মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৬৪৭১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفید بال اکھیڑنے کا بیان
(٢٦٤٧٢) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفید بال اکھیڑنے سے منع کیا اور فرمایا : یہ مومن کا نور ہے۔
(۲۶۴۷۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنْ نَتْفِ الشَّیْبِ وَقَالَ : ہُوَ نُورُ الْمُؤْمِنِ۔

(ترمذی ۲۸۲۱۔ ابن ماجہ ۳۷۲۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৭২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفید بال اکھیڑنے کا بیان
(٢٦٤٧٣) حضرت طلق بن حبیب فرماتے ہیں کہ حجام نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مونچھ کو چھانٹا اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھی میں ایک سفید بال دیکھا تو اس کو کاٹنا چاہا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ پکڑلیا اور ارشاد فرمایا : جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو تو قیامت کے دن اس کے لیے ایک نور ہوگا۔
(۲۶۴۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَیُّوبَ السِّخْتِیَانِیِّ ، عَنْ یُوسُفَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِیبٍ ، أَنَّ حَجَّامًا أَخَذَ مِنْ شَارِبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَأَی شَیْبَۃً فِی لِحْیَتِہِ ، فَأَہْوَی إلَیْہَا ، فَأَخَذَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِہِ وَقَالَ : مَنْ شَابَ شَیْبَۃً فِی الإِسْلاَمِ کَانَتْ لَہُ نُورًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (ترمذی ۱۶۳۵۔ ابن سعد ۴۳۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৭৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفید بال اکھیڑنے کا بیان
(٢٦٤٧٤) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس سفید بالوں کے اکھیڑنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(۲۶۴۷۴) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنِ الْمُثَنَّی ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ نَتْفَ الشَّیْبِ۔ (مسلم ۱۰۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৭৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفید بال اکھیڑنے کا بیان
(٢٦٤٧٥) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے ارشاد فرمایا : سفید بال اکھیڑنے کی وجہ سے آدمی کو عذاب دیا جائے گا۔
(۲۶۴۷۵) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : عُذِّبَ رَجُلٌ فِی نَتْفِ الشَّیْبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৭৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفید بال اکھیڑنے کا بیان
(٢٦٤٧٦) حضرت حمید اعرج فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد فرمایا کرتے تھے کہ تم سفید بالوں کو مت اکھیڑو۔ بیشک یہ قیامت کے دن نور ہوگا۔
(۲۶۴۷۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حُمَیْدٍ الأَعْرَجِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : کَانَ یَقُولُ : لاَ تَنْتِفُوا الشَّیْبَ فَإِنَّہُ نُورٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৭৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفید بال اکھیڑنے کا بیان
(٢٦٤٧٧) حضرت ابو معشر فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے سفید بال اکھیڑنے کو مکروہ قرار دیا اور اس کو کاٹنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔
(۲۶۴۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّہُ کَرِہَ نَتْفَ الشَّیْبِ وَلَمْ یَرَ بِقَصِّہِ بَأْسًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৭৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سائے اور سورج کے درمیان میں بیٹھنے کا بیان
(٢٦٤٧٨) امام شعبی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ سائے اور سورج کے درمیان میں بیٹھنا شیطان کے بیٹھنے کا طریقہ ہے۔
(۲۶۴۷۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ : الْقُعُودُ بَیْنَ الظِّلِّ وَالشَّمْسِ مَقْعَدُ الشَّیْطَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৭৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سائے اور سورج کے درمیان میں بیٹھنے کا بیان
(٢٦٤٧٩) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی سائے اور سورج کے درمیان میں بیٹھے۔
(۲۶۴۷۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَقْعُدَ الرَّجُلُ بَیْنَ الظِّلِّ وَالشَّمْسِ۔ (بخاری ۱۱۷۴۔ عبدالرزاق ۱۹۸۰۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৭৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سائے اور سورج کے درمیان میں بیٹھنے کا بیان
(٢٦٤٨٠) حضرت زیاد جو بنو محزوم کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا : سائے کا کنارہ شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔
(۲۶۴۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ زِیَادٍ مَوْلَی بَنِی مَخْزُومٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : حرْفُ الظِّلِّ مَقْعَدُ الشَّیْطَانِ۔ (ابوداؤد ۴۷۸۸۔ احمد ۲/۳۸۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৮০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سائے اور سورج کے درمیان میں بیٹھنے کا بیان
(٢٦٤٨١) حضرت نفیع الجمال فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن المسیب نے ارشاد فرمایا : سایہ کا کناری شیطان کے قیلولہ کرنے کی جگہ ہے۔
(۲۶۴۸۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ قُرَّۃَ ، عَنْ نُفَیْعٍ الْجَمَّالِ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، قَالَ: حرْفُ الظِّلِّ مَقِیلُ الشَّیْطَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৮১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سائے اور سورج کے درمیان میں بیٹھنے کا بیان
(٢٦٤٨٢) حضرت ابو عیاض فرماتے ہیں کہ حضرت عبید بن عمیر نے ارشاد فرمایا : کہ سورج اور سایہ کا کنارہ شیطان کے بیٹھنے کی جگہیں ہیں۔
(۲۶۴۸۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ أَبِی عِیَاضٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : حَدُّ الظِّلِّ وَالشَّمْسِ مَقَاعِدُ الشَّیْطَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৮২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سائے اور سورج کے درمیان میں بیٹھنے کا بیان
(٢٦٤٨٣) حضرت خالد فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ نے اس شخص کے بارے میں جو سورج اور سائے کے درمیان بیٹھے ہوں ارشاد فرمایا کہ وہ تو شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔
(۲۶۴۸۳) حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَی، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِکْرِمَۃَ فِی الَّذِی یَقْعُدُ بَیْنَ الظِّلِّ وَالشَّمْسِ: قَالَ ذَاکَ مَقْعَدُ الشَّیْطَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৮৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سائے اور سورج کے درمیان میں بیٹھنے کا بیان
(٢٦٤٨٤) حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سایہ اور سورج کے درمیان بیٹھنے سے منع فرمایا۔
(۲۶۴۸۴) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ أَبِی الْمُنِیبِ ، عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ نَہَی أَنْ یُقْعَدَ بَیْنَ الشَّمْسِ وَالظِّلِّ۔ (ابن ماجہ ۳۷۲۔ حاکم ۲۷۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৮৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو لوگوں کی بات غور سے سنتا ہے
(٢٦٤٨٥) حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا جو شخص کسی قوم کی بات کو غور سے سنے اور وہ اس کو ناپسند کریں تو قیامت کے دن اس شخص کے کانوں میں سیسہ ڈالا جائے گا۔
(۲۶۴۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِکْرِمَۃَ یَقُولُ : مَنِ اسْتَمَعَ حَدِیث قَوْمٍ وَہُمْ لَہُ کَارِہُونَ صُبَّ فِی أُذُنِہِ الآنُکُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَعْنِی الرَّصَاصَ۔ (بخاری ۷۰۴۲۔ ابوداؤد ۴۹۸۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৮৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور کو دیر تک کھڑا رکھنے کا بیان
(٢٦٤٨٦) حضرت عطاء بن دینار فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اپنے جانوروں کی پشتوں کو اپنی باتوں کے لیے کرسیاں مت بناؤ۔ اس لیے کہ بہت سی سواریاں سوار سے بہتر ہوتی ہیں کہ وہ اللہ کی فرمان بردار بہت زیادہ ذکر کرنے والی ہوتی ہیں۔
(۲۶۴۸۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی أَیُّوبَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ دِینَارٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَتَّخِذُوا ظُہُورَ الدَّوَابِّ کَرَاسِیَ لأَحَادِیثِکُمْ ، فَرُبَّ رَاکِبِ مَرْکُوبَۃٍ ہِیَ خَیْرٌ مِنْہُ وَأَطْوَعُ لِلَّہِ وَأَکْثَرُ ذِکْرًا۔ (احمد ۳/۴۴۰۔ دارمی ۲۶۶۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৮৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور کو دیر تک کھڑا رکھنے کا بیان
(٢٦٤٨٧) حضرت ابراہیم تیمی فرماتے ہیں کہ عمر نے جانور کو زیادہ دیر تک کھڑا رکھنے کو مکروہ قرار دیا ۔
(۲۶۴۸۷) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ الزُّبَیْدِیِّ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، أَنَّ عُمَرَ کَرِہَ الْوُقُوفَ عَلَی الدَّابَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৮৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور کو دیر تک کھڑا رکھنے کا بیان
(٢٦٤٨٨) حضرت کامل فرماتے ہیں کہ حضرت حبیب سواری کو زیادہ دیر تک کھڑا رکھنے کو اور اس کو مارنے کو مکروہ سمجھتے تھے حالانکہ وہ احسان کرنے والی ہوتی ہے۔
(۲۶۴۸۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ کَامِل، عَن حَبِیب قَالَ: کَانَ یَکرہ طُول الْوُقُوفِ عَلَی الدَّابَّۃِ وَأَنْ تُضْرَبَ وَہِیَ محسنۃ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৮৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور کو دیر تک کھڑا رکھنے کا بیان
(٢٦٤٨٩) حضرت موسیٰ جھنی فرماتے ہیں کہ میں نے امام شعبی اور حضرت طلحہ کو دیکھا کہ وہ دونوں حضرت سعد بن طلحہ کے گھر کھڑے ہوئے تھے۔
(۲۶۴۸۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ، عَنْ مُوسَی الْجُہَنِیِّ، قَالَ: رَأَیْتُ الشَّعْبِیَّ وَطَلْحَۃَ مُتَوَاقِفَیْنِ عَلَی دَارِ سَعْدِ بْنِ طَلْحَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৮৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت طلب کرنے کا بیان۔ کتنی مرتبہ اجازت طلب کی جائے گی ؟
(٢٦٤٩٠) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے حضرت عمر سے تین مرتبہ اجازت طلب کی پس آپ نے ان کو اجازت نہیں دی تو آپ واپس لوٹ آئے۔ حضرت عمر نے ان کو قاصد بھیج کر بلایا اور پوچھا ؟ کسی چیز نے تمہیں واپس لوٹایا ؟ انھوں نے فرمایا : میں نے تین مرتبہ اجازت طلب کی جس کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا تھا کہ اگر ہمیں اجازت مل جائے تو ہم داخل ہوں اور اگر اجازت نہ ملے تو ہم واپس لوٹ آئیں۔ حضرت عمر نے فرمایا : تم اس بات پر کوئی گواہی لاؤ۔ ورنہ میں ایسا اور ایسا کروں گا، (میں تمہیں سزا دوں گا) تو وہ لوگوں کی ایک مجلس میں آئے اور لوگوں کو قسم دے کر اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے ان کے حق میں گواہی دی پھر حضرت عمر نے ان کو چھوڑ دیا۔
(۲۶۴۹۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاوُد بْنُ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَی اسْتَأْذَنَ عَلَی عُمَرَ ثَلاَثًا فَلَمْ یَأْذَنْ لَہُ ، قَالَ: فَانْصَرَفَ فَأَرْسَلَ إلَیْہِ عُمَرُ : مَا رَدَّک؟ قَالَ : اسْتَأْذَنْت الاِسْتِئْذَانَ الَّذِی أَمَرَنَا بِہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلاَثًا ، فَإِنْ أُذِنَ لَنَا دَخَلْنَا ، وَإِنْ لَمْ یُؤْذَنْ لَنَا رَجَعْنَا ، قَالَ : لِتَأْتِینَّ عَلَی ہَذَا بِبَیِّنَۃٍ ، أَوْ لأَفْعَلَنَّ وَأَفْعَلَنَّ ، فَأَتَی مَجْلِسَ قَوْمِہِ فَنَاشَدَہُمْ ، فَشَہِدُوا لَہُ ، فَخَلَّی عَنْہُ۔

(بخاری ۲۰۶۲۔ مسلم ۳۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৯০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت طلب کرنے کا بیان۔ کتنی مرتبہ اجازت طلب کی جائے گی ؟
(٢٦٤٩١) حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا : پہلی مرتبہ اجازت ہوتی ہے ، اور دوسری مرتبہ مشورہ ہوتا ہے اور تیسری مرتبہ پختہ عزم ہوتا ہے یا تو وہ اجازت دیں یا وہ لوٹا دیں ۔
(۲۶۴۹۱) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : الأُولَی إذن ، وَالثَّانِیَۃُ مُؤَامَرَۃٌ ، وَالثَّالِثَۃُ عَزْمَۃٌ ، إمَّا أَنْ یُؤْذَنُوا وَإِمَّا أَنْ یُرَدُّوا۔
tahqiq

তাহকীক: