মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৬৪৯১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت طلب کرنے کا بیان۔ کتنی مرتبہ اجازت طلب کی جائے گی ؟
(٢٦٤٩٢) حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے ارشاد فرمایا : اجازت تین بار طلب کی جاتی ہے اگر تمہیں اجازت دے دی جائے تو ٹھیک ورنہ واپس لوٹ جاؤ۔
(۲۶۴۹۲) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : الاِسْتِئْذَانُ ثَلاَثٌ ، فَإِنْ أُذِنَ لَکَ وَإِلاَّ فَارْجِعْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৯২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان لوگوں کا بیان جن میں ایک آدمی اجازت مانگے تو کیا سب کے لیے یہ کافی ہے ؟
(٢٦٤٩٣) حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے ان لوگوں کے بارے میں جو اجازت طلب کرنا چاہتے ہیں یوں ارشاد فرمایا : اگر ان میں سے ایک آدمی بھی یوں کہہ دے، السلام علیکم۔ کیا ہم داخل ہوجائیں ؟ تو یہ سب کی طرف سے کافی ہوجائے گا۔
(۲۶۴۹۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الْقَوْمِ یَسْتَأْذِنُونَ ، قَالَ : قَالَ : إِنْ قَالَ رَجُلٌ مِنْہُمُ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ أَنَدْخُلُ ، أَجْزَأَ ذَلِکَ عَنْہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৯৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان لوگوں کا بیان جن میں ایک آدمی اجازت مانگے تو کیا سب کے لیے یہ کافی ہے ؟
(٢٦٤٩٤) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابو رزین کی خدمت میں آئے اس حال میں کہ ہم کافی تعداد میں تھے اور ہم میں سے ہر ایک شخص سلام کررہا تھا اور اجازت طلب کررہا تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا : بیشک جب تم میں پہلے کو اجازت دے دی گئی تو باقی سب کو اجازت دے دی گئی۔
(۲۶۴۹۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی أَبِی رَزِینٍ وَنَحْنُ ذُو عَدَدٍ ، فَکَانَ کُلُّ إنْسَانٍ مِنَّا یُسَلِّمُ وَیَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : إِنَّہُ إذَا أُذِنَ لأَوَّلِکُمْ أُذِنَ لآخِرِکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৯৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہہ کر دعا دینے کا بیان ۔ اور جو شخص یوں کہتا ہے کہ یرحمک اللہ نہیں کہا جائے گا یہاں تک کہ چھینکنے والا الحمد للہ کہے
(٢٦٤٩٥) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چھینک آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں سے ایک کو تو یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی اور دوسرے کو یرحمک اللہ نہیں کہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی ۔ ان میں سے ایک کو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی اور دوسرے کو یرحمک اللہ نہیں کہا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے الحمد للہ کہا تھا اور اس نے الحمد للہ نہیں کہا۔
(۲۶۴۹۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : عَطَسَ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ ، أَوْ سَمَّتَ أَحَدَہُمَا وَلَمْ یُشَمِّتِ الآخَرَ ، فَقِیلَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، عَطَسَ عِنْدَکَ رَجُلاَنِ فَشَمَّتَ أَحَدَہُمَا وَلَمْ تُشَمِّتِ الآخَرَ ، فَقَالَ : إنَّ ہَذَا حَمِدَ اللَّہَ ، وَإِنَّ ہَذَا لَمْ یَحْمَدِ اللَّہَ۔

(بخاری ۶۲۲۱۔ مسلم ۲۲۹۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৯৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہہ کر دعا دینے کا بیان ۔ اور جو شخص یوں کہتا ہے کہ یرحمک اللہ نہیں کہا جائے گا یہاں تک کہ چھینکنے والا الحمد للہ کہے
(٢٦٤٩٦) حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو موسیٰ کے پاس آیا اس حال میں کہ آپ بنت فضل کے گھر میں تھے، پس مجھے چھینک آئی تو آپ نے مجھے یرحمک اللہ نہیں کہا اور بنت فضل کو چھینک آئی تو آپ نے اس کو یرحمک اللہ کہا۔ میں اپنی والدہ کے پاس واپس آیا اور میں نے انھیں اس بارے میں بتایا جب وہ آپ کی خدمت میں آئیں تو کہا : بیشک میرے بیٹے کو آپ کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس کو تو یرحمک اللہ نہیں کہا ، اور اس لڑکی کو چھینک آئی تو آپ نے اس کو یرحمک اللہ کہا۔ آپ نے فرمایا : تیرے بیٹے کو چھینک آئی اور اس نے الحمد للہ نہیں کہا تو میں نے بھی اسے یرحمک اللہ نہیں کہا ، اور اس لڑکی کو چھینک آئی تو اس نے الحمد للہ کہا تو میں نے بھی اسے یرحمک اللہ کے ذریعہ جواب دیا اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے تو تم اسے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دو اور جب وہ الحمد للہ نہ کہے تو تم بھی یرحمک اللہ مت کہو۔
(۲۶۴۹۶) حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ مَالِکٍ الْمُزَنِیّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، قَالَ : دَخَلْت عَلَی أَبِی مُوسَی وَہُوَ فِی بَیْتِ بِنْتِ الْفَضْلِ فَعَطَسْت فَلَمْ یُشَمِّتْنِی وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَہَا ؟ فَرَجَعْت إلَی أُمِّی فَأَخْبَرْتُہَا ، فَلَمَّا جَائَہَا ، قَالَتْ : عَطَسَ عِنْدَکَ ابْنِی فَلَمْ تُشَمِّتْہُ وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّہَا ، قَالَ : إنَّ ابْنَک عَطَسَ وَلَمْ یَحْمَدِ اللَّہَ فَلَمْ أُشَمِّتْہُ ، وَعَطَسَتْ ہذہ وَحَمِدَتِ اللَّہَ فَشَمَّتُّہَا ، وَسَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : إذَا عَطَسَ أَحَدُکُمْ فَحَمِدَ اللَّہَ فَشَمِّتُوہُ ، وَإِذَا لَمْ یَحْمَدِ اللَّہَ فَلاَ تُشَمِّتُوہُ۔ (بخاری ۹۴۱۔ مسلم ۲۲۹۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৯৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہہ کر دعا دینے کا بیان ۔ اور جو شخص یوں کہتا ہے کہ یرحمک اللہ نہیں کہا جائے گا یہاں تک کہ چھینکنے والا الحمد للہ کہے
(٢٦٤٩٧) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مسلمان کا مسلمان پر حق ہے : کہ چھینکنے والا جب الحمد للہ کہے تو اسے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دے۔
(۲۶۴۹۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ تَشْمِیتُ الْعَاطِسِ إذَا حَمِدَ اللَّہَ۔

(مسلم ۱۷۰۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৯৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہہ کر دعا دینے کا بیان ۔ اور جو شخص یوں کہتا ہے کہ یرحمک اللہ نہیں کہا جائے گا یہاں تک کہ چھینکنے والا الحمد للہ کہے
(٢٦٤٩٨) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی کو چھینک آئی اس نے الحمد للہ کہا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا یرحمک اللہ، پھر دوسرے کو چھینک آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کچھ نہیں فرمایا : اس آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کو چھینک آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی اور مجھے چھینک آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کچھ دعا نہیں دی ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے الحمد للہ کہا تھا اور تو خاموش رہا ۔
(۲۶۴۹۸) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ أَبِی مُنَیْنٍ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَعَطَسَ رَجُلٌ فَحَمِدَ اللَّہَ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَرْحَمُک اللَّہُ ، ثُمَّ عَطَسَ آخَرُ فَسَکَتَ ، فَلَمْ یَقُلْ لَہُ شَیْئًا ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، عَطَسَ ہَذَا فَقُلْت لَہُ : رَحِمَک اللَّہُ ، وَعَطَسْت فَلَمْ تَقُلْ لِی شَیْئًا ؟ فَقَالَ : إنَّ ہَذَا حَمِدَ اللَّہَ وَأَنْتَ سَکَتَّ۔ (بخاری ۹۳۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৯৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہہ کر دعا دینے کا بیان ۔ اور جو شخص یوں کہتا ہے کہ یرحمک اللہ نہیں کہا جائے گا یہاں تک کہ چھینکنے والا الحمد للہ کہے
(٢٦٤٩٩) حضرت غالب فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری اور حضرت ابن سیرین یہ دونوں حضرات چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہہ کر دعا نہیں دیتے تھے یہاں تک کہ وہ الحمد للہ کہہ لیتا۔
(۲۶۴۹۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَائٍ، عَنْ غَالِبٍ، قَالَ: کَانَ الْحَسَنُ، وَابْنُ سِیرِینَ لاَ یُشَمِّتَانِ الْعَاطِسَ حَتَّی یَحْمَدَاللَّہَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৯৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہہ کر دعا دینے کا بیان ۔ اور جو شخص یوں کہتا ہے کہ یرحمک اللہ نہیں کہا جائے گا یہاں تک کہ چھینکنے والا الحمد للہ کہے
(٢٦٥٠٠) حضرت عبید اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کو حضرت قاسم کے پاس چھینک آئی، تو حضرت قاسم نے اس سے فرمایا : الحمد للہ کہو، جب اس نے کہا تو آپ نے اسے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی۔
(۲۶۵۰۰) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، قَالَ : عَطَسَ رجل عِنْدَ الْقَاسِمِ فَقَالَ لَہُ الْقَاسِمُ : قُلْ : الْحَمْدُ لِلَّہِ ، فَلَمَا قَالَ شَمَّتَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫০০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی مرتبہ یرحمک اللہ کہا جائے گا ؟
(٢٦٥٠١) حضرت نعمان بن سالم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس ایک آدمی کو چھینک آئی تو آپ نے اسے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی، پھر اسے دوبارہ چھینک آئی تو آپ نے پھر یرحمک اللہ کہا، پھر اسے تیسری بار چھینک آئی تو آپ نے فرمایا : بیشک تو زکام میں مبتلا ہے۔
(۲۶۵۰۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلاً عَطَسَ عِنْدَہُ فَشَمَّتَہُ ، ثُمَّ عَطَسَ فَشَمَّتَہُ ، ثُمَّ عَادَ فِی الثَّالِثَۃِ فَقَالَ : إنَّک مَضْنُوکٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫০১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی مرتبہ یرحمک اللہ کہا جائے گا ؟
(٢٦٥٠٢) حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا : تم چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہو جب وہ تمہارے سامنے تین مرتبہ چھینکے اگر وہ زیادہ چھینکتا ہے تو یہ بیماری ہے۔
(۲۶۵۰۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : شَمِّتِ الْعَاطِسَ مَا بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ ثَلاَثًا ، فَإِنْ زَادَ ، فَہُوَ رِیحٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫০২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی مرتبہ یرحمک اللہ کہا جائے گا ؟
(٢٦٥٠٣) حضرت ایاس بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت سلمہ بن اکوع نے ارشاد فرمایا : کہ ایک آدمی کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چھینک آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یرحمک اللہ، پھر دوسری مرتبہ اسے پھر چھینک آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تو زکام میں مبتلا ہے۔
(۲۶۵۰۳) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی إیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ ، أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ ، أَنَّ رَجُلاً عَطَسَ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : رَحِمَک اللَّہُ ، ثُمَّ عَطَسَ الثَّانِیَۃَ ، فَقَالَ : ہُوَ مَزْکُومٌ۔ (مسلم ۲۲۹۲۔ ابوداؤد ۴۹۹۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫০৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی مرتبہ یرحمک اللہ کہا جائے گا ؟
(٢٦٥٠٤) حضرت مصعب بن عبد الرحمن بن ذؤیب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کو حضرت ابن زیبر کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اسے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی۔ اسے پھر چھینک آئی، تو آپ نے دوبارہ یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی اسے تیسری مرتبہ پھر چھینک آئی تو آپ نے اسے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی، پھر جب چوتھی مرتبہ اسے چھینک آئی تو حضرت عبداللہ بن زبیر نے اس سے فرمایا : بیشک تم تو زکام میں مبتلا ہو تم اپنی ناک صاف کرو۔
(۲۶۵۰۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَیْبٍ ، قَالَ : عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ ابْنِ الزُّبَیْرِ فَشَمَّتَہُ ، ثُمَّ عَطَسَ فَشَمَّتَہُ ، ثُمَّ عَطَسَ الثَّالِثَۃَ فَشَمَّتَہُ ، ثُمَّ عَطَسَ فِی الرَّابِعَۃِ فَقَالَ لَہُ : ابْنُ الزُّبَیْرِ : إنَّک مَضْنُوکٌ فَامْتَخِط۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫০৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی مرتبہ یرحمک اللہ کہا جائے گا ؟
(٢٦٥٠٥) امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص نے ارشاد فرمایا : جب تم میں کسی کو تین مرتبہ چھینک آئے تو تم اسے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دو ، اور اگر زیادہ مرتبہ آئے تو اسے یرحمک اللہ مت کہو کیونکہ یہ تو بیماری ہے جو اس کے سر سے نکلتی ہے۔
(۲۶۵۰۵) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : إذَا عَطَسَ أَحَدُکُمْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَشَمِّتُوہُ ، فَإِنْ زَادَ فَلاَ تُشَمِّتُوہُ ، فَإِنَّمَا ہُوَ دَائٌ یَخْرُجُ مِنْ رَأْسِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫০৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی مرتبہ یرحمک اللہ کہا جائے گا ؟
(٢٦٥٠٦) حضرت محمد بن جعفر بن زبیر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چھینک آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی پھر اسے چھینک آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی، اسے پھر چھینک آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی، پھر جب چوتھی مرتبہ اسے چھینک آئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : تم تو زکام میں مبتلا ہو، جاؤ جا کر اپنی ناک صاف کرو۔
(۲۶۵۰۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، أَنَّ رَجُلاً عَطَسَ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَہُ ، ثُمَّ عَطَسَ فَشَمَّتَہُ ، ثُمَّ عَطَسَ فَشَمَّتَہُ ، ثُمَّ عَطَسَ الرَّابِعَۃَ فَقَالَ لَہُ : النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّک مَضْنُوکٌ فَامْتَخِط۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫০৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی مرتبہ یرحمک اللہ کہا جائے گا ؟
(٢٦٥٠٧) حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے اس شخص کے بارے میں جسے بار بار چھینک آرہی ہو یوں ارشاد فرمایا : کہ تم اسے ایک مرتبہ ہی یرحمک اللہ کہہ دو ۔
(۲۶۵۰۷) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الرَّجُلِ یَعْطِسُ مِرَارًا ، قَالَ : شَمِّتْہُ مَرَّۃً وَاحِدَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫০৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی مرتبہ یرحمک اللہ کہا جائے گا ؟
(٢٦٥٠٨) حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا : ایسے شخص کو ایک مرتبہ یرحمک اللہ کہہ دینا کافی ہے۔
(۲۶۵۰۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ یُجْزِئُہُ أَنْ یُشَمِّتَہُ مَرَّۃً وَاحِدَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫০৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں سے اجازت لینے کا بیان
(٢٦٥٠٩) حضرت ابو المنذر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بصری سے اس آدمی کے متعلق پوچھا : جو ٹھنڈ یا بارش کی وجہ سے ذمیوں کے پاس جانے کا محتاج ہے ، کیا وہ ان سے اجازت طلب کرے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں !۔
(۲۶۵۰۹) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِی الْمُنَبِّہِ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنِ الرَّجُلِ یَحْتَاجُ إلَی الدُّخُولِ عَلَی أَہْلِ الذِّمَّۃِ مِنْ مَطَرٍ ، أَوْ بَرْدٍ ، أَیَسْتَأْذِنُ عَلَیْہِمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫০৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں سے اجازت لینے کا بیان
(٢٦٥١٠) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے امام محمد سے پوچھا کہ میں اہل کتاب سے کیسے اجازت مانگوں ؟ آپ نے فرمایا : اگر تم چاہو تو یوں کہو : ہدایت کی پیروی کرنے والوں پر سلام ہو ، کیا میں داخل ہو جاؤں ؟
(۲۶۵۱۰) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ : کَیْفَ أَسْتَأْذِنُ عَلَی أَہْلِ الْکِتَابِ ؟ قَالَ : إِنْ شِئْتَ قُلْتَ : السَّلاَمُ عَلَی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدَی أَلِجُ ؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫১০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں سے اجازت لینے کا بیان
(٢٦٥١١) حضرت حصین فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مالک غفاری نے ارشاد فرمایا : جب تم کسی ایسے گھر میں داخل ہو جس میں مشرکین موجود ہوں تو تم یوں کہو : السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ ۔ ترجمہ : ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، وہ سمجھیں گے کہ تم نے ان کو سلام کیا حالانکہ تم نے ان سے سلام کو پیری دیا ہے۔
(۲۶۵۱۱) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَن حُصَیْنٍ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الْغِفَارِیِّ ، قَالَ: إذَا دَخَلْت بَیْتًا فِیہِ الْمُشْرِکُونَ فَقُلْ: السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ، یَحْسَبُونَ أَنَّک قَدْ سَلَّمْت عَلَیْہِمْ، وَقَدْ صَرَفْت السَّلاَمَ عَنہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক: