মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৭১১১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو تکبر کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١١٢) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جنت میں داخل نہیں ہوگا کوئی ایک جس کے دل میں دانہ کے برابر تکبر ہو اور جہنم میں داخل نہیں ہوگا کوئی ایک جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو۔
(۲۷۱۱۲) حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ أَحَدٌ فِی قَلْبِہِ مِثْقَالُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ ، وَلاَ یَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِی قَلْبِہِ مِثْقَالُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ مِنْ إیمَانٍ۔ (مسلم ۹۳۔ ابوداؤد ۴۰۸۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১১২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو تکبر کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١١٣) حضرت سعید بن حیان تیمی فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت عبداللہ بن عمر دونوں کی ملاقات ہوئی تو ان دونوں نے آپس میں سرگوشی کی، پھر ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے اصحاب کی طرف لوٹ گیا۔ اور حضرت ابن عمر لوٹے اس حال میں کہ آپ رو رہے تھے۔ لوگوں نے آپ سے پوچھا : کس چیز نے آپ کو رلا دیا ؟ آپ نے فرمایا : مجھے رلایا اس شخص نے جو کہتا ہے کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سنا : جنت میں داخل نہیں ہوگا کوئی ایک جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا۔
(۲۷۱۱۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : الْتَقَی عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو ، وَابْنُ عُمَرَ فَانْتَجَیَا بَیْنَہُمَا ، ثُمَّ انْصَرَفَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا إلَی أَصْحَابِہِ فَانْصَرَفَ ابْنُ عُمَرَ وَہُوَ یَبْکِی ، فَقَالُوا لَہُ : مَا یُبْکِیک ؟ قَالَ : أَبْکَانِی الَّذِی زَعَمَ ہَذَا ، أَنَّہُ سَمِعَہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ أَحَدٌ فِی قَلْبِہِ مِثْقَالُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ۔ (احمد ۱۶۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১১৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو تکبر کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١١٤) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : متکبرین قیامت کے دن آئیں گے چھوٹی چیونٹیوں کی طرح جن کی شکلیں آدمیوں کی مانند ہوں گی۔ ہر قسم کی ذلت ان پر غالب آجائے گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر اس جہنم میں ایک قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا جس کا نام بولس ہے۔ اللہ کی بڑی آگ ان پر چڑھ جائے گی۔ انھیں اہل جہنم کا بچا ہوا پانی پلایا جائے گا۔
(۲۷۱۱۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَجِیئُ الْمُتَکَبِّرُونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ذَرًّا مِثْلَ صُوَرِ الرِّجَالِ ، یَعْلُوہُمْ کُلُّ شَیْئٍ مِنَ الصَّغَارِ ، قَالَ : ثُمَّ یُسَاقُونَ إلَی سِجْنِ فی جَہَنَّمَ یُقَالُ لَہُ بُولَسَ ، تَعْلُوہُمْ نَارُ الأَنْیَارِ ، یُسْقَوْنَ مِنْ طِینَۃِ الْخَبَالِ ، عُصَارَۃِ أَہْلِ النَّارِ۔ (ترمذی ۲۴۹۲۔ احمد ۱۷۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১১৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو تکبر کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١١٥) حضرت عبید اللہ بن عدی بن خیار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : یقیناً جب کوئی مغرور ہوجائے اور اپنی حد سے تجاوز کرلے، تو اللہ رب العزت اس کو زمین پر پٹخ دیتے ہیں۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو دھتکارتا ہے تو اللہ تجھے دھتکار دیتے ہیں کہ وہ اپنی نظر میں بڑا ہوتا ہے اور لوگوں کی نظروں میں چھوٹا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ لوگوں کے سامنے خنزیر سے بھی زیادہ حقیر ہوجاتا ہے۔
(۲۷۱۱۵) ابْنُ إدْرِیسَ ، وَابْنُ عُیَیْنَۃَ ، وَأَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرَِِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَن بُکَیْر بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَن مَعْمَرِ بْنِ أَبِی حُیَیَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ قَالَ : قَالَ عُمَرُ : إنَّ الْعَبْدَ إذَا تَعَظَّمَ وَعَدَا طَوْرَہُ وَہَصَہُ اللَّہُ إلَی الأَرْضِ ، وَقَالَ : اخْسَأْ أَخْسَأَکَ اللَّہُ ، فَہُوَ فِی نَفْسِہِ کَبِیرٌ ، وَفِی أَنْفُسِ النَّاسِ صغیر حتی لہو أحقر عند الناس من خنزیر۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১১৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو تکبر کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١١٦) حضرت نافع بن عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے ارشاد فرمایا : تکبر کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
(۲۷۱۱۶) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَن یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَافِعَ بْنَ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : لاَ یَدْخُلُ حَظِیرَۃَ الْقُدْسِ مُتَکَبِّرٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১১৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو چغل خوری کے بارے میں منقول ہیں
(٢٧١١٧) حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
(۲۷۱۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَن ہَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَن حُذَیْفَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَتَّاتٌ۔ (بخاری ۶۰۵۶۔ مسلم ۱۶۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১১৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو چغل خوری کے بارے میں منقول ہیں
(٢٧١١٨) حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ نے ارشاد فرمایا : کہ ہم حدیث بیان کرتے تھے کہ یقیناً چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
(۲۷۱۱۸) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَن وَاصِلٍ ، عَن شَقِیقٍ ، عَن حُذَیْفَۃَ قَالَ : کُنَّا نَتَحَدَّثُ : أنہ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَتَّاتٌ۔ (مسلم ۱۰۱۔ احمد ۱۶۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১১৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو چغل خوری کے بارے میں منقول ہیں
(٢٧١١٩) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون نے ارشاد فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو سرگوشی کے لیے عزت بخشی تو آپ نے ایک آدمی کو عرش سے چمٹے ہوئے دیکھا۔ آپ نے پوچھا : اے پروردگار ! یہ کون شخص ہے ؟ اللہ رب العزت نے فرمایا : میرے نیک بندوں میں سے ایک بندہ ہے۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کے عمل کے متعلق خبر دوں۔ آپ نے فرمایا : اے پروردگار ! مجھے خبر دیجئے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا : یہ شخص چغل خوری نہیں کرتا تھا۔
(۲۷۱۱۹) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ قَالَ : لَمَّا رَفَعَ اللَّہُ مُوسَی نَجِیًّا رَأَی رَجُلاً مُتَعَلِّقًا بِالْعَرْشِ فَقَالَ : یَا رَبِّ ، مَنْ ہَذَا ؟ فَقَالَ : عَبْدٌ مِنْ عِبَادِی صَالِحٌ ، إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُک بِعَمَلِہِ ، قَالَ : یَا رَبِّ ، أَخْبِرْنِی ، قَالَ : کَانَ لاَ یَمْشِی بِالنَّمِیمَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১১৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو چغل خوری کے بارے میں منقول ہیں
(٢٧١٢٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن یزید نے ارشاد فرمایا : ہمارے پاس ایک عجمی باندی تھی وہ بیمار ہوگئی ۔ اس نے موت کے وقت یہ کہنا شروع کردیا : یہ فلاں شخص گندی بدبودار مٹی میں پلٹیاں کھا رہا ہے۔ جب وہ مرگئی تو ہم نے اس آدمی کے متعلق پوچھا ؟ تو انھوں نے کہا : اس میں کوئی خرابی نہیں تھی سوائے اس بات کے کہ وہ چغل خوری کرتا تھا۔
(۲۷۱۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ : کَانَتْ لَنَا جَارِیَۃٌ أَعْجَمِیَّۃٌ ، فَمَرِضَتْ فَجَعَلَتْ تَقُولُ عِنْدَ الْمَوْتِ : ہَذَا فُلاَنٌ تَمَرَّغَ فِی الْحَمْأَۃِ ، فَلَمَّا أَنْ مَاتَتْ سَأَلْنَا عَنِ الرَّجُلِ ، قَالَ : فَقَالَ : مَا کَانَ بِہِ بَأْسٌ إلاَّ أَنَّہُ کَانَ یَمْشِی بِالنَّمِیمَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১২০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو احسان جتانے والے کے بارے میں منقول ہیں
(٢٧١٢١) حضرت ابو سعیدخدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : احسان جتلانے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
(۲۷۱۲۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَن یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَن مُجَاہِدٍ وَسَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنَّانٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১২১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو احسان جتانے والے کے بارے میں منقول ہیں
(٢٧١٢٢) حضرت نافع بن عاصم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے ارشاد فرمایا : احسان جتلانے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
(۲۷۱۲۲) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَن یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَافِعَ بْنَ عَاصِمٍ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : لاَ یَدْخُلُ حَظِیرَۃَ الْقُدْسِ مَنَّانٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১২২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو احسان جتانے والے کے بارے میں منقول ہیں
(٢٧١٢٣) حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تین شخص ایسے ہیں کہ اللہ رب العزت قیامت کے دن نہ ان سے بات کریں گے ۔ نہ ان کی طرف رحمت کی نظر سے دیکھیں گے ، نہ ان کو پاک صاف کریں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ راوی فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی۔ حضرت ابو ذر نے فرمایا : یہ لوگ نامراد و خسارے میں ہوئے۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ کون لوگ ہیں ؟ ّآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تہبند کو لٹکانے والا ، احسان جتلانے والا، اور اپنے سامان کو جھوٹی قسم کے ذریعہ فروخت کرنے والا۔
(۲۷۱۲۳) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُدْرِکٍ ، عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ ، عَن خَرَشَۃَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ثَلاَثَۃٌ لاَ یُکَلِّمُہُمُ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، وَلاَ یَنْظُرُ إلَیْہِمْ ، وَلاَ یُزَکِّیہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ ، قَالَ : فَقَرَأَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : خَابُوا وَخَسِرُوا ، مَنْ ہُمْ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنْفِقُ سِلْعَتَہُ بِالْحَلِفِ الْکَاذِبِ۔
(مسلم ۱۷۱۔ ابوداؤد ۴۰۸۵۔ احمد ۱۴۸)
(مسلم ۱۷۱۔ ابوداؤد ۴۰۸۵۔ احمد ۱۴۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১২৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو احسان جتانے والے کے بارے میں منقول ہیں
(٢٧١٢٤) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : احسان جتانے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
(۲۷۱۲۴) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَن سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَن نُبَیْطِ بْنِ شَرِیطٍ ، عَنْ جَابَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنَّانٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১২৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حسد کے بارے میں منقو ل ہیں
(٢٧١٢٥) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون نے ارشاد فرمایا : جب اللہ رب العزت نے حضرت موسیٰ کو سرگوشی کے لیے عزت بخشی، تو آپ نے ایک آدمی کو عرش سے چمٹا ہوا دیکھا۔ آپ نے پوچھا : اے پروردگار ! یہ کون شخص ہے ؟ اللہ رب العزت نے فرمایا : میرے بندوں میں سے نیک بندہ ہے۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کے عمل کے متعلق بتلاؤں ؟ آپ نے عرض کی، اے پروردگار ! مجھے بتلائیے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا : یہ شخص لوگوں سے حسد نہیں کرتا ان چیزوں میں جو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنے فضل سے عطا کی تھیں۔
(۲۷۱۲۵) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ قَالَ : لَمَّا رَفَعَ اللَّہُ مُوسَی نَجِیًّا رَأَی رَجُلاً مُتَعَلِّقًا بِالْعَرْشِ فَقَالَ : یَا رَبِّ ، مَنْ ہَذَا ؟ قَالَ : عَبْدٌ مِنْ عِبَادِی صَالِحٌ ، إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُک بِعَمَلِہِ، قَالَ : یَا رَبِّ ، أَخْبِرْنِی ، قَالَ : کَانَ لاَ یَحْسُدُ النَّاسَ مَا آتَاہُمُ اللَّہُ مِنْ فَضْلِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১২৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حسد کے بارے میں منقو ل ہیں
(٢٧١٢٦) حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یقیناً حسد نیکیوں کو ایسے ہی کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔
(۲۷۱۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن یَزِیدَ الرَّقَاشِیِّ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ الْحَسَدَ لَیَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ۔ (ابن ماجہ ۴۲۱۰۔ ابویعلی ۳۶۴۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১২৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حسد کے بارے میں منقو ل ہیں
(٢٧١٢٧) حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قریب ہے کہ حسد تقدیر پر غالب آجائے اور قریب ہے کہ فقر و فاقہ کفر کا سبب بن جائے۔
(۲۷۱۲۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن یَزِیدَ الرَّقَاشِیِّ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : کَادَ الْحَسَدُ أَنْ یَغْلِبَ الْقَدَرَ ، وَکَادَتِ الْفَاقَۃُ أَنْ تَکُونَ کُفْرًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১২৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو حسد کے بارے میں منقو ل ہیں
(٢٧١٢٨) حضرت ابو رجائ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے اس آیت کے متعلق : ترجمہ : اور نہیں پاتے اپنے دلوں میں کوئی حاجت اس چیز کی جو انھیں دی جائے۔ آپ نے فرمایا : حسد مراد ہے۔
(۲۷۱۲۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی رَجَائٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، {وَلاَ یَجِدُونَ فِی صُدُورِہِمْ حَاجَۃً مِمَّا أُوتُوا} قَالَ : الْحَسَدُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১২৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضول خرچی کا بیان
(٢٧١٢٩) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے اللہ رب العزت کے اس قول کے مطابق :
ترجمہ : اور وہ لوگ جب خرچ ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل کرتے ہیں اور ہوتا ہے ان کا خرچ کرنا ان دونوں کے درمیان اعتدال سے۔ آپ نے فرمایا : نہ وہ ان کو بھوکا رکھتے ہیں اور نہ ان کو لباس سے محروم کرتے ہیں اور نہ ہی ایسے طور پر خرچ کرتے ہیں کہ لوگ کہنے لگے کہ اس نے اس معاملہ میں فضول خرچی کی۔
ترجمہ : اور وہ لوگ جب خرچ ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل کرتے ہیں اور ہوتا ہے ان کا خرچ کرنا ان دونوں کے درمیان اعتدال سے۔ آپ نے فرمایا : نہ وہ ان کو بھوکا رکھتے ہیں اور نہ ان کو لباس سے محروم کرتے ہیں اور نہ ہی ایسے طور پر خرچ کرتے ہیں کہ لوگ کہنے لگے کہ اس نے اس معاملہ میں فضول خرچی کی۔
(۲۷۱۲۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَن مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی : {وَالَّذِینَ إذَا أَنْفَقُوا لَمْ یُسْرِفُوا وَلَمْ یَقْتُرُوا وَکَانَ بَیْنَ ذَلِکَ قَوَامًا} قَالَ: لاَ یُجِیعُہُمْ، وَلاَ یُعَرِّیہِمْ، وَلاَ یُنْفِقُ نَفَقَۃً یَقُولُ النَّاسُ: إِنَّہ أَسْرَفَ فِیہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১২৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضول خرچی کا بیان
(٢٧١٣٠) حضرت منھال فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے اللہ رب العزت کے اس قول کے مطابق : ” اور جو خرچ کردیتے ہو تم کوئی بھی چیز تو وہ اس کی جگہ اور دیتا ہے تم کو اور وہ سب سے بہتر رزق عطا فرمانے والا ہے۔ “
آپ نے فرمایا : یہ صورت اسراف اور کنجوسی کے علاوہ میں ہے۔
آپ نے فرمایا : یہ صورت اسراف اور کنجوسی کے علاوہ میں ہے۔
(۲۷۱۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ ، عَنِ الْمِنْہَالِ ، عَن سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ : {وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَہُوَ یُخْلِفُہُ وَہُوَ خَیْرُ الرَّازِقِینَ} قَالَ : فِی غَیْرِ إسْرَافٍ ، وَلاَ تَقْتِیرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৩০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضول خرچی کا بیان
(٢٧١٣١) حضرت یحییٰ بن جزار فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العبید ین نے حضرت ابن مسعود سے فضول خرچی کے متعلق پوچھا : تو آپ نے فرمایا : مال کو حق کے علاوہ جگہ میں خرچ کرنا فضول خرچی ہے۔
(۲۷۱۳۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَن یَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ أَبِی الْعُبَیْدَیْنِ ، أَنَّہُ سَأَلَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنِ التَّبْذِیرِ فَقَالَ : إنْفَاقُ الْمَالِ فِی غَیْرِ حَقِّہِ۔
তাহকীক: