মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৬৭১১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصہ گو لوگوں کے پاس آنا اور ان کی مجلس اختیار کرنے کا بیان، اور جو شخص ایسا کرتا ہو اس کا بیان
(٢٦٧١٢) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت تمیم داری کو دیکھا کہ وہ حضرت عمر بن خطاب کے زمانے میں قصہ گوئی کے ذریعہ وعظ و نصیحت فرماتے تھے۔
(۲۶۷۱۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ تَمِیمًا الدَّارِیَّ یَقُصُّ فِی عَہْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی اللہ عَنہما۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭১২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصہ گو لوگوں کے پاس آنا اور ان کی مجلس اختیار کرنے کا بیان، اور جو شخص ایسا کرتا ہو اس کا بیان
(٢٦٧١٣) حضرت عبداللہ بن حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن کعب قرضی کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے دیکھا۔
(۲۶۷۱۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ مُحَمَّدَ بْنَ کَعْبٍ الْقُرَظِیَّ یَقُصُّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭১৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
(٢٦٧١٤) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے زمانے میں قصہ گوئی نہیں کی جاتی تھی یہ تو فتنے کے زمانے میں شروع ہوئے۔
(۲۶۷۱۴) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَن عُبَیْدِ اللہِ ، عَن نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمْ یُقَصَّ زَمَانَ أَبِی بَکْرٍ ، وَلاَ عُمَرَ ، إنَّمَا کَانَ الْقَصَصُ زَمَنَ الْفِتْنَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭১৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
(٢٦٧١٥) حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کے کسی گورنر نے آپ کو خط لکھا کہ بیشک یہاں چند لوگ ہیں جو جمع ہوتے ہیں اور مسلمانوں اور امیر کے لیے دعا کرتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے ان کو خط کا جواب لکھا کہ آپ بھی آئیں اور اپنے ساتھ ان لوگوں کو بھی میرے پاس لائیں ، پس وہ آگئے ۔ حضرت عمر نے دربان سے کہا : میرے لیے کوڑا تیار کرو۔ پس جب وہ لوگ حضرت عمر پر داخل ہوئے تو آپ نے ان کے امیر کو ایک کوڑا مارا۔ اس پر اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! بیشک ہم وہ لوگ نہیں ہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں، یہ تو وہ لوگ ہیں جو مشرق کی جانب سے آئے ہیں۔
(۲۶۷۱۵) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَن سَعِیدٍ الْجُرَیْرِیِّ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ: کَتَبَ عَامِلٌ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إلَیْہِ ، أَنَّ ہَاہُنَا قَوْمًا یَجْتَمِعُونَ فَیَدْعُونَ لِلْمُسْلِمِینَ وَلِلأَمِیرِ ، فَکَتَبَ إلَیْہِ عُمَرُ : أَقْبِلْ وَأَقْبِلْ بِہِمْ مَعَک ، فَأَقْبَلَ ، وَقَالَ عُمَرُ لِلْبَوَّابِ : أَعِدَّ لِی سَوْطًا ، فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَی عُمَرَ أَقْبَلَ عَلَی أَمِیرِہِمْ ضَرْبًا بِالسَّوْطِ ، فَقَالَ : یَا أمیر المؤمنین ، إنَّا لَسْنَا أُولَئِکَ الَّذِینَ یَعْنِی أُولَئِکَ قَوْمٌ یَأْتُونَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭১৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
(٢٦٧١٦) حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ایک آدمی کو دیکھا جو وعظ و نصیحت کررہا تھا آپ نے اس سے پوچھا کیا تجھے ناسخ اور منسوخ معلوم ہیں ؟ اس نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : تو خود بھی ہلاک ہوا اور تو نے دوسروں کو بھی ہلاک کردیا۔
(۲۶۷۱۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَلِیًّا رَأَی رَجُلاً یَقُصُّ ، فقَالَ : عَلِمْت النَّاسِخَ وَالْمَنْسُوخَ ؟ قَالَ : لاَ قَالَ : ہَلَکْت وَأَہْلَکْت۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭১৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
(٢٦٧١٧) حضرت عبداللہ بن خباب فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے دیکھا کہ میں قصہ گو کے پاس ہوں۔ جب میں واپس لوٹا تو انھوں نے لاٹھی پکڑی اور فرمایا : یہ سینگ ہے جو عمالقہ کے ساتھ طلوع ہوا۔
(۲۶۷۱۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی سِنَانٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی الْہُذَیْلِ ، عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ خَبَّابٍ ، قَالَ: رَآنِی أَبِی وَأَنَا عِنْدَ قَاصٍّ ، فَلَمَّا رَجَعت أَخَذَ الْہِرَاوَۃَ ، قَالَ : قَرْنٌ قَدْ طَالَعَ الْعَمَالِقَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭১৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
(٢٦٧١٨) حضرت ابراہیم تیمی فرماتے ہیں کہ مجھے اس مجلس کے قائم کرنے پر اس بات نے ابھارا کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں لوگوں کے درمیان ریحان تقسیم کررہا ہوں ۔ پھر میں نے یہ خواب حضرت ابراہیم نخعی کے سامنے ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا : بیشک ریحان ہوتا خوبصورت ہے مگر اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔
(۲۶۷۱۸) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ، عَن سُفْیَانَ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: سَمِعْتُ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیَّ، قَالَ: إنَّمَا حَمَلَنِی عَلَی مَجْلِسِی ہَذَا أَنِّی رُؤیت کَأَنِّی أُقَسِّمُ رَیْحَانًا ، فَذَکَرْت ذَلِکَ لإِبْرَاہِیمَ فَقَالَ : إنَّ الرَّیْحَانَ لَہُ مَنْظَرٌ وَطَعْمُہُ مُرٌّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭১৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
(٢٦٧١٩) حضرت عقبہ بن حریث فرماتے ہیں کہ ایک قصہ گو شخص آیا اور حضرت ابن عمر کی مجلس میں بیٹھ گیا۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا : ہماری مجلس سے اٹھ جا۔ تو اس نے کھڑے ہونے سے انکار کردیا۔ حضرت ابن عمر نے کو توال کی طرف پیغام بھیجا کہ اس قصہ گو کو اٹھاؤ۔ تو اس نے کسی کو بھیج کر اس کو اٹھوا دیا۔
(۲۶۷۱۹) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، قَالَ : حَدَّثَنَی عُقْبَۃُ بْنُ حُرَیْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، وَجَائَ رَجُلٌ قَاصٌّ وَجَلَسَ فِی مَجْلِسِہِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : قُمْ مِنْ مَجْلِسِنَا ، فَأَبَی أَنْ یَقُومَ ، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ إلَی صَاحِبِ الشُّرَطِ : أَقِمِ الْقَاصَّ ، فَبَعَثَ إلَیْہِ فَأَقَامَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭১৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
(٢٦٧٢٠) حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ سے پوچھا گیا : کہ آپ ہمیں وعظ و نصیحت کیوں نہیں فرماتے ؟ آپ نے فرمایا کہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں تمہیں اس بات کا حکم دوں جو میں خود نہیں کرتا۔
(۲۶۷۲۰) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : قیلَ لَہُ : أَلاَ تَقُصُّ عَلَیْنَا ؟ قَالَ : إنِّی أَکْرَہُ أَنْ آمُرَکُمْ بِمَا لاَ أَفْعَلُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭২০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
(٢٦٧٢١) حضرت عبداللہ بن ابی الھذیل فرماتے ہیں کہ حضرت ذباب نے اپنے بیٹے کو ایک قصہ گو کے پاس دیکھا جب وہ یہ گناہ کر کے لوٹا تو آپ نے کوڑا پکڑا اور فرمایا : کیا عمالقے کے ساتھ ہو ؟ ! یہ شیطان کا سینگ بھی طلوع ہوگیا !
(۲۶۷۲۱) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی سِنَانٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی الْہُذَیْلِ ، عَن خَبَّابٍ ، قَالَ : رَأَی ابْنَہُ عِنْدَ قَاصٍّ ، فَلَمَّا رَجَعَ اتَّزَرَ وَأَخَذَ السَّوْطَ وَقَالَ : أَمَعَ الْعَمَالِقَۃِ ، ہَذَا قَرْنٌ قَدْ طَلَعَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭২১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
(٢٦٧٢٢) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ کوئی قصہ گو شخص آیا اور حضرت ابن عمر کے قریب بیٹھ گیا۔ آپ نے اس سے فرمایا : اٹھ جاؤ تو اس نے اٹھنے سے انکار کردیا۔ آپ نے کو توال کی طرف قاصد بھیجا۔ تو اس نے سپاہی کو بھیج کر اسے اٹھا دیا۔
(۲۶۷۲۲) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَن مُجَاہِدٍ ، قَالَ : دَخَلَ قَاصٌّ فَجَلَسَ قَرِیبًا مِنَ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ لَہُ : قُمْ ، فَأَبَی أَنْ یَقُومَ ، فَأَرْسَلَ إلَی صَاحِبِ الشُّرَطِ ، فَأَرْسَلَ إلَیْہِ شُرْطِیًّا فَقَامَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭২২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
(٢٦٧٢٣) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کو یہ خبر پہنچی کہ ایک آدمی بصرہ میں قصہ گوئی کے ذریعہ وعظ و نصیحت کرتا ہے۔ پس آپ نے اس کو خط لکھا : الر، یہ واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔ ہم نے قرآن کو عربی میں نازل کیا تاکہ تم سمجھ لو۔ ہم تم پر بہترین واقعات بیان کرتے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں ، کہ وہ شخص سمجھ گیا اور اس نے قصہ گوئی چھوڑ دی۔
(۲۶۷۲۳) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : بَلَغَ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلاً یَقُصُّ بِالْبَصْرَۃِ فَکَتَبَ إلَیْہِ : {الر تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ الْمُبِینِ إنَّا أَنْزَلْنَاہُ قُرْآنًا عَرَبِیًّا لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْک أَحْسَنَ الْقَصَصِ} إلَی آخِرِ الآیَۃِ ، قَالَ : فَعَرَفَ الرَّجُلُ فَتَرَکَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭২৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
(٢٦٧٢٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ وعظ و نصیحت کرنے والا اگر برابری کا رتبہ بھی پالے تو غنیمت ہے یعنی نہ کچھ اس کے حق میں ہو اور نہ خلاف۔
(۲۶۷۲۴) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَن أُکَیْلٍ ، قَالَ : قَالَ إبْرَاہِیمُ : مَا أَحَدٌ مِمَّنْ یَذْکُرُ أَرْجَی فِی نَفْسِی أَنْ یَسْلَمَ مِنْہُ یَعْنِی إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیَّ ، وَلَوَدِدْت ، أَنَّہُ یَسْلَمُ مِنْہُ کَفَافًا لاَ عَلَیْہِ ، وَلاَ لَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭২৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
(٢٦٧٢٥) حضرت ابو الدردائ فرماتے ہیں جو حضرت سلمہ کے پڑوسی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا : یا آپ سے کسی شخص نے پوچھا : کیا میں قصہ گو کے پاس اس لیے آسکتا ہوں تاکہ وہ میرے لیے دعا کرے ؟ آپ نے فرمایا : تم خود اپنے لیے دعا کرو یہ بہتر ہے اس سے کہ تمہارے لیے قصہ گو دعا کرے۔
(۲۶۷۲۵) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ - جَارٍ لِسَلَمَۃَ - قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَۃَ أَوْ قَالَ لَہَا رَجُلٌ : آتِیَ الْقَاصَّ یَدْعُو لِی ، فَقَالَتْ : لأَنْ تَدْعُوَ لِنَفْسِکَ خَیْرٌ مِنْ أَنْ یَدْعُوَ لَکَ الْقَاصُّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭২৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
(٢٦٧٢٦) حضرت عبید اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت نافع نے ارشاد فرمایا : کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں کوئی قصہ گو نہیں تھا نہ ہی حضرت ابوبکر کے زمانے میں نہ حضرت عمر کے زمانے میں اور نہ ہی حـضرت عثمان کے زمانے میں۔
(۲۶۷۲۶) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَن عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَن نَافِعٍ ، قَالَ : لَمْ یَکُنْ قَاصٌّ فِی زَمَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَلاَ زَمَنِ أَبِی بَکْرٍ، وَلاَ زَمَنِ عُمَرَ، وَلاَ فِی زَمَنِ عُثْمَانَ۔ (ابن ماجہ ۳۷۵۴۔ ابن حبان ۶۲۶۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭২৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
(٢٦٧٢٧) حضرت جبیر بن کثیر حضرمی فرماتے ہیں کہ حضرت ام الدردائ نے ان کو نوفل بن فلاں کی طرف بھیجا جو کسی خطیب کے ساتھ مسجد میں بیٹھ کر وعظ و نصیحت فرما رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : ان دونوں سے کہو کہ تم دونوں اللہ سے ڈرو۔ اور چاہیے کہ تمہارا لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنا اپنی ذات کے لیے ہوجائے۔
(۲۶۷۲۷) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حدَّثَنَی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْکَلاَعِیُّ ، عَن جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ الْحَضْرَمِیِّ ، أَنَّ أُمَّ الدَّرْدَائِ بَعَثَتْہُ إلَی نَوْفَلِ بْنِ فُلاَنٍ وَقَاصٍّ مَعَہُ ، یَقُصَّانِ فِی الْمَسْجِدِ ، فَقَالَتْ : قُلْ لَہُمَا : لِیَتَّقِیَا اللَّہَ وَتَکُنْ مَوْعِظَتُہُمَا لِلنَّاسِ لأَنْفُسِہِمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭২৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
(٢٦٧٢٨) حضرت عبید بن حسن فرماتے ہیں کہ حضرت ابن معقل نے ارشاد فرمایا : کہ ایک آدمی ہمیشہ وعظ و نصیحت کرتا رہتا تھا۔ حضرت ابن مسعود نے اس سے فرمایا : تم اپنا سامان اس کے سامنے پھیلاؤ جو اس کا ارادہ رکھتا ہو۔
(۲۶۷۲۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن مِسْعَرٍ ، عَن عُبَیْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ : کَانَ رَجُلٌ لاَ یَزَالُ یَقُصُّ فَقَالَ لَہُ ابْنُ مَسْعُودٍ : انْشُرْ سِلْعَتَکَ عَلَی مَنْ یُرِیدُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭২৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو سلام کے وقت آدمی کے ہاتھ کا بوسہ لیتا ہو
(٢٦٧٢٩) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ مبارک کا بوسہ لیا۔
(۲۶۷۲۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَن یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قبَّلْنَا یَدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (ابوداؤد ۲۶۴۰۔ احمد ۲۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭২৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو سلام کے وقت آدمی کے ہاتھ کا بوسہ لیتا ہو
(٢٦٧٣٠) حضرت ابن عمر سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
(۲۶۷۳۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَن یَزِیدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৩০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو سلام کے وقت آدمی کے ہاتھ کا بوسہ لیتا ہو
(٢٦٧٣١) حضرت عبداللہ بن سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت صفوان بن عسال نے ارشاد فرمایا : کہ یہود کے کچھ لوگوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ اور پاؤں کا بوسہ لیا۔
(۲۶۷۳۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ وَغُنْدَرٌ ، وَأَبُو أُسَامَۃَ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلِمَۃَ ، عَن صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ، أَنَّ قَوْمًا مِنَ الْیَہُودِ قَبَّلُوا یَدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَیْہِ۔

(ترمذی ۲۷۳۳۔ احمد ۴/۲۳۹)
tahqiq

তাহকীক: