মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৬৬৩১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ خود کو کسی کی طرف منسوب کرے حالانکہ ایسی بات نہ ہو
(٢٦٦٣٢) حضرت سعید بن زید فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گواہ بنتا ہوں کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کیل کو آقا بنائے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
(۲۶۶۳۲) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَن سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : أَشْہَدُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعْتہ یَقُولُ : مَنْ تَوَلَّی مَوْلًی بِغَیْرِ إذْنِہِ فَعَلَیْہِ لَعَنَۃُ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৩২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ خود کو کسی کی طرف منسوب کرے حالانکہ ایسی بات نہ ہو
(٢٦٦٣٣) حضرت ابو معمر فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے ارشاد فرمایا : اپنے نسب کو چھوڑ کر کسی دوسرے خاندان کی طرف منسوب ہونے والے نے کفر کیا۔
(۲۶۶۳۳) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَکْرٍ : کَفَرَ بِاللَّہِ مَنِ ادَّعَی نَسَبًا لاَ یُعْلَمُ ، وَتَبَرَّأَ مِنْ نَسَبٍ ، وَإِنْ دَقَّ۔ (دارمی ۲۸۶۳۔ احمد ۲۱۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৩৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ خود کو کسی کی طرف منسوب کرے حالانکہ ایسی بات نہ ہو
(٢٦٦٣٤) حضرت ابو امامہ باھلی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جو کسی کو غیر باپ کی طرف منسوب کرائے اور جو خود کو اپنے آقا کے علاوہ کسی سے منسوب کرے تو اس پر قیامت کے دن تک مسلسل اللہ کی لعنت ہو۔
(۲۶۶۳۴) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَن شُرَحْبِیلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیَّ یَقُولُ : سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنِ ادَّعَی إلَی غَیْرِ أَبِیہِ وَانْتَمَی إلَی غَیْرِ مَوَالِیہِ ، فَعَلَیْہِ لَعَنَۃُ اللہِ التَّابِعَۃ إلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ (ترمذی ۲۱۲۰۔ ابوداؤد ۲۸۶۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৩৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ خود کو کسی کی طرف منسوب کرے حالانکہ ایسی بات نہ ہو
(٢٦٦٣٥) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو کسی غیر باپ کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کے علاوہ کسی سے تعلق جوڑے تو اس پر اللہ کی اور ملائکہ کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔
(۲۶۶۳۵) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَن سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنِ ادَّعَی إلَی غَیْرِ أَبِیہِ ، أَوْ تَوَلَّی غَیْرَ مَوَالِیہِ ، فَعَلَیْہِ لَعَنَۃُ اللہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ۔ (احمد ۱/۳۲۸۔ ابویعلی ۲۵۴۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৩৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو علم سیکھنے اور سکھانے کے بارے میں آتی ہیں
(٢٦٦٣٦) حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت زر نے ارشاد فرمایا : کہ میں نے حضرت صفوان بن عسال مرادی کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھ سے پوچھا : کس لیے آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا علم حاصل کرنے کے لیے۔ آپ نے فرمایا : بلاشبہ ملائکہ اپنے پروں کو طالب علم کے لیے بچھاتے ہیں۔
(۲۶۶۳۶) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَن زِرٍّ ، قَالَ : أَتَیْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِیَّ فَقَالَ لِی : مَا جَائَ بِکَ ؟ فَقُلْت : ابْتِغَائَ الْعِلْمِ ، قَالَ : فَإِنَّ الْمَلاَئِکَۃَ تَضَعُ أَجْنِحَتَہَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৩৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو علم سیکھنے اور سکھانے کے بارے میں آتی ہیں
(٢٦٦٣٧) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : خیر کی بات سکھلانے والے کے لیے ہر چیز دعائے مغفرت کرتی ہے حتی کہ سمندر میں مچھلیاں بھی۔
(۲۶۶۳۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن شِمْرِ ، عَن سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مُعَلِّمُ الْخَیْرِ یَسْتَغْفِرُ لَہُ کُلُّ شَیْئٍ حَتَّی الْحُوتُ فِی الْبَحْرِ۔ (دارمی ۳۴۳۔ عبدالبر ۱۸۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৩৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو علم سیکھنے اور سکھانے کے بارے میں آتی ہیں
(٢٦٦٣٨) حضرت عنترہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : کہ کوئی آدمی کسی راستہ پر نہیں چلتا کہ اس میں علم تلاش کرے مگر یہ کہ اللہ رب العزت اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتے ہیں۔
(۲۶۶۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَن ہَارُونَ بْنِ عَنتَرَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَا یسْلُک رَجُلٌ طَرِیقًا یَلْتَمِسُ فِیہَا الْعِلْمَ إلاَّ سَہَّلَ اللَّہُ لَہُ طَرِیقًا إلَی الْجَنَّۃِ۔ (ابوداؤد ۳۶۳۸۔ دارمی ۳۴۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৩৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو علم سیکھنے اور سکھانے کے بارے میں آتی ہیں
(٢٦٦٣٩) حضرت عمرو بن قیس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا؛ کہ علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے بہتر ہے۔ اور تمہارے دین کی بنیاد تقویٰ ہے۔
(۲۶۶۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ الْمُلاَئِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَضْلُ الْعِلْمِ خَیْرٌ مِنْ فَضْلِ الْعِبَادَۃِ ، وَمِلاَکُ دِینِکُمُ الْوَرَعُ۔ (حاکم ۹۲۔ بزار ۲۹۶۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৩৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو علم سیکھنے اور سکھانے کے بارے میں آتی ہیں
(٢٦٦٤٠) حضرت احنف فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : علم حاصل کرو قبل ازیں کہ تمہیں سردار بنایا جائے۔
(۲۶۶۴۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنِ الأَحْنَفِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : تَفَقَّہُوا قَبْلَ أَنْ تُسَوَّدُوا۔ (دارمی ۲۵۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৪০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو علم سیکھنے اور سکھانے کے بارے میں آتی ہیں
(٢٦٦٤١) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی راستہ پر چلے تاکہ علم حاصل کرے، اللہ رب العزت اس کے لیے جنت کے راستہ کو آسان فرما دیتے ہیں۔
(۲۶۶۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَلَکَ طَرِیقًا یَلْتَمِسُ فِیہِ عِلْمًا ، سَہَّلَ اللَّہُ لَہُ طَرِیقًا إلَی الْجَنَّۃِ۔
(مسلم ۲۰۷۴۔ ابوداؤد ۳۶۳۸)
(مسلم ۲۰۷۴۔ ابوداؤد ۳۶۳۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৪১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو علم سیکھنے اور سکھانے کے بارے میں آتی ہیں
(٢٦٦٤٢) حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : کہ دو حریص ایسے ہیں جو کبھی سیر نہیں ہوتے : علم کا خواہش مند اور دنیا کا خواہش مند۔
(۲۶۶۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَن لَیْثٍ ، عَن طَاوُوس ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَنْہُومَانِ لاَ یَشْبَعَانِ : طَالِبُ عِلْمٍ وَطَالِبُ دُنْیَا۔ (دارمی ۳۳۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৪২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو علم سیکھنے اور سکھانے کے بارے میں آتی ہیں
(٢٦٦٤٣) حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : علم حاصل کرو اس لیے کہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کب اس کا محتاج ہوجائے !
(۲۶۶۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن شَقِیق ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : تَعَلَّمُوا ، فَإِنَّ أَحَدَکُمْ لاَ یَدْرِی مَتَی یُخْتل إلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৪৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو علم سیکھنے اور سکھانے کے بارے میں آتی ہیں
(٢٦٦٤٤) حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : تو صبح کر عالم بن کر یا سیکھنے والا بن کر، اس کے علاوہ تو تیسرابن کر صبح مت کر۔
(۲۶۶۴۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن تَمِیمِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : اغْدُ عَالِمًا ، أَوْ مُتَعَلِّمًا ، وَلاَ تَغْدُ بَیْنَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৪৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو علم سیکھنے اور سکھانے کے بارے میں آتی ہیں
(٢٦٦٤٥) حضرت سالم بن ابو الجعد فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدردائ نے ارشاد فرمایا : علم سیکھو قبل ازیں کہ علم اٹھا لیا جائے۔ بیشک جاننے والا اور سیکھنے والا دونوں اجر میں برابر ہیں۔
(۲۶۶۴۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَن سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ : تَعَلَّمُوا قَبْلَ أَنْ یُرْفَعَ الْعِلْمُ ، فَإِنَّ الْعَالِمَ وَالْمُتَعَلِّمَ فِی الأَجْرِ سَوَائٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৪৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو علم سیکھنے اور سکھانے کے بارے میں آتی ہیں
(٢٦٦٤٦) حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدردائ نے ارشاد فرمایا : علم کا سکھلانے والا اور سیکھنے والا دونوں اجر میں برابر ہیں۔
(۲۶۶۴۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَن سَالِمٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ: مُعَلِّمُ الْعِلْمِ وَمُتَعَلِّمُہُ فِی الأَجْرِ سَوَائٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৪৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو علم سیکھنے اور سکھانے کے بارے میں آتی ہیں
(٢٦٦٤٧) حضرت ابو الاحوص فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : کہ بیشک کوئی بھی آدمی عالم بن کر پیدا نہیں ہوتا بیشک علم تو سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔
(۲۶۶۴۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی الزَّعْرَائِ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : إنَّ الرَّجُلَ لاَ یُولَدُ عَالِمًا ، وَإِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৪৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو علم سیکھنے اور سکھانے کے بارے میں آتی ہیں
(٢٦٦٤٨) حضرت عبداللہ بن مسعود کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
(۲۶۶۴۸) حَدَّثَنَا دَاوُد ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ الأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ مِثْلُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৪৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو علم سیکھتا ہے ، لوگوں کو دکھلانے اور بیان کرنے کے لیے
(٢٦٦٤٩) حضرت سیار فرماتے ہیں کہ حضرت عائذ اللہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص احادیث اس لیے تلاش کرتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو بیان کرے تو وہ شخص جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔
(۲۶۶۴۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا التیمی ، عَن سَیَّارٍ ، عَنْ عَائِذِ اللہِ ، قَالَ : الَّذِی یَتَتَبَّعُ الأَحَادِیثَ لِیُحَدِّثَ بِہَا لاَ یَجِدُ رِیحَ الْجَنَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৪৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو علم سیکھتا ہے ، لوگوں کو دکھلانے اور بیان کرنے کے لیے
(٢٦٦٥٠) حضرت برد فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول نے ارشاد فرمایا : کہ جو شخص علم حدیث حاصل کرتا ہے اس نیت سے کہ وہ اس کے ذریعہ بیوقوفوں سے جھگڑا کرے یا اس کے ذریعہ علماء پر فخر کرے یا اس کے ذریعہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے تو وہ شخص جہنم میں ہوگا۔
(۲۶۶۵۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن بُرْدٍ ، عَن مَکْحُولٍ ، قَالَ: مَنْ طَلَبَ الْحَدِیثَ لیجاری بِہِ السُّفَہَائَ، أَوْ لِیُمَارِیَ بِہِ الْعُلَمَائَ ، أَوْ لِیَصْرِفَ بِہِ وُجُوہَ النَّاسِ إلَیْہِ ، فَہُوَ فِی النَّارِ۔ (دارمی ۳۷۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৫০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو علم سیکھتا ہے ، لوگوں کو دکھلانے اور بیان کرنے کے لیے
(٢٦٦٥١) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس نے اس علم کو جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کی جاتی ہے ، اس غرض سے سیکھا کہ وہ اس کے ذریعہ دنیا کی متاع حاصل کرے تو قیامت کے دن اسے جنت کی خوشبو بھی میسر نہیں ہوگی۔
(۲۶۶۵۱) حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ : حدَّثَنَا فُلَیْحٌ ، عَنْ أَبِی طِوَالَۃَ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، عَن سَعِیدِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا یُبْتَغَی بِہِ وَجْہُ اللہِ لاَ یَتَعَلَّمُہُ إلاَّ لِیُصِیبَ بِہِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْیَا لَمْ یَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ - یَعْنِی رِیحَہَا۔ (ابوداؤد ۳۶۵۶۔ ابن ماجہ ۲۵۲)
তাহকীক: