মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৬৮১১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو لڑکاپیدا ہونے سے پہلے ہی کنیت اختیار کر لے اور اس بارے میں جو روایات منقول ہیں
(٢٦٨١٢) حضرت برد فرماتے ہیں کہ حضرت زہری سے پوچھا گیا : کہ آدمی بچہ پیدا ہونے سے پہلے کنت اختیار کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض صحابہ اولاد ہونے سے پہلے ہی اپنی کنیت اختیار کرلیتے تھے۔
(۲۶۸۱۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَن بُرْدٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قِیلَ لَہُ : أَیَکْتَنِی الرَّجُلُ قَبْلَ أَنْ یُولَدَ لَہُ ؟ قَالَ : کَانَ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَکْتَنُوا قَبْلَ أَنْ یُولَدَ لَہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو لڑکاپیدا ہونے سے پہلے ہی کنیت اختیار کر لے اور اس بارے میں جو روایات منقول ہیں
(٢٦٨١٣) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے میری کنیت ابو شبل رکھی، حالانکہ حضرت علقمہ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔
(۲۶۸۱۳) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ قَالَ: کَنَّانِی عَبْدُ اللہِ بِأَبِی شِبْلٍ، وَکَانَ عَلْقَمَۃُ لاَ یُولَدُ لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو لڑکاپیدا ہونے سے پہلے ہی کنیت اختیار کر لے اور اس بارے میں جو روایات منقول ہیں
(٢٦٨١٤) حضرت ابو عوانہ فرماتے ہیں کہ حضرت ھلال بن ابی حمید نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عروہ نے میرے ہاں بچہ پیدا ہونے سے پہلے ہی میری کنیت رکھ دی۔
(۲۶۸۱۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الأَسَدِیُّ ، عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ ، عَن ہِلاَلِ بْنِ أَبِی حُمَیْدٍ قَالَ : کَنَّانِی عُرْوَۃُ قَبْلَ أَنْ یُولَدَ لِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو لڑکاپیدا ہونے سے پہلے ہی کنیت اختیار کر لے اور اس بارے میں جو روایات منقول ہیں
(٢٦٨١٥) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے سوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی تمام بیبیوں کی کنیت رکھی ہوئی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ام عبداللہ ہو۔
(۲۶۸۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن ہِشَامٍ ، عَن مَوْلًی لِلزُّبَیْرِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، أَنَّہَا قَالَتْ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، کُلُّ أَزْوَاجِکَ قَدْ کَنَّیْتہ غَیْرِی ، قَالَ : فَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللہِ۔ (بخاری ۸۵۱۔ ابوداؤد ۴۹۳۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو لڑکاپیدا ہونے سے پہلے ہی کنیت اختیار کر لے اور اس بارے میں جو روایات منقول ہیں
(٢٦٨١٦) حضرت حمزہ بن صھیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت صھیب سے فرمایا : کہ تم نے اپنی کنیت ابو یحییٰ کیوں رکھی ہے، حالانکہ تمہارا تو کوئی لڑکا نہیں ہے ؟ آپ نے جواب دیا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری کنیت ابو یحییٰ رکھی تھی۔
(۲۶۸۱۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ قَالَ : حدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ ، عَن حَمْزَۃَ بْنِ صُہَیْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِصُہَیْبٍ : مَا لَکَ تَکْتَنِی بِأَبِی یَحْیَی وَلَیْسَ لَکَ وَلَدٌ ؟ قَالَ : کَنَّانِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَبِی یَحْیَی۔ (ابن ماجہ ۳۷۳۸۔ احمد ۱۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو لڑکاپیدا ہونے سے پہلے ہی کنیت اختیار کر لے اور اس بارے میں جو روایات منقول ہیں
(٢٦٨١٧) حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لاتے تھے اور میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے تھے کہ اے ابو عمیر چڑیا کا کیا ہوا۔
(۲۶۸۱۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی التَّیَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْتِینَا ، فَکَانَ یَقُولُ لأَخٍ لِی صَغِیرٍ : یَا أَبَا عُمَیْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَیْرُ ؟۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو لڑکاپیدا ہونے سے پہلے ہی کنیت اختیار کر لے اور اس بارے میں جو روایات منقول ہیں
(٢٦٨١٨) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے ارشاد فرمایا : کہ آدمی کا بچہ پیدا ہونے سے قبل ہی کنیت اختیار کرلینا اس میں کوئی حرج نہیں ۔
(۲۶۸۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَکْتَنِیَ الرَّجُلُ قَبْلَ أَنْ یُولَدَ لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلام کی پسندیدہ چیزوں کا بیان
(٢٦٨١٩) حضرت ابن عمر یا حضرت جابر ان دونوں حضرات میں سے کوئی ایک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام میں خوش الحانی یا وضاحت ہوتی تھی۔
(۲۶۸۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن مِسْعَرٍ ، عَن شَیْخٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، أَوْ جَابِرًا قَالَ : کَانَ فِی کَلاَمِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَرْتِیلٌ ، أَوْ تَرْسِیلٌ۔ (ابوداؤد ۴۸۰۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلام کی پسندیدہ چیزوں کا بیان
(٢٦٨٢٠) حضرت عطیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے ارشاد فرمایا : زیادہ فصیح کلام شیطان کے منہ کے جھاگ کی طرح ہے۔
(۲۶۸۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ أَبِی الْعُمَیْسِ، عَنْ عَطِیَّۃَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: الإنْبِعَاق فِی الْکَلاَمِ مِنْ شَقَاشِقِ الشَّیْطَانِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮২০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلام کی پسندیدہ چیزوں کا بیان
(٢٦٨٢١) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام ایسا واضح ہوتا تھا ہر سننے والا اس کو سمجھ جاتا تھا۔
(۲۶۸۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن أُسَامَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَن عُرْوَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ : کَانَ کَلاَمُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَلاَمًا فَصْلاً ، یَفْہَمُہُ کُلُّ مَنْ سَمِعَہُ۔
(ابوداؤد ۴۸۰۶۔ ترمذی ۳۶۳۹)
(ابوداؤد ۴۸۰۶۔ ترمذی ۳۶۳۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮২১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلام کی پسندیدہ چیزوں کا بیان
(٢٦٨٢٢) حضرت عبداللہ بن عمرو مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت آدمیوں میں سے اس آدمی سے دشمنی رکھتے ہیں جو زبان ہلا ہلا کر فصیح کلام کرتا ہے گائیوں کے زبان سے چارہ ہلانے کی طرح۔
(۲۶۸۲۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِیُّ ، عَن بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أبِیہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو - قَالَ نَافِعٌ : أُرَاہُ رَفَعَہُ - قَالَ : إنَّ اللَّہَ یَبْغُضُ الْبَلِیغَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِی یَتَخَلَّلُ بِلِسَانِہِ تَخَلُّلَ الْبَاقِرَۃِ بِلِسَانِہَا۔ (ابوداؤد ۴۹۶۶۔ ترمذی ۲۸۵۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮২২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلام کی پسندیدہ چیزوں کا بیان
(٢٦٨٢٣) حضرت عبد الملک بن عمیر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کلام کیا یہاں تک کہ اس نے اپنے منہ سے جھاگ نکالا ، اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم سیکھو اور منہ پھاڑ کر کلام کرنے سے بچو، اس لیے کہ منہ پھاڑ کر کلام کرنا شیطان کے منہ سے نکلنے والے جھاگ کی طرح ہے۔
(۲۶۸۲۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ : قَامَ رَجُلٌ فَتَکَلَّمَ بَیْنَ یَدَیِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَزْبَدَ شِدْقَاہُ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَعَلَّمُوا ، وَإِیَّاکُمْ وَشَقَاشِقَ الْکَلاَمِ ، فَإِنَّ شَقَاشِقَ الْکَلاَمِ مِنَ شَقَائِقِ الشَّیْطَانِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮২৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مصیبت میں مبتلا شخص کو اعوذ باللہ سنانا مکروہ ہے
(٢٦٨٢٤) حضرت ابو جعفر نے مصیبت میں مبتلا شخص کو اعوذ باللہ سنانا مکروہ قرار دیا ہے۔
(۲۶۸۲۴) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ، عَن یَزِیدَ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یُسْمِعَ الْمُبْتَلَی التَّعْوِیذَ مِنَ الْبَلاَئِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮২৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ یوں دعا کرے
(٢٦٨٢٥) حضرت عبد الکریم فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد یوں دعا کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے، اے اللہ ! تو مجھے آزمائش میں مت ڈال مگر اس چیز کے ساتھ جو بہت بہترین ہو ، اور فرماتے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ : ترجمہ : اور ہم تمہیں آزمائیں گے شر اور بھلائی کے ساتھ۔
(۲۶۸۲۵) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَن مُجَاہِدٍ قَالَ : کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَقُولَ اللَّہُمَّ لاَ تَبْتَلِنِی إلاَّ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ وَیَقُولُ : قَالَ اللَّہُ تَعَالَی : (وَنَبْلُوکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً)۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮২৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطوط کو جلانے اور ان کو مٹا دینے کا بیان
(٢٦٨٢٦) حضرت ابن طاؤس فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس کے پاس جب بہت زیادہ خطوط جمع ہوجاتے تو آپ ان کو جلانے کا حکم دیتے اور ان کو جلا دیا جاتا۔
(۲۶۸۲۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُبَارَکٍ، عَن مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّہُ کَانَ إذَا اجْتَمَعَتْ عَندَہُ الرَّسَائِلُ أَمَرَ بِہَا فَأُحْرِقَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮২৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطوط کو جلانے اور ان کو مٹا دینے کا بیان
(٢٦٨٢٧) حضرت نعمان بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عبیدہ نے وصیت فرمائی کی ان کے خطوط کو مٹا دیا جائے۔
(۲۶۸۲۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ قَیْسٍ ، أَنَّ عَبِیدَۃَ أَوْصَی أَنْ تُمْحَی کُتُبُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮২৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطوط کو جلانے اور ان کو مٹا دینے کا بیان
(٢٦٨٢٨) حضرت عبداللہ بن مسلم بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت مسلم بن یسار کے پاس جب خط آتا تو آپ اللہ کے ذکر کو اس میں سے مٹا دیتے پھر اس کو پھینک دیتے ۔
(۲۶۸۲۸) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَن کَہْمَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ، عَن مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ : کَانَ إذَا جَائَہُ الْکِتَابُ مَحَا مَا کَانَ فِیہِ مِنْ ذِکْرِ اللہِ ، ثُمَّ أَلْقَاہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮২৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطوط کو جلانے اور ان کو مٹا دینے کا بیان
(٢٦٨٢٩) حضرت اسود بن ھلال فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس ایک صحیفہ لایا گیا جس میں کچھ حدیثیں تھیں۔ آپ نے پانی منگوایا، پہلے اسے مٹایا پھر اسے دھو دیا، پھر آپ نے اسے جلانے کا حکم دیا تو اسے جلا دیا گیا۔
(۲۶۸۲۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ہِلاَلٍ قَالَ : أُتِیَ عَبْدَ اللہِ بِصَحِیفَۃٍ فِیہَا حَدِیثٌ ، فَأَتَی بِمَائٍ فَمَحَاہَا ، ثُمَّ غَسَلَہَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَأُحْرِقَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮২৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو خط پائے کیا وہ اس کو پڑھ لے یا نہ پڑھے ؟
(٢٦٨٣٠) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے پوچھا کہ مجھے ایک خط ملا ہے کیا میں اس کو پڑھ لوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں۔
(۲۶۸۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ : قُلْتُ لِعَبِیدَۃَ : وَجَدْت کِتَابًا أَقْرَؤُہُ ؟ قَالَ : لاَ۔ (ابوداؤد ۱۴۸۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৩০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کاپیوں میں حدیث لکھنے کا بیان
(٢٦٨٣١) حضرت ولید بن ثعلبہ طائی فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک کاپیوں میں حدیث لکھنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(۲۶۸۳۱) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ الطَّائِیِّ ، عَنِ الضَّحَّاکِ ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یُکْتَبَ الْحَدِیثُ فِی الْکَرَارِیسِ۔
তাহকীক: