মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৬৬৯১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چودہ گوٹ کھیلنے کا بیان
(٢٦٦٩٢) حضرت اسماعیل بن عبد الملک فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر چودہ گوٹ کھیلنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(۲۶۶۹۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَن سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، أَنَّہُ کَرِہَ اللَّعِبَ بِالشُّہَارْدَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৯২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کے اخروٹ سے کھیلنے کا بیان
(٢٦٦٩٣) حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس سٹے کو مکروہ سمجھتے تھے اور فرماتے ہیں کہ یہ بھی جوا ہے۔ یہاں تک کہ آپ بچوں کے اخروٹ اور چوسر کے مہروں سے کھیلنے کو بھی مکروہ سمجھتے تھے۔
(۲۶۶۹۳) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَن لَیْثٍ ، عَن طَاوُوس ، قَالَ : کَانَ یَکْرَہُ الْقِمَارَ وَیَقُولُ : إِنَّہُ مِنَ الْمَیْسِرِ حَتَّی لَعِبِ الصِّبْیَانِ بِالْجَوْزِ وَالْکِعَابِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৯৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کے اخروٹ سے کھیلنے کا بیان
(٢٦٦٩٤) حضرت حماد بن نجیح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین کو دیکھا کہ وہ عید کے دن دو لڑکوں کے پاس سے گزرے تھے جو اونٹوں کے باڑے کے پاس اخروٹ میں سٹہ بازی لگا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : اے بچو ! سٹہ مت لگاؤ۔ اس لیے کہ سٹہ بازی بھی جوا ہے۔
(۲۶۶۹۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ نَجِیحٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ سِیرِینَ مَرَّ عَلَی غِلْمَانٍ یَوْمَ الْعِیدِ بالْمِرْبَد وَہُمْ یَتَقَامَرُونَ بِالْجَوْزِ ، فَقَالَ : یَا غِلْمَانُ ، لاَ تُقَامِرُوا ، فَإِنَّ الْقِمَارَ مِنَ الْمَیْسِرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৯৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کے اخروٹ سے کھیلنے کا بیان
(٢٦٦٩٥) حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن سیرین نے ارشاد فرمایا : ہر وہ بازی جس میں خطرہ ہو وہ جوا ہے۔
(۲۶۶۹۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کُلُّ شَیْئٍ فِیہِ خَطَرٌ ، فَہُوَ مِنَ الْمَیْسِرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৯৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کے اخروٹ سے کھیلنے کا بیان
(٢٦٦٩٦) حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ اور حضرت مجاہد اور حضرت طاؤس یا ان میں سے دو حضرات نے فرمایا : کہ سٹہ بازی کی ہر قسم جوا ہے یہاں تک کہ بچوں کا اخروٹ کے ساتھ کھیلنا بھی جوا ہے۔
(۲۶۶۹۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن لَیْثٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، وَمُجَاہِدٍ ، وَطَاوُوس ، أَوِ اثْنَیْنِ مِنْہُمْ ، قَالاََ : کُلُّ شَیْئٍ مِنَ الْقِمَارِ ، فَہُوَ مِنَ الْمَیْسِرِ حَتَّی لَعِبِ الصِّبْیَانِ بِالْجَوْزِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৯৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوسر کھیلنے والوں کو سلام کرنے کا بیان
(٢٦٦٩٧) حضرت اسلم منقری فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر جب چوسر کھیلنے والوں پر گزرتے تو آپ انھیں سلام نہیں کرتے تھے۔
(۲۶۶۹۷) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ أَسْلَمَ الْمُنْقِرِیِّ ، قَالَ : کَانَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ إذَا مَرَّ عَلَی أَصْحَابِ النَّرْدِ لَمْ یُسَلِّمْ عَلَیْہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৯৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوسر کھیلنے والوں کو سلام کرنے کا بیان
(٢٦٦٩٨) حضرت یزید بن أبو زیاد فرماتے ہیں کہ حضرت زیاد بن حدیر کا گزر چند لوگوں پر ہوا جو چوسر کھیل رہے تھے آپ نے لاعلمی میں انھیں سلام کردیا۔ پھر آپ دوبارہ واپس آئے اور فرمایا : مجھے میرا سلام واپس لوٹا دو ۔
(۲۶۶۹۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَن یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَن زِیَادِ بْنِ حُدَیْرٍ ، أَنَّہُ مَرَّ عَلَی قَوْمٍ یَلْعَبُونَ بِالنَّرْدِ فَسَلَّمَ وَہُوَ لاَ یَعْلَمُ ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ : رُدُّوا عَلَیَّ سَلاَمِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৯৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص پہلی بارش میں بھیگتاہو
(٢٦٦٩٩) حضرت بنانہ فرماتی ہیں کہ حضرت عثمان پہلی بارش میں نہاتے تھے۔
(۲۶۶۹۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن أُمِّ غُرَابٍ ، عَن بُنَانَۃَ ، أَنَّ عُثْمَانَ کَانَ یَتَمَطَّرُ فِی أَوَّلِ مَطْرَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৯৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص پہلی بارش میں بھیگتاہو
(٢٦٧٠٠) حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس بارش میں نہاتے تھے، اپنے کپڑے نکلواتے، یہاں تک کہ اپنی زین بھی پہلی بارش میں نکلواتے تھے۔
(۲۶۷۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْمُؤَمِّلِ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یَتَمَطَّرُ ، یُخْرِجُ ثِیَابَہُ حَتَّی یُخْرِجَ سَرْجَہُ فِی أَوَّلِ مَطْرَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭০০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص پہلی بارش میں بھیگتاہو
(٢٦٧٠١) حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلی بارش میں نہایا کرتے تھے۔
(۲۶۷۰۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الرَّبِیعِ ، عَن یَزِیدَ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَتَمَطَّرُ فِی أَوَّلِ مَطْرَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭০১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص پہلی بارش میں بھیگتاہو
(٢٦٧٠٢) حضرت سعد بن رزین اپنے کسی شیخ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی جب بارش دیکھتے تو اپنے کپڑے اتار دیتے اور بیٹھ جاتے اور فرماتے : یہ عرش سے پہلی بات ہے۔
(۲۶۷۰۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَن سعد بْنِ رَزِینٍ عَمَّنْ حَدَّثَہُ ، عَنْ عَلِیٍّ ، أَنَّہُ کَانَ إذَا رأی الْمَطَرَ خَلَعَ ثِیَابَہُ وَجَلَسَ ، وَیَقُولُ : حدِیثُ عَہْدٍ بِالْعَرْشِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭০২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص پہلی بارش میں بھیگتاہو
(٢٦٧٠٣) حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے کہ بارش شروع ہوگئی۔ آپ نے اپنے جسم مبارک کو بارش میں بھیگنے دیا اور فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ سے گفتگو ہے۔
(۲۶۷۰۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ : أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَطَرٌ ، قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَحَسَرَ ثَوْبَہُ عَنہُ حَتَّی أَصَابَہُ ، فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ، لِمَ صَنَعْت ہَذَا ؟ قَالَ : لأَنَّہُ حَدِیثُ عَہْدٍ بِرَبِّہِ۔

(ابوداؤد ۵۰۵۹۔ مسلم ۶۱۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭০৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصہ گو لوگوں کے پاس آنا اور ان کی مجلس اختیار کرنے کا بیان، اور جو شخص ایسا کرتا ہو اس کا بیان
(٢٦٧٠٤) حضرت عمرو بن اوس فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت اوس نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں قصہ بیان فرما رہے تھے اور ہمیں وعظ و نصیحت فرما رہے تھے۔
(۲۶۷۰۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بَکْرٍ السَّہْمِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِی صَغِیرَۃَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَہُ ، أَنَّ أَبَاہُ أَوْسًا أَخْبَرَہُ ، قَالَ : إنَّا لَقُعُودٌ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یَقُصُّ عَلَیْنَا وَیُذَکِّرُنَا۔ (ابن ماجہ ۳۹۲۹۔ احمد ۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭০৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصہ گو لوگوں کے پاس آنا اور ان کی مجلس اختیار کرنے کا بیان، اور جو شخص ایسا کرتا ہو اس کا بیان
(٢٦٧٠٥) حضرت مالک بن مغول فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبد الرحمن سلمی نے ارشاد فرمایا : کہ تم لوگ حضرت ابو الاحوص کے سوا کسی بھی قصہ گو کی مجلس اختیار مت کرو۔
(۲۶۷۰۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ : لاَ تُجَالِسُوا مِنَ الْقُصَّاصِ إلاَّ أَبَا الأَحْوَصِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭০৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصہ گو لوگوں کے پاس آنا اور ان کی مجلس اختیار کرنے کا بیان، اور جو شخص ایسا کرتا ہو اس کا بیان
(٢٦٧٠٦) حضرت اسماعیل فرماتے ہیں کہ چند لوگوں نے امام شعبی سے یہ بات ذکر کی کہ قصہ گو کے پاس بیٹھنا غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ! اس پر آپ نے ارشاد فرمایا : میں ایک غلام آزاد کروں یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اس سے کہ میں چار مہینہ تک قصہ گو کے ساتھ ہم مجلس ہوں۔
(۲۶۷۰۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، قَالَ : ذَکَرُوا عِنْدَ الشَّعْبِیِّ الْجُلُوسَ مَعَ الْقُصَّاصِ کَعَدْلِ عِتْقِ رَقَبَۃٍ ، فَقَالَ : لأَنْ أُعْتِقَ رَقَبَۃً أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَجْلِسَ مَعَ الْقُصَّاصِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭০৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصہ گو لوگوں کے پاس آنا اور ان کی مجلس اختیار کرنے کا بیان، اور جو شخص ایسا کرتا ہو اس کا بیان
(٢٦٧٠٧) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم حضرت ابو وائل کے گھر وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ اور حضرت ابو وائل ایسے کانپتے تھے جیسا کہ پرندے کانپتے ہیں۔
(۲۶۷۰۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَن مُغِیرَۃَ ، قَالَ : کَانَ إبْرَاہِیمُ التَّیْمِیُّ یُذَکِّرُ فِی مَنْزِلِ أَبِی وَائِلٍ ، فَجَعَلَ أَبُو وَائِلٍ یَنْتَفِضُ کَمَا یَنْتَفِضُ الطَّیْرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭০৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصہ گو لوگوں کے پاس آنا اور ان کی مجلس اختیار کرنے کا بیان، اور جو شخص ایسا کرتا ہو اس کا بیان
(٢٦٧٠٨) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری قصہ سناتے تھے اور حضرت سعید بن جبیر قصہ سناتے تھے۔
(۲۶۷۰۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، قَالَ : کَانَ الْحَسَنُ یَقُصُّ ، وَکَانَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ یَقُصُّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭০৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصہ گو لوگوں کے پاس آنا اور ان کی مجلس اختیار کرنے کا بیان، اور جو شخص ایسا کرتا ہو اس کا بیان
(٢٦٧٠٩) حضرت داؤد بن شابور فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگوں پر چار اشخاص کے ذریعہ فخر کرتے تھے۔ فقیہ کے ذریعہ، قصہ گو کے ذریعہ، مؤذن کے ذریعہ اور قرآن پڑھنے والے کے ذریعہ، اور ہمارے فقیہ حضرت عبداللہ بن عباس تھے۔ اور ہمارے مؤذن حضرت ابو محذورہ تھے اور ہمارے قصہ گو حضرت عبید بن عمیر تھے اور ہمارے قرآن پڑھنے والے حضرت عبداللہ بن سائب تھے۔
(۲۶۷۰۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَن دَاوُد بْنِ سَابُورَ ، عَن مُجَاہِدٍ ، قَالَ : کُنَّا نَفْخَرُ عَلَی النَّاسِ بِأَرْبَعَۃٍ : بِفَقِیہِنَا وَبِقَاصِّنَا وَبِمُؤَذِّنِنَا وَبِقَارِئِنَا ، فَقِیہُنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَمُؤَذِّنُنَا أَبُو مَحْذُورَۃَ ، وَقَاصُّنَا عُبَیْدُ بْنُ عُمَیْرٍ ، وَقَارِئُنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ السَّائِبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭০৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصہ گو لوگوں کے پاس آنا اور ان کی مجلس اختیار کرنے کا بیان، اور جو شخص ایسا کرتا ہو اس کا بیان
(٢٦٧١٠) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت یزید بن شجرہ وعظ و نصیحت فرماتے تھے اور آپ کا قول آپ کے فعل کے موافق ہوتا تھا۔
(۲۶۷۱۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن مُجَاہِدٍ ، عَن یَزِیدَ بْنِ شَجَرَۃَ ، أَنَّہُ کَانَ یَقُصُّ ، وَکَانَ یُوَافِقُ قَوْلُہُ فِعْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭১০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصہ گو لوگوں کے پاس آنا اور ان کی مجلس اختیار کرنے کا بیان، اور جو شخص ایسا کرتا ہو اس کا بیان
(٢٦٧١١) حضرت عبد الملک بن میسرہ فرماتے ہیں کہ حضرت کردوس قصہ گوئی کے ذریعہ وعظ و نصیحت کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی صحابی نے بیان کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ میں قصہ گو کی مجلس میں بیٹھوں یہ مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس سے کہ مں ے چار غلام آزاد کروں۔
(۲۶۷۱۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَن کُرْدُوسٍ ، قَالَ : کَانَ یَقُصُّ ، فقَالَ: حَدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لأَنْ أَجْلِسَ فِی مِثْلِ ہَذَا الْمَجْلِسِ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ ، یَعْنِی الْقَصَصَ۔ (احمد ۳/۴۷۴)
tahqiq

তাহকীক: