মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৬৮৩১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کاپیوں میں حدیث لکھنے کا بیان
(٢٦٨٣٢) حضرت عبداللہ جو حضرت ضحاک کے مؤذن ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک نے ارشاد فرمایا : کہ تم حدیث کے لیے مصحف کی کاپیوں کی طرح کاپیاں مت بناؤ۔
(۲۶۸۳۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ مُؤَذِّنِ الضَّحَّاکِ ، عَنِ الضَّحَّاکِ قَالَ : لاَ تَتَّخِذُوا لِلْحَدِیثِ کَرَارِیسَ کَکَرَارِیسِ الْمُصْحَفِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کاپیوں میں حدیث لکھنے کا بیان
(٢٦٨٣٣) حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے کاپیوں میں حدیث لکھنے کو مکروہ سمجھا۔
(۲۶۸۳۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَن لَیْثٍ ، عَن مُجَاہِدٍ ، أَنَّہُ کَرِہَ الْکَرَارِیسَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کاپیوں میں حدیث لکھنے کا بیان
(٢٦٨٣٤) حضرت ابو معشر فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے کاپیوں میں حدیث لکھنے کو مکروہ سمجھا۔
(۲۶۸۳۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ، عَن سُلَیْمَانَ بْنِ أَبِی الْعَتِیکِ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، أَنَّہُ کَرِہَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کو ان چیزوں کو گالی دینے سے منع کیا گیا ہے
(٢٦٨٣٥) حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ تم گالی مت دو رات کو نہ ہی دن کو ، نہ سورج کو نہ چاند کو اور نہ ہی ہوا کو۔ اس لیے کہ انھیں ایک قوم پر عذاب بنا کر بھیجا گیا اور دوسری قوم پر رحمت بنا کر بھیجا گیا۔
(۲۶۸۳۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَن عِیسَی ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لاَ تَسُبُّوا اللَّیْلَ، وَلاَ النَّہَارَ، وَلاَ الشَّمْسَ، وَلاَ الْقَمَرَ، وَلاَ الرِّیحَ، فَإِنَّہَا تُبْعَثُ عَذَابًا عَلَی قَوْمٍ ، وَرَحْمَۃً عَلَی آخَرِینَ۔ (ابویعلی ۲۱۹۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کو ان چیزوں کو گالی دینے سے منع کیا گیا ہے
(٢٦٨٣٦) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ تم ہوا کو برا بھلا مت کہو، اس لیے کہ یہ اللہ کی مہربانی ہے، رحمت بھی لاتی ہے اور عذاب بھی، لیکن تم اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔
(۲۶۸۳۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : حدَّثَنَا ثَابِتٌ الزُّرَقِیُّ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَسُبُّوا الرِّیحَ فَإِنَّہَا مِنْ رُوحِ اللہِ ، تَأْتِی بِالرَّحْمَۃِ وَالْعَذَابِ ، وَلَکِنْ سَلُوا اللَّہَ مِنْ خَیْرِہَا ، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّہِ مِنْ شَرِّہَا۔ (ابوداؤد ۵۰۵۶۔ احمد ۲۶۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کو ان چیزوں کو گالی دینے سے منع کیا گیا ہے
(٢٦٨٣٧) حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر میں تھے کہ ہوا چل پڑی اور ایک آدمی کی چادر اس وجہ سے کھل گئی تو اس نے ہوا کو لعن طعن کی، اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : کیا تم نے ہوا کو لعنت کی ہے ؟ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری چادر کھل گئی ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم ہوا دیکھو تو اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ، اور اس کو لعنت مت کرو اس لیے کہ یہ تو اللہ کی طرف سے مامور ہے۔
(۲۶۸۳۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ فِی سَیْرٍ ، فَہَبَّتْ رِیحٌ ، فَکَشَفَتْ عَن رَجُلٍ قَطِیفَۃً کَانَتْ عَلَیْہِ ، فَلَعَنَہَا فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ألَعَنْتہَا ؟ قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، کَشَفَتْ قَطِیفَتِی ، فَقَالَ : إذَا رَأَیْتہَا فَسَلِ اللَّہَ مِنْ خَیْرِہَا ، وَتَعَوَّذْ بِاللَّہِ مِنْ شَرِّہَا ، وَلاَ تَلْعَنْہَا فَإِنَّہَا مَأْمُورَۃٌ۔ (ابوداؤد ۴۸۷۲۔ ترمذی ۱۹۷۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ ہے آدمی کے لیے کہ اس کے پیچھے چلا جائے یا اس کے پاس جمع ہوا جائے
(٢٦٨٣٨) حضرت ھیثم فرماتے ہیں کہ حضرت عاصم نے چند لوگوں کو دیکھا جو کسی آدمی کے پیچھے چل رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا : بیشک یہ فتنہ ہے اس شخص کے لیے جس کے پیچھے چلا جا رہا ہے اور ذلت ہے پیچھے چلنے والوں کے لیے۔
(۲۶۸۳۸) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنِ الْہَیْثمِ قَالَ : رَأَی عَاصِمُ بْنُ ضَمْرَۃَ قَوْمًا یَتَّبِعُونَ رَجُلاً فَقَالَ : إِنَّہَا فِتْنَۃٌ لِلْمَتْبُوعِ مَذَلَّۃٌ لِلتَّابِعِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ ہے آدمی کے لیے کہ اس کے پیچھے چلا جائے یا اس کے پاس جمع ہوا جائے
(٢٦٨٣٩) حضرت حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ حضرت ابن مسعود کے پیچھے آئے اور آپ کے پیچھے چلنے لگے، آپ نے پوچھا : کیا تم لوگوں کو کوئی کام ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : نہیں، آپ نے فرمایا : واپس لوٹ جاؤ ، اس لیے کہ یہ پیچھے آنے والے کے لیے ذلت ہے اور جس کے پیچھے چلا جا رہا ہے اس کے لیے فتنہ ہے۔
(۲۶۸۳۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، عَن حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ قَالَ : تَبعَ ابْنَ مَسْعُودٍ نَاسٌ فَجَعَلُوا یَمْشُونَ خَلْفَہُ فَقَالَ : أَلَکُمْ حَاجَۃٌ ؟ قَالُوا : لاَ ، قَالَ : ارْجِعُوا فَإِنَّہَا ذِلَّۃٌ لِلتَّابِعِ فِتْنَۃٌ لِلْمَتْبوعِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ ہے آدمی کے لیے کہ اس کے پیچھے چلا جائے یا اس کے پاس جمع ہوا جائے
(٢٦٨٤٠) حضرت سلیم بن حنظلہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابی بن کعب کے پاس آئے تاکہ ہم ان کے پاس گفتگو کریں۔ جب آپ اٹھ گئے تو ہم بھی اٹھ کر ان کے ساتھ چلنے لگے۔ پس حضرت عمر ان سے ملے اور ان پر درّہ اٹھایا۔ آپ نے فرمایا : اے امیر المؤمنین ! جان لیں آپ جو کر رہے ہیں ! انھوں نے فرمایا : بیشک یہ جو تم دیکھ رہے ہو یہ متبوع کے لیے فتنہ ہے اور تابع کے لیے ذلت ہے۔
(۲۶۸۴۰) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَن ہَارُونَ بْنِ عَنتَرَۃَ ، عَن سُلَیْمِ بْنِ حَنْظَلَۃَ قَالَ : أَتَیْنَا أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ لِنَتَحَدَّثَ عِندَہُ ، فَلَمَّا قَامَ قُمْنَا نَمْشِی مَعَہُ ، فَلَحِقَہُ عُمَرُ فَرَفَعَ عَلَیْہِ الدِّرَّۃَ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، اعْلَمْ مَا تَصْنَعُ ؟ قَالَ : إنَّمَا تَرَی فِتْنَۃً لِلْمَتْبُوعِ ذِلَّۃً لِلتَّابِعِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৪০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ ہے آدمی کے لیے کہ اس کے پیچھے چلا جائے یا اس کے پاس جمع ہوا جائے
(٢٦٨٤١) حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین کسی کو نہیں چھوڑتے تھے کہ وہ ان کے ساتھ چل سکے۔
(۲۶۸۴۱) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ قَالَ : لَم یَکُن ابن سِرِین یَتْرک أَحَدًا یَمشِی مَعَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৪১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ ہے آدمی کے لیے کہ اس کے پیچھے چلا جائے یا اس کے پاس جمع ہوا جائے
(٢٦٨٤٢) حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالہَ کے پاس جب چار سے زیادہ لوگ بیٹھ جاتے تو آپ کھڑے ہوجاتے۔
(۲۶۸۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ قَالَ : کَانَ أَبُو الْعَالِیَۃِ إذَا جَلَسَ إلَیْہِ أَکْثَرُ مِنْ أَرْبَعَۃٍ قَامَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৪২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مناسب ہے کہ وہ خود سیکھے اور اپنے بچّہ کو سکھلائے
(٢٦٨٤٣) حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت سعد نے ارشاد فرمایا : اے میرے بیٹے ! تیر اندازی سیکھو، اس لیے کہ یہ تمہارا بہترین کھیل ہے۔
(۲۶۸۴۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَن مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَن سَعْدٍ قَالَ : یَا بَنِیَّ ، تَعَلَّمُوا الرَّمْیَ فَإِنَّہُ خَیْرُ لَعِبِکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৪৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مناسب ہے کہ وہ خود سیکھے اور اپنے بچّہ کو سکھلائے
(٢٦٨٤٤) حضرت رافع بن سالم فزاری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ہمارے پاس سے گزرے تو ارشاد فرمایا : کہ تیر اندازی کرو، اس لیے کہ تیر اندازی دشمن کے خلاف تیاری اور ہمت و استقلال ہے۔
(۲۶۸۴۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ إبْرَاہِیمَ، عَن رَافِعِ بْنِ سَالِمٍ الْفَزَارِیِّ قَالَ: مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِنَا فَقَالَ : ارْمُوا ، فَإِنَّ الرَّمْیَ عُدَّۃٌ وَجَلاَدَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৪৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مناسب ہے کہ وہ خود سیکھے اور اپنے بچّہ کو سکھلائے
(٢٦٨٤٥) حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن عاصی نے ارشاد فرمایا : کہ جب میں نے اپنے بچہ کو قرآن سکھلا دیا اور میں نے اس کو حج کروا دیا اور اس کا نکاح کرو ا دیا تو میں نے اس کا حق ادا کردیا اور اس پر میرا حق باقی رہ گیا۔
(۲۶۸۴۵) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَن طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ قَالَ : قَالَ سَعِیدُ بْنُ الْعَاصِ : إذَا عَلَّمْت وَلَدِی الْقُرْآنَ وَأَحْجَجْتُہُ وَزَوَّجْتہ ، فَقَدْ قَضَیْت حَقَّہُ ، وَبَقِیَ حَقِّی عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৪৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مناسب ہے کہ وہ خود سیکھے اور اپنے بچّہ کو سکھلائے
(٢٦٨٤٦) حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا : کہ فرشتے تمہارے کھیلوں میں حاضر نہیں ہوتے سوائے دوڑ اور تیر اندازی کے۔ مومن کا بہترین کھیل تیر اور کمان کے ساتھ ہے۔
(۲۶۸۴۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَن لَیْثٍ ، عَن مُجَاہِدٍ قَالَ : لاَ تَحْضُرُ الْمَلاَئِکَۃُ شَیْئًا مِنْ لَہْوِکُمْ غَیْرَ الرِّہَانِ وَالرَّمْیِ ، نِعْمَ مُلْتَہَی الْمُؤْمِنِ الْقَوْسُ وَالنَّبْلُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৪৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص تیر اندازی سیکھے پھر اسے چھوڑ دے تو اس نے نعمت کی ناشکری کی
(٢٦٨٤٧) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قبیلہ اسلم کے چند لوگوں پر سے گزر ہوا جو تیر اندازی کر رہے تھے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم پکڑو اور میں ابن الادرع کے ساتھ ہوں۔ اس پر ان لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم کیسے قابو کریں حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں سے بعض کو چھوڑ کر بعض کے ساتھ ہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنو اسماعیل ! تم پکڑو میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
(۲۶۸۴۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَن حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَی أُنَاسٍ من أَسْلم یَرْمُونَ فَقَالَ : خُذُوا وَأَنَا مَعَ ابْنِ الأَدْرَعِ ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، نَأْخُذُ وَأَنْتَ مَعَ بَعْضِنَا دُونَ بَعْضٍ ، فَقَالَ : خُذُوا وَأَنَا مَعَکُمْ یَا بَنِی إسْمَاعِیلَ۔ (بخاری ۲۸۹۹۔ احمد ۴/۵۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৪৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص تیر اندازی سیکھے پھر اسے چھوڑ دے تو اس نے نعمت کی ناشکری کی
(٢٦٨٤٨) حضرت ابن ابو حدردا سلمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر قبیلہ اسلم کے چند لوگوں کے پاس سے ہوا اس حال میں کہ وہ لوگ باہم تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنو اسماعیل ! تیر اندازی کرو، بیشک تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا۔ اور تم تیر چلاؤ اور میں ابن الادرع کے ساتھ ہوں، تو لوگوں نے اپنے ہاتھوں کو روک لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا کہ تم نہیں چلا رہے ؟ انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم کیسے تیر چلائیں ؟ حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ابن الادرع کے ساتھ ہیں، اور تحقق ہم جانتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لشکر کبھی مغلوب نہیں ہوسکتا ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم تیر چلاؤ میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
(۲۶۸۴۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنِ ابن أَبِی حَدْرَدٍ الأَسْلَمِیِّ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنَاسٍ مِنْ أَسْلَمَ وَہُمْ یَتَنَاضَلُونَ فَقَالَ: ارْمُوا یَا بَنِی إسْمَاعِیلَ، فَإِنَّ أَبَاکُمْ کَانَ رَامِیًا، ارْمُوا وَأَنَا مَعَ ابْنِ الأَدْرَعِ، فَأَمْسَکَ الْقَوْمُ بِأَیْدِیہِمْ فَقَالَ: مَا لَکُمْ لاَ تَرْمُونَ؟ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللہِ، أَنَرْمِی وَقَدْ قُلْتَ: أَنَا مَعَ ابْنِ الأَدْرَعِ ، وَقَدْ عَلِمْنَا أَنَّ حِزْبَک لاَ یُغْلَبُ؟ قَالَ: ارْمُوا وَأَنَا مَعَکُمْ کُلِّکُمْ۔ (مسند ۶۲۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৪৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص تیر اندازی سیکھے پھر اسے چھوڑ دے تو اس نے نعمت کی ناشکری کی
(٢٦٨٤٩) قیلہ اسلم کے ایک شخص جن کا نام ابن الادرع ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قبیلہ معد کا طرز زندگی اختیار کرو، اور موٹا اور کھردرا (کپڑا) پہنو اور باہم تیر اندازی کا مقابلہ کرو اور ننگے پیر چلا کرو۔
(۲۶۸۴۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَن رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ یُقَالُ لَہُ ابْنُ الأَدْرَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَمَعْدَدُوا وَاخْشَوْشِنُوا وَانْتَضِلُوا وَامْشُوا حُفَاۃً۔ (طبرانی ۸۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৪৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص تیر اندازی سیکھے پھر اسے چھوڑ دے تو اس نے نعمت کی ناشکری کی
(٢٦٨٥٠) حضرت عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ یقیناً اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین لوگوں کو جنت میں داخل کریں گے ، تیر کے بنانے والے کو جس نے ثواب کی نیت سے اس کو بنایا۔ اور اس کے چلانے والے کو اور تیر کے پکڑانے والے کو، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیر اندازی کرو اور سواری کرو۔ اور تمہارا تیر اندازی کرنا میرے نزدیک تمہارے سوار ہونے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اور وہ تمام کھیل جو مسلمان بندہ کھیلتا ہے وہ باطل ہیں۔ سوائے اس کے کہ وہ اپنے کمان کے ذریعہ تیر چلاتا ہو ، یا اپنے گھوڑے کو سدھاتا ہو یا اپنی بیوی کے ساتھ تفریح کرتا ہو، بیشک یہ تمام چیزیں حق میں سے ہیں۔
(۲۶۸۵۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا الدَّسْتَوَائِیُّ ، عَن یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ أَبِی سَلاَّمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الأَزْرَقِ ، عَن عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : إنَّ اللَّہَ لَیُدْخِلُ بِالسَّہْمِ الْوَاحِدِ الثَّلاَثَۃَ الْجَنَّۃَ : صَانِعَہُ یَحْتَسِبُ فِی صَنْعَتِہِ الْخَیْرَ ، وَالرَّامِیَ بِہِ ، وَالْمُمِدَّ بِہِ ، وَقَالَ : ارْمُوا وَارْکَبُوا، وَإِنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ تَرْکَبُوا ، وَکُلُّ مَا یَلْہُو بِہِ الْمَرْئُ الْمُسْلِمُ بَاطِلٌ إلاَّ رَمْیَہُ بِقَوْسِہِ ، وَتَأْدِیبَہُ فَرَسَہُ، وَمُلاَعَبَتَہُ أَہْلَہُ ، فَإِنَّہُنَّ مِنَ الْحَقِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৫০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص تیر اندازی سیکھے پھر اسے چھوڑ دے تو اس نے نعمت کی ناشکری کی
(٢٦٨٥١) حضرت عقبہ بن عامر سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔ مگر یہ کہ اس سند میں منبلہ کے الفاظ بھی ہیں۔
(۲۶۸۵۱) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو سَلاَّمٍ الدِّمَشْقِیُّ ، عَن خَالِدِ بْنِ زَیْدٍ الْجُہَنِیِّ ، عَن عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ، عَن رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَہُ نَحْوَہُ إلاَّ أَنَّہُ قَالَ : وَمُنَبِّلَہُ۔ (ابوداؤد ۲۵۰۵۔ احمد ۴/۱۴۶)
tahqiq

তাহকীক: