মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৬৮৫১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص تیر اندازی سیکھے پھر اسے چھوڑ دے تو اس نے نعمت کی ناشکری کی
(٢٦٨٥٢) امام اوزاعی فرماتے ہیں کہ حضرت بلال بن سعد نے ارشاد فرمایا : کہ میں نے صحابہ کو پایا اس حال میں کہ وہ لوگ اپنے مقاصد کے بارے میں بہت سخت تھے۔ اور ان میں سے بعض بعض کے ساتھ مذاق کرتے تھے اور جب رات ہوتی، تو وہ سب کے سب عبادت گزار بن جاتے۔
(۲۶۸۵۲) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَن بِلاَلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : أَدْرَکْتہمْ یَشْتَدُّونَ بَیْنَ الأَغْرَاضِ وَیَضْحَکُ بَعْضُہُمْ إلَی بَعْضٍ ، فَإِذَا کَانَ اللَّیْلُ کَانُوا رُہْبَانًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৫২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص تیر اندازی سیکھے پھر اسے چھوڑ دے تو اس نے نعمت کی ناشکری کی
(٢٦٨٥٣) حضرت ابراہیم تیمی کے والد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ کو دیکھا آپ دو نشانوں کے درمیان حملہ کرتے تھے۔
(۲۶۸۵۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: رَأَیْتُ حُذَیْفَۃَ یَشْتدُّ بَیْنَ الْہَدَفَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৫৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص تیر اندازی سیکھے پھر اسے چھوڑ دے تو اس نے نعمت کی ناشکری کی
(٢٦٨٥٤) حضرت ابو العدبّس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ تم حشرات کو ڈراؤ قبل ازیں کہ وہ تمہیں خوف زدہ کریں اور تم باہم تیر اندازی کا مقابلہ کیا کرو، اور قبیلہ معد کی طرز زندگی اختیار کرو اور موٹا ، کھردرا کپڑا پہنو، اور اپنے مال کو ہلاک ہونے سے بچاؤ، اور تم ایسی جگہ اقامت اختیار مت کرو جہاں تمہارا رزق تنگ ہو اور تم سانپوں کو ڈراؤ قبل ازیں کہ وہ تمہیں خوف زدہ کریں اور اپنے گھر والوں کو درست رکھو۔
(۲۶۸۵۴) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْر بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی الْعَدَبَّسِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ یَقُولُ : أَخِیفُوا الْہَوَامَّ قَبْلَ أَنْ تُخِیفَکُمْ ، وَانْتَضِلُوا وَتَمَعْدَدُوا وَاخْشَوْشِنُوا وَاجْعَلُوا الرَّأْسَ رَأْسَیْنِ ، وَفَرِّقُوا عَنِ الْمَنِیَّۃِ ، وَلاَ تُلِثُّوا بِدَارٍ مُعْجِزَۃٍ ، وَأَخِیفُوا الْحَیَّاتِ قَبْلَ أَنْ تُخِیفَکُمْ وَأَصْلِحُوا مَثَاوِیَکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৫৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ اس سے ایسی خوشبو پائی جائے
(٢٦٨٥٥) حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عباس اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکلتے تو راستہ کے پڑوسی آپ کی مہکتی خوشبو سے پہچان لیتے کہ حضرت ابن عباس گزرے ہیں۔
(۲۶۸۵۵) حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ الرَّبِیعِ ، عَن یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ إذَا خَرَجَ مِنْ بَیْتِہِ إلَی الْمَسْجِدِ عَرَفَ جِیرَانُ الطَّرِیقِ ، أَنَّہُ قَدْ مَرَّ مِنْ طِیبِ رِیحِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৫৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ اس سے ایسی خوشبو پائی جائے
(٢٦٨٥٦) حضرت قاسم بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ایسی خوشبو لگاتے تھے جس میں مشک کی آمیزش ہوتی تھی۔
(۲۶۸۵۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ أَبِی الْعُمَیْسِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ یَتَطَیَّبُ بِطِیبٍ فِیہِ مِسْکٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৫৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ اس سے ایسی خوشبو پائی جائے
(٢٦٨٥٧) حضرت عثمان بن عبیداللہ جو حضرت سعد بن ابی وقاص کے آزاد کردہ غلام ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ، حضرت ابوہریرہ ، حضرت ابو قتادہ اور حضرت ابو اسید ساعدی کو دیکھا ، یہ حضرات ہم پر سے گزرتے تھے اس حال میں کہ ہم مکتب میں ہوتے تھے تو ہم ان سے عبیر کی خوشبو سونگھتے تھے جو زعفران ملی خوشبو ہے۔
(۲۶۸۵۷) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَفْصٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَن عُثْمَانَ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ مَوْلًی لِسَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبَا ہُرَیْرَۃَ وَأَبَا قَتَادَۃَ وَأَبَا أُسَیْدَ السَّاعِدِیَّ یَمُرُّونَ عَلَیْنَا وَنَحْنُ فِی الْکُتَّابِ فَنَجِدُ مِنْہُمْ رِیحَ الْعَبِیرِ وَہُوَ الْخَلُوقُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৫৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ اس سے ایسی خوشبو پائی جائے
(٢٦٨٥٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تشریف لاتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت پاکیزہ خوشبو آتی تھی۔
(۲۶۸۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعْرَفُ بِرِیحِ الطِّیبِ إذَا أَقْبَلَ۔ (عبدالرزاق ۷۹۳۴۔ ابن سعد ۳۹۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৫৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ اس سے ایسی خوشبو پائی جائے
(٢٦٨٥٩) حضرت طلحہ بن مصرف فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے بہت پاکیزہ خوشبو آتی تھی۔
(۲۶۸۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن مِسْعَرٍ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَۃَ ، عَن طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ قَالَ : کَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ یُعْرَفُ بِرِیحِ الطِّیبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৫৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ اس سے ایسی خوشبو پائی جائے
(٢٦٨٦٠) حضرت نفیع جو حضرت عبداللہ بن مسعود کے آزاد کردہ غلام ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ لوگوں میں سب سے پاکیزہ خوشبو والے اور سب سے صاف سفید کپڑوں والے تھے۔
(۲۶۸۶۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِیِّ ، عَن سُلَیْمَانَ بْنِ مِینَائَ ، عَن نُفَیْعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللہِ قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ مِنْ أَطْیَبِ النَّاسِ رِیحًا ، وَأَنْقَاہُمْ ثَوْبًا أَبْیَضَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৬০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ اس سے ایسی خوشبو پائی جائے
(٢٦٨٦١) امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن جعفر مشک کو کوٹ کر اس کا سفوف بناتے پھر اس کو اپنے سر کے اوپر کے حصہ میں ڈال لیتے۔
(۲۶۸۶۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ بْنُ جَعْفَرٍ یَسْحَقُ الْمِسْکَ ، ثُمَّ جَعَلَہُ عَلَی یَافُوخِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৬১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو عورت کے گھر سے نکلتے وقت خوشبو لگانے کو مکروہ سمجھتے ہیں
(٢٦٨٦٢) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب عید کے دن نکلے، آپ کا گزر عورتوں کے پاس سے ہوا، تو آپ کو کسی عورت کے سر سے خوشبو محسوس ہوئی، آپ نے پوچھا : یہ خوشبو والی عورت کون ہے ؟ اگر میں نے اس کو پہچان لیا تو میں اس کو ایسی اور ایسی سزادوں گا، اس لیے کہ عورت صرف اپنے خاوند کے لیے خوشبو لگا سکتی ہے۔ اور جب وہ نکلے تو اپنے کوئی بوسیدہ یا اپنی خادمہ کے بوسیدہ کپڑے پہن لے، اس پر عورتوں نے بتایا کہ یہ عورت حدث کی وجہ سے اٹھی ہے۔
(۲۶۸۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ یَوْمَ عِیدٍ ، فَمَرَّ بِالنِّسَائِ ، فَوَجَدَ رِیحَ رَأْسِ امْرَأَۃٍ فَقَالَ : مَنْ صَاحِبَۃُ ہَذَا ؟ أَمَا لَوْ عَرَفْتہَا لَفَعَلْت وَفَعَلْت ، إنَّمَا تَطَیَّبُ الْمَرْأَۃُ لِزَوْجِہَا، فَإِذَا خَرَجَتْ لَبِسَتْ أُطَیْمِرَہَا ، أَوْ أُطَیْمِرَ خَادِمِہَا ، فَتَحَدَّثَ النِّسَائُ ، أَنَّہَا قَامَتْ عَن حَدَثٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৬২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو عورت کے گھر سے نکلتے وقت خوشبو لگانے کو مکروہ سمجھتے ہیں
(٢٦٨٦٣) حضرت غنیم بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا : جو کوئی عورت خوشبو لگائے، پھر وہ نکلے تاکہ اس کی خوشبو پھیلے، پس یہ عورت زنا کرنے والی ہے اور ہر آنکھ زنا کرنے والی ہوگی۔
(۲۶۸۶۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن ثَابِتِ بْنِ عُمَارَۃَ ، عَن غُنَیْمِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ استعْطرَتْ ، ثُمَّ خَرَجَتْ لتُوجَدَ رِیحُہَا فَہِی فَاعِلَۃ ، وَکُل عَین فَاعِلَۃ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৬৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو عورت کے گھر سے نکلتے وقت خوشبو لگانے کو مکروہ سمجھتے ہیں
(٢٦٨٦٤) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو کوئی عورت خوشبو لگائے پھر مسجد کی طرف نکلے تاکہ اس کی خوشبو محسوس کی جائے، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ جنابت کے غسل کی طرح غسل کرلے۔
(۲۶۸۶۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ عُبَیْدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ تَطَیَّبَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ إلَی الْمَسْجِدِ لِیُوجَدَ رِیحُہَا ، لَمْ تُقْبَلْ لَہَا صَلاَۃٌ حَتَّی تَغْتَسِلَ اغْتِسَالَہَا مِنَ الْجَنَابَۃِ۔ (ابوداؤد ۴۱۷۱۔ احمد ۲/۲۴۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৬৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو عورت کے گھر سے نکلتے وقت خوشبو لگانے کو مکروہ سمجھتے ہیں
(٢٦٨٦٥) حضرت زینب جو حضرت عبداللہ بن مسعود کی زوجہ ہیں وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی عورت مسجد کی طرف نکلے تو اس کو چاہیے کہ وہ خوشبو مت لگائے۔
(۲۶۸۶۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَن یَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَن بُسْرِ بْنِ سَعِیدٍ ، عَن زَیْنَبَ امْرَأَۃِ عَبْدِ اللہِ قَالَتْ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا خَرَجَتْ إحْدَاکُنَّ إلَی الْمَسْجِدِ فَلاَ تَمَسَّ طِیبًا۔ (مسلم ۳۲۸۔ احمد ۶/۳۶۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৬৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو عورت کے گھر سے نکلتے وقت خوشبو لگانے کو مکروہ سمجھتے ہیں
(٢٦٨٦٦) حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے اپنی بیوی سے عود کی خوشبو محسوس کی اس حال میں کہ وہ مکہ میں تھی، آپ نے اس کو قسم دی کہ وہ اس رات نہیں نکلے گی۔
(۲۶۸۶۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی الْعُمَیْسِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بن أَبِی بَزَّۃَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّہُ وَجَدَ مِنِ امْرَأَتِہِ رِیحَ مِجْمَرٍ وَہِیَ بِمَکَّۃَ ، فَأَقْسَمَ عَلَیْہَا أَلاَ تَخْرُجَ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৬৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو عورت کے گھر سے نکلتے وقت خوشبو لگانے کو مکروہ سمجھتے ہیں
(٢٦٨٦٧) حضرت عثمان بن عبداللہ بن سراقہ فرماتے ہیں کہ میری والدہ نے ارشاد فرمایا : کہ میرے دیور نے میرے پاس قیام کیا تو میں نے خوشبو لگائی پھر میں نکلی، تو حضرت حفصہ نے میری طرف قاصد کے ذریعے پیغام بھیجا کہ بیشک خوشبو تو خاوند کے لیے لگائی جاتی ہے۔
(۲۶۸۶۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن کَثِیرِ بْنِ زَیْدٍ ، عَن عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ سُرَاقَۃَ ، عَن أُمِّہِ قَالَتْ : نَزَلَ بِی حَمَوِیٌّ فَمَسِسْت طِیبًا ، ثُمَّ خَرَجْت فَأَرْسَلَتْ إلَیَّ حَفْصَۃُ : إنَّمَا الطِّیبُ لِلْفِرَاشِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৬৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو عورت کے گھر سے نکلتے وقت خوشبو لگانے کو مکروہ سمجھتے ہیں
(٢٦٨٦٨) حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم سے ان کی بیوی نے اپنے گھر والوں کے پاس جانے کی اجازت مانگی تو آپ نے اسے اجازت دے دی۔ پھر آپ کو اس سے دھونی کی خوشبو محسوس ہوئی تو آپ نے اس کو روک دیا اور فرمایا : بیشک عورت جب خوشبو لگائے پھر گھر سے نکلے، تو اس کی خوشبو میں ایسا فتنہ ہے جس میں آگ ہے۔
(۲۶۸۶۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّ امْرَأَتَہُ اسْتَأْذَنَتْہُ أَنْ تَأْتِیَ أَہْلَہَا ، فَأَذِنَ لَہَا فَوَجَدَ بِہَا رِیحُ دُخْنۃ فحبسہا ، وَقَالَ : إنَّ الْمَرْأَۃَ إذَا تَطَیَّبَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ فَإِنَّمَا طِیبُہَا شَنَارٌ فِیہِ نَارٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৬৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو عورت کے گھر سے نکلتے وقت خوشبو لگانے کو مکروہ سمجھتے ہیں
(٢٦٨٦٩) حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ حضرت اسمائ اپنی بہن حضرت عائشہ سے ملاقات کے لیے آئیں اس حال میں کہ حضرت زبیر موجود نہیں تھے۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پاکیزہ خوشبو محسوس کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورت کے لیے درست نہیں ہے کہ وہ خوشبو لگائے جبکہ اس کا خاوند موجود نہ ہو۔
(۲۶۸۶۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ قَالَ : زَارَتْ أَسْمَائُ أُخْتَہَا عَائِشَۃَ ، وَالزُّبَیْرُ غَائِبٌ ، فَدَخَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ رِیحَ طِیبٍ فَقَالَ : مَا عَلَی امْرَأَۃٍ أَنْ لاَ تَطَیَّبَ وَزَوْجُہَا غَائِبٌ۔ (طبرانی ۲۸۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৬৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینے کا بیان
(٢٦٨٧٠) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ایمان کے ساٹھ یا ستر یا کچھ زائد شعبے ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک عدد ارشاد فرمایا۔۔۔ ان میں سے بلند ترین لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا ہے اور سب سے آسان تکلیف دہ چیز کو راستہ سے ہٹانا ہے ، اور حیاء بھی ایمان کا حصہ ہے۔
(۲۶۸۷۰) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِینَارٍ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: الإِیمَانُ سِتُّونَ ، أَوْ سَبْعُونَ ، أَوْ بِضْعَۃٌ وَاحِدُ الْعَدَدَیْنِ: أَعْلاَہَا شَہَادَۃُ أَنْ لاَ إلَہَ إلاَّ اللَّہُ ، وَأَدْنَاہَا إمَاطَۃُ الأَذَی عَنِ الطَّرِیقِ ، وَالْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِنَ الإِیمَانِ۔ (بخاری ۹۔ مسلم ۶۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৭০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینے کا بیان
(٢٦٨٧١) حضرت ابو برزہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری کسی ایسے عمل پر راہنمائی فرما دیجئے جس پر عمل کرنے سے مجھے فائدہ ہو، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ مسلمانوں کے راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹاؤ۔
(۲۶۸۷۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَمْعَۃَ ، عَنْ أَبِی الْوَازِعِ ، عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، دُلَّنِی عَلَی عَمَلٍ أَنْتَفِعُ بِہِ ، قَالَ : نَحِّ الأَذَی عَن طَرِیقِ الْمُسْلِمِینَ۔ (مسلم ۲۰۲۱۔ ابن ماجہ ۳۶۸۱)
tahqiq

তাহকীক: