মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৬৫৯১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٩٢) امام زہری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی کوئی شعر نہیں کہا سوائے اس شعر کے : (ترجمہ) یہ بوجھ خیبر کے بوجھ کی طرح نہیں ہے۔ یہ ہمارے رب کی طرف سے پاکیزہ اور برکت والا ہے۔ (یہ شعر آپ نے مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت کہا تھا)
(۲۶۵۹۲) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَن مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، أَنَّ رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَقُلْ شَیْئًا مِنَ الشِّعْرِ إلاَّ قَدْ قِیلَ لہ إلاَّ ہَذَا :

ہَذَا الْحِمَالُ لاَ حِمَالُ خَیْبَرْ ہَذَا أَبَرَّ رَبَّنَا وَأَطْہَرْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৯২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٩٣) حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غزوہ خندق کے دن دیکھا اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینہ مبارک پر بالوں کی ایک لکیر تھی، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبداللہ بن رواحہ کے ان اشعار کو بطور رجز پڑھ رہے تھے۔ اور فرما رہے تھے۔

اے اللہ ! اگر آپ کا فضل نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے۔

اور نہ ہم صدقہ کرنے اور نہ ہم نماز پڑھتے۔

پس تو ہم پر رحمت و سکینہ نازل فرما

اور دشمن سے ملاقات ہونے کی صورت میں ہمیں ثابت قدمی عطا فرما۔

یقیناً ان لوگوں نے ہم پر سرکشی کی ۔

اور اگر وہ ہمارے خلاف فتنہ پیدا کریں گے تو ہم قبول نہیں کریں گے۔
(۲۶۵۹۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ ، وَکَانَ کَثِیرَ شَعْرِ الصَّدْرِ وَہُوَ یَرْتَجِزُ بِرَجَزِ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَوَاحَۃَ وَہُوَ یَقُولُ :

اللَّہُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اہْتَدَیْنَا

وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّیْنَا

فَأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا

وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَیْنَا

إنَّ الأُلَی قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا

وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَۃً أَبَیْنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৯৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٩٤) حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ حنین کے دن پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگے۔ اور حضرت عباس اور حضرت ابو سفیان نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خچر کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ : میں نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہے۔ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔
(۲۶۵۹۴) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : مَا وَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دُبُرَہُ یَوْمَ حُنَیْنٍ ، قَالَ : وَالْعَبَّاسُ ، وَأَبُو سُفْیَانَ آخِذَانِ بِلِجَامِ بَغْلَتِہِ وَہُوَ یَقُولُ :

أَنَا النَّبِیُّ لاَ کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৯৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٩٥) حضرت جندب بن سفیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی غزوہ میں چوٹ لگ گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو تو محض ایک انگلی ہے جس سے خود بہہ رہا ہے اور تجھے اللہ کے راستے میں چوٹ آئی ہے۔
(۲۶۵۹۵) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَن جُنْدَبِ بْنِ سُفْیَانَ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ فِی غَارٍ فَنُکِبَ فَقَالَ :

ہَلْ أَنْتِ إلاَّ إصْبَعٌ دُمِیتِ وَفِی سَبِیلِ اللہِ مَا لَقِیتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৯৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٩٦) حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

یقیناً زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔

اے اللہ ! تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔
(۲۶۵۹۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :

إنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الآخِرَہْ فَاغْفِرْ لِلأََنْصَارِ وَالْمُہَاجِرَہْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৯৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٩٧) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس اس آیت کو یوں پڑھتے تھے :{ دارست }۔ اور اس شعر سے استشہاد فرماتے : (ترجمہ) دارس صاب اور علقم کے ذائقہ کی طرف کڑوا ہے۔
(۲۶۵۹۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَبِی الْمُعَلَّی ، عَن سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّہُ کَانَ یَقْرَأُ (دَارَسْت) وَیَقُولُ : دَارِسٌ کَطَعْمِ الصَّابِ وَالْعَلْقَمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৯৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٩٨) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں مستعمل لفظ زنیم سے مراد کمینہ ہے۔ پھر آپ نے یہ شعر پڑھا۔ (ترجمہ) کمینے آدمی کی کمینگی کو لوگ اس طرح بڑھا کر بیان کرتے ہیں جیسے چمڑے کو کشادہ کیا جاتا ہے۔
(۲۶۵۹۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن ثَابِتٍ بْنِ أَبِی صَفِیَّۃَ ، عَن شَیْخٍ یُکَنَّی أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : الزَّنِیمُ : اللَّئِیمُ الْمُلْزِقُ ، ثُمَّ أَنْشَدَ ہَذَا الْبَیْتَ :

زَنِیمٌ تَدَاعَاہُ الرِّجَالُ زِیَادَۃً کَمَا زِیدَ فِی عَرْضِ الأَدِیمِ الأَکَارِعُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৯৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٥٩٩) حضرت عباد فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنو لیث کا ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شعر سناؤں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ فرمایا : نہیں : پھر چوتھی مرتبہ اجازت ملنے کی صورت میں انھوں نے مدحیہ اشعار سنائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر کوئی شاعر نیکی کرتا ہے تو تو نے نیکی کی ہے۔
(۲۶۵۹۹) حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَسْعُودُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ ابْنِ عِبَادٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی لَیْثٍ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أُنْشِدُک ؟ قَالَ : لاَ ، فَأَنْشَدَہُ فِی الرَّابِعَۃِ مَدْحَۃً لَہُ فَقَالَ : إِنْ کَانَ أَحَدٌ مِنَ الشُّعَرَائِ یُحْسِنُ ، فَقَدْ أَحْسَنْت۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৯৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٦٠٠) حضرت قتادہ فرماتے ہی کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : میں اللہ رب العزت کے قول : { رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ } کے بارے میں نہیں جانتا تھا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ یہاں تک کہ میں نے بنت ذی یزن کو کہتے ہوئے سنا : آؤ میں تمہارا فیصلہ کروں۔
(۲۶۶۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن مِسْعَرٍ ، عَن قَتَادَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَا کُنْت أَدْرِی مَا قَوْلُہُ : {رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ} حَتَّی سَمِعْت بِنْتَ ذِی یَزَنٍ تَقُولُ : تَعَالَی أُفَاتِحْک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬০০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٦٠١) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر نے جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، حضرت خالد کے اشعار پڑھوائے ۔
(۲۶۶۰۱) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ، عَن مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ اسْتَنْشَدَ أَبْیَاتَ خَالِدٍ وَہُوَ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬০১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٦٠٢) حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر نے اپنے مخالفین پر حملہ کردیا یہاں تک کہ ان کو دروازوں سے باہر نکال دیا۔ اور آپ نے یہ رجز پڑھا :(ترجمہ) اگر مجھے اپنے جیسا ایک اور مل جاتا تو میرے لیے کافی ہوتا۔

اور یہ شعر پڑھ رہے تھے۔ (ترجمہ) ہم وہ لوگ نہیں ہیں جن کی کمروں سے خون ٹپکتا ہے، ہمارا خون تو ہمارے پیروں پر گرتا ہے۔
(۲۶۶۰۲) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَن ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ الزُّبَیْرِ یَحْمِلُ عَلَیْہِمْ حَتَّی یُخْرِجَہُمْ مِنَ الأَبْوَابِ وَیَقُولُ : لَوْ کَانَ قَرْنِی وَاحِدًا کَفَیْتہ ؛

ویقول:

ولَسْنَا عَلَی الأَعْقَابِ تَدْمَی کُلُومُنَا وَلَکِنْ عَلَی أَقْدَامِنَا تَقْطُرُ الدِّما
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬০২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٦٠٣) حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ بن زبیر نے ارشاد فرمایا : کہ شام والے حضرت ابن زبیر سے قتال کر رہے تھے اور چیخ چیخ کر پکار رہے تھے : اے ذات نطاقین کے بیٹے (دو پٹکے باندھنے والی عورت کے بیٹے) ۔

حضرت ابن زبیر نے فرمایا :(ترجمہ) یہ وہ بیماری ہے جس کا عار تجھ سے ظاہر ہورہا ہے۔

حضرت اسمائ نے پوچھا : کیا وہ لوگ اس سے تجھے عار دلاتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں حضرت اسمائ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ حق ہے۔
(۲۶۶۰۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ أَہْلَ الشَّامِ کَانُوا یُقَاتِلُونَ ابْنَ الزُّبَیْرِ وَیَصِیحُونَ بِہِ : یَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَیْنِ ، فَقَالَ : ابْنُ الزُّبَیْرِ :

وتِلْکَ شَکَاۃٌ ظَاہِرٌ عَنک عَارُہَا

فَقَالَتْ أَسْمَائُ : عَیَّرُوک بِہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَتْ : فَہُوَ وَاللَّہِ حَقٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬০৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٦٠٤) حضرت سفیان کسی شیخ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر بیت اللہ کے طواف کے دوران شعر پڑھ رہے تھے۔
(۲۶۶۰۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن رَجُلٍ ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ کَانَ یُنْشِدُ الشِّعْرَ وَہُوَ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬০৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعر کہنے میں رخصت کا بیان
(٢٦٦٠٥) حضرت داؤد فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب نے ارشاد فرمایا : سورج طلوع نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کے ساتھ تین سو ستر فرشتے ہوتے ہیں۔ کیا تم نے امیہ بن ابی صلت کو کہتے ہوئے نہیں سنا :

یہ سورج ہم پر اپنی خوشی سے طلوع نہیں ہوتا بلکہ اسے عذاب دیا جاتا ہے اور اسے کوڑے مارے جاتے ہیں۔
(۲۶۶۰۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَن دَاوُد ، أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : لاَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ حَتَّی یَصْحَبَہَا ثَلاَثُ مِئَۃِ مَلَکٍ وَسَبْعُونَ مَلَکًا ، أَمَا سَمِعْت أُمَیَّۃَ بْنَ أَبِی الصَّلْتِ یَقُولُ :

لَیْسَتْ بِطَالِعَۃٍ لَنَا فِی رِسْلِہَا إلاَ مُعَذَّبَۃً وَإِلاَّ تُجْلَدُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬০৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص شعر کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے کو مکروہ سمجھے
(٢٦٦٠٦) حضرت مجالد فرماتے ہیں کہ امام شعبی شعر کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(۲۶۶۰۶) حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَن مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، قَالَ: کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَکْتُبَ أَمَامَ الشِّعْرِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬০৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ من کرِہ الشِّعر وأن یعِیہ فِی جوفِہِ
(٢٦٦٠٧) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ تم میں سے کسی کے پیٹ کا پیپ سے پر ہو کر خراب ہوجانا اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر و شاعری سے پر ہو۔ حضرت حفص نے اس حدیث کو بیان کرتے ہوئے لفظ جوف کا ذکر نہیں کیا۔
(۲۶۶۰۷) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ ، وَوَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لأَنْ یَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَیْحًا حَتَّی یَرِیہِ ، خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَمْتَلِئَ شِعْرًا ، إلاَّ أَنْ حَفْصًا لَمْ یَقُلْ : جوف۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬০৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ من کرِہ الشِّعر وأن یعِیہ فِی جوفِہِ
(٢٦٦٠٨) حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس وادیٔ عرج میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شاعر نے اپنا کلام پیش کرنا شروع کردیا ۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شیطان کو پکڑو یا یوں فرمایا کہ اس شیطان کو روکو ۔ اس لیے کہ تم میں سے کسی کے پیٹ کا پیپ سے بھر جانا اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر و شاعری سے بھرا ہوا ہو۔
(۲۶۶۰۸) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَن سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَن یُحَنَّسَ مَوْلَی مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بالعرج إذْ عَرَضَ شَاعِرٌ یُنْشِدُ فَقَالَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: خُذُوا الشَّیْطَانَ أَوِ أَمْسِکُوا الشَّیْطَانَ لأَنْ یَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَیْحًا خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَمْتَلِئَ شِعْرًا۔ (بخاری ۳۵۸۸۔ مسلم ۱۷۶۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬০৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ من کرِہ الشِّعر وأن یعِیہ فِی جوفِہِ
(٢٦٦٠٩) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ ایک آدمی کا پیٹ پیپ سے پُر ہوجانا اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر و شاعری سے پُر ہو۔
(۲۶۶۰۹) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَن حَنْظَلَۃَ ، عَن سَالِمٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لأَنْ یَمْتَلِئَ الرَّجُلُ قَیْحًا خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَمْتَلِئَ شِعْرًا۔ (بخاری ۶۱۵۴۔ احمد ۲/۹۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬০৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ من کرِہ الشِّعر وأن یعِیہ فِی جوفِہِ
(٢٦٦١٠) حضرت ابو الز عرا فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : کہ ایک آدمی کے پیٹ کا پیپ سے پُر ہوجانا اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر و شاعری سے پُر ہو۔
(۲۶۶۱۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَان ، عَن سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ أَبِی الزَّعْرَائِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : لأَنْ یَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَیْحًا خَیْرٌ مِنْ أَنْ یَمْتَلِئَ شِعْرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬১০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ من کرِہ الشِّعر وأن یعِیہ فِی جوفِہِ
(٢٦٦١١) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان نے ارشاد فرمایا : کہ کسی آدمی کے پیٹ کا پیپ سے پُر ہوجانا اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر و شاعری سے پُر ہو۔
(۲۶۶۱۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَن سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِیہِ ، عَن عُثْمَانَ ، قَالَ : لأَنْ یَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَیْحًا خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَمْتَلِئَ شِعْرًا۔
tahqiq

তাহকীক: