মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৬৭৫১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کے رعب کا بیان
(٢٦٧٥٢) حضرت عبداللہ بن ابو السفر فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے ارشاد فرمایا کہ میں ایک سال تک حضرت ابن عمر کی مجلس میں بیٹھا ، میں نے انھیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔
(۲۶۷۵۲) حَدَّثَنَا أَبُو بَکر ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ أَبِی السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : جَلَسْت إلَی ابْنِ عُمَرَ سَنَۃً فَمَا سَمِعْتہ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشَیْئٍ۔ (ابن ماجہ ۲۶۔ احمد ۲/۱۵۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৫২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کے رعب کا بیان
(٢٦٧٥٣) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب حضرت ابن مسعود ، حضرت ابو الدرداء اور حضرت ابو مسعو ، عقبہ بن عمرو سے احادیث کے بارے میں سوال کیا کرتے تھے۔ آپ نے اپنی شہادت تک ان حضرات کو مدینے میں ہی رکھا تھا۔
(۲۶۷۵۳) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَن سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرَ لابْنِ مَسْعُودٍ وَلأَبِی الدَّرْدَائِ وَلأَبِی مَسْعُودٍ وَعُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍو : أَحْسَبُ مَا ہَذَا الْحَدِیثُ ، عَن رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ : وَأَحْسَبُہُ حَبَسَہُمْ بِالْمَدِینَۃِ حَتَّی أُصِیبَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৫৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کادوسرے آدمی پر جھانکنے کی کراہت کا بیان
(٢٦٧٥٤) حضرت سھل بن سعد فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجرے میں سوراخ سے جھانکا ، اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کنگھی تھی جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا سر کھجلا رہے تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو دیکھ رہا ہے تو میں یہ کنگھی تیر آنکھ میں مار دیتا۔ اس لیے کہ اجازت تو آنکھ کی وجہ سے ہی مانگی جاتی ہے۔
(۲۶۷۵۴) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، سَمِعَ سَہْلَ بْنَ سَعْدٍ یَقُولُ : اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ جُحْرٍ فِی حُجْرَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَہُ مِدْرًی یَحُکُّ بِہِ رَأْسَہُ فَقَالَ : لَوْ أَعْلَمُ أَنَّک تَنْظُرُ لَطَعَنْتُ بِہِ فِی عَیْنِکَ : إنَّمَا الاِسْتِئْذَانُ مِنَ الْبَصَرِ۔ (بخاری ۶۲۴۱۔ مسلم ۱۶۹۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৫৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کادوسرے آدمی پر جھانکنے کی کراہت کا بیان
(٢٦٧٥٥) حضرت ابو سوید عبدی فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابن عمر کے دروازے پر ان سے اجازت طلب کر رہے تھے کہ میری نگاہ پڑگئی اور انھوں نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا تم میں سے کس نے میرے گھر میں جھانکا ؟ میں نے عرض کیا : میں نے ۔۔۔ اللہ آپ کو درست رکھے ۔۔۔کہ اچانک میری نظر پڑگئی تو میں نے دیکھ لیا۔ آپ نے فرمایا : ہلاکت ہو ! تو نے کیوں میرے گھر میں جھانکا ؟ !
(۲۶۷۵۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن بَرَکَۃَ بْنِ یَعْلَی التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی سُوَیْد الْعَبْدِیِّ ، قَالَ : کُنَّا بِبَابِ ابْنِ عُمَرَ نَسْتَأْذِنُ عَلَیْہِ ، فَحَانَتْ مِنِّی الْتِفَاتَۃٌ ، فَرَآنِی فَقَالَ : أَیُّکُمُ اطَّلَعَ فِی دَارِی ؟ قَالَ قُلْتُ : أَنَا أَصْلَحَک اللَّہُ ، حَانَتْ مِنِّی الْتِفَاتَۃٌ فَنَظَرْت ، قَالَ : وَیْحَک لَکَ أنْ تَطَّلِعَ فِی دَارِی!۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৫৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کادوسرے آدمی پر جھانکنے کی کراہت کا بیان
(٢٦٧٥٦) حضرت ھذیل بن شرحبیل فرماتے ہیں کہ حضرت سعد نے اپنا سر داخل کر کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت مانگی ۔ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک اجازت طلب کرنا تو نظر کی وجہ سے مقرر کیا گیا ہے۔
(۲۶۷۵۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَن طَلْحَۃَ ، عَنِ الْہُذَیْلِ بْنِ شُرَحْبِیلَ ، أَنَّ سَعْدًا اسْتَأْذَنَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَدْخَلَ رَأْسَہُ ، فَقَالَ النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّمَا جُعِلَ الاِسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ النَّظَرِ۔ (ابوداؤد ۵۱۳۱۔ طبرانی ۵۳۸۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৫৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کادوسرے آدمی پر جھانکنے کی کراہت کا بیان
(٢٦٧٥٧) حضرت حسن سے روایت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے پہلے ہی گھر میں جھانک کر دیکھ لیا تو گویا کہ وہ داخل ہوگیا۔
(۲۶۷۵۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَبَقَہُ بَصَرُہُ إلَی الْبُیُوتِ ، فَقَدْ دَمَرَ یَعْنِی دَخَلَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৫৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کادوسرے آدمی پر جھانکنے کی کراہت کا بیان
(٢٦٧٥٨) حضرت ھزیل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت طلب کرنے لگا۔ وہ بالکل دروازے پر کھڑا ہوا تھا اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہاں سے یہاں آ جاؤ۔ اس لیے کہ اجازت تو آنکھ کی وجہ سے مانگی جاتی ہے۔
(۲۶۷۵۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن طَلْحَۃَ ، عَن ہُزَیْلٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ فَوَقَفَ عَلَی بَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْتَأْذِنُ ، فَقَامَ عَلَی الْبَابِ ، فَقَالَ لہ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہَکَذَا ، عَنک ہَکَذَا ، فَإِنَّمَا الاِسْتِئْذَانُ مِنَ النَّظَرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৫৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کادوسرے آدمی پر جھانکنے کی کراہت کا بیان
(٢٦٧٥٩) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر کوئی شخص بغیر اجازت کے کچھ لوگوں پر جھانکے تو ان کے لیے حلال ہے کہ وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔
(۲۶۷۵۹) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَن سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ ، عَن سُہَیْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَوْ أَنَّ أَحَدًا اطَّلَعَ عَلَی نَاسٍ بِغَیْرِ إذْنِہِمْ حَلَّ لَہُمْ أَنْ یَفْقَؤُوا عَیْنَہُ۔ (بخاری ۶۸۸۸۔ مسلم ۱۶۹۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৫৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کادوسرے آدمی پر جھانکنے کی کراہت کا بیان
(٢٦٧٦٠) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں تھے کہ کسی آدمی نے دروازے کے شگاف سے جھانکا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر نیزے کا پھل پھینک دیا تو وہ آدمی پیچھے ہٹ گیا۔
(۲۶۷۶۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ فِی بَیْتِہِ ، فَاطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ خَلَلِ الْبَابِ ، فَسَدَّدَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ علیہ بِمِشْقَصٍ ، فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ۔ (بخاری ۶۲۴۲۔ مسلم ۱۶۹۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৬০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کادوسرے آدمی پر جھانکنے کی کراہت کا بیان
(٢٦٧٦١) حضرت مسلم بن نذیر فرماتے ہیں کہ کسی آدمی نے حضرت حذیفہ سے اپنا سر داخل کر کے اجازت مانگی ۔ اس پر حضرت حذیفہ نے اس سے فرمایا : تو نے اپنا سر داخل کر ہی لیا ہے تو اپنی سرین بھی داخل کرلے ! !
(۲۶۷۶۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَن مُسْلِمِ بْنِ نَذِیرٍ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَی حُذَیْفَۃَ فَأَدْخَلَ رَأْسَہُ فَقَالَ لَہُ حُذَیْفَۃُ : قَدْ أَدْخَلْت رَأْسَک فَأَدْخِلْ إِسْتَک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৬১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جان بوجھ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کا بیان اور اس بارے میں جو روایات ذکر کی گئیں
(٢٦٧٦٢) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
(۲۶۷۶۲) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، عَن سِمَاکٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔ (بخاری ۶۸۸۸۔ ترمذی ۲۶۵۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৬২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جان بوجھ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کا بیان اور اس بارے میں جو روایات ذکر کی گئیں
(٢٦٧٦٣) حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
(۲۶۷۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًِا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔ (بخاری ۱۰۸۔ مسلم ۱۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৬৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جان بوجھ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کا بیان اور اس بارے میں جو روایات ذکر کی گئیں
(٢٦٧٦٤) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۲۶۷۶۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عَلِیٍّ مِثْلُ حَدِیثِ ابْنِ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن حَبِیبٍ۔ (بزار ۶۲۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৬৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جان بوجھ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کا بیان اور اس بارے میں جو روایات ذکر کی گئیں
(٢٦٧٦٥) حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹ کی نسبت کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
(۲۶۷۶۵) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَن حَسَّانَ بْنِ عَطِیَّۃَ ، عَنْ أَبِی کَبْشَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔
(بخاری ۳۴۶۱۔ ترمذی ۲۶۶۹)
(بخاری ۳۴۶۱۔ ترمذی ۲۶۶۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৬৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جان بوجھ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کا بیان اور اس بارے میں جو روایات ذکر کی گئیں
(٢٦٧٦٦) حضرت عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت زبیر سے پوچھا : اے ابا جان ! میں نے کبھی آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا جیسا کہ میں حضرت ابن مسعود اور فلاں، فلاں کو بیان کرتے ہوئے سنتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : میں جب سے اسلام لایا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جدا نہیں ہوا لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک بات سنی کہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹ کی نسبت کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
(۲۶۷۶۶) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قُلْتُ لِلزُّبَیْرِ : یَا أَبَتِی ، مَالِی لاَ أَسْمَعُک تُحَدِّثُ عَن رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمَا أسْمَعُ ابْنَ مَسْعُودٍ وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا ؟ فَقَالَ : أما إنِّی لَمْ أُفَارِقْہُ مُنْذُ أَسْلَمْت ، وَلَکِنِّی سَمِعْت مِنْہُ کَلِمَۃً : مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔ (بخاری ۱۰۷۔ ابوداؤد ۳۶۴۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৬৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جان بوجھ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کا بیان اور اس بارے میں جو روایات ذکر کی گئیں
(٢٦٧٦٧) حضرت مسلم جو حضرت خالد بن عرفطہ کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن عرفطہ نے مختار کا ذکر کیا اور فرمایا کہ وہ تو کذاب (جھوٹا) ہے۔ اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
(۲۶۷۶۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، عَن خَالِدِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَن مُسْلِمٍ مَوْلَی خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَۃَ ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ عُرْفُطَۃَ ذَکَرَ الْمُخْتَارَ فَقَالَ : کَذَّابٌ ، وَسَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنْ جَہَنَّمَ۔ (احمد ۵/۲۹۲۔ ابویعلی ۶۸۳۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৬৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جان بوجھ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کا بیان اور اس بارے میں جو روایات ذکر کی گئیں
(٢٦٧٦٨) حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس منبر پر یوں فرماتے ہوئے سنا کہ تم لوگ کثرت سے میری حدیث بیان کرنے سے بچو۔ اور جو بیان کرتا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ حق یا سچ بیان کرے ، جو شخص میری طرف وہ بات منسوب کرتا ہے جو میں نے نہیں کہی ، تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
(۲۶۷۶۸) حَدَّثَنَا یَحیَی بْنُ یَعْلَی التَّیْمِیُّ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَن مَعْبَدِ بْنِ کَعْبٍ ، عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ عَلَی ہَذَا الْمِنْبَرِ : إیَّاکُمْ وَکَثْرَۃَ الْحَدِیثِ عَلَیَّ ، فَمَنْ قَالَ فَلْیَقُلْ حَقًّا ، أَوْ صِدْقًا ، وَمَنْ تَقَوَّلَ عَلَیَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔ (احمد ۵/۲۹۷۔ دارمی ۲۳۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৬৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جان بوجھ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کا بیان اور اس بارے میں جو روایات ذکر کی گئیں
(٢٦٧٦٩) حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص میری طرف جھوٹ کی نسبت کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم میں ایک گھر تعمیر کردیا جاتا ہے۔
(۲۶۷۶۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إنَّ الَّذِی یَکْذِبُ عَلَیَّ یُبْنَی لَہُ بَیْتٌ فِی النَّارِ۔
(احمد ۲/۲۲۔ طبرانی ۱۳۱۵۴)
(احمد ۲/۲۲۔ طبرانی ۱۳۱۵۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৬৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جان بوجھ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کا بیان اور اس بارے میں جو روایات ذکر کی گئیں
(٢٦٧٧٠) حضرت ربعی بن حراش فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ آپ نے خطبہ دیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ میرے خلاف جھوٹ مت گھڑو بیشک جو شخص مجھ پر جھوٹ گھڑے گا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔
(۲۶۷۷۰) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَن رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ ، أَنَّہُ سَمِعَ عَلِیًّا یَخْطُبُ یَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لاَ تَکْذِبُوا عَلَیَّ، فَإِنَّہُ مَنْ یَکْذِبْ عَلَیَّ یَلِجَ النَّارَ۔(بخاری ۱۰۶۔ مسلم ۱۲۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৭০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جان بوجھ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کا بیان اور اس بارے میں جو روایات ذکر کی گئیں
(٢٦٧٧١) حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص میری طرف جھوٹ کی نسبت کرے۔۔۔ راوی کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ یوں بھی کہا۔۔۔جان بوجھ کر تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
(۲۶۷۷۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ ، أَحْسَبُہُ قَالَ : مُتَعَمِّدًا ، فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔ (مسلم ۲۲۹۸۔ احمد ۳/۴۴)
তাহকীক: