মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৬৮৭১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینے کا بیان
(٢٦٨٧٢) حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص مریض کی عیادت کرے یا اپنے گھر والوں پر مال خرچ کرے یا راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے تو ایک نیکی کا بدلہ دس کے برابر ہوگا۔
(۲۶۸۷۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ : حَدَّثَنَا بَشَّارُ بْنُ أَبِی سَیْفٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَن عِیَاضِ بْنِ غُطَیْفٍ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ عَادَ مَرِیضًا ، أَوْ أَنْفَقَ عَلَی أَہْلِہِ ، أَوْ مَازَ أَذًی عَن طَرِیقٍ فَحَسَنَۃٌ بِعَشْرَۃِ أَمْثَالِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৭২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینے کا بیان
(٢٦٨٧٣) حضرت محمد بن یحییٰ بن حبان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت معاذ کے ساتھ نکلا، وہ شخص راستہ میں کوئی بھی تکلیف دہ چیز دیکھتا تو اسے ہٹا دیتا، جب آپ نے اس شخص کو دیکھا کہ یہ جو بھی تکلیف دو چیز دیکھتا ہے تو اس کو راستہ سے ہٹا دیتا ہے ، تو آپ نے اس سے پوچھا کہ کس بات نے تجھے اس فعل پر ابھارا ؟ اس نے کہا : کہ مں نے آپ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ آپ نے جواب دیا : تحقیق تو نے ٹھیک کیا یا یوں فرمایا : کہ تو نے اچھا کام کیا۔ اس لیے کہ جو شخص راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹاتا ہے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جائے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
(۲۶۸۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَن یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ قَالَ : خَرَجَ رَجُلٌ مَعَ مُعَاذٍ ، فَجَعَلَ لاَ یَرَی أَذًی فِی طَرِیقٍ إلاَّ نَحَّاہُ ، فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ الرَّجُلُ جَعَلَ لاَ یَمُرُّ بِشَیْئٍ إلاَّ نَحَّاہُ ، فَقَالَ لَہُ : مَا حَمَلَک عَلَی ہَذَا ؟ قَالَ : الَّذِی رَأَیْتُک تَصْنَعُ ، قَالَ : أَصَبْت ، أَوْ أَحْسَنْت ، إِنَّہُ مَنْ أَمَاطَ أَذًی ، عَن طَرِیقٍ کُتِبَتْ لَہُ حَسَنَۃٌ ، وَمَنْ کُتِبَتْ لَہُ حَسَنَۃٌ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৭৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینے کا بیان
(٢٦٨٧٤) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس نے ارشاد فرمایا : کہ لوگوں کے راستہ میں ایک درخت تھا جو لوگوں کی تکلیف کا باعث تھا، پس کسی آدمی نے راستہ سے اسے ہٹا دیا، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ تحقیق میں نے اسے خواب میں دیکھا کہ وہ جنت میں اس درخت کے سایہ کے نیچے گھوم رہا تھا۔
(۲۶۸۷۴) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ہِلاَلٍ قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : کَانَتْ شَجَرَۃٌ عَلَی طَرِیقِ النَّاسِ، فَکَانَتْ تُؤْذِیہِمْ، فَعَزَلَہَا رَجُلٌ، عَن طَرِیقِ النَّاسِ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: فَلَقَدْ رَأَیْتہ یَتَقَلَّبُ فِی ظِلِّہَا فِی الْجَنَّۃِ۔ (احمد ۱۵۴۔ ابویعلی ۳۰۴۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৭৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینے کا بیان
(٢٦٨٧٥) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ ایک راستہ میں درخت کی ٹہنی تھی جو لوگوں کی تکلیف کا باعث بنتی تھی ، پس کسی آدمی نے اسے ہٹا دیا تو اس وجہ سے اسے جنت میں داخل کردیا گیا۔
(۲۶۸۷۵) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : کَانَ عَلَی طَرِیقٍ غُصْنُ شَجَرَۃٍ یُؤْذِی النَّاسَ ، فَأَمَاطَہَا رَجُلٌ فَأُدْخِلَ الْجَنَّۃَ۔ (ابن ماجہ ۳۶۸۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৭৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینے کا بیان
(٢٦٨٧٦) حضرت ابوذر فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ مجھ پر میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کیے گئے تو میں نے ا ن کے اچھے اعمال میں سے یہ دیکھا کہ وہ راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا تھا اور میں نے ان کے برے اعمال میں دیکھا کہ وہ مسجد میں تھوک کر اس پر مٹی نہ ڈالنا تھا۔
(۲۶۸۷۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَن وَاصِلٍ مَوْلَی أَبِی عُیَیْنَۃَ ، عَن یَحْیَی بْنِ عَقِیلٍ، عَن یَحْیَی بْنِ یَعْمُرَ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: عُرِضَتْ عَلَیَّ أُمَّتِی بِأَعْمَالِہَا، حَسَنِہَا وَسَیِّئِہَا ، فَرَأَیْت فِی مَحَاسِنِ أَعْمَالِہَا الأَذَی یُنَحَّی عَنِ الطَّرِیقِ ، وَرَأَیْت فِی سَیِّیء أَعْمَالِہَا النُّخَامَۃُ فِی الْمَسْجِدِ لاَ تُدْفَنُ۔ (مسلم ۳۹۰۔ احمد ۵/۱۸۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৭৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستہ پر قضائے حاجت کرنے کا بیان
(٢٦٨٧٧) حضرت اسماعیل بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ ان ملعون جگہوں سے بچو۔ پھر حضرت اسماعیل نے فرمایا یعنی راستہ کے درمیان قضائے حاجت کرنے سے۔
(۲۶۸۷۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بن قَیْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا یَقُولُ : اتَّقُوا ہَذِی الْمُلاَعِن ، ثُمَّ قَالَ إسْمَاعِیلُ : یَعْنِی التَّحَشُّشَ عَلَی ظَہْرِ الطَّرِیقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৭৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستہ پر قضائے حاجت کرنے کا بیان
(٢٦٨٧٨) حضرت عون بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا کہ تم ان ملعون جگہوں سے بچو۔ تو لوگوں نے پوچھا : ملعون جگہیں کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ راستہ کے درمیان بیٹھنے اور اس درخت کے نیچے بیٹھنے سے جن کے نیچے سوار سایہ حاصل کرتے ہیں۔
(۲۶۸۷۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : إیَّاکُمْ وَالْمُلاَعن ، قَالُوا : وَمَا الْمُلاَعِنُ ؟ قَالَ : قَارِعَۃُ الْجُلُوسِ عَلَی الطَّرِیقِ وَتَحْتَ الشَّجَرَۃِ یَسْتَظِلُّ تَحْتَہَا الرَّاکِبُ۔
(مسلم ۲۲۶۔ ابوداؤد ۲۶)
(مسلم ۲۲۶۔ ابوداؤد ۲۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৭৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستہ پر قضائے حاجت کرنے کا بیان
(٢٦٨٧٩) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم راستے کے درمیان میں قیام کرنے سے بچو اور نہ ہی ان جگہوں پر قضائے حاجت کرو۔
(۲۶۸۷۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَنْزِلُوا عَلَی جَوَادِّ الطَّرِیقِ ، وَلاَ تَقْضُوا عَلَیْہَا الْحَاجَاتِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৭৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشک خوشبو لگانے کا بیان
(٢٦٨٨٠) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشک کا ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ تمہاری خوشبوؤں میں پاکیزہ ترین خوشبو ہے۔
(۲۶۸۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَن خُلَیْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ الْمِسْکُ فَقَالَ : ہُوَ أَطْیَبُ طِیبِکُمْ۔ (مسلم ۱۷۶۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৮০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشک خوشبو لگانے کا بیان
(٢٦٨٨١) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے ارشاد فرمایا : تمہاری خوشبوؤں میں پاکیزہ ترین خوشبو مشک ہے۔
(۲۶۸۸۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَن ابْنِ سِیرِینَ ، عَن ابن عُمَر قَالَ : أَطْیَب طیبکم : الْمِسْکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৮১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشک خوشبو لگانے کا بیان
(٢٦٨٨٢) حضرت سلمہ جب وضو کرتے تو مشک خوشبو لیتے اور اسے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مل لیتے۔
(۲۶۸۸۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ إسْمَاعِیلَ ، عَن عُبَیْدٍ مَوْلَی سَلَمَۃَ ، عَن سَلَمَۃَ ، أَنَّہُ کَانَ إذَا تَوَضَّأَ أَخَذَ الْمِسْکَ فَمَسَحَ بِہِ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৮২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشک خوشبو لگانے کا بیان
(٢٦٨٨٣) امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن جعفر مشک کو پیس کر اس کا سفوف بناتے پھر اسے اپنے سر کے اوپر والے حصہ میں ڈال لیتے۔
(۲۶۸۸۳) حَدَّثَنَا وَکِیعُ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ بْنُ جَعْفَرٍ یَسْحَقُ الْمِسْکَ ، ثُمَّ یَجْعَلُہُ عَلَی یَافُوخِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৮৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشک خوشبو لگانے کا بیان
(٢٦٨٨٤) حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین نے ارشاد فرمایا کہ زندہ اور مردہ کے مشک لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۶۸۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الرَّبِیعِ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ : لاَ بَأْسَ بِالْمِسْکِ لِلْحَیِّ وَالْمَیِّتِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৮৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو مشک لگانے کو مکروہ سمجھتے
(٢٦٨٨٥) حضرت ابن ابی روّاد فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک نے ارشاد فرمایا : کہ مشک تو مردار اور خون ہے۔
(۲۶۸۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی رَوَّادٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ قَالَ : الْمِسْکُ مَیْتَۃٌ وَدَمٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৮৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو مشک لگانے کو مکروہ سمجھتے
(٢٦٨٨٦) حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے قرآن مجید کے نسخہ میں مشک لگانے کو مکروہ سمجھا۔
(۲۶۸۸۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن لَیْثٍ ، عَن مُجَاہِدٍ ، أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُجْعَلَ الْمِسْکُ فِی الْمُصْحَفِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৮৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو مشک لگانے کو مکروہ سمجھتے
(٢٦٨٨٧) حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری زندہ اور مردہ کے مشک لگانے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(۲۶۸۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الرَّبِیعِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ الْمِسْکَ لِلْحَیِّ وَالْمَیِّتِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৮৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھت پر رات گزارنے کا بیان
(٢٦٨٨٨) حضرت علی بن عمارہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب آئے اور انھوں نے ارادہ کیا کہ وہ ہماری بغیر دیوار کی چھت پر رات گزاریں ، فرمایا کہ قریب ہے کہ میں رات گزاروں اس حال میں کہ میری کوئی ذمہ داری نہیں۔
(۲۶۸۸۸) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ عُمَارَۃَ قَالَ : جَائَ أَبُو أَیُّوبَ ، فَأَرَادَ أَنْ یَبِیتَ عَلَی سَطْحٍ لَنَا أَجْلَحَ ، قَالَ : کِدْت أَنْ أَبَیْت اللَّیْلَۃَ لاَ ذِمَّۃَ لِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৮৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھت پر رات گزارنے کا بیان
(٢٦٨٨٩) حضرت علاء بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے سوال کیا اس شخص کے بارے میں جو بغیر دیوار والی چھت پر سو جائے ؟ حضرت مجاہد نے فرمایا : یہ تو اس شخص کو کہا جاتا ہے جو گرتا ہے تو مرجاتا ہے۔
(۲۶۸۸۹) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنِ الْعَلاَء بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : سَأَلْتُ مُجَاہِدًا عَنِ الرَّجُلِ یَنَامُ فَوْقَ السَّطْحِ لَیْسَ عَلَیْہِ حَائِطٌ ، فَقَالَ مُجَاہِدٌ : إنَّمَا قِیلَ ذَاکَ لِمَنْ سَقَطَ فَمَات۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৮৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اس شخص سے صلہ رحمی کرے جس سے اس کا والد صلہ رحمی کرتا ہے
(٢٦٨٩٠) حضرت ابن ابی حسین فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قطع رحمی مت کرو اس سے جس سے تمہارے والد صلہ رحمی کرتے تھے، اس سے تمہارا نور بجھ جائے گا اس لیے کہ تمہارا تعلق دار تمہارے والد کا تعلق دار ہے۔
(۲۶۸۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی حُسَیْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَقْطَعْ مَنْ کَانَ یَصِلُ أَبَاک ، یُطْفَأْ بِذَلِکَ نُورُک ، إنَّ وِدَّک وِدُّ أَبِیک۔ (مسلم۱۱۔ ابوداؤد ۵۱۰۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৯০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اس شخص سے صلہ رحمی کرے جس سے اس کا والد صلہ رحمی کرتا ہے
(٢٦٨٩١) حضرت عون بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : کہ اس کے ساتھ صلح رحمی کرو جس کے ساتھ تمہارے والد صلہ رحمی کرتے تھے اس لیے کہ قبر میں موجود میت سے صلح رحمی یہی ہے کہ تم اس شخص سے صلہ رحمی کرو جس سے یہ صلہ رحمی کرتا تھا۔
(۲۶۸۹۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَن ہَارُونَ بْنِ عَنتَرَۃَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : صِلْ مَنْ کَانَ أَبُوک یُوَاصِلُ ، فَإِنَّ صِلَۃً للْمَیِّتِ فِی قَبْرِہِ أَنْ تَصِلَ مَنْ کَانَ یُوَاصِلُ۔
তাহকীক: