মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৬৮৯১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اس شخص سے صلہ رحمی کرے جس سے اس کا والد صلہ رحمی کرتا ہے
(٢٦٨٩٢) حضرت بلال فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت ابو بردہ نے ارشاد فرمایا : کہ بیشک آدمی کی اپنے والد سے صلہ رحمی یہ ہے کہ وہ اس کے بھائیوں سے صلہ رحمی کرے جن سے وہ خود صلہ رحمی کرتا تھا۔

حضرت حماد فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ یہ حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے اور حضرت حماد سے پوچھا گیا کہ کیا بلال بن ابو بردہ مراد ہیں۔ آپ نے فرمایا : جی ہاں۔
(۲۶۸۹۲) حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَن ثَابِتٍ ، عَن بِلاَلٍ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : إن مِنْ صِلَۃِ الرَّجُلِ أَبَاہُ أَنْ یَصِلَ إخْوَانَہُ الَّذِینَ کَانَ یَصِلُہُمْ ، قَالَ حَمَّادٌ : أَحْسَبُہُ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قِیلَ لِحَمَّادٍ : بِلاَلُ بْنُ أَبِی بُرْدَۃَ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৯২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اس شخص سے صلہ رحمی کرے جس سے اس کا والد صلہ رحمی کرتا ہے
(٢٦٨٩٣) حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : کہ تو رات میں یوں لکھا ہے کہ تم اپنے محبوب اور اپنے والد کے محبوب سے محبت کرو۔
(۲۶۸۹۳) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : مَکْتُوبٌ فِی التَّوْرَاۃِ : أَحْبِبْ حَبِیبَک وَحَبِیبَ أَبِیک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৯৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لکھے ہوئے پر مٹی چھڑکنے کا بیان
(٢٦٨٩٤) حضرت سلمہ بن عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ارشاد فرمایا : تم اپنے صحیفوں پر مٹی چھڑک لیا کرو، یہ اس کے مقصد میں کامیابی ہے۔
(۲۶۸۹۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَقِیلٍ قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : تَرِّبُوا صُحُفَکُمْ أَنْجَحُ لَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৯৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لکھے ہوئے پر مٹی چھڑکنے کا بیان
(٢٦٨٩٥) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ تم اپنے صحیفوں پر مٹی چھڑک لیا کرو، یہ اس کے مقصد میں کامیابی ہے، اور مٹی بابرکت چیز ہے۔
(۲۶۸۹۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا بَقِیَّۃُ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الدِّمَشْقِیِّ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : تَرِّبُوا صُحُفَکُمْ أَنْجَحُ لَہَا وَالتُّرَابُ مُبَارَکٌ۔

(ترمذی ۲۷۱۳۔ ابن ماجہ ۳۷۷۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৯৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لکھے ہوئے پر مٹی چھڑکنے کا بیان
(٢٦٨٩٦) امام شعبی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اپنے صحیفوں پر مٹی چھڑک لیا کرو، یہ بہت برکت کا باعث ہے۔
(۲۶۸۹۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو شَیْبَۃَ ، عَن رَجُلٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَرِّبُوا صُحُفَکُمْ أَعْظَمُ لِلْبَرَکَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৯৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خط کا جواب دینے کا بیان
(٢٦٨٩٧) امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ خط کا جواب دینا مجھ پر سلام کے جواب دینے کی طرح لازم ہے۔
(۲۶۸۹۷) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذُرَیْحٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إنِّی لأَرَی لِجَوَابِ الْکِتَابِ عَلَیَّ حَقًّا کَرَدِّ السَّلاَمِ۔ (ابن عدی ۱۷۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৯৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک سواری پر تین لوگوں کے سوار ہونے کا بیان
(٢٦٨٩٨) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے ارشاد فرمایا؛ کہ میں پروا نہیں کرتا کہ میں کسی سواری پر دس کا دسواں ہوں اس بات کے بعد کہ وہ ہمیں اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو۔
(۲۶۸۹۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَا کُنْت أُبَالِی لَوْ کُنْت عَاشِرَ عَشَرَۃٍ عَلَی دَابَّۃٍ بَعْدَ أَنْ تُطِیقَنَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৯৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک سواری پر تین لوگوں کے سوار ہونے کا بیان
(٢٦٨٩٩) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بنو عبد المطلب کے دو لڑکے ملے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں سے ایک کو اپنے آگے اور دوسرے کو پیچھے سوار کرلیا۔
(۲۶۸۹۹) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَن خَالِدٍ ، عَن عِکْرِمَۃَ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَلَقَّاہُ غُلاَمَانِ مِنْ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَحَمَلَ وَاحِدًا بَیْنَ یَدَیْہِ وَالآخَرَ خَلْفَہُ۔ (عبدالرزاق ۱۹۴۸۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৯৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک سواری پر تین لوگوں کے سوار ہونے کا بیان
(٢٦٩٠٠) حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن جعفر نے حضرت ابن زبیر سے فرمایا کہ کیا تمہیں یاد ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے ، تمہیں اور ابن عباس کو ملے تھے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم دونوں کو سوار کرلیا تھا اور تمہیں چھوڑ دیا تھا۔
(۲۶۹۰۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَن حَبِیبِ بْنِ الشَّہِیدِ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ جَعْفَرٍ لابْنِ الزُّبَیْرِ : أَتَذْکُرُ إذْ تَلَقَّیْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَحَمَلَنَا وَتَرَکَک۔ (مسلم ۱۸۸۵۔ احمد ۱/۲۰۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک سواری پر تین لوگوں کے سوار ہونے کا بیان
(٢٦٩٠١) حضرت عبداللہ بن جعفر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی سفر سے واپس آتے اور ہم سے ملاقات ہوجاتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے اور حضرت حسن یا حضرت حسین سے ملتے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک کو اپنے آگے اور دوسرے کو اپنے پیچھے سوار کرلیتے یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوجاتے۔
(۲۶۹۰۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ قَالَ: حدَّثَنَا مُوَرِّقُ الْعِجْلِیّ قَالَ: حَدَّثَنَی عَبْدُ اللہِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّیَ بِنَا ، قَالَ: فَتُلُقِّیَ بِی ، وَبِالْحَسَنِ، أَوْ بِالْحُسَیْنِ ، قَالَ : فَحَمَلَ أَحَدَنَا بَیْنَ یَدَیْہِ ، وَالآخَرَ خَلْفَہُ ، حَتَّی دَخَلْنَا الْمَدِینَۃَ۔ (ابوداؤد ۲۵۵۹۔ احمد ۲۰۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک سواری پر تین لوگوں کے سوار ہونے کا بیان
(٢٦٩٠٢) حضرت سفیان بن عطار فرماتے ہیں کہ میں نے امام شعبی کو دیکھا کہ وہ سواری پر کسی آدمی کے پیچھے بیٹھے ہوتے تھے اور فرما رہے تھے کہ سواری کا مالک آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے۔
(۲۶۹۰۲) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَن سُفْیَانَ الْعَطَّارِ ، قَالَ : رَأَیْتُ الشَّعْبِیَّ مُرْتَدِفًا خَلْفَ رَجُلٍ ، قَالَ : وَکَانَ یَقُولُ : صَاحِبُ الدَّابَّۃِ أَحَقُّ بِمُقَدَّمِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو سواری پر تین لوگوں کے سوار ہونے کو مکروہ سمجھے
(٢٦٩٠٣) حضرت خالد فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن سیرین ایک سواری پر تین آدمیوں کے سوار ہونے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(۲۶۹۰۳) حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ، عَن خَالِدٍ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَرْکَبَ ثَلاَثَۃٌ عَلَی دَابَّۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو سواری پر تین لوگوں کے سوار ہونے کو مکروہ سمجھے
(٢٦٩٠٤) حضرت اجلح فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے فرمایا کہ جو کوئی بھی تین آدمی ایک سواری پر سوار ہوئے تو ان میں سے ایک ملعون ہوگا۔
(۲۶۹۰۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : أَیُّمَا ثَلاَثَۃٍ رَکِبُوا عَلَی دَابَّۃٍ فَأَحَدُہُمْ مَلْعُونٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو سواری پر تین لوگوں کے سوار ہونے کو مکروہ سمجھے
(٢٦٩٠٥) حضرت ابن بریدہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے دیکھا کہ میں سوار کے پیچھے تیسرا سوار تھا تو آپ نے فرمایا : ملعون شخص۔
(۲۶۹۰۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَن جِبْرِیلَ بْنِ أَحْمَرَ ، عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ قَالَ : رَآنِی أَبِی رِدْفَ ثَالِثٍ فَقَالَ : مَلْعُونٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو سواری پر تین لوگوں کے سوار ہونے کو مکروہ سمجھے
(٢٦٩٠٦) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے ارشاد فرمایا : کہ میں حیرہ مقام کی طرف نکلا تاکہ میں ہاتھی دیکھوں، پس میں نے حضرت حارث اعور کو سوار دیکھا اس حالت میں کہ ان کے پیچھے کوئی سوار تھا ۔ آپ نے فرمایا : اگر یہ سواری تیسرے کی صلاحیت رکھتی تو ہم آپ کو بھی سوار کرلیتے۔
(۲۶۹۰۶) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِر ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ : خَرَجْتُ إلَی الْحِیرَۃِ أَنْظُرُ إلَی الْفِیلِ ، فَرَأَیْت الْحَارِثَ الأَعْوَرَ رَاکِبًا وَخَلْفَہُ رِدْفٌ ، قَالَ : فَقَالَ : لَوْ صَلُحَ ثَلاَثَۃٌ حَمَلْنَاک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو سواری پر تین لوگوں کے سوار ہونے کو مکروہ سمجھے
(٢٦٩٠٧) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت مہاجر بن قنفذ نے ارشاد فرمایا کہ ہم لوگ آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ اتنے میں ایک گدھے پر سوار تین لوگ گزرے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے کو کہا : اتر جا اللہ تجھ پر لعنت کرے، اس لعنت کرنے والے کو کہا گیا کہ تو انسان کو لعنت کرتا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہمیں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ ایک جانور پر تین لوگ سوار ہوں۔
(۲۶۹۰۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَن حسن ، عَن مُہَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ قَالَ : کُنَّا نَتَحَدَّثُ مَعَہُ إذْ مَرَّ ثَلاَثَۃٌ عَلَی حِمَارٍ ، فَقَالَ لِلآخِرِ مِنْہُمْ : انْزِلْ لَعَنَک اللَّہُ ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُ : تَلْعَنُ ہَذَا الإِِنْسَان ؟ قَالَ : فَقَالَ : إنَّا قَدْ نُہِینَا عَن ہَذَا : أَنْ یَرْکَبَ الثَّلاَثَۃُ عَلَی الدَّابَّۃِ۔ (طبرانی ۷۸۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو سواری پر تین لوگوں کے سوار ہونے کو مکروہ سمجھے
(٢٦٩٠٨) حضرت ابو العنبس فرماتے ہیں کہ حضرت زاذان نے ایک خچر پر تین لوگوں کو سوار دیکھا آپ نے فرمایا : کہ چاہیے کہ تم میں سے ایک اتر جائے، اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیسرے سوار پر لعنت فرمائی ہے۔
(۲۶۹۰۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی الْعَنْبَسِ ، عَن زَاذَانَ قَالَ : رَأَی ثَلاَثَۃً عَلَی بَغْلٍ فَقَالَ لِیَنْزِلْ أَحَدُکُمْ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الثَّالِثَ۔ (ابوداؤد ۲۹۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے گھر والوں میں سے کسی کو نہیں چھوڑتا کہ وہ فجر کے بعد سے سورج طلوع ہونے تک سو جائیں
(٢٦٩٠٩) حضرت طارق بن شھاب فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنے گھر میں کسی چھوٹے اور بڑے کو سونے کے لیے نہیں چھوڑتے تھے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجاتا۔
(۲۶۹۰۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن بَشِیرِ بْنِ سَلْمَانَ ، عَن سَیَّارِ أَبِی الْحَکَمِ ، عَن طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ إذَا صَلَّی الْفَجْرَ لَمْ یَدَعْ أَحَدًا مِنْ أَہْلِہِ صَغِیرًا ، وَلاَ کَبِیرًا یُطرِق حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے گھر والوں میں سے کسی کو نہیں چھوڑتا کہ وہ فجر کے بعد سے سورج طلوع ہونے تک سو جائیں
(٢٦٩١٠) حضرت مہاجر بن شماس کے چچا فرماتے ہیں کہ میں تین دن تک فجر کے بعد ایک بلند جگہ ایک آدمی کو بیٹھا دیکھتا رہا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اے اللہ کے بندے تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا میں حذیفہ بن یمان ہوں۔ میں نے کہا کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ انھوں نے کہا کہ مں دیکھ رہا ہوں کہ سورج کہاں سے طلوع ہوتا ہے ؟
(۲۶۹۱۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن فُضَیْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَن مُہَاجِرِ بْنِ شَمَّاسٍ ، عَنْ عَمِّہِ قَالَ : کُنْتُ أَخْرُجُ إلَی جَبَّانَۃٍ مِنْ ہَذِہِ الْجَبَابِینِ أَنْصِبُ بِفَخٍّ لِی ، فَخَرَجْت ثَلاَثَ غَدَوَاتٍ أَرَی رَجُلاً بَعْدَ الْفَجْرِ جَالِسًا فِی مَکَان، قُلْتُ: یَا عَبْدَ اللہِ ، مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ ، قَالَ : قُلْتُ : أَیُّ شَیْئٍ تَصْنَعُ ہَاہُنَا ؟ قَالَ : أَنْظُرُ إلَی الشَّمْسِ مِنْ أَیْنَ تَطْلُعُ ؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے گھر والوں میں سے کسی کو نہیں چھوڑتا کہ وہ فجر کے بعد سے سورج طلوع ہونے تک سو جائیں
(٢٦٩١١) حضرت مدرک بن عوف فرماتے ہیں کہ میرا گزر حضرت بلال پر ہوا اس حال میں کہ وہ شام میں تھے اور صبح کے وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا : اے ابو عبداللہ ! کس چیز نے آپ کو یہاں بٹھایا ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں سورج کے طلوع ہونے کا انتظار کررہا ہوں۔
(۲۶۹۱۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ: حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ قَالَ: حَدَّثَنی قَیْسُ بْنُ أَبِی حَازِمٍ، عَن مُدْرِکِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: مَرَرْت عَلَی بِلاَلٍ وَہُوَ بِالشَّامِ جَالِسٌ غُدْوَۃً، فَقُلْت: مَا یُجلسک یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ، قَالَ: أَنْتَظِرُ طُلُوعَ الشَّمْسِ۔
tahqiq

তাহকীক: