ إلاَّ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৫৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اس بات کو مستحب سمجھتا ہو کہ وہ جب بھی بیٹھے تو قبلہ رخ ہو کر بیٹھے
(٢٦٤٥٨) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ امام محمد جب سوتے تو قبلہ رخ ہو کر سوتے اور کبھی کبھی چت ہو کر بھی لیٹ جاتے۔
(۲۶۴۵۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : کَانَ مُحَمَّدٌ إذَا نَامَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَرُبَّمَا اسْتَلْقَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৫৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اس بات کو مستحب سمجھتا ہو کہ وہ جب بھی بیٹھے تو قبلہ رخ ہو کر بیٹھے
(٢٦٤٥٩) حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود قبلہ رخ ہو کر بیٹھے۔
(۲۶۴۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ جَلَسَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৫৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اس بات کو مستحب سمجھتا ہو کہ وہ جب بھی بیٹھے تو قبلہ رخ ہو کر بیٹھے
(٢٦٤٦٠) حضرت محمد بن عبداللہ شعیثی فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول نے ارشاد فرمایا : مجلسوں میں افضل ترین مجلس وہ ہے جس میں قبلہ رخ ہو کر بیٹھا جائے۔
(۲۶۴۶۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللہِ الشُّعَیْثِیِّ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، قَالَ: أَفْضَلُ الْمَجَالِسِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৬০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اس بات کو مستحب سمجھتا ہو کہ وہ جب بھی بیٹھے تو قبلہ رخ ہو کر بیٹھے
(٢٦٤٦١) حضرت ثور فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن موسیٰ نے ارشاد فرمایا : کہ ہر چیز کا کوئی سردار ہوتا ہے مجلسوں کی سردار وہ مجلس ہے جس میں قبلہ رخ ہو کر بیٹھا جائے۔
(۲۶۴۶۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی، قَالَ: لِکُلِّ شَیْئٍ سَیِّدٌ، وَسَیِّدُ الْمَجَالِسِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৬১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقل والے کی غیر عاقل پر فضیلت کا بیان
(٢٦٤٦٢) حضرت جریری فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العلائ نے ارشاد فرمایا : کسی بندہ کو اسلام کے بعد نیک عقل سے بڑھ کر افضل کوئی چیز عطا نہیں کی گئی۔ جس کے ذریعہ وہ رزق حاصل کرتا ہو۔
(۲۶۴۶۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ ، قَالَ : مَا أُعْطِیَ عَبْدٌ بَعْدَ الإِسْلاَمِ أَفْضَلَ مِنْ عَقْلٍ صَالِحٍ یُرْزَقُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৬২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقل والے کی غیر عاقل پر فضیلت کا بیان
(٢٦٤٦٣) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : آدمی کی خاندانی شرافت اس کا دین ہے اور اس کی مروت اس کے اخلاق ہیں اور اس کا منبع اس کی عقل ہے۔
(۲۶۴۶۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : حَسْبُ الرَّجُلِ دِینُہُ وَمُرُوئَتُہُ: خُلُقُہُ ، وَأَصْلُہُ : عَقْلُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৬৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقل والے کی غیر عاقل پر فضیلت کا بیان
(٢٦٤٦٤) حضرت عمر کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
(۲۶۴۶۴) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ حُدِیرٍ ، عَنْ عُمَرَ بِنَحْوِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৬৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقل والے کی غیر عاقل پر فضیلت کا بیان
(٢٦٤٦٥) حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا : کہ آیت { فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْہُمْ رُشْدًا } میں عقل مراد ہے۔
(۲۶۴۶۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : {فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْہُمْ رُشْدًا} قَالَ : عَقْلاً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৬৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقل والے کی غیر عاقل پر فضیلت کا بیان
(٢٦٤٦٦) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : آدمی کی خاندانی شرافت اس کا دین ہے اور اس کی مروت اس کے اخلاق ہیں ، اور اس کا منبع اس کی عقل ہے۔
(۲۶۴۶۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : حَسْبُ الْمَرْئِ دِینُہُ وَمُرُوئَتُہُ ، خُلُقُہُ ، وَأَصْلُہُ : عَقْلُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৬৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقل والے کی غیر عاقل پر فضیلت کا بیان
(٢٦٤٦٧) حضرت قابوس کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے اللہ رب العزت کے اس قول { قَسَمٌ لِذِی حِجْرٍ } ترجمہ : قسم عقل مندوں کے لیے، کے بارے میں ارشاد فرمایا : دانش مند اور عقل والے مراد ہیں۔
(۲۶۴۶۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی : {قَسَمٌ لِذِی حِجْرٍ} قَالَ : لذی النُّہَی وَالْعَقْلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৬৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقل والے کی غیر عاقل پر فضیلت کا بیان
(٢٦٤٦٨) حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ نے اللہ رب العزت کے اس قول : { قَسَمٌ لِذِی حِجْرٍ } کے بارے میں ارشاد فرمایا : کہ دانش مند اور عقل مند لوگ مراد ہیں۔
(۲۶۴۶۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ فِی قَوْلِہِ: {قَسَمٌ لِذِی حِجْرٍ} قَالَ: لِذِی لُبٍّ وَلِذِی عَقْلٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৬৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقل والے کی غیر عاقل پر فضیلت کا بیان
(٢٦٤٦٩) حضرت ھلال بن خباب فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے اللہ رب العزت کے اس قول { قَسَمٌ لِذِی حِجْرٍ } کے بارے میں ارشاد فرمایا : کہ عقل مند لوگ مراد ہیں۔
(۲۶۴۶۹) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَن ہِلاَلِ بن خَبَّاب ، عَن مُجاہِد : {قَسَمٌ لِذِی حِجْرٍ} قَالَ : لِذِی عَقْلٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৬৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقل والے کی غیر عاقل پر فضیلت کا بیان
(٢٦٤٧٠) حضرت ابو نصر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے اللہ رب العزت کے اس قول { قَسَمٌ لِذِی حِجْرٍ } کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا : کہ دانش مند لوگ مراد ہیں۔
(۲۶۴۷۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفیان ، عن الأَغَر ، عَنْ خَلِیفَۃَ بْنِ حُصَیْنٍ ، عَنْ أَبِی نَصْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {قَسَمٌ لِذِی حِجْرٍ} : لِذِی لُبٍّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৭০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقل والے کی غیر عاقل پر فضیلت کا بیان
(٢٦٤٧١) حضرت جویبر فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک نے اللہ رب العزت کے اس قول { قَسَمٌ لِذِی حِجْرٍ } کے بارے میں ارشاد فرمایا : کہ عقل مند لوگ مراد ہیں۔
(۲۶۴۷۱) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ جُوَیْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ {قَسَمٌ لِذِی حِجْرٍ} قَالَ : لِذِی عَقْلٍ۔
tahqiq

তাহকীক: