মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৭০৩১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زبان کو قابو رکھنے کا بیان
(٢٧٠٣٢) حضرت عبداللہ بن سفیان فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت سفیان نے فرمایا : کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں کن چیزوں سے بچوں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں اپنی زبان کی طرف اشارہ فرمایا۔
(۲۷۰۳۲) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَن یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَیُّ شَیْئٍ أَتْقَی ؟ فَأَشَارَ بِیَدِہِ إلَی لِسَانِہِ۔ (ترمذی ۲۴۱۰۔ احمد ۳۸۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৩২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زبان کو قابو رکھنے کا بیان
(٢٧٠٣٣) حضرت عبداللہ بن دینار فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے ارشاد فرمایا : کہ سب سے زیادہ حقدار چیز جس کو مسلمان پاکیزہ رکھے وہ اس کی زبان ہے۔
(۲۷۰۳۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِینَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَحَقُّ مَا طَہَّرَ الْمُسْلِمُ لِسَانَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৩৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ ایسی بات کرے
(٢٧٠٣٤) حضرت ابو امامہ بن سھل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی یوں مت کہے کہ : میں برے نفس والا یا بدباطن ہوں بلکہ وہ یوں کہے میں معیوب نفس والا ہوں۔
(۲۷۰۳۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَقُلْ أَحَدُکُمْ : إنِّی خَبِیثُ النَّفْسِ ، وَلْیَقُلْ ، إنِّی لَقِسُ النَّفْسِ۔ (بخاری ۶۱۸۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৩৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ ایسی بات کرے
(٢٧٠٣٥) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم میں کوئی یوں مت کہے : میں بدباطن ہوں بلکہ کہے کہ میں معیوب نفس والا ہوں۔
(۲۷۰۳۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَن ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ یَقُلْ أَحَدُکُمْ : خَبُثَتْ نَفْسِی ، وَلْیَقُلْ : لَقِسَتْ نَفْسِی۔ (بخاری ۶۱۷۹۔ مسلم ۱۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৩৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ ایسی بات کرے
(٢٧٠٣٦) حضرت سماک حنفی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس یوں کہنے کو کہ میں سست ہوں، مکروہ سمجھتے تھے۔
(۲۷۰۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَن مِسْعَرٍ، عَن سِمَاکٍ الْحَنَفِیِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَکْرَہُ أَنْ یَقُولَ : إنِّی کَسْلاَنُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৩৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ ایسی بات کرے
(٢٧٠٣٧) حضرت ابو راشد فرماتے ہیں کہ حضرت عبید بن عمیر کی بہن نے ان سے کسی آدمی کی سفارش کی ۔ تو یوں کہا : بیشک وہی ہے اللہ کی قسم اور آپ کی قسم۔ آپ کو غصہ آگیا اور فرمایا بیشک وہی ہے اللہ کی قسم۔
(۲۷۰۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی رَاشِدٍ ، أَنَّ أُخْتًا لِعُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ اسْتَشْفَعَتْ لِرَجُلٍ عَلَیْہِ فَقَالَتْ : إنَّمَا ہُوَ بِاللَّہِ وَبِکَ ، فَغَضِبَ فَقَالَ : إنَّمَا ہُوَ بِاللَّہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৩৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ ایسی بات کرے
(٢٧٠٣٨) حضرت مختار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو سنا کہ وہ یوں کہنے کو مکروہ سمجھتے تھے کہ اے اللہ ! تو ہم پر صدقہ فرما۔ لیکن یوں کہا کرتے : اے اللہ ! ہم پر احسان فرما۔
(۲۷۰۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن مُخْتَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ یَکْرَہُ أَنْ یَقُولَ : اللَّہُمَّ تَصَدَّقَ عَلَیَّ ، وَلَکِنْ لِیَقُلْ : اللَّہُمَّ امْنُنْ عَلَیَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৩৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اچھی تعریف کرنے کا بیان
(٢٧٠٣٩) حضرت ربیع بن زیاد فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا : کہ دنیا میں کسی بندے کی تعریف مستقل نہیں ہوتی یہاں تک کہ آسمان والوں میں بھی اس کی وہ تعریف قرار پکڑ لیتی ہے۔
(۲۷۰۳۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ، عَن حَفْصَۃَ ، عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ زِیَادٍ ، عَن کَعْبٍ قَالَ : وَاللَّہِ مَا اسْتَقَامَ لِعَبْدٍ ثَنَائٌ فِی الأَرْضِ حَتَّی اسْتَقَرَّ لَہُ فِی أَہْلِ السَّمَائِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৩৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اچھی تعریف کرنے کا بیان
(٢٧٠٤٠) حضرت عوام بن حوشب فرماتے ہیں کہ میری اور حضرت ایاس بن معاویہ کی ذات عرق مقام پر ملاقات ہوئی تو ہم نے حضرت ابراہیم تیمی کا ذکر کیا ۔ حضرت ایاس فرمانے لگے : اگر ان کی میرے دل میں عزت نہ ہوتی تو میں ضرور ان کی تعریف کرتا میں نے پوچھا : کیا آپ انہں ی جانتے ہیں ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں ! میں نے پوچھا : پھر آپ ان کی تعریف کرنے کو برا کیوں سمجھ رہے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : اس لیے کہ یوں کہا جاتا ہے کہ تعریف کرنا اجرت دینے کے مترادف ہے۔
(۲۷۰۴۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ : الْتَقَیْت أَنَا وَإِیَاسُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ بِذَاتِ عِرْقٍ فَذَکَرْنَا إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیَّ فَقَالَ إیَاسٌ : لَوْلاَ کَرَامَتُہُ عَلَیَّ لأَثْنَیْتُ عَلَیْہِ فَقُلْت : ہَلْ تَعْرِفُہُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : فَلِمَ تَکْرَہُ الثَّنَائَ عَلَیْہِ ، قَالَ : إِنَّہُ کَانَ یُقَالُ : إنَّ الثَّنَائَ مِنَ الْجَزَائِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৪০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اچھی تعریف کرنے کا بیان
(٢٧٠٤١) حضرت انس فرماتے ہیں کہ مہاجرین نے فرمایا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں ہم نے ان سے زیادہ اچھا کثرت سے خرچ کرنے والا اور تھوڑا ہونے کے باوجود غمخواری کرنے میں ان سے اچھا کسی کو نہیں دیکھا۔ انھوں نے ہمارا خرچہ برداشت کیا ، اور ہمیں اپنی خوشیوں میں شریک کیا۔ ہمیں ڈر ہے کہ سارے کا سارا اجر یہ لوگ ہی لے جائیں گے۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں ! ایسی بات نہیں۔ بہرحال تم ان کی تعریف مت کرو، اور تم اللہ سے ان کے حق میں دعا کرو۔
(۲۷۰۴۱) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، عَن حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قالَتِ الْمُہَاجِرُونَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا رَأَیْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَیْہِمْ أَحْسَنَ بَذْلاً مِنْ کَثِیرٍ ، وَلاَ أَحْسَنَ مُوَاسَاۃً فِی قَلِیلٍ ، کَفَوْنَا المؤنۃ ، وَأَشْرَکُونَا فِی الْمَہْنَأِ ، قَدْ خَشِینَا أَنْ یَذْہَبُوا بِالأَجْرِ کُلِّہِ ، فَقَالَ : لاَ ، مَا أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِمْ وَدَعَوْتُمُ اللَّہَ لَہُمْ۔ (بخاری ۲۱۷۔ ابوداؤد ۴۷۷۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৪১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کو بیان کرنا اور ان کی توجہ حاصل کرنا
(٢٧٠٤٢) حضرت کردوس فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : بیشک دلوں کے لیے بھی بشاشت اور توجہ بھی ہوتی ہے، اور سستی اور اکتاہٹ بھی ہوتی ہے ، تم لوگوں کو وہ بات بیان کرو جس سے وہ تمہاری طرف متوجہ ہوں۔
(۲۷۰۴۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَن کُرْدُوسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ : إنَّ لِلْقُلُوبِ نَشَاطًا وَإِقْبَالاً ، وَإِنَّ لَہَا لَتَوْلِیَۃً وَإِدْبَارًا ، فَحَدِّثُوا النَّاسَ مَا أَقْبَلُوا عَلَیْکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৪২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کو بیان کرنا اور ان کی توجہ حاصل کرنا
(٢٧٠٤٣) حضرت ابو السلیل فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی تشریف لائے تو لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے۔ وہ گھر کی چھت پر چڑھے اور انھوں نے لوگوں کو حدیث بیان کی۔
(۲۷۰۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن عُثْمَانَ بْنَ غِیَاثٍ ، عَنْ أَبِی السَّلِیْلِ قَالَ : قدِمَ عَلَیْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَانُوا یَجْتَمِعُونَ عَلَیْہِ ، فَصَعِدَ عَلَی ظَہْرِ بَیْتٍ فَحَدَّثَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৪৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کو بیان کرنا اور ان کی توجہ حاصل کرنا
(٢٧٠٤٤) حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک کوفہ تشریف لائے تو ہم لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے۔ ہم نے عرض کی کہ آپ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہوئی کوئی حدیث بیان کریں۔ آپ نے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے : اے لوگو ! میرے پاس سے جاؤ، یہاں تک کہ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انتہائی مجبور کردیتے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : جو میں جانتا ہوں اگر وہ بات تم جان لیتے تو تم زیادہ روتے اور تھوڑا ہنستے۔ اے لوگو ! میرے پاس سے چلے جاؤ تو ہم آپ کے پاس سے واپس لوٹ آئے۔
(۲۷۰۴۴) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْعُمَیْسِ ، عَنْ أَبِی طَلْحَۃَ قَالَ : قَدِمَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ الْکُوفَۃَ فَاجْتَمَعَنا عَلَیْہِ ، قَالَ : فَقُلْنَا : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْت مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَہُوَ یَقُولُ : أَیُّہَا النَّاسُ ، انْصَرِفُوا عَنی ، حَتَّی أَلْجَأْنَاہُ إلَی حَائِطِ الْقَصْرِ فَقَالَ : لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَکَیْتُمْ کَثِیرًا وَلَضَحِکْتُمْ قَلِیلاً أَیُّہَا النَّاسُ ، انْصَرِفُوا عَنی ، فَانْصَرَفْنَا عَنہُ۔ (احمد ۱۸۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৪৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کو بیان کرنا اور ان کی توجہ حاصل کرنا
(٢٧٠٤٥) حضرت ابو ہلال فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں کو وہ بات بیان کرو جس سے وہ تمہاری طرف متوجہ ہوجائیں، جب وہ تمہاری طرف متوجہ ہوں تو جان لو کہ ان کی ضرورتیں بھی ہیں۔
(۲۷۰۴۵) حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو ہِلاَلٍ قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ : حَدِّثُوا النَّاسَ مَا أَقْبَلُوا عَلَیْکُمْ بِوُجُوہِہِمْ ، فَإِذَا الْتَفَتُوا فَاعْلَمُوا أَنَّ لَہُمْ حَاجَاتٍ۔ (دارمی ۴۴۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৪৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کو بیان کرنا اور ان کی توجہ حاصل کرنا
(٢٧٠٤٦) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے اکتا جانے کے اندیشے سے وعظ و نصیحت میں وقفہ فرمایا کرتے تھے۔
(۲۷۰۴۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن شَقِیقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَۃِ مَخَافَۃَ السَّآمَۃِ عَلَیْنَا۔ (مسلم ۲۱۷۲۔ احمد ۴۲۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৪৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کو بیان کرنا اور ان کی توجہ حاصل کرنا
(٢٧٠٤٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ جب اپنے شاگردوں کو ہشاش بشاش دیکھتے تو ان کو وعظ و نصیحت فرماتے ۔
(۲۷۰۴۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، أَنَّہُ کَانَ إذَا رَأَی مِنْ أَصْحَابِہِ ہَشَاشًا یَعْنِی انْبِسَاطًا ذَکَّرَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৪৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کو بیان کرنا اور ان کی توجہ حاصل کرنا
(٢٧٠٤٨) حضرت عبید اللہ بن عدی بن خیار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اللہ عزوجل کو اس کے بندوں کے سامنے مبغوض مت بناؤ۔ تم میں کوئی امام ہوتا ہے تو وہ ان پر نماز اتنی لمبی کردیتا ہے۔ اور کوئی خطیب ہوتا ہے تو وہ ان پر اپنی بات اتنی طویل کردیتا ہے۔
(۲۷۰۴۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، وَابْنُ عُیَیْنَۃَ ، وَأَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَن بُکَیْر بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَن مَعْمَرٍ ، عَن عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ قَالَ : قَالَ عُمَرُ : لاَ تُبَغِّضُوا اللَّہَ إلَی عِبَادِہِ ، یَکُونُ أَحَدُکُمْ إمَامًا فَیُطَوِّلُ عَلَیْہِمْ مَا ہُمْ فِیہِ ، وَیَکُونُ أَحَدُکُمْ قَاصًّا فَیُطَوِّلُ عَلَیْہِمْ مَا ہُمْ فِیہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৪৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنے بھائی کو یوں کہنا : جزاک اللہ خیراً (اللہ تمہیں بہترین بدلہ عطا کرے)
(٢٧٠٤٩) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تم میں کوئی اپنے بھائی کو یوں کہے : اللہ تمہیں بہترین بدلہ عطا فرمائے تو اس نے تعریف میں مبالغہ کیا۔
(۲۷۰۴۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا قَالَ الرَّجُلُ لأَخِیہِ : جَزَاک اللَّہُ خَیْرًا ، فَقَدْ أَبْلَغَ فِی الثَّنَائِ۔ (ترمذی ۲۰۳۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৪৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنے بھائی کو یوں کہنا : جزاک اللہ خیراً (اللہ تمہیں بہترین بدلہ عطا کرے)
(٢٧٠٥٠) حضرت طلحہ بن عبید اللہ بن کریز فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : اگر تم میں کوئی جان لیتا کہ اس کے اپنے بھائی کو یہ کلمات ۔۔۔ اللہ تمہیں بہترین بدلہ عطا فرمائے۔۔۔ کہنے میں کیا ثواب ہے تو تم ایک دوسرے سے زیادہ اس کلمہ کو کہتے۔
(۲۷۰۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، عَن طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ کَرِیزٍ قَالَ : قَالَ عُمَرُ : لَوْ یَعْلَمُ أَحَدُکُمْ مَا لَہُ فِی قَوْلِہِ لأَخِیہِ : جَزَاک اللَّہُ خَیْرًا ، لأَکْثَرَ مِنْہَا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৫০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب سوئے اور جب بیدار ہو تو یہ دعا پڑھے
(٢٧٠٥١) حضرت برائ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اپنے سونے کی جگہ پر لیٹتے تو یہ دعا پڑھتے : ترجمہ : اے اللہ ! میں نے اپنی جان تیرے ہی سپرد کی، اور میں نے اپنا چہرہ تیری ہی طرف کردیا اور میں نے اپنا معاملہ بھی تیرے ہی سپرد کردیا اور تجھے ہی میں نے اپنا پشت پناہ بنا لیا تیری رحمت کی رغبت کرتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور تیری رحمت کے سوا کوئی ٹھکانا اور جائے پناہ نہیں اور جو کتاب تو نے اتاری ہے میں اس پر ایمان لایا اور جو نبی یا رسول تو نے بھیجا ہے اس پر بھی ایمان لایا۔
(۲۷۰۵۱) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا أَخَذَ مَضْجَعَہُ قَالَ : اللَّہُمَّ إلَیْک أَسْلَمْت نَفْسِی ، وَإِلَیْک وَجَّہْت وَجْہِی ، وَإِلَیْک فَوَّضْت أَمْرِی ، وَإِلَیْک أَلْجَأْت ظَہْرِی ، رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إلَیْک ، لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَی مِنْک إلاَّ إلَیْک ، آمَنْت بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْت ، وَبِنَبِیِّکَ الَّذِی أَرْسَلْت ، أَوْ برَسُولِکَ الَّذِی أَرْسَلْت۔ (بخاری ۶۳۱۳۔ ترمذی ۳۳۹۴)
tahqiq

তাহকীক:

মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু) | মুসলিম বাংলা