মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৬৫৫১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٥٢) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت ربعی بن حراش نے ارشاد فرمایا : میں غطفان کے لشکر میں حضرت عمر کے پاس آیا تو وہ لوگ شعروں کا تذکرہ کر رہے تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا : تمہارے شعراء میں سب سے بڑا شاعر کون سا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : امیر المؤمنین ! آپ زیادہ جانتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا : یہ شعر کس نے کہا ؟ (ترجمہ) میں تیرے پاس اس حال میں آیا کہ میں ننگے پاؤں تھا اور میرے کپڑے پرانے تھے۔ بہت سے اندیشوں نے مجھے گھیرا ہوا تھا۔ میں اپنی امانت کو اس حال میں پایا کہ تو نے اس میں خیانت نہ کی تھی۔ حضرت نوح بھی خیانت نہ کیا کرتے تھے۔
ہم لوگوں نے جواب دیا : نابغہ نے، آپ پھر ایسے ہی فرمایا اور پوچھا : یہ شعر کس نے کہا ؟ (ترجمہ) میں قسم کھاتا ہوں تاکہ تیرے دل میں کوئی شک باقی نہ رہے۔ اور اللہ کے سوا تو آدمی کا کوئی مذہب نہیں ہے۔
پھر آپ نے فرمایا : یہ شعر کس نے کہا ؟ (ترجمہ) سوائے سلیمان کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا لوگوں میں کھڑے ہوجاؤ اور انھیں دنیا کے فانی ہونے کا درس دو ۔
ہم نے جواب دیا : نابغہ نے۔ آپ نے فرمایا : یہ تمہارے شعراء میں سب سے بڑا شاعر ہے۔
ہم لوگوں نے جواب دیا : نابغہ نے، آپ پھر ایسے ہی فرمایا اور پوچھا : یہ شعر کس نے کہا ؟ (ترجمہ) میں قسم کھاتا ہوں تاکہ تیرے دل میں کوئی شک باقی نہ رہے۔ اور اللہ کے سوا تو آدمی کا کوئی مذہب نہیں ہے۔
پھر آپ نے فرمایا : یہ شعر کس نے کہا ؟ (ترجمہ) سوائے سلیمان کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا لوگوں میں کھڑے ہوجاؤ اور انھیں دنیا کے فانی ہونے کا درس دو ۔
ہم نے جواب دیا : نابغہ نے۔ آپ نے فرمایا : یہ تمہارے شعراء میں سب سے بڑا شاعر ہے۔
(۲۶۵۵۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَی عَامِرٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا رِبْعِیُّ بْنُ حِرَاشٍ ، أَنَّہُ أَتَی عُمَرَ فِی نَفَرٍ مِنْ غَطَفَانَ فَذَکَرُوا الشِّعْرَ فَقَالَ عُمَرُ : أَیُّ شُعَرَائِکُمْ أَشْعَرُ ؟ فَقَالُوا : أَنْتَ أَعْلَمُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : مَنِ الَّذِی یَقُولُ :
أَتَیْتُک عَارِیًّا خَلِقًا ثِیَابِی
عَلَی خَوْفٍ تُظَنُّ بِی الظُّنُونُ
فَأَلْفَیْت الأَمَانَۃَ لَمْ تَخُنْہَا
کَذَلِکَ کَانَ نُوحٌ لاَ یَخُونُ
قُلنا النَّابِغَۃُ , ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ قَالَ : مَنِ الَّذِی یَقُولُ :
حَلَفْت فَلَمْ أَتْرُکْ لِنَفْسِکَ رِیبَۃً
وَلَیْسَ وَرَائَ اللہِ لِلْمَرْئِ مَذْہَبُ
ثُمَّ قَالَ : مَنِ الَّذِی یَقُولُ :
إلاَ سُلَیْمَانَ إذْ قَالَ الإِلَہُ لَہُ
قُمْ فِی الْبَرِیَّۃِ فَازْجُرْہَا عَلی الْفَنَدِ
قلْنَا : النَّابِغَۃُ ، قَالَ : ہَذَا أَشْعَرُ شُعَرَائِکُمْ۔
أَتَیْتُک عَارِیًّا خَلِقًا ثِیَابِی
عَلَی خَوْفٍ تُظَنُّ بِی الظُّنُونُ
فَأَلْفَیْت الأَمَانَۃَ لَمْ تَخُنْہَا
کَذَلِکَ کَانَ نُوحٌ لاَ یَخُونُ
قُلنا النَّابِغَۃُ , ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ قَالَ : مَنِ الَّذِی یَقُولُ :
حَلَفْت فَلَمْ أَتْرُکْ لِنَفْسِکَ رِیبَۃً
وَلَیْسَ وَرَائَ اللہِ لِلْمَرْئِ مَذْہَبُ
ثُمَّ قَالَ : مَنِ الَّذِی یَقُولُ :
إلاَ سُلَیْمَانَ إذْ قَالَ الإِلَہُ لَہُ
قُمْ فِی الْبَرِیَّۃِ فَازْجُرْہَا عَلی الْفَنَدِ
قلْنَا : النَّابِغَۃُ ، قَالَ : ہَذَا أَشْعَرُ شُعَرَائِکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৫২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٥٣) حضرت ابوضحی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے معدی کرب سے شعر سنانے کا مطالبہ کیا، اور فرمایا : میں نے اسلام لانے کے بعد تجھ سے پہلے کسی سے بھی شعر سنانے کا مطالبہ نہیں کیا۔
(۲۶۵۵۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی الضُّحَی ، أَنَّ أَبَا بَکْرٍ اسْتَنْشَدَ مَعْدِی کَرِبَ فَأَنْشَدَہُ ، وَقَالَ : مَا اسْتَنْشَدْت فِی الإِسْلاَمِ أَحَدًا قَبْلَک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৫৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٥٤) حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے ارشاد فرمایا : کبھی کبھار شاعر پر حکمت بات کہہ دیتا ہے۔
(۲۶۵۵۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سَعِیدِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَکْرٍ : رُبَّمَا قَالَ الشَّاعِرُ الْکَلِمَۃَ الْحِکَمِیَّۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৫৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٥٥) حضرت ھانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو یہ شعر پڑھتے ہوئے سُنا :(ترجمہ) تو اپنے سینہ کو موت کے لیے تیار کر لے۔۔۔اس لیے کہ موت تجھ سے ملاقات کرنے والی ہے اور تو ہرگز موت سے نہ ڈر۔۔۔جب موت تیری وادی میں اتر آئے۔
(۲۶۵۵۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَن ہَانِئٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِیًّا یَقُولُ :
اشْدُدْ حَیَازِیمَکَ لِلْمَوْتِ
وَلاَ تَجْزَعْ مِنَ الْمَوْتِ
فإنَّ الْمَوْتَ لاَقِیکَا
إذَا حَلَّ بِوَادِیکَا
اشْدُدْ حَیَازِیمَکَ لِلْمَوْتِ
وَلاَ تَجْزَعْ مِنَ الْمَوْتِ
فإنَّ الْمَوْتَ لاَقِیکَا
إذَا حَلَّ بِوَادِیکَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৫৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٥٦) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب نے عبد الرحمن بن ملجم مرادی سے یوں کہا : (ترجمہ) میں اس کی زندگی کا ارادہ کرتا ہوں اور وہ میرے قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تم قبیلہ مراد میں سے کسی ایسے دوست کو لاؤ جو تمہارا عذر تسلیم کرے۔
(۲۶۵۵۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن یَزِیدَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : قَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ لِلْمُرَادِیِّ :
أُرِیدُ حَیَاتَہُ وَیُرِیدُ قَتْلِی
عَذِیرَک مِنْ خَلِیِّکَ مِنْ مُرَادِ
أُرِیدُ حَیَاتَہُ وَیُرِیدُ قَتْلِی
عَذِیرَک مِنْ خَلِیِّکَ مِنْ مُرَادِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৫৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٥٧) حضرت مجمع فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ایک جیل بنائی اور اس کا نام نافع رکھا پھر آپ کے ذہن میں کوئی خیال آیا تو آپ نے اسے توڑ کر اس سے بھی مضبوط جیل بنائی پھر آپ نے یہ شعر کہا :(ترجمہ) کیا میں تمہیں صاحب عقل اور معروف عقلمند نہیں لگتا۔ میں نے نافع جیل کے بعد مخیس جیل بنادی۔
(۲۶۵۵۷) حَدَّثَنَا یَعلی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ ، عَن مُجَمِّعٍ ، قَالَ : بَنَی عَلِیٌّ سِجْنًا فَسَمَّاہُ نَافِعًا ، ثُمَّ بَدَا لَہُ فَکَسَّرَہُ وَبَنَی أَحْصَنَ مِنْہُ ، ثُمَّ قَالَ بَیْتَ شِعْرٍ :
أَلَمْ تَرَونی کَیِّسًا مُکَیَّسًا
بَنَیْت بَعْدَ نَافِعٍ مُخَیَّسًا
أَلَمْ تَرَونی کَیِّسًا مُکَیَّسًا
بَنَیْت بَعْدَ نَافِعٍ مُخَیَّسًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৫৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٥٨) امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت مغیرہ کو خط لکھا کہ وہ شعراء کو اپنے پاس بلا کر ان سے شعرسنیں۔
(۲۶۵۵۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَن دَاوُد ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، أَنَّ عُمَرَ کَتَبَ إلَی الْمُغِیرَۃِ أَنْ یَسْتَنْطِق الشُّعَرَائَ عَندَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৫৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٥٩) حضرت عبد الملک بن ابی بشیر فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں حضرت ابن عباس کے ساتھ چل رہا تھا اور ہم لوگ عرفات کے میدان کی طرف جا رہے تھے۔ اور میں شعر پڑھ رہا تھا آپ میری غلطیاں درست فرما رہے تھے۔
(۲۶۵۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی بَشِیر ، عَن عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : کُنْتُ أَسِیرُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَنَحْنُ مُنْطَلِقُونَ إلَی عَرَفَاتٍ ، فَکُنْت أُنْشِدُہُ الشِّعْرَ ، وَیَفْتَحُہُ عَلَیَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৫৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٦٠) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت مطرف بن عبداللہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں حضرت عمران بن حصین کے ساتھ کوفہ کی جانب نکلا۔ پس ان پر کوئی دن نہیں گزرتا تھا مگر یہ کہ وہ ہمیں شعر سناتے تھے۔
(۲۶۵۶۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَن قَتَادَۃَ ، عَن مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : خَرَجْت مَعَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ إلَی الْکُوفَۃِ ، فَکَانَ لاَ یَأْتِی عَلَیْہِ یَوْمٌ إلاَّ أَنْشَدَنَا فِیہِ الشِّعْرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৬০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٦١) امام محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت کثیر بن افلح نے ارشاد فرمایا : سب سے آخری مجلس جس میں ہم حضرت زید بن ثابت کے ساتھ بیٹھے تھے وہ مجلس تھی جس میں ہم نے اشعار پڑھے تھے۔
(۲۶۵۶۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ ، عَن کَثِیرِ بْنِ أَفْلَحَ ، قَالَ : کَانَ أخِرُ مَجْلِسٍ جَلَسْنَا فِیہِ مَعَ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَجْلِسًا تَنَاشَدْنَا فِیہِ الشِّعْرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৬১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٦٢) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ مدینہ آئے اس حال میں کہ مدینہ وباء زدہ جگہ تھی، پس حضرت ابوبکر اور حضرت بلال بیمار ہوگئے ۔ جب حضرت ابوبکر صحت مند ہوئے تو آپ یہ شعر پڑھتے تھے :(ترجمہ) ہر آدمی اپنے گھروالوں میں صبح کرتا ہے اس حال میں کہ موت اس کی جوتی کے تسمہ سے بھی قریب ہوتی ہے۔
اور جب حضرت بلال صحت مند ہوئے تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔ (ترجمہ) کاش اے میرے شعر : میں رات گزاروں مکہ کی وادی میں اس حال میں کہ میرے اردگرد اذخر اور ثمامہ کی گھاس ہو۔ اور کیا میں کسی دن مجنّہ کے پانی کی جگہ اتروں گا اور کیا میرے سامنے شامہ اور طفیل چشمے ظاہر ہوں گے۔
اور جب حضرت بلال صحت مند ہوئے تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔ (ترجمہ) کاش اے میرے شعر : میں رات گزاروں مکہ کی وادی میں اس حال میں کہ میرے اردگرد اذخر اور ثمامہ کی گھاس ہو۔ اور کیا میں کسی دن مجنّہ کے پانی کی جگہ اتروں گا اور کیا میرے سامنے شامہ اور طفیل چشمے ظاہر ہوں گے۔
(۲۶۵۶۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَن ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : قدِمْنَا الْمَدِینَۃَ وَہِیَ وَبِیئۃٌ فَاشْتَکَی أَبُو بَکْرٍ وَاشْتَکَی بِلاَلٌ ، قَالَتْ : فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ تعنی إذَا أَفَاقَ یَقُولُ :
کُلُّ امْرِئٍ مُصْبِحٌ فِی أَہْلِہِ
وَالْمَوْتُ أَدْنَی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ
قالَتْ : وَکَانَ بِلاَلٌ إذَا أَفَاقَ یَقُولُ :
أَلاَ لَیْتَ شِعْرِی ہَلْ أَبِیتَنَّ لَیْلَۃً
وہَلْ أَرِدَنَّ یَوْمًا مِیَاہَ مِجَنَّۃٍ
بِوَادٍ وَحَوْلِی إذْخِرٌ وَجَلِیلُ
وَہَلْ یَبْدُوَنَّ لِی شَامَۃٌ وَطَفِیلُ
کُلُّ امْرِئٍ مُصْبِحٌ فِی أَہْلِہِ
وَالْمَوْتُ أَدْنَی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ
قالَتْ : وَکَانَ بِلاَلٌ إذَا أَفَاقَ یَقُولُ :
أَلاَ لَیْتَ شِعْرِی ہَلْ أَبِیتَنَّ لَیْلَۃً
وہَلْ أَرِدَنَّ یَوْمًا مِیَاہَ مِجَنَّۃٍ
بِوَادٍ وَحَوْلِی إذْخِرٌ وَجَلِیلُ
وَہَلْ یَبْدُوَنَّ لِی شَامَۃٌ وَطَفِیلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৬২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٦٣) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ لبید کے اشعار میں سے اکثر ان دو مصرعوں کو پڑھا کرتی تھیں۔ (ترجمہ) وہ لوگ چلے گئے جن کی حفاظت میں زندگی گزاری جاتی تھی۔ اور میں باقی رہ گئی پیچھے خارش زدہ اونٹ کی کھال کی طرح۔ اور لوگ چغلیاں اور خیانت کرتے ہیں۔ اور کہنے والے کو عیب لگایا جاتا ہے اگرچہ وہ فساد نہ پھیلاتا ہو۔
(۲۶۵۶۳) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ، عَن ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: کَانَتْ تَتَمَثَّلُ ہَذَیْنِ الْبَیْتَیْنِ مِنْ قَوْلِ لَبِیَدٍ:
ذَہَبَ الَّذِینَ یُعَاشُ فِی أَکْنَافِہِمْ
یَتَأَکَّلُونَ مَشِیحَۃً وَخِیَانَۃً
وَبَقِیت فِی خَلَفٍ کَجِلْدِ الأَجْرَبِ
وَیُعَابُ قَائِلُہُمْ وَإِنْ لَمْ یَشْغَبْ
ذَہَبَ الَّذِینَ یُعَاشُ فِی أَکْنَافِہِمْ
یَتَأَکَّلُونَ مَشِیحَۃً وَخِیَانَۃً
وَبَقِیت فِی خَلَفٍ کَجِلْدِ الأَجْرَبِ
وَیُعَابُ قَائِلُہُمْ وَإِنْ لَمْ یَشْغَبْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৬৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٦٤) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت عمر اس شعر کو پڑھا کرتے تھے۔ (ترجمہ) وہ تیرے پاس پریشان ہو کر اس حال میں بھاگتی ہوئے آئے گی کہ اس کے پیٹ کا بچہ تکلیف اٹھائے گا۔ اس کا دین نصاریٰ کے دین کے مخالف ہوگا۔
(۲۶۵۶۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَن ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : کَانَ عُمَرُ یَتَمَثَّلُ بِہَذَا الْبَیْتِ :
إلَیْک تَعْدُو قَلِقًا وَضِینُہَا
مُعْترِضًا فِی بَطْنِہَا جَنِینُہَا۔
مُخَالِفًا دِینَ النَّصَارَی دِینہَا۔
إلَیْک تَعْدُو قَلِقًا وَضِینُہَا
مُعْترِضًا فِی بَطْنِہَا جَنِینُہَا۔
مُخَالِفًا دِینَ النَّصَارَی دِینہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৬৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٦٥) حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ کے پاس حضرت حسان بن ثابت اپنی بینائی چلے جانے کے بعد آئے۔ حضرت عائشہ کو بتایا گیا کہ آپ کے پاس وہ شخص آیا ہے جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے یوں فرمایا : کہ جس نے اٹھایا اس کا بڑا بوجھ اس کے لیے بڑا عذاب ہے ؟ ! آپ نے فرمایا : کیا وہ بڑے عذاب میں نہیں ہے کہ تحقیق اس کی بینائی چلی گئی ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت حسان نے حضرت عائشہ کے بارے میں شعر سنایا جو اپنی بیٹی کے لیے کہا تھا۔ (ترجمہ) وہ پاکدامن ہیں، بےعیب ہیں، کسی برے کام کا انھوں نے ارتکاب نہیں کیا۔ وہ پاکدامن عورتوں کے عزت پر انگلی نہیں اٹھاتیں۔ حضرت عائشہ نے فرمایا : لیکن تم ایسے نہیں ہو۔
(۲۶۵۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن مُسْلِمٍ ، عَن مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیْہَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ بَعْدَ مَا کُفَّ بَصَرُہُ ، فَقِیلَ لَہَا ، أَتُدْخِلِینَ عَلَیْک ہَذَا الَّذِی قَالَ اللَّہُ : {وَالَّذِی تَوَلَّی کِبْرَہُ مِنْہُمْ لَہُ عَذَابٌ عَظِیمٌ} قَالَتْ : أَوَلَیْسَ فِی عَذَابٍ عَظِیمٍ ، قَدْ کُفَّ بَصَرُہُ ، قَالَ : فَأَنْشَدَہَا بَیْتًا ، قَالَہُ لاِبْنَتِہِ :
حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِیبَۃٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَی مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ
قالَتْ : لَکِنَّ أَنْتَ لَسْت کَذَلِکَ۔
حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِیبَۃٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَی مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ
قالَتْ : لَکِنَّ أَنْتَ لَسْت کَذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৬৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٦٦) حضرت حکم فرماتے ہںٌ کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ نے مسجد میں شعر پڑھے اس حال میں کہ مؤذن اقامت کہہ رہا تھا۔
(۲۶۵۶۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی فَزَارَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ أَبِی لَیْلَی أَنْشَدَ شِعْرًا فِی الْمَسْجِدِ وَالْمُؤَذِّنُ یُقِیمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৬৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٦٧) حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : میں نے حضرت عائشہ سے زیادہ کسی کو اشعار ، فرائض اور فقہ کو جاننے والا نہیں دیکھا۔
(۲۶۵۶۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَن ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : مَا رَأَیْت أَحَدًا أَعْلَمَ بِشِعْرٍ ، وَلاَ فَرِیضَۃٍ ، وَلاَ أَعْلَمَ بِفِقْہٍ مِنْ عَائِشَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৬৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٦٨) حضرت فرّات فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے ارشاد فرمایا : کہ قرآن مجید میں القانع سے مراد سوال کرنے والا ہے۔ پھر آپ نے شماخ کا یہ شعر پڑھا۔ (ترجمہ) آدمی کا مال درستی پیدا کرتا ہے اور اس کے فقر کو مالداری سے بدل کر اسے سوال کرنے والوں کے مقابلے میں عفیف بنادیتا ہے۔
(۲۶۵۶۸) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَن فُرَاتٍ ، عَن سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : (الْقَانِعُ) السَّائِلُ ، ثُمَّ أَنْشَدَ بیت شَمَّاخٍ وَقَالَ:
لَمَالُ الْمَرْئِ یُصْلِحُہُ فیغنی ۔۔۔ مَفَاقِرُہُ أَعَفُّ مِنَ الْقَنُوعِ۔
لَمَالُ الْمَرْئِ یُصْلِحُہُ فیغنی ۔۔۔ مَفَاقِرُہُ أَعَفُّ مِنَ الْقَنُوعِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৬৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٦٩) حضرت بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے قرآن کی آیت : { فَإِذَا ہُمْ بِالسَّاہِرَۃِ } کے بارے میں ارشاد فرمایا : ساھرۃ سے مراد زمین ہے۔ پھر آپ نے امیہ کے شعر کا یہ مصرعہ پڑھا۔ (ترجمہ) وہ ہمارے پاس زمین اور سمندر کے گوشت کے ساتھ آیا۔
(۲۶۵۶۹) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَن بَیَانٍ ، عَنْ عَامِرٍ {فَإِذَا ہُمْ بِالسَّاہِرَۃِ} قَالَ : بِالأَرْضِ ، ثُمَّ أَنْشَدَ بیتا لأُمَیَّۃِ :
فأتانا بلَحْمٍ بسَاہِرَۃٍ وَبَحْر
فأتانا بلَحْمٍ بسَاہِرَۃٍ وَبَحْر
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৬৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٧٠) حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی حضرت حسن بصری کو کسی شعر کے مصرعہ کو بطور تمثیل پڑھتے ہوئے نہیں سنا سوائے اس شعر کے : (ترجمہ) اصل مردہ وہ نہیں جو مرگیا اور آرام پا گیا اصل مردہ تو وہ ہے جو زندگی میں مردہ ہے۔
پھر آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! شاعر نے سچ کہا : بیشک وہ زندہ ہے اس حال میں کہ دل مردار ہے۔
پھر آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! شاعر نے سچ کہا : بیشک وہ زندہ ہے اس حال میں کہ دل مردار ہے۔
(۲۶۵۷۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : مَا سَمِعت الْحَسَنَ یَتَمَثَّلُ بِبَیْتٍ مِنْ شِعْرٍ قَطُّ إلاَّ ہَذَا الْبَیْتَ :
لَیْسَ مَنْ مَاتَ فَاسْتَرَاحَ بِمَیِّتٍ إنَّمَا الْمَیِّتُ مَیِّتُ الأَحْیَائِ
ثُمَّ قَالَ : صَدَقَ وَاللَّہِ ، إِنَّہُ لَیَکُونُ حَیًّا وَہُوَ مَیِّتُ الْقَلْبِ۔
لَیْسَ مَنْ مَاتَ فَاسْتَرَاحَ بِمَیِّتٍ إنَّمَا الْمَیِّتُ مَیِّتُ الأَحْیَائِ
ثُمَّ قَالَ : صَدَقَ وَاللَّہِ ، إِنَّہُ لَیَکُونُ حَیًّا وَہُوَ مَیِّتُ الْقَلْبِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৭০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٧١) حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت عروہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عائشہ کو ان کی وفات سے تین سال قبل چھوڑا ۔ اور میں نے کسی کو بھی آپ سے زیادہ قرآن مجید ، رسول اللہ کی سنت، اشعار اور فرائض کا جاننے والے کوئی نہیں دیکھا۔
(۲۶۵۷۱) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَن ہِشَامٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ : تَرَکْتہَا یَعْنِی عَائِشَۃَ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ بِثَلاَثِ سِنِینَ ، وَمَا رَأَیْت أَحَدًا أَعْلَمَ بِکِتَابِ اللہِ ، وَلاَ بِسُنَّۃٍ ، عَن رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلاَ بِشِعْرٍ ، وَلاَ فَرِیضَۃٍ مِنْہَا۔
তাহকীক: