মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৬৫৩১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٣٢) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یقیناً بعض شعر فائدہ مند ہوتے ہیں۔
(۲۶۵۳۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُکْمًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৩২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٣٣) حضرت ابن شرید یا حضرت یعقوب بن عاصم ان دونوں میں سے ایک فرماتے ہیں کہ حضرت شرید نے فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سواری پر مجھے اپنے پیچھے بٹھایا ۔ اور فرمایا : کیا تمہیں امیہ بن ابی صلت کے شعرکے کچھ اشعار یاد ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سناؤ تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک شعر سنا دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور سناؤ، مسلسل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہتے رہے۔ اور سناؤ اور سناؤ ! یہاں تک کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سو اشعار سنا دیئے۔
(۲۶۵۳۳) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنِ ابْنِ الشَّرِیدِ ، أَوْ یَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ سَمِعَ أَحَدُہُمَا الشَّرِیدَ یَقُولُ : أَرْدَفَنِی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَلْفَہُ فَقَالَ : ہَلْ مَعَک مِنْ شِعْرِ أُمَیَّۃَ بْنِ أَبِی الصَّلْتِ شَیْئٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ہِیہِ ، فَأَنْشَدْتہ بَیْتًا فَقَالَ : ہِیہِ ، فَلَمْ یَزَلْ یَقُولُ : ہِیہِ ہِیہِ حَتَّی أَنْشَدْتہ مِئَۃ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৩৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٣٤) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یقیناً بعض اشعار پر حکمت ہوتے ہیں اور یقیناً بعض بیان جادو کا اثر رکھتے ہیں۔
(۲۶۵۳۴) حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ ، عَن قَیْسٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبِیدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُکْمًا ، وَإِنَّ مِنَ الْبَیَانِ سِحْرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৩৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٣٥) حضرت شرید فرماتے ہں س کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امیہ بن ابی صلت کے اشعار میں سے سو قافیہ سنائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر قافیہ کے درمیان فرماتے۔ اور سناؤ ۔ اور فرمایا : قریب تھا کہ وہ اسلام لے آتا۔
(۲۶۵۳۵) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَعْلَی ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیدِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَنْشَدْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِئَۃ قَافِیَۃٍ مِنْ شِعْرِ أُمَیَّۃَ بْنِ أَبِی الصَّلْتِ یَقُولُ بَیْنَ کُلِّ قَافِیَۃٍ : ہِیہِ ، وَقَالَ : إِنْ کَادَ لَیُسْلِمُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৩৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٣٦) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امیہ بن ابی صلت کے اشعار میں سے ایک یا دو اشعار کی تصدیق کی ۔ اس نے یوں شعر کہا : ” زحل اور ثور اس کے دائیں پاؤں کے نیچے ہے اور نسر اس کے بائیں پاؤں کے نیچے ہے۔ اور لیث اس کی تاک میں ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا۔ دوسرا شعر یہ ہے : سورج رات کے آخری حصے میں اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ وہ سرخ ہوتا ہے اور اس کا رنگ گلابی ہونے لگتا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا۔
(۲۶۵۳۶) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَن یَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَۃ ، عَن عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَدَّقَ أُمَیَّۃَ بْنَ أَبِی الصَّلْتِ فِی شَیْئٍ مِنْ شِعْرِہِ ، أَوْ قَالَ فِی بَیْتَیْنِ مِنْ شِعْرِہِ، فَقَالَ :

زُحَلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ یَمِینِہ وَالنَّسْرُ لِلاُخْرَی وَلَیْثٌ مُرْصَدُ

قالَ : فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : صَدَقَ۔

وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ کُلَّ آخِرِ لَیْلَۃٍ حَمْرَائَ یُصْبِحُ لَوْنُہَا یَتَوَرَّدُ

فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : صَدَقَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৩৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٣٧) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شعر کو پڑھا کرتے تھے۔ (ترجمہ) زمانہ تیرے پاس ایسی خبریں لائے گا جو تجھے پہلے حاصل نہیں ہوں گی۔
(۲۶۵۳۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن زَائِدَۃَ ، عَن سِمَاکٍ ، عَن عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَمَثَّلُ مِنَ الأَشْعَارِ :وَیَأْتِیک بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৩৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٣٨) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ سچی ترین بات جو کسی شاعر نے کہی وہ لبید کی بات ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے شعر کا پہلا مصرعہ پڑھا اور اس کا دوسرا مصرعہ چھوڑ دیا۔ مصرعہ یہ ہے ( ترجمہ) اللہ کے سوا ہر چیز باطل اور فانی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت اسلام لے آتا۔
(۲۶۵۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَن مُوسَی بْنِ طَلْحَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إنَّ أَصْدَقَ کَلِمَۃٍ ، قَالَہَا شَاعِرٌ کَلِمَۃُ لَبِیدٍ ، ثُمَّ تَمَثَّلَ أَوَّلَہُ وَتَرَکَ آخِرَہُ :

أَلاَ کُلُّ شَیْئٍ مَا خَلاَ اللَّہَ بَاطِلٌ۔

وَکَادَ أُمَیَّۃُ بْنُ أَبِی الصَّلْتِ أَنْ یُسْلِمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৩৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٣٩) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یقیناً سچی ترین بات جو کسی شاعر نے کہی وہ لبید کا یہ مصرعہ ہے ( ترجمہ) اللہ کے سوا ہر چیز باطل اور فانی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت اسلام لے آتا۔
(۲۶۵۳۹) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ أَصْدَقَ کَلِمَۃٍ ، قَالَہَا الشَّاعِرُ کَلِمَۃُ لَبِیَدٍ :أَلاَ کُلُّ شَیْئٍ مَا خَلاَ اللَّہَ بَاطِلٌ۔وَکَادَ أُمَیَّۃُ بْنُ أَبِی الصَّلْتِ یُسْلِمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৩৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٤٠) حضرت حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اشعار سنائے۔ (ترجمہ) میں اللہ کے حکم سے گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس اللہ کے رسول ہیں جو آسمانوں کے اوپر ہے۔ حضرت یحییٰ اور ان کے والد (حضرت زکریا ) دونوں کا عمل اس دین میں قابل قبول ہے۔ اسی طرح حضرت ہود کا عمل بھی جب وہ لوگوں میں کھڑے ہو کر انھیں دین کی دعوت دیا کرتے تھے۔
(۲۶۵۴۰) حَدَّثَنَا عَبْدَۃَ بْنِ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِی حیان ، عَن حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، أَنَّ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ أَنْشَدَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَبْیَاتًا فَقَالَ :

شَہِدْت بِإِذْنِ اللہِ أَنَّ مُحَمَّدًا

وَأَنَّ أَبَا یَحْیَی وَیَحْیَی کِلاَہُمَا

وَأَنَّ أَخَا الأَحْقَافِ إذَا قَامَ فِیہُمُ

رَسُولُ الَّذِی فَوْقَ السَّمَاوَاتِ مِنْ عَلُ

لَہُ عَمَلٌ فِی دِینِہِ مُتَقَبَّلُ

یَقُولُ بِذَاتِ اللہِ فِیہِمْ وَیَعْدِلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৪০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٤١) امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت حسان نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قریش کے بارے میں اشعار کہنے کی اجازت مانگی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ایسا کیسے کرسکتے ہو حالانکہ میرا نسب بھی ان ہی میں سے ہے۔ انھوں نے عرض کیا۔ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان میں سے ایسے نکال لوں گا جیسا کہ آٹے سے بال کو نکال لیا جاتا ہے۔
(۲۶۵۴۱) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَن مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ النَّبِیَّ فِی قُرَیْشٍ ، قَالَ : کَیْفَ تَصْنَعُ بِنَسَبِی فِیہِمْ ؟ قَالَ : أَسُلُّک مِنْہُمْ کَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَۃُ مِنَ الْعَجِینِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৪১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٤٢) امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ کے سامنے حضرت حسان کا ذکر ہوا تو آپ سے کہا گیا : بیشک انھوں نے تو آپ کے خلاف مدد کی اور ایسا اور ایسا کیا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا : چھوڑو، یقیناً میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ نے حسان کی شعر کہنے میں روح القدس یعنی حضرت جبرائیل کے ذریعے مدد فرمائی۔
(۲۶۵۴۲) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَن مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : ذُکِرَ عِنْدَ عَائِشَۃَ حَسَّانُ فَقِیلَ لَہَا : إِنَّہُ قَدْ أَعَانَ عَلَیْک وَفَعَلَ وَفَعَلَ ، فَقَالَتْ : مَہْلاً ، فَإِنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : إنَّ اللَّہَ یُؤَیِّدُ حَسَّانَ فِی شِعْرِہِ بِرُوحِ الْقُدُسِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৪২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٤٣) امام شعبی فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مشرکین کی ہجو بیان کرو۔ یقیناً روح القدس حضرت جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
(۲۶۵۴۳) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَن مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اہْجُ الْمُشْرِکِینَ , فَإِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ مَعَک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৪৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٤٤) حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ابو سفیان کی ہجو کرنے کے بارے میں پوچھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیسے کرو گے وہ تو میرے قریبی رشتہ دار ہیں ؟ آپ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معزز بنایا۔ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسے کھچن لوں گا جیسے آٹے میں سے بال کھینچ لیا جاتا ہے۔
(۲۶۵۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَن ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ سَأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَہْجُوَ أَبَا سُفْیَانَ ، قَالَ : فَکَیْفَ بِقَرَابَتِی ؟ قَالَ : وَالَّذِی أَکْرَمَک لأسُلَّنَّکَ مِنْہُمْ سَلَّ الشَّعْرِ مِنَ الْعَجِینِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৪৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٤٥) حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسان بن ثابت سے فرمایا : مشرکین کی ہجو بیان کرو ۔ بیشک حضرت جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
(۲۶۵۴۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ : اہْجُ الْمُشْرِکِینَ , فَإِنَّ جِبْرِیلَ مَعَک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৪৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٤٦) حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابو خالد والبی نے ارشاد فرمایا کہ ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کی مجلسوں میں بیٹھا کرتے تھے تو وہ لوگ اشعار پڑھا کرتے تھے اور جاہلیت کے واقعات یاد کرتے تھے۔
(۲۶۵۴۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی خَالِدٍ الْوَالِبِیِّ ، قَالَ : کُنَّا نُجَالِسُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَنَاشَدُونَ الأَشْعَارَ وَیَذْکُرُونَ أَمْرَ الْجَاہِلِیَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৪৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٤٧) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن رواحۃ کی ایک باندی تھی۔ آپ اس سے جماع کرنے کو اپنی بیوی سے چھپاتے تھے۔ ایک دن آپ نے اس اسے جماع کیا اور جب اپنی بیوی کے پاس آئے تو اس نے آپ پر الزام لگایا کہ آپ نے اس باندی سے جماع کیا ہے ؟ آپ نے اس کا انکار کیا تو آپ کی بیوی نے آپ سے کہا : اگر ایسی بات ہے تو قرآن پڑھو : آپ نے یہ اشعار پڑھ دیئے۔ (ترجمہ) میں اللہ کے حکم سے گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس اللہ کے رسول ہیں جو آسمانوں کے اوپر ہے۔ حضرت یحییٰ اور ان کے والد دونوں کا عمل اس دین میں قابل قبول ہے۔ اس نے کہا : تم سچے ہو۔
(۲۶۵۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عن أسامۃ , عَن نَافِعٍ ، قَالَ : کَانَت لِعَبْدِ اللہِ بن رواحۃ جَارِیَۃٌ ، فَکَانَ یُکَاتِمُ امْرَأَتَہُ غَشَیَانَہَا ، قَالَ : فَوَقَعَ عَلَیْہَا ذَاتَ یَوْمٍ ، فَجَائَ إلَی امْرَأَتِہِ فَاتَّہَمَتْہُ أَنْ یَکُونَ وَقَعَ عَلَیْہَا ، فَأَنْکَرَ ذَلِکَ فَقَالَتْ لہ : اقْرَأْ إذًا الْقُرْآنَ ، فَقَالَ :

شَہِدْت بِإِذْنِ اللہِ أَنَّ مُحَمَّدًا

وَأَنَّ أَبَا یَحْیَی وَیَحْیَی کِلاَہُمَا

رَسُولُ الَّذِی فَوْقَ السَّمَاوَاتِ مِنْ عَلُ

لَہُ عَمَلٌ فِی دِینِہِ مُتَقَبَّلُ

فَقَالَتْ : أَولَی لکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৪৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٤٨) حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک شاعر آیا اور کہنے لگا : کیا آپ کو شعر سناؤں ؟ آپ نے شعر سنانے کا کہا : تو وہ شعر سنا رہا تھا کہ اس نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کیا اور کہا : اللہ تعالیٰ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درجات بلند فرمائے آپ نے تکالیف پر بہت صبر کیا۔ حضرت عمر نے فرمایا : تحقیق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا ہی کیا پھر اس نے یہ مصرعہ پڑھا۔ آپ نے فرمایا : جو اللہ نے چاہا۔
(۲۶۵۴۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَن مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَن خَیْثَمَۃَ ، قَالَ أَتَی عُمَرَ شَاعِرٌ فَقَالَ : أُنْشِدُک ، فَاسْتَنْشَدَہُ ، فَجَعَلَ ہُوَ یُنْشِدُہُ ، فَذَکَرَ مُحَمَّدًا فَقَالَ : غَفَرَ اللَّہُ لِمُحَمَّدٍ بِمَا صَبَرَ ، قَالَ : یَقُولُ عُمَرُ : قَدْ فَعَلَ ، ثُمَّ أَبَا بَکْرٍ جَمِیعًا وَعُمَرَ ، فَقَالَ : مَا شَائَ اللَّہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৪৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٤٩) حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضرت برائ ایک شعر گنگنا رہے تھے، میں نے ان سے کہا کہ آپ شعر گنگنا رہے ہیں، اگر آپ کو اس حالت میں موت آگئی تو کیا ہوگا۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں اپنے بستر پر نہیں مروں گا۔ میں نے ننانوے مشرکوں اور منافقوں کو قتل کیا ہے۔
(۲۶۵۴۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن مُصْعَبِ بْنِ سُلَیْمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : تَمَثَّلَ الْبَرَائُ بَیْتًا مِنْ شِعْرٍ فَقُلْت : تُمَثِّلُ أَخِی بِبَیْتٍ مِنْ شِعْرٍ لاَ تَدْرِی لَعَلَّہُ آخِرُ شَیْئٍ تَکَلَّمْت بِہِ ، قَالَ : لاَ أَمُوتُ عَلَی فِرَاشِی ، لَقَدْ قَتَلْت مِنَ الْمُشْرِکِینَ وَالْمُنَافِقِینَ مِئَۃ إلاَّ رَجُلاً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৪৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٥٠) امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو خالد والبی نے ارشاد فرمایا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا۔ بعض اوقات وہ اپی مجالس میں صرف اشعار کا ہی تذکرہ کیا کرتے تھے۔
(۲۶۵۵۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی خَالِدٍ الْوَالِبِیِّ ، قَالَ : کُنْتُ أَجْلِسُ مَعَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَعَلَّہُمْ لاَ یَذْکُرُونَ إلاَّ الشِّعْرَ حَتَّی یَتَفَرَّقُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৫০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٥١) امام شعبی نے ارشاد فرمایا : حضرت ابوبکر شاعر تھے، حضرت عمر شاعر تھے اور حضرت علی بھی شاعر تھے۔
(۲۶۵۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِی الْجَحَّافِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ کَانَ أَبُو بَکْرٍ شَاعِرًا ، وَکَانَ عُمَرُ شَاعِرًا ، وَکَانَ عَلِیٌّ شَاعِرًا۔
tahqiq

তাহকীক: