মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৬৭৩১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو سلام کے وقت آدمی کے ہاتھ کا بوسہ لیتا ہو
(٢٦٧٣٢) حضرت زیاد بن فیاض فرماتے ہیں کہ حضرت تمیم بن سلمہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت ابو عبیدہ نے حضرت عمر کے ہاتھ کا بوسہ لیا۔ اور حضرت تمیم نے فرمایا : کہ بوسہ لینا سنت ہے۔
(۲۶۷۳۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن زِیَادِ بْنِ فَیَّاضٍ ، عَن تَمِیمِ بْنِ سَلَمَۃَ ، أَنَّ أَبَا عُبَیْدَۃَ قَبَّلَ یَدَ عُمَرَ ، قَالَ تَمِیمٌ : وَالْقُبْلَۃُ سُنَّۃٌ۔ (بیہقی ۱۰۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৩২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو سلام کے وقت آدمی کے ہاتھ کا بوسہ لیتا ہو
(٢٦٧٣٣) حضرت مالک فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت خیثمہ نے میرے ہاتھ کا بوسہ لیا۔ اور حضرت مالک فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ نے میرے ہاتھ کا بوسہ لیا۔
(۲۶۷۳۳) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَن مَالِکٍ، عَن طَلْحَۃَ، قَالَ: قبَّلَ خَیْثَمَۃُ یَدِی، قَالَ مَالِکٌ: وَقَبَّلَ طَلْحَۃُ یَدِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৩৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی آدمی کا نام حقارت سے لے
(٢٦٧٣٤) حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد آدمی کے ذیّ کہنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(۲۶۷۳۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن لَیْثٍ ، عَن مُجَاہِدٍ ، أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَقُولَ الرَّجُلُ : ذَیّا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৩৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی آدمی کا نام حقارت سے لے
(٢٦٧٣٥) حضرت ابو سعاد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن محمد ابن حنفیہ نے کسی آدمی کو یوں کہتے ہوئے سنا : ” اوئے “۔ تو آپ نے اسے منع فرمایا۔
(۲۶۷۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی سُعَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، أَنَّہُ سَمِعَ رَجُلاً یَقُولُ: یَا ہَنَاۃُ ، فَنَہَاہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৩৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو کسی آدمی کا نام حقارت سے لے
(٢٦٧٣٦) حضرت حفص فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مسیب ہر اس چیز کو ناپسند سمجھتے تھے جس کے آخر میں لفظ ویہ آتا ہو۔
(۲۶۷۳۶) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَن عِیسَی بْنِ الْمُسَیَّبِ ، أَنَّہُ کَرِہَ کُلَّ شَیْئٍ یَکُونُ آخِرُہُ : وَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৩৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کپڑا لپیٹنے کا بیان اور اس بارے میں جو روایات ذکر کی گئیں
(٢٦٧٣٧) حضرت قاسم بن مخیمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا : اس حال میں کہ آپ (علیہ السلام) اسے وعظ و نصیحت کر رہے تھے : اے میرے بیٹے ! سر پر کپڑا لپیٹنے سے بچو، اس لیے کہ یہ رات میں خوف کا باعث اور دن میں ذلالت یا مذمت کا باعث بنتا ہے۔
(۲۶۷۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَن مُوسَی بْنِ سُلَیْمَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ ، قَالَ : قَالَ لُقْمَانُ لابْنِہِ وَہُوَ یَعِظُہُ : یَا بُنَیَّ ، إیَّاکَ وَالتَّقَنُّعَ فَإِنَّہُ مَخْوَفَۃٌ بِاللَّیْلِ مَذَلَّۃٌ ، أَوْ مَذَمَّۃٌ بِالنَّہَارِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৩৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کپڑا لپیٹنے کا بیان اور اس بارے میں جو روایات ذکر کی گئیں
(٢٦٧٣٨) حضرت عبیدہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس کو دیکھا انھوں نے راہبوں کی طرح سر پر کپڑا لپیٹا ہوا تھا راہبوں کی طرح۔
(۲۶۷۳۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَمَانٍ ، عَن سَہْلِ بْنِ خَلِیفَۃَ ، عَن عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : رَأَیْتُ طَاوُوسًا عَلَیْہِ مُقَنَّعَۃٌ مِثْلُ مُقَنَّعَۃِ الرُّہْبَانِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৩৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کپڑا لپیٹنے کا بیان اور اس بارے میں جو روایات ذکر کی گئیں
(٢٦٧٣٩) حضرت ابو العلاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن علی کو دیکھا کہ وہ اپنے سر پر کپڑا لپیٹ کر نماز پڑھا رہے تھے۔
(۲۶۷۳۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ، قَالَ: رَأَیْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ یُصَلِّی مُقَنِّعًا رَأْسَہُ۔ (عبدالرزاق ۱۹۸۴۰۔ بزار ۲۸۸۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৩৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو رات گزارے اس حال میں کہ اس کے ہاتھ میں گوشت کی چکناہٹ لگی ہو
(٢٦٧٤٠) حضرت عبید اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص اس حال میں سوئے کہ اس کے ہاتھ میں گوشت کی چکناہٹ کی بو ہو پھر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ ہرگز ملامت نہ کرے مگر اپنے ہی نفس کو۔
(۲۶۷۴۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَن عُبَیْدِ اللہِ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ نَامَ وَفِی یَدِہِ رِیحُ غَمَرٍ فَأَصَابَہُ شَیْئٌ فَلاَ یَلُومَنَّ إلاَّ نَفْسَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৪০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو رات گزارے اس حال میں کہ اس کے ہاتھ میں گوشت کی چکناہٹ لگی ہو
(٢٦٧٤١) حضرت واصل فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا : کہ یقیناً شیطان چکنائی میں موجود ہوتا ہے۔
(۲۶۷۴۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن وَاصِلٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إنَّ الشَّیْطَانَ یَحْضُرُ الدَّسَمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৪১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو رات گزارے اس حال میں کہ اس کے ہاتھ میں گوشت کی چکناہٹ لگی ہو
(٢٦٧٤٢) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص اس حال میں سوئے کہ اس کے ہاتھ میں گوشت کی چکناہٹ کی بو ہو اس نے اسے دھویا نہ ہو پھر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ ہرگز ملامت نہ کرے مگر اپنے ہی نفس کو۔
(۲۶۷۴۲) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا زُہَیْرٌ ، عَن سُہَیْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ نَامَ وَفِی یَدِہِ غَمَرٌ لَمْ یَغْسِلْہُ فَأَصَابَہُ شَیْئٌ فَلاَ یَلُومَنَّ إلاَّ نَفْسَہُ۔
(ابوداؤد ۳۸۴۸۔ ترمذی ۱۸۵۹)
(ابوداؤد ۳۸۴۸۔ ترمذی ۱۸۵۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৪২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں سے مل جُل کر رہنے اور خوش اخلاقی کا برتاؤ کرنے کا بیان
(٢٦٧٤٣) حضرت میمون بن ابو شبیب فرماتے ہیں کہ حضرت صعصعہ نے اپنے بھتیجے سے فرمایا : بیشک میں تیرے باپ کے نزدیک تجھ سے زیادہ پسندیدہ ہوں۔ اور تو میرے نزدیک میرے بےٹ سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ جب تو کسی مومن سے ملے تو اس کے ساتھ مل جل کر رہ اور جب تو کسی بدکار سے ملے تو اس کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آ۔
(۲۶۷۴۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، عَن مَیْمُونِ بْنِ أَبِی شَبِیبٍ ، قَالَ : قَالَ صَعْصَعَۃُ لابْنِ أَخِیہِ : إنِّی کُنْت أَحَبَّ إلَی أَبِیک مِنْک فَأَنْتَ أَحَبُّ إلَیَّ مِنِ ابْنِی ، إذَا لَقِیت الْمُؤْمِنَ فَخَالِطْہُ ، وَإِذَا لَقِیت الْفَاجِرَ فَخَالِقْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৪৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں سے مل جُل کر رہنے اور خوش اخلاقی کا برتاؤ کرنے کا بیان
(٢٦٧٤٤) حضرت یحییٰ بن وثاب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی صحابی سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ مومن جو لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے یہ افضل ہے اس شخص سے جو نہ لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور نہ ان کی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے۔
(۲۶۷۴۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن یَحْیَی بْنِ وَثَّابٍ ، عَن رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْمُؤْمِنُ الَّذِی یُخَالِطُ النَّاسَ وَیَصْبِرُ عَلَی أَذَاہُمْ أَفْضَلُ مِنَ الَّذِی لاَ یُخَالِطُ النَّاسَ ، وَلاَ یَصْبِرُ عَلَی أَذَاہُمْ۔ (ترمذی ۲۵۰۷۔ احمد ۲/۴۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৪৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں سے مل جُل کر رہنے اور خوش اخلاقی کا برتاؤ کرنے کا بیان
(٢٦٧٤٥) حضرت عبداللہ بن باہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ ملو اور ان سے جدا ہوجاؤ۔ اور ان سے مصافحہ کرو اور تمہارا دین تم اس کے متعلق ان سے بات چیت نہ کرو۔
(۲۶۷۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عن عبد اللہ بن باہ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ : خَالِطُوا النَّاسَ وَزَایِلُوہُمْ وَصَافِحُوہُمْ وَدِینُکُمْ فلاَ تَکْلِمُونَہُ۔ (طبرانی ۹۷۵۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৪৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کے رعب کا بیان
(٢٦٧٤٦) حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ میں ہر جمعرات کو حضرت عبداللہ بن مسعود کی خدمت میں آیا کرتا تھا۔ میں نے کبھی بھی آپ کو کسی معاملہ میں یوں فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :“ پس ایک شام کو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے۔ اس پر آپ کی حالت بدل گئی میں نے دیکھا کہ آپ کھڑے ہوگئے اس حال میں کہ آپ کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے ہیں۔ اور آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اور آپ کی رگیں پھول گئیں۔ آپ نے فرمایا : کہ یا تو اس سے کم فرمایا یا اس سے زیادہ یا اس کے قریب یا اس جیسا ارشاد فرمایا۔
(۲۶۷۴۶) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی مُسْلِمٌ الْبَطِینُ ، عنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبہ: ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، قَالَ : مَا أَخْطَأَنِی ابْنُ مَسْعُودٍ خَمِیسًا إلاَّ أَتَیْتہ فِیہِ ، قَالَ: فَمَا سَمِعْتہ یَقُولُ لِشَیْئٍ قَطُّ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا کَانَ ذَاتَ عَشِیَّۃٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ : فَنَکَّسَ ، قَالَ : فَنَظَرْت إلَیْہِ وَہُوَ قَائِمٌ مُنحَلَّۃً أَزْرَارُ قَمِیصِہِ ، قَدَ اغْرَوْرَقَتْ عَیْنَاہُ وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُہُ، قَالَ : أَوْ دُونَ ذَلِکَ ، أَوْ فَوْقَ ذَلِکَ ، أَوْ قَرِیبًا مِنْ ذَلِکَ ، أَوْ شَبِیہًا بِذَلِکَ۔ (احمد ۱/۴۵۲۔ دارمی ۲۷۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৪৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کے رعب کا بیان
(٢٦٧٤٧) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی حدیث بیان کرکے فارغ ہوتے تو فرماتے کہ ” یا جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ “
(۲۶۷۴۷) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ إذَا حَدَّثَ عَن رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَدِیثًا فَفَرَغَ مِنْہُ ، قَالَ : أَوْ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
(دارمی ۲۷۶۔ احمد ۲۰۵)
(دارمی ۲۷۶۔ احمد ۲۰۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৪৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کے رعب کا بیان
(٢٦٧٤٨) حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے ایک حدیث بیان فرمائی ۔ آپ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ یہ حدیث مرفوعاً بیان فرما رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اس سے کم بیان کرنا ہمارے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔ اس لیے کہ اگر اس میں کوئی غلطی ہو یا کچھ زیادتی یاکمی ہو تو یہ ہمارے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔
(۲۶۷۴۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : حدَّثَ بِحَدِیثٍ فَقِیلَ لَہُ : أَتَرْفَعُ ہَذَا ؟ فَقَالَ : دُونَہُ أَحَبُّ إلَیْنَا إِنْ کَانَ خَطَأٌ فِی ذَلِکَ ، أَوْ زِیَادَۃٌ ، أَوْ نُقْصَانٌ کَانَ أَحَبَّ إلَیْنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৪৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کے رعب کا بیان
(٢٦٧٤٩) حضرت ابن ابو لیلیٰ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں نے حضرت زید بن ارقم سے درخواست کی کہ آپ ہمیں حدیث بیان کیجئے۔ آپ نے فرمایا : کہ ہم بوڑھے ہوگئے اور ہم بھول گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث بیان کرنا تو بہت سخت معاملہ ہے۔
(۲۶۷۴۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : قلْنَا لِزَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ : حَدِّثْنَا ، قَالَ : کَبِرْنَا وَنَسِینَا ، وَالْحَدِیثُ علَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَدِیدٌ۔ (ابن ماجہ ۲۵۔ احمد ۳۷۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৪৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کے رعب کا بیان
(٢٦٧٥٠) حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعد بن مالک کے ساتھ مدینہ منورہ سے مکہ کی طرف نکلا ، پس میں نے انھیں کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا یہاں تک کہ ہم واپس لوٹ آئے۔
(۲۶۷۵۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، عَن حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ ، عَن یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ : خَرَجْت مَعَ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ مِنَ الْمَدِینَۃِ إلَی مَکَّۃَ ، فَمَا سَمِعْتہ یُحَدِّثُ حَدِیثًا حَتَّی رَجَعْنا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৫০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کے رعب کا بیان
(٢٦٧٥١) حضرت توبہ عنبری فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے مجھ سے فرمایا کہ تمہاری حضرت حسن بصری کے بارے میں کیا رائے ہے جب وہ فرماتے ہیں کہ ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ! “ حالانکہ میں حضرت ابن عمر کی مجلس میں بیٹھا ہوں میں نے انھیں کبھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا ، سوائے ایک حدیث کے جو آپ نے بیان فرمائی کہ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گوہ لائی گئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک یہ میرا کھانا نہیں ہے، رہے تم تو تم اسے کھالو۔
(۲۶۷۵۱) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا تَوْبَۃُ الْعَنْبَرِیُّ ، قَالَ : قَالَ لِی الشَّعْبِیُّ : أَرَأَیْت الْحَسَنَ حِینَ یَقُولُ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ جَلَسْت إلَی ابْنِ عُمَرَ ، فَمَا سَمِعْتہ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلاَّ حَدِیثًا ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِضَبٍّ فَقَالَ : إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ طَعَامِی ، وَأَمَّا أَنْتُمْ فَکُلُوہُ۔ (بخاری ۷۲۶۷۔ مسلم ۱۵۴۳)
তাহকীক: