মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৬৯১১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے گھر والوں میں سے کسی کو نہیں چھوڑتا کہ وہ فجر کے بعد سے سورج طلوع ہونے تک سو جائیں
(٢٦٩١٢) حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجاتا ۔
(۲۶۹۱۲) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَن سِمَاکٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إذَا صَلَّی الْفَجْرَ جَلَسَ فِی مُصَلاَّہُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے گھر والوں میں سے کسی کو نہیں چھوڑتا کہ وہ فجر کے بعد سے سورج طلوع ہونے تک سو جائیں
(٢٦٩١٣) حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عبداللہ کے اصحاب پر تعجب ہے ! کہ وہ سورج کی طرف غور سے دیکھتے ہیں جب وہ طلوع ہوتا ہے۔ کیا انھیں معلوم نہیں کہ صبح جس جگہ سے طلوع ہوتی ہے اسی جگہ سے سورج بھی طلوع ہوتا ہے۔
(۲۶۹۱۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سَلَمَۃَ ، عَنِ الضَّحَّاکِ قَالَ : عَجَبًا لأَصْحَابِ عَبْدِ اللہِ ، إنَّہُمْ یَنْظُرُونَ إلَی الشَّمْسِ مِنْ حَیْثُ تَطْلُعُ ، أَوَلاَ یَعْلَمُونَ أَنَّ الْفَجْرَ إذَا طَلَعَ مِنْ مَوْضِعٍ طَلَعَتْ مِنْہُ الشَّمْسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے گھر والوں میں سے کسی کو نہیں چھوڑتا کہ وہ فجر کے بعد سے سورج طلوع ہونے تک سو جائیں
(٢٦٩١٤) حضرت جندب بن عبداللہ بجلی قسری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ سے تین مرتبہ اجازت چاہی، انھوں نے اجازت نہیں دی تو میں واپس لوٹ گیا، اتنے میں آپ کا قاصد مجھے ملا۔ اس نے پوچھا : کہ کس چیز نے آپ کو واپس لوٹا دیا ؟ میں نے عرض کیا : کہ میں سمجھا کہ آپ سو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا : میں سوتا نہیں ہوں یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ سورج کہاں سے طلوع ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے یہ حدیث امام محمد سے بیان کی۔ تو آپ نے فرمایا : کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت سے صحابہ نے یہ عمل کیا ہے۔
(۲۶۹۱۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِی بِشْرٍ ، عَن جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْبَجَلِیِّ ، ثُمَّ الْقَسْرِیِّ قَالَ : اسْتَأْذَنْت عَلَی حُذَیْفَۃَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ یُؤْذَنْ لِی فَرَجَعْت : فَإِذَا رَسُولُہُ قَدْ لَحِقَنِی فَقَالَ : مَا رَدَّک ؟ قُلْتُ : ظَنَنْت أَنَّک نَائِمٌ ؟ قَالَ : مَا کُنْت لأَنَامَ حَتَّی أَنْظُرَ مِنْ أَیْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ قَالَ : فَحَدَّثْتُ بِہِ مُحَمَّدًا فَقَالَ : قَدْ فَعَلَہُ غَیْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو تنہا گھر میں رات گزارے
(٢٦٩١٥) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو جعفر نے ارشاد فرمایا : کہ تم گھر میں تنہا رات مت گزارو۔ اس لیے کہ شیطان سب سے زیادہ انسان کو اس وقت اکساتا ہے جب وہ اکیلا رات گزارتا ہے۔
(۲۶۹۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ قَالَ : لاَ تَبِتْ فِی بَیْتٍ وَحْدَک ، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ أَشَدُّ مَا یَکُونُ وَلَعًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو تنہا گھر میں رات گزارے
(٢٦٩١٦) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آدمی کو تنہا سفر کرنے سے یا تنہا رات گزارنے سے منع فرمایا۔
(۲۶۹۱۶) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُسَافِرَ الرَّجُلُ وَحْدَہُ ، أَوْ یَبِیتَ فِی بَیْتٍ وَحْدَہُ۔ (ابوداؤد ۳۱۱۔ احمد ۹۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو تنہا گھر میں رات گزارے
(٢٦٩١٧) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم میں کوئی جان لیتا جو تنہائی میں نقصان ہے تو تم میں کوئی رات میں سفر نہ کرتا۔
(۲۶۹۱۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَاصِمِ بن مُحَمَّد ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَوْ یَعْلَمُ أَحَدُکُمْ مَا فِی الْوَحْدَۃِ مَا سَارَ أَحَدُکُمْ بِاللَّیْلِ۔ (بخاری ۲۹۹۸۔ ترمذی ۱۶۷۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنی بات گھر والوں سے چھپاتا ہو
(٢٦٩١٨) حضرت محمد بن عبداللہ بن یزید فرماتے ہیں کہ میرے والد اپنی باتوں کے سلسلہ میں گھر والوں پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ اور وہ اور ان کے دوست کمرے میں تنہا بیٹھ کر باتیں کرتے تھے۔
(۲۶۹۱۸) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ : کَانَ أَبِی لاَ یَأْتَمِن عَلَی حَدِیثِہِ أَہْلَہُ ، کَانَ یَخْلُو ہُوَ وَأَصْحَابُہُ فِی غُرْفَۃٍ یَتَحَدَّثُونَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد فالی کا بیان
(٢٦٩١٩) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بدفالی شرک ہے۔ بدفالی شرک ہے۔ اور ہم میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی حادثہ پیش آ ہی جاتا ہے۔ لیکن اللہ توکل کرنے کی وجہ سے اس کو رفع فرما دیتے ہیں۔
(۲۶۹۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن سَلَمَۃَ ، عَن عِیسَی بْنِ عَاصِمٍ ، عَن زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الطِّیَرَۃُ شِرْکٌ ، الطِّیَرَۃُ شِرْکٌ ، وَمَا مِنَّا إلاَّ ، وَلَکِنَّ اللَّہَ یُذْہِبُہُ بِالتَّوَکُّلِ۔ (ابوداؤد ۳۹۰۵۔ ابن ماجہ ۳۵۳۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد فالی کا بیان
(٢٦٩٢٠) حضرت عروہ بن عامر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بدفالی کے متعلق پوچھا گیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس میں اچھی تو نیک فال ہے اور یہ مسلمان سے کوئی چیز نہیں ہٹا سکتی اور جب تم میں کوئی ایسی بات دیکھے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ یہ دعا پڑھ لے۔ ترجمہ : اے اللہ ! تیرے سوا کوئی بھی اچھائی کو پہنچا نہیں سکتا اور نہ کوئی برائی کو دور کرسکتا ہے۔ اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف ترای مدد سے ہے۔
(۲۶۹۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، عَن عُرْوَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الطِّیَرَۃِ فَقَالَ : أَحْسَنُہَا الْفَأْلُ ، وَلاَ تَرُدَّ مُسْلِمًا ، فَإِذَا رَأَی أَحَدُکُمْ مِنْ ذَلِکَ مَا یَکْرَہُ فَلْیَقُلْ : اللَّہُمَّ لاَ یَأْتِی بِالْحَسَنَاتِ ، وَلاَ یَدْفَعُ السَّیِّئَاتِ إلاَّ أَنْتَ ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِک۔

(ابوداؤد ۳۹۱۴۔ بیہقی ۱۳۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯২০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد فالی کا بیان
(٢٦٩٢١) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : چھوت کی کوئی حقیقت نہیں، بدفالی کی کوئی حقیقت نہیں، اور ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں۔ ایک بدوی شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کسی ایک اونٹ کو خارش لگی ہو تو وہ تمام اونٹوں کو خارش لگا دیتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ بھی تقدیر ہے ورنہ پہلے کو کس نے خارش لگائی ؟
(۲۶۹۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی جُنَابٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ عَدْوَی ، وَلاَ طِیَرَۃَ ، وَلاَ ہَامَۃَ ، فَقَامَ إلَیْہِ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، الْبَعِیرُ یَکُونُ بِہِ الْجَرَبُ فَتُجْرَبُ بِہِ الإِبِلُ ؟ قَالَ : ذَلِکَ الْقَدَرُ ، فَمَنْ أَجْرَبَ الأَوَّلَ ؟۔ (بخاری ۵۷۱۷۔ مسلم ۱۷۴۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯২১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد فالی کا بیان
(٢٦٩٢٢) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : چھوت کی کوئی حقیقت نہیں، بدفالی کی کوئی حقیقت نہیں، اور ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں اور صفر کی کوئی حقیقت نہیں۔
(۲۶۹۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَن سِمَاکٍ ، عَن عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ عَدْوَی لاَ طِیَرَۃَ ، وَلاَ ہَامَۃَ وَلاَ صَفَرَ۔ (احمد ۲۲۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯২২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد فالی کا بیان
(٢٦٩٢٣) حضرت مضارب بن حزن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کی خدمت میں عرض کی : آپ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی حدیث سنی ہے تو بیان کیجئے۔ آپ نے فرمایا : جی ہاں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : چھوت کی کوئی حقیقت نہیں ، بدفالی کی کوئی حقیقت نہیں، ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں اور بہترین فال تو نیک شگونی ہے اور نظر لگنا برحق ہے۔
(۲۶۹۲۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ الْجُرَیرِیِّ ، عَنِ الْمُضَارِبِ بْنِ حَزْنٍ قَالَ : قُلْتُ لأَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَسَمِعْت مِنْ نَبِیِّکَ شَیْئًا فَحَدِّثْنِیہِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ عَدْوَی ، وَلاَ طِیَرَۃَ ، وَلاَ ہَامَۃَ ، وَخَیْرُ الطِّیَرَۃِ الْفَأْلُ ، وَالْعَیْنُ حَقٌّ۔ (بخاری ۵۷۴۰۔ احمد ۲/۴۸۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯২৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد فالی کا بیان
(٢٦٩٢٤) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیک فال کو پسند کرتے تھے۔ اور بدفالی کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۶۹۲۴) حَدَّثَنَا عَلِی بْنُ مُسْہِرٍ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحِبُّ الْفَأْلَ الْحَسَنَ وَیَکْرَہُ الطِّیَرَۃَ۔ (ابن ماجہ ۳۵۳۶۔ ابن حبان ۶۱۲۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯২৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد فالی کا بیان
(٢٦٩٢٥) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : چھوت کی کوئی حقیقت نہیں، بدفالی کی کوئی حقیقت نہیں اور میں نیک فال کو پسند کرتا ہوں۔
(۲۶۹۲۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ ، عَن قَتَادَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ عَدْوَی ، وَلاَ طِیَرَۃَ ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ۔ (بخاری ۵۷۵۶۔ ابن ماجہ ۳۵۳۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯২৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد فالی کا بیان
(٢٦٩٢٦) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : بدفالی نقصان نہیں پہنچاتی مگر اس شخص کو جو بدفالی مراد لیتا ہے۔
(۲۶۹۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : لاَ تَضُر الطِّیَرَۃُ إلاَّ مَنْ تَطَیَّرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯২৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد فالی کا بیان
(٢٦٩٢٧) حضرت زیاد بن ابی مریم فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص کسی سفر میں تشریف لے گئے۔ پس ایک ہرن آپ کی طرف آئی یہاں تک کہ جب وہ آپ کے قریب ہوئی تو واپس لوٹ گئی۔ اس پر کسی شخص نے آپ سے کہا : اے امیر آپ واپس لوٹ جائیں۔ حضرت سعد نے اس سے فرمایا : مجھے بتلاؤ تم نے کس چیز سے بدشگونی لی ؟ کیا اس کے آنے سے جب وہ میری طرف آئی ؟ یا اس کے پلٹ جانے سے کہ جب وہ پلٹ کر چلی گئی ؟ پھر اس وقت حضرت سعد نے یہ بھی ارشاد فرمایا : یقیناً بدفالی شرک کی شاخ ہے۔
(۲۶۹۲۷) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ قَالَ : حدَّثَنَا الْفُرَاتُ بْنُ سُلَیمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَن زِیَادِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ قَالَ : خَرَجَ سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ فِی سَفَرٍ ، قَالَ : فَأَقْبَلَتِ الظِّبَائُ نَحْوَہُ حَتَّی إذَا دَنَتْ مِنْہُ رَجَعَتْ ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : أَیُّہَا الأَمِیرُ ، ارْجِعْ ، فَقَالَ لَہُ : سَعْدٌ : أَخْبِرْنِی مِنْ أَیُّہَا تَطَیَّرْت ؟ أَمِنْ قُرُونِہَا حِینَ أَقْبَلَتْ أَمْ مِنْ أَدْبَارِہَا حِینَ أَدْبَرَتْ ؟ ، ثُمَّ قَالَ سَعْدٌ عِنْدَ ذَلِکَ : إنَّ الطِّیَرَۃَ لَشُعْبَۃٌ مِنَ الشِّرْکِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯২৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد فالی کا بیان
(٢٦٩٢٨) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس جذام میں مبتلا شخص سے چمٹ گئے۔ میں نے ان سے پوچھا : کہ آپ جذام میں مبتلا شخص سے چمٹ گئے ؟ آپ نے فرمایا : جانے دو ہوسکتا ہے وہ مجھ سے اور تم سے بہتر ہو۔
(۲۶۹۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن مَرْزُوقِ أبی بُکَیْر التَّیْمِیِّ ، عَن عِکْرِمَۃَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لُزِقَ بِمَجْذُومٍ فَقُلْت لَہُ : تَلْزَقُ بِمَجْذُومٍ ؟ قَالَ : فَأَمْضِ ، وَقَالَ : لَعَلَّہُ خَیْرٌ مِنِّی وَمِنْک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯২৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد فالی کا بیان
(٢٦٩٢٩) حضرت ام کرز فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بدفالی کو اپنی جگہ برقرار رکھو۔ (وہ نفع و نقصان نہیں پہنچاتی) ۔
(۲۶۹۲۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَن عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَن سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَن أُمِّ کُرْزٍ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَقِرُّوا الطَّیْرَ عَلَی مَکِنَاتِہَا۔ (ابوداؤد ۸۲۸۔ طیالسی ۱۶۳۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯২৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد فالی کا بیان
(٢٦٩٣٠) حضرت سلیمان بن قاسم کی والدہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت ام سعید جو کہ حضرت علی کی خادمہ ہیں ان سے سوال کیا کہ کیا حضرت حسن اور حضر تحسین یہ دونوں حضرات بد شگونی لیتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : وہ دونوں حضرات اس کو محسوس کرتے تھے اور پھر بھی اپنا کام جاری رکھتے تھے۔
(۲۶۹۳۰) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَن سُلَیْمَانَ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَن أُمِّہِ قَالَ : سَأَلَتْ أُمُّ سَعِیدٍ سُرِّیَّۃَ عَلِیٍّ : ہَلْ کَانَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ یَتَطَیَّرَانِ ؟ قَالَتْ : کَانَا یَحُسَّانِ وَیَمْضِیَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৩০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد فالی کا بیان
(٢٦٩٣١) حضرت قبیصہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پرندوں کی آوازوں سے شگون لینا، بدفالی اور پیشین گوئی کے لیے کنکریاں پھینکنا شیطان کا طریقہ ہے۔
(۲۶۹۳۱) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَن حَیَّانَ ، عَن قَطَنِ بْنِ قَبِیصَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْعِیَافَۃُ وَالطِّیَرَۃُ وَالطَّرْقُ مِنَ الْجِبْتِ۔ (ابوداؤد ۳۹۰۲۔ احمد ۳/۴۷۷)
tahqiq

তাহকীক: