মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৭০৯১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو غیر کے بیٹے کو کہے : اے میرے بیٹے
(٢٧٠٩٢) حضرت نعیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عاصم سے اللہ رب العزت کے قول { فَنَادَاہَا مِنْ تَحْتِہَا } کے متعلق پوچھا : تو آپ نے فرمایا : { مِنْ تَحْتَہَا } ہے فتح کے ساتھ۔ میں نے پوچھا : آپ نے کس سے روایت کی ؟ انھوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! حضرت زر سے !
(۲۷۰۹۲) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَیْمَانَ الرَّازِیّ ، عَن نُعَیْمٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَاصِمًا ، عَن قَوْلِ اللہِ : {فَنَادَاہَا مِنْ تَحْتِہَا} قَالَ : {مِنْ تَحْتَہَا} مَفْتُوحَۃً ، قُلْتُ : عَمَّنْ تَرْوِی ؟ قَالَ : عَن زِرٍّ یَا بُنَیَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৯২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو غیر کے بیٹے کو کہے : اے میرے بیٹے
(٢٧٠٩٣) حضرت زبرقان فرماتے ہیں کہ حضرت ابو وائل نے مجھ سے فرمایا : اے میرے لاڈلے بیٹے !
(۲۷۰۹۳) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الزِّبْرِقَانِ ، قَالَ : قَالَ لِی أَبُو وَائل یَا بُنَیَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৯৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی دوسرے کے بیٹے کو یوں کہنا مکروہ سمجھے : اے میرے بیٹے !
(٢٧٠٩٤) حضرت حسن بن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے کسی ساتھی کے بیٹے کو کہا : اے میرے بیٹے ! تو حضرت ابراہیم نے اس کو مکروہ سمجھا۔
(۲۷۰۹۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ قَالَ : قُلْتُ لابْنِ صَاحِبٍ لِی : یَا بُنَیَّ ، فَکَرِہَ ذَلِکَ إبْرَاہِیمُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৯৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی دوسرے کے بیٹے کو یوں کہنا مکروہ سمجھے : اے میرے بیٹے !
(٢٧٠٩٥) حضرت محارب فرماتے ہیں کہ حضرت شتیر بن شکل کو کسی عورت نے کہا : اے میرے بیٹے ! تو آپ نے کہا : کیا تم نے مجھے جنا ہے ؟ اس عورت نے کہا : نہیں ! آپ نے پوچھا : کا تم نے مجھے دودھ پلایا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : پھر تم جھوٹ کیوں بولتی ہو۔
(۲۷۰۹۵) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَن مُحَارِبٍ ، عَنِ شُتَیر بن شَکَل أَنَ امْرَأَۃً قَالَتْ لَہُ : یَا بُنَیَّ ، فَقَالَ : وَلَدْتنِی ، قَالَتْ : لاَ ، قَالَ : فَأَرْضَعْتنِی ؟ قَالَتْ : لاَ ، قَالَ : فَلِمَ تَکْذِبِینَ ؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৯৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس جھوٹ کی رخصت دی گئی ہے
(٢٧٠٩٦) حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جھوٹ نہیں بولا جس نے خیر کی بات کہی یا خیر کو پھیلایا یا دو آدمیوں کے درمیان صلح کروائی۔
(۲۷۰۹۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ حُسَیْنٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَن حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَن أُمِّہِ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَمْ یَکْذِبْ مَنْ قَالَ خَیْرًا، أَوْ نَمَی خَیْرًا، أَوْ أَصْلَحَ بَیْنَ اثْنَیْنِ۔ (بخاری ۲۶۹۲۔ مسلم ۲۰۱۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৯৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس جھوٹ کی رخصت دی گئی ہے
(٢٧٠٩٧) حضرت اسماء بنت یزید فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جھوٹ بولنا درست نہیں ہے مگر تین جگہوں پر ! آدمی کا اپنی بیوی سے جھوٹ بولنا تاکہ وہ اسے خوش کرے یا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے یا جنگ میں جھوٹ بولنا۔
(۲۷۰۹۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ ، عَن شَہْرٍ ، عَنْ أَسْمَائِ بِنْتِ یَزِیدَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَصْلُحُ الْکَذِبُ إلاَّ فِی ثَلاَثٍ : کذب الرَّجُلِ امْرَأَتَہُ لِیُرْضِیَہَا ، أَوْ إصْلاَحٌ بَیْنَ النَّاسِ ، أَوْ کَذِبٌ فِی الْحَرْبِ۔ (ترمذی ۱۹۳۹۔ احمد ۴۶۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৯৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی پردہ پوشی کرنا اور آدمی کا اپنے بھائی کی مدد کرنے کا بیان
(٢٧٠٩٨) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کی ستر پوشی کرے گا اللہ رب العزت آخرت میں اس کی ستر پوشی فرمائیں گے اور جو شخص اپنے بھائی سے دنیا کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کرے گا تو اللہ رب العزت اس سے قا مت کے دن کی تکلیفوں کو دور فرمائیں گے اور اللہ رب العزت اس بندے کی مدد میں ہوتے ہیں جو شخص اپنے کسی بھائی کی مدد کرنے میں لگا ہوا ہو۔
(۲۷۰۹۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَتَرَ أَخَاہُ الْمُسْلِمَ فِی الدُّنْیَا سَتَرَہُ اللَّہُ فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ ، وَمَنْ نَفَّسَ عَنْ أَخِیہِ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ الدُّنْیَا نَفَّسَ اللَّہُ عَنہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، وَاللَّہُ فِی عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِی عَوْنِ أَخِیہِ۔ (عبدالرزاق ۱۸۹۳۳۔ احمد ۵۱۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৯৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی پردہ پوشی کرنا اور آدمی کا اپنے بھائی کی مدد کرنے کا بیان
(٢٧٠٩٩) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی مسلمان سے دنیا کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کرے گا، تو اللہ رب العزت قیامت کے دن اس سے آخرت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور فرما دیں گے، اور جو شخص کسی مسلمان کی ستر پوشی کرے گا تو اللہ رب العزت دنیا اور آخرت میں اس کی ستر پوشی فرمائیں گے ، اور جو شخص کسی تنگ دست پر آسانی کرے گا تو اللہ رب العزت دنیا اور آخرت میں اس پر آسانیاں فرمائیں گے اور اللہ اس بندے کی مدد میں ہوتے ہیں جو اپنے کسی بھائی کی مدد میں لگا ہوا ہوتا ہے۔
(۲۷۰۹۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ نَفَّسَ عَن مُسْلِمٍ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ الدُّنْیَا نَفَّسَ اللَّہُ عَنہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ الآخِرَۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللَّہُ فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ ، وَمَنْ یَسَّرَ عَلَی مُعْسِرٍ یَسَّرَ اللَّہُ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ ، وَاللَّہُ فِی عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِی عَوْنِ أَخِیہِ۔ (ابوداؤد ۴۸۵۴۔ حاکم ۳۷۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৯৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی پردہ پوشی کرنا اور آدمی کا اپنے بھائی کی مدد کرنے کا بیان
(٢٧١٠٠) حضرت زید بن وھب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود کے پاس کسی کو پکڑ کر لایا گیا اور آپ کو بتلایا گیا کہ اس فلاں کی داڑھی سے شراب کے قطرے ٹپک رہے ہیں ! اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : یقیناً ہمیں ٹوہ لگانے سے منع کیا گیا ہے۔ لیکن اگر کوئی معاملہ ہمارے سامنے ظاہر ہوجائے تو پھر ہم اس کا مؤاخذہ کریں گے ۔
(۲۷۱۰۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ أُتِیَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقِیلَ لَہُ : ہَذَا فُلاَنٌ تَقْطُرُ لِحْیَتُہُ خَمْرًا ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : إنَّا قَدْ نُہِینَا عَنِ التَّجَسُّسِ ، وَلَکِنْ إِنْ یَظْہَرَ لَنَا مِنْہُ شَیْئٌ نَأْخُذْہُ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১০০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی پردہ پوشی کرنا اور آدمی کا اپنے بھائی کی مدد کرنے کا بیان
(٢٧١٠١) حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ادریس نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس بندے کی پردہ پوشی نہیں کرتے جس کے دل میں ذرہ برابر بھی بھلائی ہو۔
(۲۷۱۰۱) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ أَبِی إدْرِیسَ قَالَ : لاَ یَہْتِکُ اللَّہُ سِتْرَ عَبْدٍ فِی قَلْبِہِ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ خَیْرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১০১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی پردہ پوشی کرنا اور آدمی کا اپنے بھائی کی مدد کرنے کا بیان
(٢٧١٠٢) ام المؤمنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ رب العزت دنیا میں کسی بندے کی ستر پوشی نہیں کرتے مگر آخرت میں اس کی پردہ پوشی کریں گے۔
(۲۷۱۰۲) حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ : حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ قَالَ : حدَّثَنِی شَیْبَۃُ الْخُضْرِی ، أَنَّہُ شَہِدَ عُرْوَۃَ یُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ یَسْتُرُ اللَّہُ عَلَی عَبْدٍ فِی الدُّنْیَا إلاَّ سَتَرَ اللہ عَلَیْہِ فِی الآخِرَۃِ۔ (مسلم ۲۰۰۲۔ احمد ۱۴۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১০২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی پردہ پوشی کرنا اور آدمی کا اپنے بھائی کی مدد کرنے کا بیان
(٢٧١٠٣) حضرت عبد الواحد بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی مؤمن کی برائی کو دبائے گا تو گویا اس نے زندہ درگور کی ہوئی بچی کو زندہ کیا۔
(۲۷۱۰۳) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : مَنْ أَطْفَأَ عَن مُؤْمِنٍ سیئۃ فَکَأَنَّمَا أَحْیَا مَوْؤُودَۃً ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১০৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی بات کا دل میں اتر جانے کا بیان
(٢٧١٠٤) حضرت اسیر بن جابر فرماتے ہیں کہ حضرت اویس قرنی جب بیان فرماتے تو جتنی ان کی بات ہمارے دل میں اثر انداز ہوتی تھی کسی اور کی اتنی اثر انداز نہیں ہوتی۔
(۲۷۱۰۴) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَن سَعِیدٍ الْجَرِیرِیِّ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَن أُسَیْرِ بْنِ جَابِرٍ ، أَنَّ أُوَیْسًا الْقَرَنِیَّ کَانَ إذَا حَدَّثَ وَقَعَ حَدِیثُہُ مِنْ قُلُوبِنَا مَوْقِعًا لاَ یَقَعُہُ حَدِیثُ غَیْرِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১০৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی بات کا دل میں اتر جانے کا بیان
(٢٧١٠٥) حضرت شھر بن حوشب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : جب کوئی آدمی لوگوں میں بیان کرتا ہے تو اس کی بات ان لوگوں کے دلوں میں اس کی دلی کیفیت کے مطابق ہی اثر انداز ہوتی ہے۔
(۲۷۱۰۵) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَن یسار بْنِ سَلاَمَۃَ ، عَن شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّہُ قَالَ : إذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فإن حدیثہ یَقَعُ مِنْ قُلُوبِہِمْ مَوْقِعَہُ مِنْ قَلْبِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১০৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : تم کسی کو گالی مت دو اور نہ کسی کو لعنت کرو
(٢٧١٠٦) حضرت ابوجُری ّ ھجیمی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور میں نے پوچھا : کیا آپ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی کو گالی مت دو ، آپ فرماتے ہیں : پھر میں نے کسی کو گالی نہیں دی، نہ غلام کو نہ کسی آزاد کو ، نہ کسی بکری اور نہ ہی کسی اونٹ کو۔
(۲۷۱۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ أَبِی غَفَّارٍ ، عَنْ أَبِی تَمِیمَۃَ الْہُجَیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی جُرَیٍّ الْہُجَیْمِیِّ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : قُلْتُ : أَنْتَ رَسُولُ اللہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، اعْہَدْ إلَیَّ ، قَالَ : لاَ تَسُبَّ أَحَدًا ، قَالَ : فَمَا سَبَبْت أَحَدًا عَبْدًا ، وَلاَ حُرًّا ، وَلاَ شَاۃً ، وَلاَ بَعِیرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১০৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : تم کسی کو گالی مت دو اور نہ کسی کو لعنت کرو
(٢٧١٠٧) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یقیناً اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے۔ صحابہ نے عرض کیا : آدمی کیسے اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ کسی آدمی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ بدلے میں اس کے باپ کو گالی دیتا ہے۔ یہ کسی آدمی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ بدلہ میں اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔
(۲۷۱۰۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَن سَعْدِ بْنِ إبْرَاہِیمَ ، عَن حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : إنَّ أَکْبَرَ الذَّنْبِ عِنْدَ اللہِ أَنْ یَسُبَّ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ ، قَالُوا : وَکَیْفَ یَسُبُّ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ ؟ قَالَ : یَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَیَسُبُّ أَبَاہُ ، وَیَسُبُّ أُمَّہُ فَیَسُبُّ أُمَّہُ۔

(بخاری ۵۹۷۳۔ ابوداؤد ۵۰۹۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১০৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : تم کسی کو گالی مت دو اور نہ کسی کو لعنت کرو
(٢٧١٠٨) حضرت ابو نجیع فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک برا سود یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی عزت خراب کرنے میں حد سے گزر جائے اور سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے ۔ پوچھا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیسے کوئی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ لوگوں کو گالی دیتا ہے تو وہ جواباً اس کے والدین کو گالی دیتے ہیں۔
(۲۷۱۰۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : إنَّ من أَرْبَی الرِّبَا تَفَضُّلُ الرَّجُلِ فِی عَرْضِ أَخِیہِ بِالشَّتْمِ ، وَإِنَّ أَکْبَرَ الْکَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَیْہِ ، قِیلَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَکَیْفَ یَشْتُمُ وَالِدَیْہِ ؟ قَالَ : یَسُبُّ النَّاسَ فَیَسْتَسِبُّ النَّاسُ بِہِمَا۔ (طبرانی ۸۹۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১০৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : تم کسی کو گالی مت دو اور نہ کسی کو لعنت کرو
(٢٧١٠٩) حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی حضرت ابو وائل کو گالی دیتے ہوئے نہیں دیکھا مگر حجاج بن یوسف کا ذکر کرتے ہوئے ایک مرتبہ آپ نے کہا : اے اللہ ! تو اس کو خار دار درخت کا کھانا کھلا دے ۔ نہ یہ موٹا ہو اور نہ ہی اس کی بھوک مٹے۔ پھر آپ نے فرمایا : اگرچہ وہ تجھے پسند ہو۔
(۲۷۱۰۹) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ قَالَ : مَا رَأَیْت أَبَا وَائِلٍ سَابَّ شَیْئًا قَطُّ إلاَّ أَنَّہُ ذَکَرَ الْحَجَّاجَ مَرَّۃً فَقَالَ : اللَّہُمَّ أَطْعِمْہُ طَعَامًا مِنْ ضَرِیعٍ لاَ یُسْمِنُ ، وَلاَ یُغْنِی مِنْ جُوعٍ ، ثُمَّ قَالَ : إِنْ کَانَ أَحَبَّ إلَیْک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১০৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو تکبر کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١١٠) حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو۔
(۲۷۱۱۰) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَن حَجَّاجٍ ، عَن فُضَیْلٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ : لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہِ مِثْقَالُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১১০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو تکبر کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١١١) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ رب العزت فرماتے ہیں : عظمت میری ازار ہے اور کبریائی میری چادر ہے۔ جو شخص ان میں سے جس کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اس کو جہنم میں ڈال دوں گا۔
(۲۷۱۱۱) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الأَغَرِّ أَبِی مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَقُولُ اللَّہُ : الْعَظَمَۃُ إزَارِی ، وَالْکِبْرِیَائُ رِدَائِی ، فَمَنْ نَازَعَنی وَاحِدًا مِنْہُمَا أَلْقَیْتہ فِی النَّارِ۔
tahqiq

তাহকীক: