মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৬৯৩১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد فالی کا بیان
(٢٦٩٣٢) حضرت رجاء بن حیوہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدردائ نے ارشاد فرمایا : تین خصلتیں جس شخص میں بھی پائی جائیں تو وہ منافق ہوگا : جو کاہنوں جیسی بات کرے یا جوئے کے تیروں کے ذریعہ تقسیم چاہے یا بدفالی لیتے ہوئے سفر سے لوٹ آئے۔
(۲۶۹۳۲) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَن رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ : ثَلاَثٌ مَنْ کُنَّ فِیہِ ، فَہُوَ مُنَافِقٌ : مَنْ تَکَہَّنَ ، أَوِ اسْتَقْسَمَ ، أَوْ رَجَعَتْہُ طِیَرَۃٌ مِنْ سَفَرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৩২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد فالی کا بیان
(٢٦٩٣٣) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : غول (جنوں کا شکل بدل کر راستہ سے گمراہ کردینا) کی کوئی حقیقت نہیں اور صفر کی کوئی حقیقت نہیں۔
(۲۶۹۳۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ ، عَن یَزِیدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ غَولَ ، وَلاَ صَفَرَ۔ (مسلم ۱۷۴۵۔ احمد ۳/۲۹۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৩৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بدفالی میں رخصت دی
(٢٦٩٣٤) حضرت شرید فرماتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف کے وفد میں کوئی شخص جذام میں مبتلا تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف قاصد بھیج کر پیغام بھجوایا کہ ہم نے تجھ سے بیعت لے لی، تم واپس لوٹ جاؤ۔
(۲۶۹۳۴) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ وَہُشَیْمٌ ، عَن یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیدِ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ فِی وَفْدِ ثَقِیفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ ، فَأَرْسَلَ إلَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّا قَدْ بَایَعْناک فَارْجِعْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৩৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بدفالی میں رخصت دی
(٢٦٩٣٥) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم لوگ کوڑھ میں مبتلا لوگوں کو مسلسل مت دیکھو۔
(۲۶۹۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعِیدٍ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَمَۃِ فَاطِمَۃَ بِنْتِ حُسَیْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لاَ تُدِیمُوا النَّظَرَ إلَی الْمَجْذُومِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৩৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بدفالی میں رخصت دی
(٢٦٩٣٦) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جذام زدہ شخص سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔
(۲۶۹۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ النَّہَّاسِ بْنِ قَہْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ شَیْخًا بِمَکَّۃَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ فِرَارَک مِنَ الأَسَدِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৩৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بدفالی میں رخصت دی
(٢٦٩٣٧) حضرت ولید بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جذام زدہ شخص پر گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ناک کو ڈھانک لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں فرمایا تھا : چھوت کی کوئی حقیقت نہیں ، بدفالی کی کوئی حقیقت نہیں ؟ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیوں نہیں۔
(۲۶۹۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَی مَجْذُومٍ فَخَمَّرَ أَنْفَہُ فَقِیلَ لَہُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَلَیْسَ قُلْتَ : لاَ عَدْوَی ، وَلاَ طِیَرَۃَ ؟ قَالَ : بَلَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৩৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بدفالی میں رخصت دی
(٢٦٩٣٨) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیمار کو تندرست کے پاس مت لاؤ۔
(۲۶۹۳۸) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ یُورِدُ الْمُمْرِضَ عَلَی الْمُصِحِّ۔ (مسلم ۱۰۴۔ ابن ماجہ ۳۵۴۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৩৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بدفالی میں رخصت دی
(٢٦٩٣٩) حضرت نافع بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے پوچھا : کیا بدشگونی ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! انھوں نے پوچھا : پھر آپ کیا دعا پڑھتے ہو ؟ آپ نے فرمایا میں یہ دعا کرتا ہوں۔ ترجمہ : اے اللہ ! کوئی بدفالی نہیں سوائے تیری بدفالی کے ۔ اور کوئی خیر نہیں سوائے تیری خیر کے۔ اور تیرے سوا ہمارا کوئی پروردگار نہیں۔ حضرت کعب نے فرمایا : تم عرب کے سب سے بڑے فقیہ ہو۔
(۲۶۹۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، عَن نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : قَالَ کَعْبٌ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو : ہَلْ تَطَیَّرُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا تَقُولُ ؟ قَالَ : أَقُولُ اللَّہُمَّ لاَ طَیْرَ إلاَّ طَیْرُک ، وَلاَ خَیْرَ إلاَّ خَیْرُک ، وَلاَ رَبَّ لَنَا غَیْرَک قَالَ : أَنْتَ أَفْقَہُ الْعَرَبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৩৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بدفالی میں رخصت دی
(٢٦٩٤٠) حضرت خالد حذاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قلابہ پسند کرتے تھے کہ جذام زدہ شخص سے بچا جائے۔
(۲۶۹۴۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ بْنُ سَوَائٍ ، عَن خَالِدِ الْحَذَّائِ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، أَنَّہُ کَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ یُتَّقَی الْمَجْذُومُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৪০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص پسند کرتا ہے کہ اس سے پوچھا جائے اور یوں کہتا ہے کہ مجھ سے سوال کرو
(٢٦٩٤١) حضرت سعید بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ نے ارشاد فرمایا : تمہیں کیا ہوا کہ تم سوال نہیں کرتے ؟ کیا تم طالب علم نہیں ہو ؟
(۲۶۹۴۱) حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ ، عَن سَعِیدِ بْنِ یَزِیدَ ، عَن عِکْرِمَۃَ قَالَ : مَا لَکُمْ لاَ تَسْأَلُونَنَا أَفْلَسْتُمْ ؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৪১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص پسند کرتا ہے کہ اس سے پوچھا جائے اور یوں کہتا ہے کہ مجھ سے سوال کرو
(٢٦٩٤٢) حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : مجھ سے کسی بھی شخص نے سوال نہیں کیا مگر میں نے پہچان لیا کہ وہ فقیہ ہے یا غیر فقیہ۔
(۲۶۹۴۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن مِسْعَرٍ ، عَن سَعْدِ بْنِ إبْرَاہِیمَ قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا سَأَلَنِی رَجُلٌ عَن مَسْأَلَۃٍ إلاَّ عَرَفْت ، فَقِیہٌ ہُوَ ، أَوْ غَیْرُ فَقِیہٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৪২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص پسند کرتا ہے کہ اس سے پوچھا جائے اور یوں کہتا ہے کہ مجھ سے سوال کرو
(٢٦٩٤٣) حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے ارشاد فرمایا : کوئی مجھ سے پوچھنے والا نہیں ؟
(۲۶۹۴۳) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَن سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : مَا أَحَدٌ یَسْأَلُنِی؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৪৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص پسند کرتا ہے کہ اس سے پوچھا جائے اور یوں کہتا ہے کہ مجھ سے سوال کرو
(٢٦٩٤٤) حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ نے ہمیں ارشاد فرمایا : میرے پاس آؤ اور مجھ سے علم حاصل کرو۔
(۲۶۹۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ لَنَا عُرْوَۃُ : ائْتُونِی فَتَلَقَّوْا مِنِّی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৪৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص پسند کرتا ہے کہ اس سے پوچھا جائے اور یوں کہتا ہے کہ مجھ سے سوال کرو
(٢٦٩٤٥) امام زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ لوگوں کو اپنی باتوں سے مانوس کرتے تھے۔
(۲۶۹۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : کَانَ عُرْوَۃُ یَتَأَلَّفُ النَّاسَ عَلَی حَدِیثِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৪৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص پسند کرتا ہے کہ اس سے پوچھا جائے اور یوں کہتا ہے کہ مجھ سے سوال کرو
(٢٦٩٤٦) حضرت عبداللہ بن سائب فرماتے ہیں کہ حضرت زاذان نے ارشاد فرمایا : کہ میں نے حضرت ابن مسعود سے چند اشیاء کے بارے میں پوچھا کہ کسی نے مجھ سے ان کے متعلق سوال نہیں کیا۔
(۲۶۹۴۶) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ السَّائِبِ ، عَن زَاذَانَ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ أَشْیَائَ مَا أَحَدٌ یَسْأَلُنِی عنہا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৪৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص پسند کرتا ہے کہ اس سے پوچھا جائے اور یوں کہتا ہے کہ مجھ سے سوال کرو
(٢٦٩٤٧) حضرت خالد بن عرعرہ فرماتے ہیں کہ میں کسی کشادہ میدان میں گیا تو میں نے وہاں تیس یا چالیس کے قریب آدمیوں کو بیٹھا ہوا پایا ، تو میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اتنے میں حضرت علی ہمارے پاس تشریف لائے ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ انھوں نے لوگوں میں سے کسی کو میرے سوا نہ پہچانا ہو۔ پھر آپ نے فرمایا : کیا کوئی ایسا شخص نہیں جو مجھ سے سوال کر کے فائدہ اٹھائے اور اس کے ہمنشین بھی فائدہ اٹھائیں۔
(۲۶۹۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَن سِمَاکٍ ، عَن خَالِدِ بن عَرْعَرَۃ ، قَالَ : أَتَیْتُ الرَّحْبَۃَ فَإِذَا أَنَا بِنَفَرٍ جُلُوسٍ قَرِیبًا مِنْ ثَلاَثِینَ ، أَوْ أَرْبَعِینَ رَجُلاً فَقَعَدْتُ مَعَہُمْ ، فَخَرَجَ عَلَیْنَا عَلِیٌّ ، فَمَا رَأَیْتہ أَنْکَرَ أَحَدًا مِنَ الْقَوْمِ غَیْرِی فَقَالَ : أَلاَ رَجُلٌ یَسْأَلُنِی فَیَنْتَفِعُ وَیَنْتَفِعُ جُلَسَاؤُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৪৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص پسند کرتا ہے کہ اس سے پوچھا جائے اور یوں کہتا ہے کہ مجھ سے سوال کرو
(٢٦٩٤٨) حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں حضرت علی بن ابی طالب کے سوا کوئی بھی نہیں تھا، جو یوں کہتا ہو کہ مجھ سے سوال کرو۔
(۲۶۹۴۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَن یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ : نُرَاہ عَن سَعید بن المُسَیّب لَمْ یَکُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ سَلُونِی إلاَّ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৪৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اہل کتاب کی کتابو ں کو دیکھنے کو مکروہ سمجھے
(٢٦٩٤٩) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اہل کتاب کی کتاب کا کوئی صفحہ لائے اور فرمایا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے اہل کتاب کی ایک بہت اچھی کتاب ملی ہے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غضبناک ہوگئے اور فرمایا : اے ابن خطاب ! کیا تم اس بارے میں ابھی حیرت زدہ ہو ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ تحقیق میں تمہارے پاس واضح اور روشن دین لے کر آیا ہوں۔ تم اہل کتاب سے کسی بھی چیز کے متعلق سوال مت کرو کہ وہ تمہیں حق بات بتلائیں گے اور تم اس کو جھٹلا دو گے، یا وہ تمہیں باطل بات بتلائیں گے اور تم اس کی تصدیق کردو گے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر آج حضرت موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو ان کے لیے میری اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔
(۲۶۹۴۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَن مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِکِتَابٍ أَصَابَہُ مِنْ بَعْضِ الْکُتُبِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنِّی أَصَبْتُ کِتَابًا حَسَنًا مِنْ بَعْضِ أَہْلِ الْکِتَابِ ، قَالَ : فَغَضِبَ ، وَقَالَ : أَمُتَہَوِّکُونَ فِیہَا یَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِہَا بَیْضَائَ نَقِیَّۃً ، لاَ تَسْأَلُوہُمْ عَن شَیْئٍ فَیُخْبِرُوکُمْ بِحَقٍّ فَتُکَذِّبُوا بِہِ ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوا بِہِ ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لَوْ کَانَ مُوسَی کان حَیًّا الیَوم مَا وَسِعَہُ إلاَّ أَنْ یَتَّبِعَنی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৪৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اہل کتاب کی کتابو ں کو دیکھنے کو مکروہ سمجھے
(٢٦٩٥٠) حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ یہودی مسلمانوں کے پاس آتے تھے اور ان کو اپنی کتابوں سے باتیں بتلایا کرتے جو مسلمانوں کو اچھی لگتی تھیں۔ پس صحابہ نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر فرمائی۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم نہ ان کی تصدیق کرو اور نہ ہی ان کو جھٹلاؤ۔ تم یوں کہہ دیا کرو۔ ہم ایمان لائے اللہ پر ، اور اس چیز پر جو اس نے ہماری طرف نازل کی اور اس چیز پر جو اس نے تمہاری طرف نازل کی۔ آیت کے آخر تک۔
(۲۶۹۵۰) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ، عَن سُفْیَانَ، عَن سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ، عَن عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: کَانَتِ الْیَہُودُ تَجِیئُ إلَی الْمُسْلِمِینَ فَیُحَدِّثُونَہُمْ فَیَسْتَحْسِنُونَ، أَوْ قَالَ: یَسْتَحِبُّونَ، فَذَکَرُوا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لاَ تُصَدِّقُوہُمْ ، وَلاَ تُکَذِّبُوہُمْ قُولُوا : {آمَنَّا بِاَللَّہِ وَمَا أُنْزِلَ إلَیْنَا وَمَا أُنْزِلَ إلَیْکُمْ} إلَی آخِرِ الآیَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৫০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اہل کتاب کی کتابو ں کو دیکھنے کو مکروہ سمجھے
(٢٦٩٥١) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اہل کتاب سے ان کی کتابوں کے متعلق پوچھتے ہو حالانکہ تمہارے پاس خود کتاب اللہ موجود ہے ، جو تمام کتابوں میں اللہ کے عہد کے زیادہ قریب ہے، تم محض اس لیے قرآن پڑھتے ہو کہ دھوکا نہ دے دیا جائے۔
(۲۶۹۵۱) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَن عِکْرِمَۃَ قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : تَسْأَلُونَ أَہْلَ الْکِتَابِ عَن کُتُبِہِمْ وَعَندَکُمْ کِتَابُ اللہِ أَقْرَبُ الْکُتُبِ عَہْدًا بِاللَّہِ تَقْرَؤُونَہُ مَحْضًا لَمْ یَشُبْ۔ (بخاری ۲۶۸۵)
tahqiq

তাহকীক: