মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৭০৭১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب صبح کرے تو وہ کون سی دعا پڑھے
(٢٧٠٧٢) حضرت ابو سلام جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خادم ہیں وہ فرماتے ہں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کوئی مسلمان یا کوئی انسان یا کوئی بندہ صبح و شام تین مرتبہ یہ کلمات نہیں پڑھتا : ترجمہ ! میں اللہ کو رب مان کر ، اسلام کو دین مان کر اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی مان کر راضی ہوں۔ مگر یہ کہ اللہ پر اس کا حق ہے کہ قیامت کے دن اللہ اس کو راضی کردیں گے۔
(۲۷۰۷۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ قَالَ : حَدَّثَنِی أَبُو عَقِیلٍ ، عَن سَابِقٍ ، عَنْ أَبِی سَلاَّمٍ خَادِمِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ ، أَوْ إنْسَانٍ ، أَوْ عَبْدٍ یَقُولُ حِینَ یُمْسِی وَیُصْبِحُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ : رَضِیت بِاللَّہِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِینًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا إلاَّ کَانَ حَقًّا عَلَی اللہِ أَنْ یُرْضِیَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
(ابن ماجہ ۳۸۷۰)
(ابن ماجہ ۳۸۷۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৭২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب صبح کرے تو وہ کون سی دعا پڑھے
(٢٧٠٧٣) حضرت ربعی بن حراش قبیلہ نخع کے کسی آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی نے ارشاد فرمایا : جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات پڑھے : ترجمہ : اے اللہ ! تو میرا پروردگار ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔ ہم نے صبح کی اور تمام ملک نے اللہ کے لیے صبح کی اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور جو شخص شام کے وقت بھی ایسے ہی پڑھے تو یہ دعا کفارہ بن جائے گی ان گناہوں کے لیے جو ان دونوں کے مابین سرزد ہوئے۔
(۲۷۰۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَن رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَن رَجُلٍ مِنَ النَّخْعِ ، عَن سَلْمَانَ قَالَ : مَنْ قَالَ إذَا أَصْبَحَ : اللَّہُمَّ أَنْتَ رَبِّی لاَ شَرِیکَ لَکَ ، أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْکُ لِلَّہِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَإِذَا أَمْسَی مِثْلُ ذَلِکَ ، کَانَ کَفَّارَۃً لِمَا أحْدَثَ بَیْنَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৭৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب صبح کرے تو وہ کون سی دعا پڑھے
(٢٧٠٧٤) حضرت عبداللہ بن سبرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر صبح و شام یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ ترجمہ : اے اللہ ! تو مجھے بنا دے اپنے افضل ترین بندوں میں سے صبح یا شام کے وقت حصہ دیتے ہوئے اس بھلائی میں سے جس کو تو تقسیم کرے گا یا اس نور میں سے جس کے ذریعہ تو ہدایت دے گا یا اس رحمت میں سے جس کو تو بانٹے گا یا اس رزق میں سے جس کو تو عطا کرے گا یا اس تکلیف سے جس کو تو ہٹا دے گا یا اس مصیبت سے جس کو تو دفع کرے گا یا اس فتنہ سے جس کو تو پھیر دے گا یا اس شر سے جس کو تو دفع کر دے گا۔
(۲۷۰۷۴) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ، عَن حُصَیْنٍ، عَن تَمِیمِ بْنِ سَلَمَۃَ، عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ سَبْرَۃَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ إذَا أَصْبَحَ وَأَمْسَی : اللَّہُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ أَفْضَلِ عِبَادِکَ الْغَدَاۃَ ، أَوِ الْعَشِیَّۃَ نَصِیبًا مِنْ خَیْرٍ تَقْسِمُہُ ، أو نُورًا تَہْدِی بِہِ، أو رَحْمَۃً تَنْشُرُہَا، أو رِزْقًا تَبْسُطُہُ، أو ضر تَکْشِفُہُ، أو بَلاَئً تدْفَعُہُ، أو فِتْنَۃً تَصْرِفُہَا، أو شَرًّا تَدْفَعُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৭৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب صبح کرے تو وہ کون سی دعا پڑھے
(٢٧٠٧٥) حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے پوچھا : جب آپ لوگ صبح و شام کرتے تھے۔ تو آپ لوگ کون سی دعا پڑھتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : ہم لوگ یہ دعا پڑھتے تھے : ہم اللہ کے معزز چہرے کی اور اللہ کے عظیم نام کی اور اللہ کے مکمل کلمہ کی پناہ لیتے ہیں ، موت اور عام چیزوں کے شر سے، اور اے پروردگار جو مخلوق تو نے پیدا کی اس کے شر سے اور جس کی پیشانی تیرے قبضہ میں ہے اس کے شر سے ، اور اس دن کے شر سے جو اس کے بعد ہے اس کے شر سے، اور دنیا اور آخرت کے شر سے۔
(۲۷۰۷۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَن حُصَیْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ : قُلْتُ لِسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : مَا تَقُولُون إذَا أَصْبَحْتُمْ وَأَمْسَیْتُمْ مِمَّا تَدْعُونَ بِہِ ؟ قَالَ : تَقُولُ : أَعُوذُ بوجہ اللہِ الْکَرِیمِ ، وَبِسْمِ اللہِ الْعَظِیمِ ، وَکَلِمَۃِ اللہِ التَّامَّۃِ ، مِنْ شَرِّ السَّآمَّۃِ وَالْعامَّۃِ ، وَمِنْ شَرِّ مَا خَلَقْت أَیْ رَبِّی ، وَشَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہِ ، وَمِنْ شَرِّ ہَذَا الْیَوْمِ ، وَمِنْ شَرِّ مَا بَعْدَہُ ، وَشَرِّ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৭৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب صبح کرے تو وہ کون سی دعا پڑھے
(٢٧٠٧٦) حضرت موسیٰ جہنی کسی شخص سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ آیت پڑھے : ترجمہ : اللہ کی پاکی بیان کرو جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو۔ یہاں تک کہ تین مرتبہ آیت پڑھ کر فارغ ہوجائے تو وہ پالے گا اس عمل کا ثواب جو اس کا رات کو فوت ہوگیا تھا اور اگر رات میں یہ آیت پڑھے تو وہ پالے گا اس عمل کا ثواب جو اس کا دن میں فوت ہوگیا تھا۔
(۲۷۰۷۶) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَن مُوسَی الْجُہَنِیِّ قَالَ : حدَّثَنِی رَجُلٌ ، عَن سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، أَنَّہُ قَالَ : مَنْ قَالَ (فَسُبْحَانَ اللہِ حِینَ تُمْسُونَ وَحِینَ تُصْبِحُونَ) حَتَّی یَفْرُغَ مِنَ الآیَۃِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، أَدْرَکَ مَا فَاتَہُ مِنْ یَوْمِہِ ، وَمَنْ قَالَہَا لَیلاً أَدْرَکَ مَا فَاتَہُ مِنْ یَوْمِہِ۔ (ابوداؤد ۵۰۳۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৭৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جب صبح کرے تو وہ کون سی دعا پڑھے
(٢٧٠٧٧) حضرت ابو عیاش فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات پڑھے : ترجمہ : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تو اس شخص کو حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جائیں گی ، اور اس کے دس گناہوں کو مٹا دیا جائے گا اور دس درجات بلند کیے جائیں گے اور وہ شیطان سے حفاظت میں رہے گا یہاں تک کہ وہ شام کرلے ۔ اور جب وہ شام کو یہ کلمات پڑھے گا تو اسی جیسا ثواب ملے گا یہاں تک کہ وہ صبح کرلے۔
(۲۷۰۷۷) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ سُہَیْل بن أبی صالح ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ أبی عیاش قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَالَ حِینَ یُصْبِحُ لاَ إلَہَ إلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ کَانَ لَہُ کَعَدْلِ رَقَبَۃٍ مِنْ وَلَدِ إسْمَاعِیلَ ، وَکُتِبَ لَہُ بہا عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَحُطَّ عَنہُ بِہَا عَشْرُ سَیِّئَاتٍ ، وَرُفِعَتْ لَہُ بِہَا عَشْرُ دَرَجَاتٍ ، وَکَانَ فِی حِرْزٍ مِنَ الشَّیْطَانِ حَتَّی یُمْسِیَ ، وَإِذَا أَمْسَی مِثْلَ ذَلِکَ حَتَّی یُصْبِحَ۔ (ابن ماجہ ۳۸۶۷۔ احمد ۶۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৭৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گنے سے سرکہ بنانے اور ناز بو کی لکڑی سے مسواک کرنے کا بیان
(٢٧٠٧٨) حضرت سعید بن صالح کسی آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے خط لکھا کہ تم لوگ گنے کا سرکہ مت بناؤ۔
(۲۷۰۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سَعِیدِ بْنِ صَالِحٍ ، عَن رَجُلٍ لَمْ یُسَمِّہِ ، أَنَّ عُمَرَ کَتَبَ : لاَ تُخَلِّلُوا بِالْقَصَبِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৭৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گنے سے سرکہ بنانے اور ناز بو کی لکڑی سے مسواک کرنے کا بیان
(٢٧٠٧٩) حضرت ضمرہ بن حبیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناز بو اور انار کی لکڑی کو مسواک بنانے سے منع کیا اور فرمایا : یہ کوڑھ کی رگ کو تحریک دیتی ہے۔
(۲۷۰۷۹) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ أَبِی بَکْرٍ الغسََّانِیِّ ، عَن ضَمُرَۃَ بْنِ حَبِیبٍ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ السِّوَاکِ بِعُودِ الرَّیْحَانِ وَالرُّمَّانِ ، وَقَالَ یُحَرِّکُ عِرْقَ الْجُذَامِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৭৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجلسوں میں بیٹھنے کا بیان
(٢٧٠٨٠) حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انصار کی ایک مجلس پر سے گزرے تو فرمایا : اگر تم بیٹھنے پر اصرار کرتے ہو تو سیدھا راستہ دکھاؤ (مسافر کو) اور سلام کا جواب دو ، اور مظلوم کی مدد کرو۔
(۲۷۰۸۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ قَالَ : حدَّثَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی مَجْلِسٍ لِلأََنْصَارِ فَقَالَ : إِنْ أَبَیْتُمْ أَنْ لاَ تَجْلِسُوا فَاہْدُوا السَّبِیلَ ، وَردوا السَّلام ، وَأَعِینُوا الْمَظْلُومَ۔ (ترمذی ۲۷۲۶۔ احمد ۲۸۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৮০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجلسوں میں بیٹھنے کا بیان
(٢٧٠٨١) حضرت مالک بن تیھان فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ایک جماعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جمع ہوئی اور ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم لوگ شہر کے زیریں اور بالائی حصہ کے لوگ ہیں۔ ہم ان مجلسوں میں بیٹھتے ہیں پس آپ اس بارے میں ہمیں کس چیز کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تم لوگ مجلسوں کو ان کا حق ادا کرو۔ ہم نے پوچھا : ان کا حق کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی نظروں کو جھکاؤ ، سلام کا جواب دو ، اور اندھے کو راستہ دکھلاؤ، نیکی کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو۔
(۲۷۰۸۱) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ قَالَ : حدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃ ، عَنْ أَیُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ، عَن مَالِکِ بْنِ التَّیْہَانِ قَالَ : اجْتَمَعَتْ جَمَاعَۃٌ مِنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّا أَہْلُ سَافِلَۃٍ وَأَہْلُ عَالِیَۃٍ ، نَجْلِسُ ہَذِہِ الْمَجَالِسَ فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : أَعْطُوا الْمَجَالِسَ حَقَّہَا ، قُلْنَا وَمَا حَقہَا : قَالَ : غُضُّوا أَبْصَارَکُمْ ، وَرُدُّوا السَّلاَمَ ، وَأَرْشِدُوا الأَعْمَی ، وَأْمُرُوا بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ۔ (مسند ۶۸۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৮১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجلسوں میں بیٹھنے کا بیان
(٢٧٠٨٢) حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ کشادہ صحن میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہمارے پاس سے گزر ہوا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کیوں راستوں میں مجلس لگاتے ہو ؟ تم راستوں کی مجلسوں سے بچو، ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم بغیر گناہ کے بیٹھتے ہیں۔ صرف آپس میں گفتگو اور بات چیت کرتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر مجلسوں کو ان کا حق دو ، ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجلسوں کا حق کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نظر کا جھکانا، سلام کا جواب دینا ، اور بہترین کلام کرنا۔
(۲۷۰۸۲) حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِیمٍ قَالَ : حَدَّثَنَی إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ قَالَ : حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ : قَالَ أَبُو طَلْحَۃَ : کُنَّا جُلُوسًا بِالأَفْنِیَۃِ ، فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا لَکُمْ وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ اجتنبوا مجالس الصُّعُدَاتِ ؟ قَالَ : قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّا جَلَسْنَا بِغَیْرِ مَا بَأْسٍ نَتَذَاکَرُ وَنَتَحَدَّثُ ، قَالَ : فأَعْطُوا الْمَجَالِسَ حَقَّہَا ، قَالَ : قُلْنَا : وَمَا حَقُّہَا یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : غَضُّ الْبَصَرِ ، وَرَدُّ السَّلاَمِ ، وَحُسْنُ الْکَلاَمِ۔ (احمد ۳۰۔ ابویعلی ۱۴۱۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৮২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجلسوں میں بیٹھنے کا بیان
(٢٧٠٨٣) امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم نے جب سے لنگی باندھی ہے، کبھی کسی مجلس میں نہیں بیٹھے اور فرمایا : کہ مجھے خوف ہے کہ کسی شخص پر ظلم کیا جائے اور میں اس کی مدد نہ کرسکوں یا کوئی شخص کسی شخص پر جھوٹ باندھے اور مجھے اس پر گواہی کا مکلف بنادیا جائے اور میں نظر کو نہ جھکا سکوں اور مسافر کو راستہ نہ بتاسکوں یا کوئی سوار گرجائے تو میں اس کو سوا رنہ کرسکوں۔
(۲۷۰۸۳) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَن مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : مَا جَلَسَ الرَّبِیعُ بْنُ خُثَیْمٍ مَجْلِسًا مُنْذُ تَأَزَّرَ بِإِزَارٍ ، قَالَ : أَخَافُ أَنْ یُظْلَمَ رَجُلٌ فَلاَ أنصرہ ، أَوْ یَفْتَرِی رَجُلٌ عَلَی رَجُلٍ فَأُکَلَّفُ الشَّہَادَۃَ عَلَیْہِ ، وَلاَ أَغُضُّ الْبَصَرَ ، وَلاَ أَہْدِی السَّبِیلَ ، أَوْ تَقَعُ الْحَامِلَۃُ فَلاَ أَحْمِلُ عَلَیْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৮৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجلسوں میں بیٹھنے کا بیان
(٢٧٠٨٤) حضرت عوام فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الھذیل نے ارشاد فرمایا : صحابہ جب مجالس قائم کرتے ہیں تو وہ بیوقوفوں کو نظر انداز کیے جانے کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۷۰۸۴) حَدَّثَنَا ہُشَیم ، عَنِ الْعَوَّامِ ، عَنِ ابْنِ أَبِی الْہُذَیْلِ قَالَ : کَانُوا یَکْرَہُونَ إذَا اتَّخَذُوا الْمَجَالِسَ أَنْ یعروہا لِلسُّفَہَائِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৮৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو غیر کے بیٹے کو کہے : اے میرے بیٹے
(٢٧٠٨٥) حضرت شریک بن غلہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب کے پاس تھا تو آپ مجھے کہتے تھے : اے میرے بھتیجے ! پھر انھوں نے مجھ سے پوچھا : تو میں نے ان کو اپنا نسب بیان کیا۔ انھوں نے جان لیا کہ میرے والد نے اسلام قبول نہیں کیا ۔ پھر آپ نے یوں کہنا شروع کردیا : اے میرے بیٹے اے میرے بیٹے۔
(۲۷۰۸۵) حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ الْقَوَارِیرِیُّ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ حَکِیمٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ : أَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَجَعَلَ یَقُولُ : یَا ابْنَ أَخِی ، ثُمَّ سَأَلَنِی فَانْتَسَبْت لَہُ ، فَعَرَفَ ، أَنَّ أَبِی لَمْ یُدْرِکِ الإِسْلاَمَ ، فَجَعَلَ یَقُولُ : یَا بُنَیَّ یَا بُنَیَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৮৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو غیر کے بیٹے کو کہے : اے میرے بیٹے
(٢٧٠٨٦) حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے ارشاد فرمایا : کسی نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دجال کے بارے میں اتنا نہیں پوچھا جتنا میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے بارے میں پوچھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تجھے اس سے کوئی مصیبت نہیں پہنچے گی۔
(۲۷۰۸۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ، عَن قَیْسٍ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ : مَا سَأَلَ أَحَدٌ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ ، أَکْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُہُ ، فَقَالَ : أَیْ بُنَیَّ ، وَمَا یُصِیبُک مِنْہُ۔
(مسلم ۱۶۹۳۔ ابن ماجہ ۴۰۷۳)
(مسلم ۱۶۹۳۔ ابن ماجہ ۴۰۷۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৮৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو غیر کے بیٹے کو کہے : اے میرے بیٹے
(٢٧٠٨٧) حضرت عمر بن ابی سلمہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھانا لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ، اے میرے بیٹے ! اللہ کا نام لو اور دائیں ہاتھ سے کھانا کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔
(۲۷۰۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِی وَجْزَۃَ السَّعْدِیِّ ، عَن رَجُلٍ مِنْ مُزَیْنَۃَ ، عَن عُمَرَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِطَعَامٍ فَقَالَ : یَا عُمَرُ یَا بُنَیَّ ، سَمِّ اللَّہَ وَکُلْ بِیَمِینِکَ وَکُلْ مِمَّا یَلِیک۔
(ابوداؤد ۳۷۷۱۔ احمد ۲۶)
(ابوداؤد ۳۷۷۱۔ احمد ۲۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৮৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو غیر کے بیٹے کو کہے : اے میرے بیٹے
(٢٧٠٨٨) حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے میرے بیٹے۔
(۲۷۰۸۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَہُ : یَا بُنَیَّ۔ (مسلم ۱۶۹۳۔ ابوداؤد ۴۹۲۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৮৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو غیر کے بیٹے کو کہے : اے میرے بیٹے
(٢٧٠٨٩) حضرت مکحول ازدی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر سے اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس کو سمر قند یا خراسان یا کوفہ سے روک دیا گیا تھا، آپ نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! کاش ہم نے بھی وقت سے چھٹکارا پا لیا ہوتا۔
(۲۷۰۸۹) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَن عُمَارَۃَ بْنِ زَاذَانَ ، عَن مَکْحُولٍ الأَزْدِیِّ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الرَّجُلِ یُحْرِمُ مِنْ سَمَرْقَنْدَ ، أَوْ مِنْ خُرَاسَانَ ، أَوْ مِنَ الْکُوفَۃِ فَقَالَ : یَا لَیْتَنَا نَنْفَلِتُ مِنْ وَقْتِنَا یَا بُنَیَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৮৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو غیر کے بیٹے کو کہے : اے میرے بیٹے
(٢٧٠٩٠) حضرت قیس بن عباد فرماتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب نے ان سے ارشاد فرمایا : اے میرے بیٹے ! اللہ تمہارا برا نہ کرے۔
(۲۷۰۹۰) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی جَمْرَۃَ قَالَ : حدَّثَنَا إیَاسٌ عن قَتَادَۃَ ، عَن قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ ، أَنَّ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ قَالَ لَہُ : یَا بُنَیَّ ، لاَ یَسُوئُک اللَّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৯০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو غیر کے بیٹے کو کہے : اے میرے بیٹے
(٢٧٠٩١) حضرت قابوس کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے کہا : اے میرے بیٹے۔
(۲۷۰۹۱) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَن قَابُوسَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، أَنَّہُ قَالَ : یَا بُنَیَّ۔
তাহকীক: