মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৬৬১১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ من کرِہ الشِّعر وأن یعِیہ فِی جوفِہِ
(٢٦٦١٢) حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا : کہ کسی آدمی کے پیٹ کا پیپ سے پُر ہوجانا اس سے بہتر ہے کہ وہ پیپ سے پُر ہو۔
(۲۶۶۱۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَن ہِشَامِ بْنِ عَائِذٍ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : لأَنْ یَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَیْحًا خَیْرٌ مِنْ أَنْ یَمْتَلِئَ شِعْرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬১২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ من کرِہ الشِّعر وأن یعِیہ فِی جوفِہِ
(٢٦٦١٣) حضرت عمرو بن حریث فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ارشاد فرمایا : کہ کسی آدمی کے پیٹ کا پیپ سے پُر ہوجانا اس بات سے بہتر ہے کہ وہ شعر و شاعری سے پُر ہو۔
(۲۶۶۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَیْثٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَر : لأَنْ یَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَیْحًا خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَمْتَلِئَ شِعْرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬১৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ من کرِہ الشِّعر وأن یعِیہ فِی جوفِہِ
(٢٦٦١٤) حضرت ابو الضحی فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق نے ایک مرتبہ کسی شعر کا ایک مصرعہ پڑھا اور دوسرا مصرعہ پڑھنے سے خاموش ہوگئے، اور فرمایا : کہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ میرے نامہ اعمال میں شعر کا ایک مصرعہ بھی لکھا جائے۔
(۲۶۶۱۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی الضُّحَی ، عَن مَسْرُوقٍ ، أَنَّہُ تَمَثَّلَ مَرَّۃً بِبَیْتِ شِعْرٍ فَسَکَتَ عَن آخِرِہِ وَقَالَ : إنِّی لأَکْرَہُ أَنْ یُکْتَبَ فِی صَحِیفَتِی بَیْتُ شِعْرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬১৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ من کرِہ الشِّعر وأن یعِیہ فِی جوفِہِ
(٢٦٦١٥) حضرت ابو نوفل بن ابو عقرب فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں اشعار سنائے جاتے تھے ؟ آپ نے جواب دیا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک سب سے مبغوض ترین بات شعر کہنا تھی۔
(۲۶۶۱۵) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَیْبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَوْفَلِ بْنُ أَبِی عَقْرَبٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ : ہَلْ کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُتسَامَعُ عَندَہُ الشِّعْرُ ، قَالَتْ : کَانَ أَبْغَضَ الْحَدِیثِ إلَیْہِ۔ (ابوداؤد ۱۴۷۷۔ احمد ۱۳۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬১৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ من کرِہ الشِّعر وأن یعِیہ فِی جوفِہِ
(٢٦٦١٦) حضرت عوام فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا : کہ صحابہ اس شعر کو انتہائی ناپسند کرتے تھے جو قرآن مجید کے مشابہ ہو۔
(۲۶۶۱۶) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، قَالَ: کَانُوا یَکْرَہُونَ مِنَ الشِّعْرِ مَا ضَاہَی الْقُرْآنَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬১৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ من کرِہ الشِّعر وأن یعِیہ فِی جوفِہِ
(٢٦٦١٧) حضرت سعد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ تم میں سے کسی کا پیٹ کا پیپ سے پُر ہوجانا اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر و شاعری سے پُر ہو۔
(۲۶۶۱۷) حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَن قَتَادَۃَ ، عَن یُونُسَ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَن سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لأَنْ یَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِکُمْ قَیْحًا یَرِیہِ ، خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَمْتَلِئَ شِعْرًا۔ (مسلم ۱۷۶۹۔ احمد ۱/۱۷۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬১৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو توریہ کو مکروہ سمجھتا ہے اور جو اس کو پسند کرتا ہے
(٢٦٦١٨) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ کلام کا جو ہیر پھیر میں جانتا ہوں مجھے پسند نہیں کہ میرے لیے اس جتنا مال اور عیال ہوں مجھے پسند نہیں اور لوگ یہ گمان نہیں کرتے کہ میں خواہش کرتا ہوں کہ میرے لیے میرے اہل اور عیال کے مثل ہو اور میں خواہش کرتا ہوں کہ میرے لیے میرے اہل اور مال کے مثل ہو پھر میرے اہل اور مال کا مثل ہو۔
(۲۶۶۱۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بَکْرٍ السَّہْمِیُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَبِیبَ بْنَ شَہِیدٍ یَذْکُرُ ، عَن مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : مَا یَسُرُّنِی أَنَّ لِی بِمَا أَعْلَمُ مِنْ مَعَارِیضِ الْقَوْلِ مِثْلَ أَہْلِی وَمَالِی ، أَوَلاَ یَحسَبُون أَنِّی أَوَدُّ أَنَّ لِی مِثل أَہلِی وَمالِی وَددتُ أَنَّ لِی مِثل أَہلِی وَمالِی ، ثُمَّ مِثْلَ أَہْلِی وَمَالِی ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬১৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو توریہ کو مکروہ سمجھتا ہے اور جو اس کو پسند کرتا ہے
(٢٦٦١٩) حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : کہ تو ریہ آدمی کو جھوٹ سے بچاتا ہے یا یوں فرمایا : کہ جھوٹ کی شرمندگی سے بچاتا ہے۔
(۲۶۶۱۹) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : إنَّ فِی الْمَعَارِیضِ مَا یَکُفُّ ، أَوْ یَعِفُّ الرَّجُلَ عَنِ الْکَذِبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬১৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو توریہ کو مکروہ سمجھتا ہے اور جو اس کو پسند کرتا ہے
(٢٦٦٢٠) حضرت مطرف بن شخیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین نے ارشاد فرمایا : کہ تو ریہ کے ذریعہ جھوٹ سے بچا جاسکتا ہے۔
(۲۶۶۲۰) حَدَّثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَن قَتَادَۃَ ، عَن مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الشِّخِّیرِ ، عَن عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، قَالَ : إنَّ فِی الْمَعَارِیضِ لَمَنْدُوحَۃً عَنِ الْکَذِبِ۔ (ابن عدی ۴۹۔ بیہقی ۱۹۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬২০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو توریہ کو مکروہ سمجھتا ہے اور جو اس کو پسند کرتا ہے
(٢٦٦٢١) حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : کہ میں پسند نہیں کرتا کہ میرے لیے تو ریہ کے عوض اتنا اور اتنا مال ہو۔
(۲۶۶۲۱) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَن مَنْصُورٍ ، قَالَ : بَلَغَنِی عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّہُ قَالَ : مَا أُحِبُّ لِی بِالْمَعَارِیضِ کَذَا وَکَذَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬২১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو توریہ کو مکروہ سمجھتا ہے اور جو اس کو پسند کرتا ہے
(٢٦٦٢٢) حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا : کہ صحابہ ایسا کلام کرتے تھے کہ اس کلام کے ذریعے خود سے جھوٹ کے خدشہ کو دور کرتے تھے۔
(۲۶۶۲۲) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ لَہُمْ کَلاَمٌ یَتَکَلَّمُونَ بِہِ یَدْرَؤُونَ بِہِ عنْ أَنْفُسِہِمْ مَخَافَۃَ الْکَذِبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬২২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو توریہ کو مکروہ سمجھتا ہے اور جو اس کو پسند کرتا ہے
(٢٦٦٢٣) حمید بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں خواہش نہیں ہے کہ میرے لیے کلام کے ہیر پھیر مں و میرے مال اور میرے اہل کے مثل ہو۔ تمہارا خیال ہے کہ میں پسند نہیں کرتا کہ میرے لیے میرے اہل اور میرے مال کے مثل ہو اور میری خواہش ہے کہ میرے لیے میرے اہل اور میرے مال کے مثل ہو۔
(۲۶۶۲۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَن حَبِیبِ بْنِ شَہِیدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : قَالَ حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَا أُحِبُّ أَنَّ لِی بِنَصِیبِی مِنَ الْمَعَارِیضِ مِثْلَ أَہْلِی وَمَالِی ، وَلَعَلَّکُمْ تَرَوْنَ أَنِّی لاَ أُحِبُّ أَنَّ لِی مِثْلَ أَہْلِی وَمَالِی، وَوَدِدْت أَنَّ لِی مِثْلَ أَہْلِی وَمَالِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬২৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کا اپنے بھائی کے لیے ان الفاظ کا استعمال کرنا مکروہ ہے
(٢٦٦٢٤) حضرت علاء بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت مسیب نے ارشاد فرمایا : کہ تم اپنے ساتھی کو یوں مت کہو ۔ اے گدھے، اے کتے، اے خنزیر، پس وہ قیامت کے دن تمہیں یوں کہے گا۔ تمہارا میرے بارے میں کیا خیال ہے کیا مجھے کتا یا گدھا یا خنزیر پیدا کیا گیا تھا ؟
(۲۶۶۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لاَ تَقُلْ لِصَاحِبِکَ یَا حِمَارُ ، یَا کَلْبُ ، یَا خِنْزِیرُ ، فَیَقُولَ لَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ : أَتَرَانِی خُلِقْت کَلْبًا ، أَوْ حِمَارًا ، أَوْ خِنْزِیرًا ؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬২৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کا اپنے بھائی کے لیے ان الفاظ کا استعمال کرنا مکروہ ہے
(٢٦٦٢٥) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا پھر ان سے کہا : اے گدھو ! پیو اس پر اللہ رب العزت نے ان سے فرمایا : میرے بندوں کو گدھے کے نام سے مت پکارو۔
(۲۶۶۲۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَن لَیْثٍ ، عَن مُجَاہِدٍ ، قَالَ : اسْتَسْقَی مُوسَی لِقَوْمِہِ فَقَالَ : اشْرَبُوا یَا حَمِیرُ ، قَالَ : فَقَالَ اللَّہُ لَہُ : لاَ تُسَمِّ عِبَادِی حَمِیرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬২৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کا اپنے بھائی کے لیے ان الفاظ کا استعمال کرنا مکروہ ہے
(٢٦٦٢٦) حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا : کہ جب کوئی شخص کسی کو یوں کہتا : اے گدھے، اے کتے، اے خنزیر، تو صحابہ اس شخص کو کہا کرتے تھے۔ کہ اللہ قیامت کے دن تمہیں یوں فرمائیں گے : کہ تمہارا میرے بارے میں کیا خیال ہے کہ میں نے اس کو کتا یا گدھا یا خنزیر پیدا کیا تھا ؟
(۲۶۶۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یَقُولُونَ : إذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ : یَا حِمَارُ یَا کَلْبُ یَا خِنْزِیرُ ، قَالَ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ : أَتَرَانِی خَلَقْتُہ کَلْبًا ، أَوْ حِمَارًا ، أَوْ خِنْزِیرًا ؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬২৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کا اپنے بھائی کے لیے ان الفاظ کا استعمال کرنا مکروہ ہے
(٢٦٦٢٧) حضرت علقمہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن جمعہ کے خطبہ کے دوران ایک شخص دوسرے سے باتیں کررہا تھا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت ابن عمر نے اس سے کہا کہ تم گدھے ہو اور تمہارے اس ساتھی کا جمعہ نہیں ہوا۔
(۲۶۶۲۷) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ، عَن دَاوُد بْنِ أَبِی ہِنْدٍ، عَن بَکْرِ بْنِ عَبْدٍالْمُزَنِیّ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ عَبْدِاللہِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ لِرَجُلٍ کَلَّمَ صَاحِبَہُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالإِمَامُ یَخْطُبُ : أَمَّا أَنْتَ فَحِمَارٌ ، وَأَمَّا صَاحِبُک فَلاَ جُمُعَۃَ لَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬২৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ خود کو کسی کی طرف منسوب کرے حالانکہ ایسی بات نہ ہو
(٢٦٦٢٨) حضرت سعد اور حضرت ابو بکرہ یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ ہمارے کانوں نے سنا اور ہمارے دل نے اس بات کو محفوظ کیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص کسی کو غیر باپ کی طرف منسوب کرے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو جنت اس شخص پر حرام ہے۔
(۲۶۶۲۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَن سَعْدٍ ، وَأَبِی بَکْرَۃَ ، کِلاَہُمَا یَقُولُ : سَمِعَتْہ أُذُنَایَ ، وَوَعَاہُ قَلْبِی مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنِ ادَّعَی إلَی غَیْرِ أَبِیہِ ، وَہُوَ یَعْلَمُ أَنَّہُ غَیْرُ أَبِیہِ ، فَالْجَنَّۃُ عَلَیْہِ حَرَامٌ۔ (مسلم ۱۱۵۔ ابن ماجہ ۲۶۱۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬২৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ خود کو کسی کی طرف منسوب کرے حالانکہ ایسی بات نہ ہو
(٢٦٦٢٩) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے مرفوعاً حدیث بیان فرمائی کہ جو شخص کسی کو غیر باپ کی طرف منسوب کرے ، وہ ہرگز جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا۔ جب نعیم بن ابی امیہ نے یہ معاملہ دیکھا اس حال میں کہ حضرت معاویہ کا ارادہ تھا کہ وہ اس کو غیر باپ کی طرف منسوب کریں تو اس نے حضرت معاویہ سے فرمایا : بیشک میں تو آپ کے ترکش کا ایک تیر ہوں آپ جہاں چاہیں مجھے پھینک دیں۔
(۲۶۶۲۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَن مُجَاہِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، رَفَعَہُ ، قَالَ : مَنِ ادَّعَی إلَی غَیْرِ أَبِیہِ فَلَنْ یَرِیحَ رِیحَ الْجَنَّۃِ ، فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ نُعَیْمُ بْنُ أَبِی أُمَیَّۃَ ، وَکَانَ مُعَاوِیَۃُ أَرَادَ أَنْ یَدَّعِیَہُ ، قَالَ لِمُعَاوِیَۃَ : إنَّمَا أَنَا سَہْمٌ مِنْ کِنَانَتِکَ ، فَاقْذِفْنِی حَیْثُ شِئْت۔ (ابن ماجہ ۲۶۱۱۔ احمد ۱۷۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬২৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ خود کو کسی کی طرف منسوب کرے حالانکہ ایسی بات نہ ہو
(٢٦٦٣٠) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ جو شخص اپنے آقا کے علاوہ کسی سے تعلق رکھے تو اس پر اللہ کی، ملائکہ کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔
(۲۶۶۳۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَوَلَّی غَیْرَ مَوَالِیہِ فَعَلَیْہِ لَعَنَۃُ اللہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ۔

(مسلم ۱۱۴۶۔ ابوداؤد ۵۰۷۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৩০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ خود کو کسی کی طرف منسوب کرے حالانکہ ایسی بات نہ ہو
(٢٦٦٣١) حضرت عمرو بن خارجہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے خطاب فرمایا اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری پر تھے اور سواری کا جانور جگالی کررہا تھا اور اس کی رال اس کے کندھوں کے درمیان بہہ رہی تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو کسی کو غیر باپ کی طرف منسوب کرلے، یا جو شخص اپنے آقا کے علاوہ کسی سے تعلق جوڑے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے۔ اور اس کی کوئی فرض عبادت اور نفلی عبادت قبول نہیں کی جائے گی۔
(۲۶۶۳۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَن قَتَادَۃَ ، عَن شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدٗ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَۃَ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَہُمْ وَہُوَ عَلَی رَاحِلَتِہِ ، وَإِنَّ رَاحِلَتَہُ لَتَقْصَعُ بِجَرَّتِہَا ، وَإِنَّ لُعَابَہَا یَسِیلُ بَیْنَ کَتِفَیَّ فَقَالَ : مَنِ ادَّعَی إلَی غَیْرِ أَبِیہِ ، أَوْ تَوَلَّی غَیْرَ مَوَالِیہِ فَعَلَیْہِ لَعَنَۃُ اللہِ ، لاَ یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ ، وَلاَ عَدْلٌ ، أَوْ قَالَ : عَدْلٌ ، وَلاَ صَرْفٌ۔
tahqiq

তাহকীক: