মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৬৫৭১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٧٢) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عباس سے قرآن مجید میں سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا جاتا ۔ تو آپ اہل عرب کے اشعار میں سے کوئی شعر پڑھتے۔
(۲۶۵۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : الطَّیَالِسِیُّ ، عَن مِسْمَعِ بْنِ مَالِکٍ الْیَرْبُوعِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِکْرِمَۃَ یَقُولُ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إذَا سُئِلَ عَن شَیْئٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَنْشَدَ أشْعَارًا مِنْ أَشْعَارِہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৭২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٧٣) حضرت ابن ابجبر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر کا گزر دو آدمیوں کے قریب سے ہوا جو دو راستوں کے چلنے کی جگہ کے پاس تھے۔ اور وہ دونوں آپ کی غیبت کر رہے تھے اور آپ میں عیب نکال رہے تھے۔ اس پر آپ نے یہ شعر پڑھا :(ترجمہ) بالکل ٹھیک ہیں، خوشحال ہیں اور کسی بیماری کا شکار بھی نہیں، پھر بھی وہ ہماری عزتوں کو اچھالتے ہیں۔
(۲۶۵۷۳) حَدَّثَنَا حُسَین بْنُ عَلِیٍّ ، عَنِ ابْنِ أَبْجَرَ ، قَالَ : مَرَّ عَامِرٌ بِرَجُلَیْنِ عِنْدَ مَجْمَعِ طَرِیقَیْنِ وَہُمَا یَغتَبَانہ وَیَقَعَانِ فِیہِ فَقَالَ :
ہَنِیئًا مَرِیئًا غَیْرَ دَائِ مُخَامِرٍ لِعَزَّۃَ مِنْ أَعْرَاضِنَا مَا اسْتَحَلَّتِ
ہَنِیئًا مَرِیئًا غَیْرَ دَائِ مُخَامِرٍ لِعَزَّۃَ مِنْ أَعْرَاضِنَا مَا اسْتَحَلَّتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৭৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٧٤) حضرت یزید بن عبداللہ بن قسیط فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الحسن برّاد نے ارشاد فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” اور رہے شعراء تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں۔ “ تو حضرت عبداللہ بن رواحہ ، حضرت کعب بن مالک اور حضرت حسان بن ثابت ، یہ تینوں حضرات روتے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ رب العزت نے یہ آیت اتاری اس حال میں کہ وہ جانتے ہیں کہ ہم لوگ شاعر ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس کے بعد والی آیت بھی پڑھو : مگر وہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے۔ تم لوگ ہو۔ ترجمہ : وہ لوگ کامیاب ہوئے۔ یہ بھی تم لوگ ہو۔
(۲۶۵۷۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ وَاضِحٍ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَن یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ قُسَیْطٍ ، عَنْ أَبِی الْحَسَنِ الْبَرَّادِ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {وَالشُّعَرَائُ یَتَّبِعُہُمَ الْغَاوُونَ} جَائَ عَبْدُ اللہِ بْنُ رَوَاحَۃَ وَکَعْبُ بْنُ مَالِکٍ وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُمْ یَبْکُونَ ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَنْزَلَ اللَّہُ ہَذِہِ الآیَۃَ وَہُوَ یَعْلَمُ أَنَّا شُعَرَائُ ، فَقَالَ : اقَرَؤُوا مَا بَعْدَہَا : {إلاَ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ} أَنْتُمْ {وَانْتَصَرُوا} أَنْتُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৭৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٧٥) حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ نے قرآن مجید کی آیت { وَالشُّعَرَائُ یَتَّبِعُہُمَ الْغَاوُونَ } کے متعلق یوں ارشاد فرمایا کہ اس سے نافرمان جن مراد ہیں۔
(۲۶۵۷۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن سَلَمَۃَ، عَن عِکْرِمَۃَ: {وَالشُّعَرَائُ یَتَّبِعُہُمَ الْغَاوُونَ} قَالَ: عُصَاۃُ الْجِنِّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৭৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٧٦) حضرت ابو جعفرخطمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کی تعمیر کرانے میں مصروف تھے اور حضرت عبداللہ بن رواحہ یہ شعر پڑھ رہے تھے :
(ترجمہ) کامیاب ہوگیا جس نے مسجد بنانے کی محنت کی۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تحقیق فلاح پا گیا جس نے مسجد بنانے کی کوشش کی۔
انھوں نے یہ مصرعہ پڑھا۔
(ترجمہ) وہ قرآن پڑھتا ہے کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ قرآن کی تلاوت کرتا ہے کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر ۔
اس موقع پر صحابہ مسجد کی تعمیر کر رہے تھے۔
(ترجمہ) کامیاب ہوگیا جس نے مسجد بنانے کی محنت کی۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تحقیق فلاح پا گیا جس نے مسجد بنانے کی کوشش کی۔
انھوں نے یہ مصرعہ پڑھا۔
(ترجمہ) وہ قرآن پڑھتا ہے کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ قرآن کی تلاوت کرتا ہے کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر ۔
اس موقع پر صحابہ مسجد کی تعمیر کر رہے تھے۔
(۲۶۵۷۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ الْخَطْمِیِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَبْنِی الْمَسْجِدَ ، وَعَبْدُ اللہِ بْنُ رَوَاحَۃَ یَقُولُ :
أَفْلَحَ مَنْ یُعَالِجُ الْمَسَاجِدَا۔
وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ :
قَدْ أَفْلَحَ مَنْ یُعَالِجُ الْمَسَاجِدَا۔
یَتْلُو الْقُرْآنَ قَائِمًا وَقَاعِدَا۔
وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ :
وَیَتْلُو الْقُرْآنَ قَائِمًا وَقَاعِدَا۔
وَہُمْ یَبْنُونَ الْمَسْجِدَ۔
أَفْلَحَ مَنْ یُعَالِجُ الْمَسَاجِدَا۔
وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ :
قَدْ أَفْلَحَ مَنْ یُعَالِجُ الْمَسَاجِدَا۔
یَتْلُو الْقُرْآنَ قَائِمًا وَقَاعِدَا۔
وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ :
وَیَتْلُو الْقُرْآنَ قَائِمًا وَقَاعِدَا۔
وَہُمْ یَبْنُونَ الْمَسْجِدَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৭৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٧٧) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت حارثہ بن بدر تمیمی جو کہ بصری ہیں انھوں نے یہ شعر پڑھا : (ترجمہ) جب تم ہمدان سے ملاقات کرو تو انھیں ہماری طرف سے سلام دینا اور پیغام دینا کہ ہمدان کو عیب دار کرنے والا دشمن سالم نہیں رہ سکتا۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہمدان والے اللہ سے ڈرتے ہیں اور ان کا خطیب کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کرتا ہے۔
اور یہ شعر پڑھا :(ترجمہ) میرے سر کے بال سفید ہوگئے اور ہماری عقلوں کو موت کی کڑک اور چمک نے ہلکا کردیا۔ ہمارے دل موت کو میٹھا سمجھتے ہیں اور زندگی کو کڑوا۔
حضرت عامر فرماتے ہیں : یہ بات حضرت عبداللہ بن جعفر کو بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا : ہم لوگ ہمدان سے زیادہ ان اشعار کے حقدار تھے۔
اور یہ شعر پڑھا :(ترجمہ) میرے سر کے بال سفید ہوگئے اور ہماری عقلوں کو موت کی کڑک اور چمک نے ہلکا کردیا۔ ہمارے دل موت کو میٹھا سمجھتے ہیں اور زندگی کو کڑوا۔
حضرت عامر فرماتے ہیں : یہ بات حضرت عبداللہ بن جعفر کو بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا : ہم لوگ ہمدان سے زیادہ ان اشعار کے حقدار تھے۔
(۲۶۵۷۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، حدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، أَنَّ حَارِثَۃَ بْنَ بَدْرٍ التَّیْمِیَّ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ ، قَالَ :
أَلاَ أَبْلِغَنْ ہَمْدَانَ إِمَّا لَقِیتہَا سَلاَما فَلاَ یَسْلَمُ عَدُوٌّ یَعِیبُہَا
لَعَمْرُ یَمِینًا إنَّ ہَمْدَانَ تَتَّقِی الإلَہُ وَیَقْضِی بِالْکِتَابِ خَطِیبُہَا
وقال :
فشَیَّب رَأْسِی وَاسْتَخَفَّ حَلومَنَا رُعُودُ الْمَنَایَا حَوْلَہَا وَبُرُوقُہَا
وَإِنَّا لَتَسْتَحْلِی الْمَنَایَا نُفُوسُنَا وَنَتْرُکُ أُخْرَی مَرَّۃً مَا نَذُوقُہَا
قالَ عَامِرٌ : فَحُدِّثَ بِہَذَا الْحَدِیثِ عَبْدُ اللَّہُ بْنُ جَعْفَرٍ ، فقَالَ : کُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِہَذِہِ الأَبْیَاتِ مِنْ ہَمَدَانَ۔
أَلاَ أَبْلِغَنْ ہَمْدَانَ إِمَّا لَقِیتہَا سَلاَما فَلاَ یَسْلَمُ عَدُوٌّ یَعِیبُہَا
لَعَمْرُ یَمِینًا إنَّ ہَمْدَانَ تَتَّقِی الإلَہُ وَیَقْضِی بِالْکِتَابِ خَطِیبُہَا
وقال :
فشَیَّب رَأْسِی وَاسْتَخَفَّ حَلومَنَا رُعُودُ الْمَنَایَا حَوْلَہَا وَبُرُوقُہَا
وَإِنَّا لَتَسْتَحْلِی الْمَنَایَا نُفُوسُنَا وَنَتْرُکُ أُخْرَی مَرَّۃً مَا نَذُوقُہَا
قالَ عَامِرٌ : فَحُدِّثَ بِہَذَا الْحَدِیثِ عَبْدُ اللَّہُ بْنُ جَعْفَرٍ ، فقَالَ : کُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِہَذِہِ الأَبْیَاتِ مِنْ ہَمَدَانَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৭৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٧٨) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ جب لوگوں نے صفین جنگ سے اپنے ہاتھ کھڑے کرلیے تو حضرت عمرو بن العاص نے یہ اشعار کہے :(ترجمہ) جب جنگ نے زور پکڑا تو میں نے اس کے لیے اپنے کندھوں اور سینے کو تیار کرلیا۔ جب تیز چلنے کی وجہ سے گھوڑے سست پڑجائیں گے تو سختی کا مقابلہ سختی سے ہوگا۔ میرا گھوڑا چوڑے سینے والا اور بڑے پیٹ والا ہے۔ اس کا قد درمیانہ ہے اور جب وہ کسی دیکھتا ہے یا آواز سنتا ہے تو اپنے کان کھڑے کرلیتا ہے۔
اور حضرت عبداللہ بن عمرو نے یہ اشعار پڑھے :(ترجمہ) اگر جمل نامی عورت صفیں میں میری بہادری کو دیکھ لیتا تو اس کے بال سفید ہوجاتے ۔ جب عراق والے اس طرح حملہ آور ہوئے جیسے گھٹا چھاتی ہے۔ ہم اپنے دشمنوں کو نیست ونابود کرنے کے لیے اس طرح آئے ہیں کہ ہمارے لشکر سمندر کی موجوں کی طرح ہیں۔ دن کے روشن ہونے پر ہمارے اور ان کے درمیان جب جنگ تیز ہوئی تو نہ کسی نے پیٹھ پھیر نہ کوئی فرار ہوا۔ جب کوئی کہے کہ وہ تیزی سے پیٹھ پھیر گئے تو اتنی دیر میں ان کے مزید لشکر ظاہر ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی کے ہاتھ پر بعتی کرلو، ہم کہتے ہیں کہ ہم جنگ کریں گے۔ (محمد عوامہ کی تحقیق کے مطابق ان اشعار کی نسبت ان جلیل القدر صحابہ کی طرف درست نہیں۔ انھوں نے اپنے اس موقف کو بہت سے دلائل سے ثابت کیا ہے۔ دیکھیے۔ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٣ صفحہ ٣٠٤)
اور حضرت عبداللہ بن عمرو نے یہ اشعار پڑھے :(ترجمہ) اگر جمل نامی عورت صفیں میں میری بہادری کو دیکھ لیتا تو اس کے بال سفید ہوجاتے ۔ جب عراق والے اس طرح حملہ آور ہوئے جیسے گھٹا چھاتی ہے۔ ہم اپنے دشمنوں کو نیست ونابود کرنے کے لیے اس طرح آئے ہیں کہ ہمارے لشکر سمندر کی موجوں کی طرح ہیں۔ دن کے روشن ہونے پر ہمارے اور ان کے درمیان جب جنگ تیز ہوئی تو نہ کسی نے پیٹھ پھیر نہ کوئی فرار ہوا۔ جب کوئی کہے کہ وہ تیزی سے پیٹھ پھیر گئے تو اتنی دیر میں ان کے مزید لشکر ظاہر ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی کے ہاتھ پر بعتی کرلو، ہم کہتے ہیں کہ ہم جنگ کریں گے۔ (محمد عوامہ کی تحقیق کے مطابق ان اشعار کی نسبت ان جلیل القدر صحابہ کی طرف درست نہیں۔ انھوں نے اپنے اس موقف کو بہت سے دلائل سے ثابت کیا ہے۔ دیکھیے۔ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٣ صفحہ ٣٠٤)
(۲۶۵۷۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ قُدَامَۃَ الْجُمَحِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عُمَر بْنُ شُعَیْبٍ ، أَخو عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، قَالَ : لَمَّا رَفَعَ النَّاسُ أَیْدِیَہُمْ مِنْ صِفِّینَ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ :
شَبَّتِ الْحَرْبُ فَأَعْدَدْت لَہَا
یَصِلُ الشَّدَّ بِشَدٍّ فَإِذَا
جُرْشُعٌ أَعْظَمُہُ جُفْرَتْہُ
مُفْرَعَ الْحَارِکِ ملویَّ الثبج
ونت الْخَیْلُ مِنَ الشد مَعَجْ
فَإِذَا ابْتَلَّ مِنَ الْمَائِ حدج
قالَ : وَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو :
لَوْ شَہِدْت جَمَلٌ مَقَامِی وَمَشْہَدِی
بِصِفِّینَ یَوْمًا شَابَ مِنْہَا الذَّوَائِبُ
غَدَاۃَ أَتَی أَہْلُ الْعِرَاقِ کَأَنَّہُمْ
وَجِئْنَاہُمْ بِرَدًی کَأَنَّ صُفُوفَنَا
وَدَارَتْ رَحَانَا وَاسْتَدَارَتْ رَحَاہُمْ
إذَا قُلْتَ قَدْ وَلَّوْا سِرَاعًا بَدَتْ لَنَا
فَقَالُوا لَنَا إنَّا نَرَی أَنْ تُبَایِعُوا
سَحَابُ رَبِیعٍ رفَّعتہ الْجَنَائِبُ
مِنَ الْبَحْرِ مَدُّ مَوْجُہِ مُتَرَاکِبُ
سَرَاۃَ النَّہَار مَا تُوَالّی الْمَنَاکِبُ
کَتَائِبُ مِنْہُمْ فَارْجَحَنَّتْ کَتَائِبُ
عَلِیًّا فَقُلْنَا بَلْ نَرَی أَنْ تُضَارَبُوا
شَبَّتِ الْحَرْبُ فَأَعْدَدْت لَہَا
یَصِلُ الشَّدَّ بِشَدٍّ فَإِذَا
جُرْشُعٌ أَعْظَمُہُ جُفْرَتْہُ
مُفْرَعَ الْحَارِکِ ملویَّ الثبج
ونت الْخَیْلُ مِنَ الشد مَعَجْ
فَإِذَا ابْتَلَّ مِنَ الْمَائِ حدج
قالَ : وَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو :
لَوْ شَہِدْت جَمَلٌ مَقَامِی وَمَشْہَدِی
بِصِفِّینَ یَوْمًا شَابَ مِنْہَا الذَّوَائِبُ
غَدَاۃَ أَتَی أَہْلُ الْعِرَاقِ کَأَنَّہُمْ
وَجِئْنَاہُمْ بِرَدًی کَأَنَّ صُفُوفَنَا
وَدَارَتْ رَحَانَا وَاسْتَدَارَتْ رَحَاہُمْ
إذَا قُلْتَ قَدْ وَلَّوْا سِرَاعًا بَدَتْ لَنَا
فَقَالُوا لَنَا إنَّا نَرَی أَنْ تُبَایِعُوا
سَحَابُ رَبِیعٍ رفَّعتہ الْجَنَائِبُ
مِنَ الْبَحْرِ مَدُّ مَوْجُہِ مُتَرَاکِبُ
سَرَاۃَ النَّہَار مَا تُوَالّی الْمَنَاکِبُ
کَتَائِبُ مِنْہُمْ فَارْجَحَنَّتْ کَتَائِبُ
عَلِیًّا فَقُلْنَا بَلْ نَرَی أَنْ تُضَارَبُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৭৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٧٩) حضرت حمزہ ابو عمارہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے حضرت عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے فرمایا : تمہیں شعر سے کیا تعلق ؟ انھوں نے کہا جو چیز سینے میں ہو اسے نکالے بغیر گزارہ نہیں۔
(۲۶۵۷۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَن حَمْزَۃَ أَبِی عِمَارَۃَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ لِعُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ : مَالَک وَلِلشِّعْرِ ؟ قَالَ : وَہَلْ یَسْتَطِیعُ الْمَصْدُورُ إلاَّ أَنْ یَنْفُثَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৭৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٨٠) امام زہری فرماتے ہیں کہ میں نے جب بھی حضرت عبید اللہ بن عبداللہ سے ملاقات کی گویا میں نے کسی سمندر میں انقلاب پیدا کردیا ہو۔
(۲۶۵۸۰) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : کنت إذَا لَقِیت عُبَیْدَ اللہِ بْنَ عَبْدِ اللہِ فَکَأَنَّمَا أُفَجِّرُ بِہِ بَحْرًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৮০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٨١) حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ بخل کرنے والے نہیں تھے اور نہ ہی عبادت کی ادائیگیوں میں کمزوری دکھانے والے تھے۔ وہ اپنی مجلسوں میں اشعار پڑھا کرتے تھے، اور زمانہ جاہلیت کے واقعات ذکر کرتے تھے۔ اور جب ان میں سے کسی کے دین کو نشانہ بنانے کا ارادہ کیا جاتا تو ان کے پیٹوں کا اندرونی حصہ ایسے گھومتا تھا گویا کہ وہ شخص مجنون ہو۔
(۲۶۵۸۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : لَمْ یَکُنْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُتَحَزِّقین ، وَلاَ مُتَمَاوِتِینَ ، وَکَانُوا یَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ فِی مَجَالِسِہِمْ ، وَیَذْکُرُونَ أمْرَ جَاہِلِیَّتِہِمْ ، فَإِذَا أُرِیدَ أَحَدُہُمْ عَلَی شَیْئٍ مِنْ دِینِہِ دَارَتْ حَمَالِیقُ عَیْنَیْہِ کَأَنَّہُ مَجْنُونٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৮১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٨٢) حضرت محمد بن فضیل فرماتے ہیں کہ حضرت ابن شبرمہ نے ارشاد فرمایا : فرزدق سب سے بڑا شاعر تھا۔
(۲۶۵۸۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَۃَ ، قَالَ : سَمعتہ یَقُول کَانَ الفَرَزْدَق مِن أَشْعَر النَّاس۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৮২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٨٣) حضرت ابو سفیان سعدی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بصری کو کسی شاعر کا یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا : (ترجمہ) جب آدمی مہلک بیماری کی پہچان حاصل کرلے گا تو اسے اپنے تقویٰ اور پرہیزگاری پر خوشی ہوگی۔
(۲۶۵۸۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ أَبی سُفیَان السَّعدِی ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ یَتَمَثَّلُ ہَذَا الْبَیْتَ :
یَسُرُّ الْفَتَی مَا کَانَ قَدَّمَ مِنْ تُقًی إذَا عَرَفَ الدَّائَ الَّذِی ہُوَ قَاتِلُہْ۔
یَسُرُّ الْفَتَی مَا کَانَ قَدَّمَ مِنْ تُقًی إذَا عَرَفَ الدَّائَ الَّذِی ہُوَ قَاتِلُہْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৮৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٨٤) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بات پہنچنے میں تاخیر ہوجاتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طرفہ بن عبد کا یہ شعر پڑھتے : اور زمانہ تمہارے پاس وہ خبریں لائے گا جو تمہیں حاصل نہیں ہیں۔
(۲۶۵۸۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مُہَاجِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ تَمَثَّلَ بِبَیْتِ طَرَفَۃَ : وَیَأْتِیک بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৮৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٨٥) حضرت عبد الرحمن کے والد فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ مسجد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کی مجلس میں بیٹھا کرتا تھا وہ لوگ اشعار پڑھتے تھے اور زمانہ جاہلیت کی باتیں ذکر کرتے۔
(۲۶۵۸۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: کُنْتُ أُجَالِسُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِی فِی الْمَسْجِدِ فَیَتَنَاشَدُونَ الأَشْعَارَ ، وَیَذْکُرُونَ حَدِیثَ الْجَاہِلِیَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৮৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٨٦) حضرت جابر بن سمرۃ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آتے تھے۔ اور ہم میں ہر کوئی مجلس کے آخری حصہ تک بیٹھتا تھا۔ اور صحابہ شعر پڑھتے اور زمانہ جاہلیت کے واقعات کا ذکر کرتے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو منع نہیں کرتے اور کبھی کبھار مسکرا دیتے۔
(۲۶۵۸۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِیکٌ ، عَن سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ، قَالَ : کُنَّا نَأْتِی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَجْلِسُ أَحَدُنَا حَیْثُ یَنْتَہِی، وَکَانُوا یَتَذَاکَرُونَ الشِّعْرَ وَحَدِیثَ الْجَاہِلِیَّۃِ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلاَ یَنْہَاہُمْ ، وَرُبَّمَا تَبَسَّمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৮৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٨٧) حضرت مطرف فرماتے ہیں کہ میں سفر میں حضرت عمران بن حصین کے ساتھ تھا۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرا جس میں آپ نے شعر نہ پڑھا ہو۔
(۲۶۵۸۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ ، عَن قَتَادَۃَ ، عَن مُطَرِّفٍ ، قَالَ : صَحِبْت عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ فِی سَفَرٍ ، فَمَا کَانَ یَوْمٌ إلاَّ یُنْشِدُ فِیہِ شِعْرًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৮৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٨٨) حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ کسی آدمی نے جو نماز پڑھنے کا ارادہ کررہا تھا اس نے حضرت محمد سے یہ سوال کیے اس حال میں کہ آپ مسجد میں تھے کیا شعر پڑھنے والا دوبارہ وضو کرے گا ؟ اور مسجد میں شعر پڑھا جاسکتا ہے ؟ راوی کہتے ہیں کہ آپ نے حضرت حسان بن ثابت کے ان فصیح اشعار کو پڑھا پھر آپ نے نماز شروع کردی۔
(۲۶۵۸۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ مُحَمَّدًا وَہُوَ فِی الْمَسْجِدِ وَالرَّجُلُ یُرِیدُ أَنْ یُصَلِّیَ : أَیَتَوَضَّأُ مَنْ یُنْشِدُ الشِّعْرَ ؟ وَیُنْشِدُ الشِّعْرَ فِی الْمَسْجِدِ ؟ قَالَ : وَأَنْشَدَہُ أَبْیَاتًا مِنْ شِعْرِ حَسَّانَ ذَلِکَ الرَّقِیقِ ، ثُمَّ افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৮৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٨٩) حضرت اسود بن سریع فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یقیناً میں نے اللہ کی مدح و تعریف میں بھی اشعار کہے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سناؤ ، اور جو تم نے اللہ کی مدح بیان کی ہے اس سے ابتدا کرو۔
(۲۶۵۸۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، عَن حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِیعٍ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنِّی مَدَحْت اللَّہَ مَدْحَۃً وَمَدَحْتُک أُخْرَی ، قَالَ : ہَاتِ , وَابْدَأْ بِمَدْحِکَ اللَّہَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৮৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٩٠) حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت انس نے ارشاد فرمایا : میں جنگ میں حاضر تھا کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ نے کہا : اے نفس ! میں دیکھ رہا ہوں کہ تجھے جنت میں جانا پسند نہیں۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تجھے جنت میں جانا ہوگا خواہ خوش ہو کر جا یا ناخوش ہو کر۔
(۲۶۵۹۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا دَیْلَمُ بْنُ غَزْوَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : حَضَرَتْ حَرْبًا فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ رَوَاحَۃَ :
یَا نَفْسُ أَلاَ أَرَاک تَکْرَہِینَ الْجَنَّۃَ أَحْلِفُ بِاَللَّہِ لَتَنْزِلَنَّہْ طَائعۃ أَو لَتکرہِنَّہ
یَا نَفْسُ أَلاَ أَرَاک تَکْرَہِینَ الْجَنَّۃَ أَحْلِفُ بِاَللَّہِ لَتَنْزِلَنَّہْ طَائعۃ أَو لَتکرہِنَّہ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৯০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٩١) حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے ارشاد فرمایا : اس حال میں کہ حضرت ابوبکر فیصلہ فرما رہے تھے اور میں یہ شعر پڑھ رہی تھی۔ (ترجمہ) وہ سفید چہرے والا جس کی ذات کے وسیلہ سے بادل مانگے جاتے ہیں۔ وہ یتیموں کی پناہ گاہ اور بیواؤں کی عزت و آبرو ہیں۔
حضرت ابوبکر نے فرمایا : وہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔
حضرت ابوبکر نے فرمایا : وہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔
(۲۶۵۹۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : تَمَثَّلْت بِہَذَا الْبَیْتِ ، وَأَبُو بَکْرٍ یَقْضِی :
وَأَبْیَضُ یُسْتَسْقَی الْغَمَامُ بِوَجْہِہِ ثِمَالْ الْیَتَامَی عِصْمَۃٌ لِلأََرَامِلِ
فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : ذَاکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
وَأَبْیَضُ یُسْتَسْقَی الْغَمَامُ بِوَجْہِہِ ثِمَالْ الْیَتَامَی عِصْمَۃٌ لِلأََرَامِلِ
فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : ذَاکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
তাহকীক: